Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 26/09/2025
7 Views
Episode no 03
اُٹھ گیا تھا۔حیات ایک نظر خود کو گھورتی اپنی ساس پر ڈال کر جلدی سے بغیر ناشتہ کئے ہی اس کے پیچھے بھاگی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دبئی سے واپسی پر آئیر پورٹ کا احاطہ عبور کرتے ہی کوٹ کو بیک پر ڈالے وہ مگن انداز میں موبائل پر بات کرتا سیڑھیاں پھلانگتا گاڑی کے نزدیک آیا تھا۔جہاں ڈرائیور نے ایسے دیکھتے ہی گاڑی کا دروازہ کھولا تھا۔سر کے اشارے سے سلام کا جواب دیتا وہ گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔ گاڑی کراچی کی مصروف ترین شاہراہ پر اپنی رفتار سے بھاگنے لگی تھی۔جبکہ بیک سیٹ پر ریلیکس آنداز میں بیٹھا وہ مسکرایا تھا۔کرسٹل گرے آنکھوں میں مقابل کی بات سن شرارت سیُ ابھری تھی۔بلاشبہ وہ اکھڑ مزاج شہزادہ ہنستا ہوا بلا کا خوبصورت دکھائی دیتا تھا۔ ’’چل ٹھیک ہےیار!اب اتنا بھی مت رو۔۔دیکھ لیتے ہیں۔کون آگیا ہمارے شیر صاحب سے پنگا لینے والا۔‘‘وہ مسلسل مسکرا رہا تھا۔ڈرائیور نے اس کے لہجے کی خوش مزاجی دیکھ آنکھیں چلائیں ۔ایسے نظارے نظروں کو کم ہی دیکھنے کو ملا کرتے تھے۔ ’’نمونہ!‘‘موبائل اف کر کوٹ کی جیب میں ڈال کر وہ خود ہی بڑ بڑایا تھا۔کہ کچھ یاد آنے پر اچانک ہی سنجیدہ ہوتا ڈرائیور سے مخاطب ہوا۔وہ صرف اس کی وجہ سے سارے کام پینڈنگ میں ڈال کر دبئی میں محض ایک رات گزار کر صبح کی فلائٹ سے واپس آگیا تھا۔ ’’گاڑی آفس کی جانب موڑ لو۔‘‘اب وہ اپنا سر آرام دہ انداز میں بیک پر گرائے آنکھیں موند گیا۔نظروں میں کسی پری پیکر کا سراپا چھم سے لہرایا تھا جو اس کے عنابی تراش لبوں پر ایک دلکش مسکراہٹ بکھیر گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غروب آفتاب ہوتے ہی سورج اپنی کرنیں سمیٹتا بلڈنگوں کے پار غروب ہوچکا تھا۔عابثہ معصوم بلی کی مانند دھیرے دھیرے قدم اُٹھاتی بڑی خاموشی سےفردوس منزل کی دہلیز پھلانگنا چاہ رہی تھی،مگر فردوس بیگم کی سی سی ٹی وی کیمرہ جیسی نظروں سے بچ کر نکل جانا اتنا بھی آسان ٹاسک نہیں تھا۔ ’’اتنی شام کو ،چوری چھپے کہاں جارہی ہو لڑکی؟‘‘فردوس بیگم نے پینٹ اور شرٹ میں دوپٹہ سے بےنیاز وجود لیے اسے گھر کی دہلیز عبور کرتا دیکھ ناکے پر ہی پکڑ لیا تھا۔ ’’وہ ۔۔وہ نانی میں۔۔میں پھپھو کے گھر جا رہی ہوں ابگینہ سے ملنے ۔۔اس کی شادی ہونے والی ہے ناں تو بیچاری بڑی اداس اداس سی ہے۔مجھے یاد کر کے رو رہی تھی،سوچا مل آؤں۔۔‘‘لہجے میں دنیا جہان کی معصومیت سمیٹ کر بڑی ہی سفاکی سے جھوٹ بولا گیا تھا۔ ’’اچھا! اس سے پہلے تو ابگینہ نے کبھی تمہیں یاد نہیں کیا؟اور اب وہ تمہاری یاد میں بلک ہی اُٹھی ہے؟‘‘نانی صاحبہ کے تفشیشی آنداز پر غصہٰ سے دانت پیسے۔ ’’تو اب تو وہ ُبابل کو چھوڑ کر پیا دیس جا رہی ہے نا ۔سمجھا کریں بیچاری کا دکھ۔‘‘ان کے تفشیش بھرے لہجے پر جھٹ بہانہ گھڑا تھا۔ ’’سب نظر آرہا ہے مجھے تم آج کل کیا کرتی پھر رہی ہو ۔۔جاؤ بی بی جاؤ شریف لڑکیوں کے یہ طور طریقے نہیں ہوتے۔‘‘فردوس بیگم کی زیرک نگاہین اُڑتی چڑیا کے پر گن لیں وہ بھلا کس کھیت کی مولی تھی۔ ’’تو کس نے کہا نانی جان کے میں شریف ہوں؟‘‘وہ بھاری آواز میں سوالیہ بولتی قہقہہ مار کر پھر بھی چلتی بنی تھی۔پیچھے وہ خود ساختہ بڑبڑاتی عابثہ کی سگی نانی اور اپنی سوکن کو بُرا بھلا کہنے لگیں تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
