Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 04
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 26/09/2025
6 Views
Episode no 04
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #لکھاری_ہما_قریشی #قسط_نمبر_4 _________________ ارتضیٰ عباس کی فورچنر بحریہ ٹاؤن کراچی کی سڑکوں پر تیز رفتاری سے دوڑتی عباس پیلس کے صدر دروازہ سے اندر داخل ہوتی کار پورچ میں ایک جھٹکے سے ٹھری تھی۔ارتضیٰ نے کانوں میں لگا آئیر پوڈ نکالا۔آٹومیٹک کار کا دروزہ کھول کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا کندھے پر کوٹ ڈالے رف اینڈ ٹف سے حلیے میں، عبّاس پیلس کے دودھیا روشنی میں نہائے بڑے سے ہال میں داخل ہوتا چند لمحوں کے لیے ٹھرا تھا۔ ’’گڈایوننگ سر!‘‘وہ جیسے ہی عبّاس پیلس میں داخل ہوا تھا۔باقر صاحب نے ایسے دیکھتے ہی ایوننگ وش کیاتھا۔جو دو دن کا بول کر وقت سے پہلے ہی دبئی سے لوٹا آیا تھا۔اور اب ہولے سے مسکرا کر سر کو خم دیتا اگے بڑھا تھا۔ ’’گڈ ایوننگ ! ‘‘وہ ہاتھ پر پڑا کوٹ ایک طرف صوفے پر رکھتا مسکرا کر بولا ۔ ’’سر !اسنیکس میں کیا لیں گے؟‘‘انہوں نے وقت کی مناسبت سے پوچھا۔ویسے تو وہ وقت نکل جانے کے بعد کبھی بھی بے وقت کھانے کا عادی نہیں تھا۔مگر پوچھنا ان کا فرض تھا۔ ’’نہیں ابھی تو نہیں فی الحال بہت تھک گیا ہوں۔زرا آرام کرونگا۔آپ ڈنر کا زرا خاص احتمام کرلیں ۔ آج شیر ہمارے ساتھ ہی ڈنر کرے گا۔‘‘وہ انہیں ہدایت دیتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا سیڑھیاں عبور کر اپنے کمرے میں غائب ہوچکا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیات کو وہاں رہتے دو دن گزر چکے تھے۔شیر کا رویہ اس کے ساتھ نارمل ہی تھا۔مگر وہ پھر بھی خود کو کمرے تک ہی محدود کئے ہوئے تھی۔ آج صبح سے اپنےکمرے میں بند اپنی گزشتہ زندگی کو سوچ سوچ کر آنسو بہا رہی تھی۔شیرافگن سارا سارا دن نجانے کہاں غائب رہتا تھا۔ اس کے پاس موبائل بھی نہیں تھا کہ کال کر کے پوچھ ہی لیتی۔زرین بیگم کا ڈر تھا۔کہ دپہر میں بھی وہ ناصر صاحب کے بلاوے پر تیزی سے نیوالے اٹُھاتی کھانا فنش کر کے فوراً کمرے میں آئی تھی۔ ’’شیر پتہ نہیں کہاں چلے گئے۔زرا جو میرا خیال ہو۔‘‘وہ سوچوں میں گم آنکھوں سے بہتے آنسو پونچھتی بیڈ پر نیم دراز ہو گئی تھی۔ ’’بابا بھی مجھے چھوڑ کر چلے گے۔پتہ نہیں ماما کیسی ہونگی۔‘‘دو روز سے سب کے بارے میں سوچ سوچ کر اس کا دماغ پھٹا جا رہا تھا۔ وہ اپنی سوچوں میں حد درجہ محو سی تھی۔ جبھی کوئی دھڑام سے دروازہ کھولتا کمرے میں داخل ہوا تھا۔حیات گڑبڑاکر اُٹھی تو سیدھی نظر شیر افگن سے جاملی تھی۔جو سخت غصے میں دکھائی دے رہا تھا۔نیلی آنکھیں ضبط سے سُرخ پڑرہی تھیں۔منہ پر ہاتھ پھیر کر اپنے غصہٰ پر قابو کیا تھاورنہ وہ اس وقت یقیناً کچھ کر ڈالتا۔ ’’شیر کیا ہوا آپ اتنے غصہٰ میں کیوں ہیں؟‘‘حیات نے ناسمجھی سے استفسار کیا۔حیات کی مداخلت اِس وقت قدر ناگوار گزری تھی۔سُرخ آنکھوں میں جنون عود آیا تھا۔ ’’تم مجھے یہ بتاؤ کہ کس کے کہنے پر کیا ہے تم نے یہ سب ڈرامہ ؟بتاؤ مجھے ورنہ میں تمہاری جان لے لونگا۔۔‘‘شیر بیڈ کے قریب کھڑی حیات کے مقابل آیا۔سختی سے کندھوں سے تھامتا باز پرس کرنے لگا۔۔جو خوفزدہ سی نظروں سے اس کے بگڑے آنداز دیکھ رہی تھی۔ ’’شیر!کیا ہوگیا ہے آپ کو؟‘‘وہ اس کی سخت گرفت میں مچل کر رہ گئی۔ ’’بتاؤ مجھے حیات کاظمی ورنہ میں تمہاری جان لے لوں گا۔‘‘وہ زخمی شیر کی مانند غرایا۔حیات کو اس کی سخت گرفت میں مزید رونا آیا۔ ’’شیر!کیا ہوگیا ہے آپ کو؟‘‘کیوں ایسا رویہ رکھ رہیں میرے ساتھ۔۔مان لیا مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔آپ کی محبت میں اپنےماں باپ کو اپنے منگیتر کو دھوکا دیا ہے میں نے۔مگر اب آپ کو خدا کا واسطہ ہے میرے ساتھ یہ سلوک نہ کریں ورنہ میں مرجاؤنگی۔‘‘وہ چلا کر دو قدم پیچھے کو لیتی سسک اُٹھی تھی۔شیر نے عجیب نظروں سے اس لڑکی یکھا تھا۔ناصر صاحب کا بارہا پوچھے جانے والا ایک ہی سوال اس کے تن بدن میں آگ لگا رہا تھا۔ ’’دفعہ ہوجاؤ میری نظروں کے سامنے سے۔۔شکل بھی نہیں دیکھناچاہتا میں تمہاری۔‘‘شیر نے کنپٹیاں دبا کر شدید اشتعال کو ضبط کیئے باہر کا راستہ دکھایا۔ ’’جارہی ہوں مگر آپ کی زندگی سے نہیں۔صرف اس کمرے سے شیرافگن ہاشمی۔جب محبت کرنے کا ،لڑکی کو شادی کی رات کو اغوا کرنے کا جذبہ رکھتے ہونا تو اب مرد بنو۔اور اس نکاح کو بھی دنیا کے سامنے خوشدلی سے قبول کرو۔کیونکہ اگر میں گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی قصوروار ہوں۔ تو معصوم تو تم بھی نہیں ہو۔۔‘‘زہر خند لہجے مین بولتی وہ دکھ سے دوچار تھی۔شیرنے ایسے ایک سخت نظر سے نوازہ تھا۔اور پھر وہ دل میں اٹھتےدرد کو دباتی کمرے سے ہی باہر نکل گئی تھی۔ اضطرابی کی سی کیفیت سے دوچار کمرے میں اِدھر سے اُدھر چکر مارتا اپنا اشتعال دبا رہا تھا اب تک جو کچھ ہوچکا تھا وہ ناقابل برداشت تھا۔کہ جبھی اس کی سُوچوں کا رخ موبائل کی چنگھاڑتی ہوئی آواز نے اپنی جانب کروایا تھا۔۔ ’’ہیلو!ہاں بول۔‘‘مقابل کی آواز میں غصہٰ کی جھلک واضح تھی۔ ’’اچھا ناں یار!آرہاہوں۔‘‘منہ پر ہاتھ پھیر کر جلتے اعصابوں کو پرسکون کر ایک گہری سانس فضا کے سپرد کی۔ ’’اب رکھ نا یار!جبھی تو آونگا تیری طرف۔‘‘مقابل کے مسلسل بولنے پر وہ بیزار ہوا ۔ ’’اوکے بائے!‘‘ کھٹ سے موبائل اف کرتا ڈرئسنگ روم کی جانب بڑھا۔اگلے بیس منٹ میں ٹھنڈے پانی سے شاور لیتے بلیک جینز اور اور بلیک شرٹ میں ملبوس پاؤں میں جوگرز ڈالتا وہ پرسکون تھا۔کچھ دیر پہلے کہ تنے تاثرات کی بانسبت اب چہرے پر نرمی واضح تھی۔جس کا رُخ اب عباس پیلس کی جانب تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کی تاریکی میں آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتی مدھم لائٹس سے منور عباس پیلس کے ڈائیننگ ٹیبل پر خوش مزاجی سے کھانے سے بھرپور انصاف کرتے ارتضیٰ عباس اور شیر افگن خوش گپوں میں مصروف تھے۔ ’’اور بتا آج کل کیا چل رہا ہے؟‘‘شیر کانٹے میں سلاد پھنساکر منہ میں ڈالتا آئی برو اُٹھا کر بولا۔ ’’کچھ خاص نہیں یار بس کام اور کام!!اور کیا۔۔‘‘وہ نپکن سے منہ تھپ تھپا کر گویا ہوا ۔ وہ کھانا فنش کرچکا تھا۔ ’’چل چھوڑ یہ بتا شادی کب کر رہا ہے؟‘‘ارتضیٰ عباس نے آنکھیں گھما کر گھورا ۔جو فضول میں اپنے زبردستی نکاح کا بدلہ اس سے لینا چاہ رہا تھا۔ ’’یہ تم گھوم پھر کر آخر میں میری شادی پر آکر ہی کیوں رک جاتے ہو؟‘‘ارتضیٰ نے زرا خشمگیں نگاہوں سے گھورا ،شیر کا زندگی سے بھرپور قہقہہ گونجا تھا۔ ’’کیونکہ اب ہمیں جلد از جلد تیری شادی کے چھوارے کھانے ہیں۔ تیس کا ہوگیا ہے تو۔۔‘‘شیر نے پانی کا گلاس لبو سے لگاتے شرارت سے کہا۔ ’’یہ بول کہ خود شادی شدہ آدمی بن کر بیچلر لڑکے کے ساتھ بیٹھنا تجھے کمپلیکس میں مبتلہ کر رہا ہے۔‘‘ارتضیٰ نے بھی طنز کا تیر چلایا۔۔ ’’یہ تو ہے۔ویسے بھی تو تیس کا ہونے والا ہے۔ اب کرلے۔ورنہ چند سال بعد تیرے بچے تجھے دادا ابو کہ کر پکار رہے ہونگے۔‘‘اپنی بات سے لطف اُٹھاتا وہ قہقہہ لگا کر بولا۔ ’’اور تو کچھ ماہ میں تیس کا ہونے والا ہے ۔ویسے یہ لڑکی جو زبردستی تیری زندگی کا حصہٰ بن گئی ہے۔تو کیا اب ساری زندگی اسی کے ساتھ گزارو گے؟دوسری شادی کیوں نہیں کر لیتے ؟ہمم!!‘‘وہ ناراض نظروں سے گھورتا تپے ہوئے آنداز میں بولتا چار روز میں ہی دو نکاح کروانے پر تل گیا تھا۔ ’’بھائی میری ایک ہی رات میں ایک بیوی نے ہی دماغ کی بجا دی ہے۔تو دوسری کا مشورہ دے رہا ہے،کچھ رحم کھا مجھ پر۔‘‘شیر میٹھے کا چمچ منہ میں ڈالتا مسکرایا۔جبکہ
