Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 26/09/2025
7 Views
Episode no 03
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی 💥 #ازہماقریشی #قسط_نمبر_3 __________________ غروب آفتاب کا وقت قریب تھا ۔یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں شیشے سیگرٹ اور پرفیومز کی ملی جلی سی مہک پھیلی ہوئی تھی۔سمسٹر بریک کی وجہ سے یونی میں رَش نہ ہونے کے برابر تھا۔اِیسے میں چند یونی اسٹوڈنٹس کے علا وہ کیفے کے دوسرے حصے میں موجود تھے۔ ’’جانی آج کا کیا سین ہے؟‘‘وہ تینوں یونیورسٹی کے کیفے ٹیریامیں بیٹھے فلیور شیشہ پی رہے تھے جبکہ ارتضیٰ عباس لب بھینچے موبائل پر ٹائیپنگ میں مشغول تھا۔وہ دو روز قبل ہی اسلام آباد سے واپس لوٹا تھا۔مگر جس ہستی سے خاص الخاص ملاقات کے لیئے وہ یہاں آیا تھا اس نواب کا تو نمبر ہی بند جارہا تھا۔ ’’رات تو ہو جانے دے سین بھی بنا لیں گے۔‘‘نعمان ذومعنی لہجے میں گویا ہوا۔ ’’ہاہاہا!مگر آج کا سین کل والے سے بہتر ہونا چائیے ۔اس بار کچھ نیا ٹرائے کریں گے۔‘‘ارحم کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ ’’کیوں کل والے میں کیا خرابی تھی۔‘‘اس کا اشارہ لیلٰی کی طرف تھا۔ ’’ابے یار چپکو ہے ایک نمبر کی۔کوئی معصوم مشرکی حسن چاہیے اس بار۔‘‘وہ ایک آنکھ بلنک کرتا خباثت سے بولا۔ارتضیٰ نے محض ایک تاسفی نگاہ ڈال کر گردن جھٹکی۔ ’’ہو جائے گا فکر نہیں کر چیتے۔۔‘‘دنیا جہاں سے غافل وہ دونوں کیفے کے اندرونی حصے میں اپنی ہی ہانکنے میں مصروف تھے۔جبکہ ارتضی محض وقفے وقفے سے شیشہ پینے میں میں مصروف تھا۔ ’’یار ارتضیٰ تو بھی تو کچھ بول۔۔‘‘اب نعمان کا رخ ارتضیٰ عباس کی جانب ہوا وہ چونک کر متوجہ ہوا۔ ’’سوچنا بھی مت کہ میں تمہارے فضول سے پلین کا حصے بنوں گا ایسی بہودگیاں تمہی کو مبارک۔۔‘‘ ’’اوئے ہوئے شریف بچہ۔۔‘‘دونوں ہاتھ پر تالی مارتے ہوٹنگ کرنے والے انداز میں خباثت سے مسکرائے ۔کتنے ہی لوگوں کی توجہ ان بگڑے ہوئے امیر زادوں کی طرف گئی تھی۔جو کئی سال پہلے ہی ڈگری مکمل کر کے جا چکے تھے۔مگر جب دل چاہتا تھا وہ اکثر شام میں یہاں محفل لگا کر بیٹھ جاتے تھے۔ ’’چلو تم دونوں دن اور رات کلرفل کرنے کا پلین بناؤ میں نکلتا ہوں۔ میری تو دو گھنٹے بعد کی دبئی کی فلائٹ ہے۔۔‘‘وہ فوری سپاٹ سی نظر ڈال کر اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔کتنی ہی حسرت بھری نگاہوں نے دور جاتے اس شاندار سے شخص کو آنکھ بھر کر دیکھا تھا جس کی بے نیازی عروج پر تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سانولی سی رنگت لنبے سلکی کمر کو چھوتے گھنے بال ،جن کا اگے سے بے بی کٹ کروا رکھا تھا۔چہرے پر جُھولتی شریر لٹیں ،بڑی بڑی گہری سیاہ آنکھیں اور چپٹی سی ناک وہ ہو بہو اپنی ماں جیسی ہی تھی۔عام سی شکل و صورت والی عابثہ کی فردوس منزل میں کوئی خاص حثیت نہیں تھی۔مامیاں تو دیکھتے ہی حقارت سے رُخ موڑ لیتی تھیں مگر وہ بھی انتہا کی ڈھیٹ تھی۔جان بوجھ کر اپنے چہرے مبارک کا دیدار دن میں دس مارتبہ تو لازمی کرا دیتی تھی بقول چھوٹی مامی کے تم کالی بلی کی طرح راستہ نہ کاٹاکرؤ۔سارا دن خراب گزرتا ہے تو یوں سمجھ لیجئے پچھلے سولہ سالوں سے فردوس منزل کے مکین سنکٹ میں چل رہے ہیں۔وجہ عابثہ اسماعیل کی موجودگی جو ٹھری۔۔ ان انکھوں میں ڈوب جانے کو ہم بیقرار بیٹھے ہیں ایک پل میں سب ُلٹانے کو ہم بھی تو یار بیٹھے ہیں۔۔‘‘ ہالہ کی گُھورتی سخت نگاہیں اسی پر مرکوز تھیں جس کی شوخیاں عروج پر تھیں۔ ’’آؤ ری مراسن کی اولاد چل خاموش ہوکر پرے کو بیٹھ جا ری۔جب دیکھوں فضول ہانکتی پھیرے ہے۔‘‘فردوس بیگم جو لاؤنج سے گزر رہی تھیں ایسے فوری جھڑک گئیں۔ ’’ہیں نانی جان سچ میں میں مراسن کی اولاد ہوں؟کیا پہلے زمانے میں نانا ابو کا خاندان مراسی تھا؟وہ چہک کر بولنے کےانداز میں پر سوچ سی ہوگئی تھی۔ ’’ادھر آ ہ ری کمبخت!! شرم ناں آئی اپنے نانا مرحوم پر ایسی تہمت لگاتے ہوئے۔‘‘وہ سفید غرارا اور شارٹ قمیض پر دوپٹہ درست کرتیں چھڑی سے اس کی کمر بجا گئیں تھیں۔ ’’افف اللہ! ظالم نانی ۔۔۔اللہ پوچھے گا یتیم پر ظلم ڈھاتے زرا جو شرم آتی ہو ۔۔فردوس عاشق اعوان ۔۔‘‘دہائیاں آنداز میں آخری لفظ صرف بڑ بڑا کر رہ گئی تھی۔ ’’ناں تجھے کونسی شرم و حیا چھو کر گزری ہے۔۔لمبے کھمبے جیسی ہو گئی ہے مگر توبہ کرو جی جو کبھی ڈھنگ کی بات کرے یا کبھی روزہ نماز کرتی نظر جو آجائے۔‘‘ان کے آنداز میں سختی عود آئی تھی۔جو عموماً عابثہ کو مخاطب کرتے وقت آجاتی تھی۔ ’’نانی جان میں معصوم کیا نماز پڑھوں، توبہ کرو، جو کبھی اپنی نانی کو اس عمرمیں اللہ اللہ کرتے دیکھا ہو۔تو کچھ اچھا سیکھوں بھی۔اس عمر میں فرزانہ آنٹی کی ساس تو ہر وقت تسبیح پکڑے اللہ کو یاد کرتی رہتی ہیں ۔کہ کیا پتہ عرش سے کب بلاوا آجائے مگر بھلا ہو ہماری نانی کا۔۔‘‘لہجے میں مصنوعی افسوس در آیا تھا۔ ’’کمبخت مجال ہے جو تیرے منہ سے کبھی اچھی فعل جو نکلی ہو ہر وقت بد فعلیں نکالتی رہتی ہے۔میری کوئی عمر ہے ابھی اللہ کے گھر جانے کی۔۔‘‘فردوس بیگم اپنا ڈھائی کلو کا ہاتھ اس کی کمر پر بجا تی دہل کر رہ گئی تھیں۔ ’’ناں ناں !!نانی تو کیا ابھی میری کوئی عمر ہے سنجیدہ خاتون کی طرح باتیں بنانے کی۔۔‘‘وہ بھی ہاتھ نچا کر ان کی بات واپس لوٹا گئی تھی۔ ’’توبہ ہے بھئی توبہ۔۔۔اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میری کوئی بیٹی نہیں تھی ۔۔کیسی گز بھر کی زبان ہے لڑکی تمہاری۔زرا پوچھ جاکر اپنے دھیالیوں سے اپنی ماں کا حسن سلوک اسی اعلٰی تربیت کی تھی۔میں نے تیری ماں کی کہ دنیا رشک کرتی تھی رشک۔۔کہ سوتیلی ہوکر ہی کڑی نگاہ رکھی تھی تیری ماں پر۔ورنہ وہ بھی تیری نانی جیسی ہی ہوتی دوسروں کا گھر اجاڑنے میں ماسٹر اب تو بھی اسی کے نقشے قدم پر چل رہی ہے۔۔‘‘نانی بیگم وہیں صوفے پر دراز ہوتیں تیز آواز میں گزرا وقت یاد کرتیں اپنی کارستانیوں سے بھی آگاہ کر گئیں تھیں۔ ’’وہ تو میری ماں تھی بیچاری بھولی بھالی سیدھی سادھی اللہ میاں کی گائے۔آپ جیسی جلاد کے ہاتھ چڑھ گئی۔۔ میں پاگل تھوڑی ہوں شرمین نے سمجھنے کی کوشش بھی کی ناں تو ۔لوہے کے چنے چبوادونگی۔۔‘‘نانی بیگم سہی کہتی تھیں اسکی زبان کے اگے خندق ہی آباد تھی۔ ’’دفعہ ہو ہماری طرف سے بھاڑ میں جا ہمیں کیا۔۔۔ارے بہو رانی!زر عدیل میاں کو بولوں اس فتنے کے لئے کسی مناسب گھر کا رشتہ دھونڈے تاکہ جلد از جلد اسے یہاں سے چلتا کریں۔پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظرآجاتے ہیں۔۔میری تو جان ہی ہر وقت سولی ہر لٹکی رہتی ہے۔‘‘ ’’سوتیلی نانی جان آخر میری شادی کی کیوں ہے اتنی فکر !!جب عابثہ کا دلہا ہے اِدھر۔۔‘‘عابثہ ایک ادا سے ڈائیلاگ بولتی اُنہیں سٹپٹاتا ہوا چھوڑ کر وہاں سے بھاگ چکی تھی۔جبکہ سامنے سے آتیں فردوس بیگم کی چھوٹی رشتہ کی بہن اس گوہر افشائی پر ناک بھنوئیں سمیٹ کر رہ گئیں۔ ’’باجی اس لڑکی کی لگامیں کس کے رکھیں زرا۔لو بھلا بتاؤ کسی دلیری سے کسی پرائے مرد کا زکر کر رہی تھی۔‘‘وہ ہاتھ منہ پر رکھتیں توبہ توبہ کر گئیں تھیں۔ ’’چھوڑوں ایسے تم بتاؤ کیسی ہو۔ابگینہ بیٹی کا رشتہ طے ہوگیا ۔۔‘‘وہ نظر اندازکرتیں باتوں میں مشغول ہوچکی تھیں۔جبکہ وہ اب تفصیل سے آگاہ کر رہی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلیک جینز پر بلیو شرٹ پہنے بالوں کو اسٹائل سے سیٹ کیے خوشبوئیں بکھیرتا وہ مردانہ وجاحت شجاعت کا شاہکار مرد گنگناتا ہوا ڈریسنگ روم سے باہر آیا۔ تو صوفے پر بیٹھی حیات چند لمحے تو
