Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 26/09/2025
7 Views
Episode no 03
بغیر پلکیں جھپکے ٹرانس میں ایسے دیکھے گئی تھی۔دیدہ کی طلب ایسی تھی کہ جتنی میسر آرہی تھی تشنگی مزید بڑھتی چلی جارہی تھی۔جس کو اب تک محض تصویروں میں دیکھ رکھا تھا اب مقابل آنے پر وہ اپنی سُد بُد گنوا رہی تھی کیا واقعی یہ شاندار سی شخصیت والا شخص اسی کا نصیب تھا۔حیات کو بے ساختہ ہی اپنی قمست پر رشک آیا تھا۔جو بیڈ کے کونے پر بیٹھا جوگرز پہن رہا تھا۔مگر ہاتھ میں گھڑی کے بجائے ایک بریسلیٹ موجو تھا۔حیات نے بہت غور سے اس کی تیاری کا جائزہ لیا تھا۔جو کسی لاؤبالی سے لڑکے کی ڈریسنگ کیے کمال کا لگ رہا تھا۔جبکہ تھری پیس والی تصویروں میں تو وہ کسی سلطنت کے شہزادے سے کم ہر گز نہیں لگتا تھا۔ ’’حیات جانو نظر لگاؤگی کیا؟‘‘وہ اس کی محویت نوٹ کرتا دو قدم نزدیک آکر شرارت سے بولا تھا۔ ’’نہیں نہیں!وہ میں۔۔۔‘‘حیات گڑبڑا کر ہوش میں آئی۔وہ نيلی آنکھوں میں معنی خیزی سی چمک لیے اُسے ہی گھور رہا تھا۔ ’’تم ابھی تک یونہی کھڑی ہو چینچ نہیں کیا؟‘‘شیر افگن نے اُسے کل والے میلے کپڑوں میں ملبوس دیکھ پوچھا۔تو حیات کا دھیان بھی اپنے کپڑوں کی جانب ہوا۔ ’’وہ میں کیا پہنوں؟میرے پاس تو کوئی ڈھنگ کا ڈریس بھی نہیں ہے۔‘‘حیات منہ بنا کر زرا بیچارگی سے بولی۔شیر کو اس کی بیچاری صورت دیکھ بے ساختہ ہی کسی کی یاد آئی تھی۔ ’’اففف!لڑکی رات کو ہی تمہارے کچھ ڈریسز منگوا لیے تھے بابا نے۔وہ شاپرز چیک کرلو۔‘‘شیر نے اس کا دھیان ڈبل سیٹر صوفے پر رکھے شاپر کی جانب کرایا۔ ’’اوہ!تھنکیو میں دیکھتی ہوں۔‘‘کل رات سے حیات کی توجہ کہیں اور جا ہی نہیں سکی تھی۔ ’’پرپل ڈریس؟مگر شیر آپ نے تو کہا تھا کہ آپ کو یہ رنگ بالکل بھی پسند نہیں ہے۔‘‘شیر جو موبائل میں مصروف صوفے پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگا تھا کہ اس کی بات سن کر اچانک چونکا۔ ’’کیا مسئلہ ہوگیا ہے اب تمہارے ساتھ؟‘‘اس کا موڈ ایک بار پھر بگڑا تھا۔حیات اُسے رات والے انداز میں آتا دیکھ سہم گئی تھی۔جو اب سخت نظروں سے اُسے ہی گھور رہا تھا۔ ’’وہ یہ رنگ۔۔‘‘دانتوں میں لب دبائے شیر کی غصیلی نگاہوں میں دیکھ وہ لفظ ادھورے چھوڑ گئی۔ ’’تو پہنو جلدی۔کھڑی کھڑی میری شکل کیا دیکھ رہی ہو۔‘‘وہ جو کل سے خود پر ضبط کئے معاملے کو اپنے طریقے سے ڈیل کرنا چاہ رہا تھا۔ کہ اس کی غیر متوقع شکوہ پر تیزآواز میں بولا۔ ’’اہ۔۔‘‘اس اچانک دھاڑ پر حیات کے حلق سے چیخ نکل گئی تھی۔ ’’سُنو لڑکی!یہ ڈرامے بازیاں کہیں اور جا کر دکھانا۔اب جلدی سے جاؤ اور دس منٹ کے اندر تیار ہوکر باہر آؤ۔‘‘دیوار گیر گھڑی پر نظر ڈال کر وہ حکم سُناتا اس کی سانسیں خشک کر گیا تھا۔ ’’اب جاؤ بھی۔‘‘حیات ہڑبڑا کر ہوش میں آتی واشروم کی جانب بھاگی ۔ ’’پتہ نہیں کونسا زبردستی کا ڈھول میرے گلے میں آگیا۔۔۔شیر یہ رنگ تو آپ کو پسند نہیں ہے ناں۔۔آئی بڑی میری پسند نا پسند کو سمجھنے والی۔‘‘خود سے بڑبڑاتا وہ اس کی نقل اتارتا بچوں جیسی حرکت پر خود ہی کو کوس کر رہ گیا۔ ’’افف! اس لڑکی نے تو مجھے ایک ہی دن میں پاگل کر دیا ہے۔‘‘شیر جھنجھلا کر رہ گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئیر کنڈیشن کی تیز کولنگ سے آف وائٹ تھیم سے سجا ایل ای ڈی لائٹس کی دودھیا روشنی سے جگمگ کرتا کمرہ ٹھنڈا برف ہورہاتھا۔ہلکی کڑاہی اور فل بازؤں پر ستارہ ورک سے مزئین جامنی اور آف وائٹ کنٹراس سوٹ کا بڑا سا شیفون کا دوپٹہ کندھے پر سیٹ کرتی وہ ڈریسنگ روم سے زرا جھنجھلائی ہوئی سی باہر آئی تھی۔کمرے کی ٹھنڈک محسوس کرجسم میں ایک سرد سی لہر دوڑ گئی تھی۔سر کی بیچ سے مانگ نکال کر دونوں سائیڈ پر بال ڈال رکھے تھے۔جبکہ ہاتھوں اور کانوں میں سوٹ کی میچنگ کے آئیرنگز اور چوڑیاں پہن رکھی تھیں جو شاید ساتھ ہی آرڈر کی گئی تھیں۔ معصوم نین نقش والے چہرے پر بس ہلکی سی کریم لگائیے وہ سادگی میں بھی پیاری لگ رہی تھی۔گرلز کا کوئی سامان چونکہ موجود نہیں تھا۔ اسی لیے وہ شیرافگن کی کریم مویسچرائیزر کے طور پر لگا چکی تھی۔ "یہ کہاں گئے؟‘‘کمرے میں نگاہ ڈالی جو کچھ دیر پہلے کی بانسبت بالکل سمٹا ہوا صاف ستھرا پڑا تھا۔رات سے اب تک کمرہ کا جائزہ لینے کا اب خیال آیا تھا۔نازک سے پیروں میں اونچی ہائی ہیلز پہنے وہ سفید ٹائیلز اور دبیز قالین پر سہج سہج پر قدم اُٹھاتی بہت اشتیاق سے کمرے کی ایک ایک چیز کو بڑی غور سے دیکھ رہی تھی۔ شیر افگن کے بیڈ روم کا انٹیرائر اس کی پسند کے مطابق ہی ڈیزائنگ کیا گیا تھا۔یہ کمرہ دو حصوں پر مشتمل تھا۔ ایک حصٰے میں کمرے کے بیچ و بیچ ڈبل ماسٹر بیڈ لگا ہوا تھا جس کے عین پیچھے ایک لارج فوٹو فریم تھا۔جس میں اُس کے ساتھ ایک لڑکے کی تصویر بھی تھی۔ بلیک گاؤن اور کیپ پہنے کھڑے وہ دونوں لڑکے کندھوں پر ہاتھ رکھے مسکرارہےتھے۔وہ یقیناً یونی کے کنوکیشن ڈے کی یادگاری تصویر تھی۔۔کمرے کے رائٹ ہینڈ گلاس ونڈوں سیدھی گھر کے گارڈن میں کھلتی تھی جب کہ زرا فاصلہ پر رکھا صوفہ کم بیڈ سے لیفٹ ونڈو سے سیدھی نظر گھر کےسوئمنگ پول آئیریا پر جاتی تھی۔ ’’کمرے کے دوسرے حصہٰ کی اضافی بتیاں بجھا رکھی تھیں۔ جہاں سفید براق تھری سیٹر اور ون سیٹر صوفہ سیٹ اور عین وسط میں شیشے کی ٹیبل پڑی تھی۔صوفہ کم بیڈ کے ساتھ رکھا گٹار اس کی توجہ اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔حیات ایکدم دل میں اُٹھتی چھو کر دیکھنے کی خواہش پر لبیک کہتی چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی نزدیک آئی تھی۔ ’’جھک کر گٹار کی تاروں سے چھیڑ چھاڑ کرتی سراسیمگی کی سی کیفیت میں دم بخود سی مسکراتی اچانک پیچھے سے ُابھرتی سرد سی آواز پر اُوچھل کر رہ گئی۔ ’’کیا کر رہی ہو؟‘‘وہ کڑے تیوروں سے استفسار کرتا قریب سے قریب تر آرہا تھا۔ ’’کچھ نہیں!وہ میں روم دیکھ رہی تھی۔‘‘حیات کو نجانے کیوں اس سے خوف سا آیا۔ ’’تیار ہوگئیں؟‘‘وہ سر جھٹک کر سوالیہ آنداز میں بولا۔ ’’ہاں۔۔جی۔۔‘‘گڑبڑا کر تصیح کی گئی۔ ’’چلو پھر نیچے چلتے ہیں تمہارے فادر ان لا کب سے ہمارا ویٹ کر رہے ہیں۔‘‘وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے گزار کر اپنے قریب کرتا مسکرا کر کمرے سے باہر نکلا تھا۔حیات بھی جھجھک کر اس کی ہمراہی میں قدم اٹُھاتی نزدیک ہوئی۔ ’’السلام علیکم!‘‘شیر نے اپنے ساتھ والی کرسی گھسیٹ کر پہلے اُسے بیٹھایا تھا۔ناصر صاحب نے بہت غور سے اپنے بیٹے کا رویہ دیکھا۔ ’’وعلیکم السلام!کیسی ہیں حیات بیٹا آپ؟‘‘حیات کو سجا سنورا دیکھ وہ کچھ پر سکون ہوگئے تھے۔ورنہ کل رات سے ان کی نیندیں ہی اُڑی ہوئی تھیں۔ ’’اللہ کا شکر انکل!‘‘شیر کی جانب دیکھ وہ مسکرا کر بولی جو ایک بار پھر تنے تاثرات سے فریش جوس کا گلاس لبوں سے لگاتا سنجیدہ سا دکھائی دے رہا تھا۔ ’’حیات بیٹا اب سے یہ آپ کا اپنا گھر ہے۔ بے فکر ہوکر کھاؤ پیو۔۔اور کسی سے بھی ڈرنے دبنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ان کا ناشتہ ہوچکا تھا۔وہ ایک نظر زرین اور لاپراہ سے شیر افگن پر ڈال تنبیہ نگاہوں سے باور کرواتے میز چھوڑ گئے تھے۔ ’’ہنہہ!ایسے تو پہنے کی بھی تمیز نہیں ہے۔‘‘وہ حیات کو دوپٹے میں الجھتا دیکھ نخوت سے بولیں ۔ناشتہ کرتیں حیات ایکدم ہی شرمندہ ہوگئی۔ ’’حیات ناشتہ کر کے جلدی سے روم میں آؤ۔مجھے کہیں کام سے نکلنا ہے۔‘‘شیر پتھریلے تاثرات کے ساتھ حکم سناتا
