Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Festive Romance
Published: 12/01/2026
43 Views
Part 03
مہمان افف !مجھے تو ابھی سے سوچ کر ایکسائٹمنٹ ہورہی ہے۔‘‘معصومہ کا چہکنا مسکین کو خاصہ ناگوار گزرا تھا۔ ’’یہاں میں سوچ سوچ کر پریشان ہیں۔صبح سے فکر لگی ہوئی ہے۔۔میرے سارے دوست مجھے ’’ترسا ہوا ‘‘ بول بول کر ریکاڑد لگا رہے ہیں اور تمہیں شادی کی پڑی ہے۔‘‘مسکین نے ناک کے نتھنے پھولائیے مٹھیاں بھینچیں۔ ’’مسکین سوچ اور شکل تم ساری زندگی پریشان ہی ہوتے رہنا۔میں تو پوری شادی کا ولوگ شوٹ کرونگی۔۔برائیڈل شوٹ کرؤانگی۔سوشل میڈیا پر ٹرینڈنگ پر رہوں گی۔اور پھر دیکھنا مجھ چھوٹی سی دلہن کو لوگ کتنا لائیک کریں گے۔‘‘مسکین کی شکل پر خونخوار تاثرات واضح ہورہے تھے۔جبکہ وہ اپنی ہی جون میں فل مزے میں مسکین کوتپانے میں مصروف تھی۔ ’’معصومہ چڑیل !یہاں میں پریشان ہوا بیٹھا ہوں اور تمہیں کپڑوں ،جوتوں اور ولوگز کی پڑی ہوئی ہے؟‘‘مسکین کو غصہٰ چڑا تھا اور وہ فوراً جھپٹنے کے انداز میں اس کے باب کٹ بال زور دار آنداز میں کھینچ کر پھرتی سے سیڑھیوں پر بھاگا تھا۔۔ ’’ آہ ہ ہ ہ!!!مسکین بخاری!تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے بال پکڑنے کی۔۔آج تو تم میرے ہاتھوں شہید ہوگے ۔۔مسکین جیسی شکل والے مسکین۔۔‘‘معصومہ زور دار اندز میں چیختی ہوئی اس کے پیچھے بھاگی تھی۔جو اب گھر میں ِادھر سےُ ادھر بھاگتا ہوا چھپنے کے لیئے جگہ ڈھونڈ رہا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دلنیشیینُ اداس دل کے ساتھ گلاس ونڈو کے پار نظر آتے چاند پر نظرے جمائے خاموش کھڑی تھی۔جانے ایسا کیا تھا جو بار بار اس کا دل اداس کیے جا رہا تھا۔کبھی ضامن کی اداسی بھری نگاہیں آنکھوں کے پردہ پر لہرا جاتیں تو کبھی اس کی آنکھوں میں بھرا طیش ایسے سہمنے پر مجبور کر دیتا تھا۔ ُ ’’تم کیوں نہیں سمجھتے ضامن کہ کل کو تم ایک ایسی لڑکی کے ساتھ ساری زندگی نہیں گزار سکو گے۔جو پہلے ہی اپنے حصہٰ کی محبت کر چکی ہے۔چند دن کی محبت کا جنون ہے ۔مجھے ُامید ہے کہ میرے یہاں سے چلے جانے کے بعد تم مجھے جلد بھول جاؤ گے۔۔‘‘سمندری آنکھوں سے ایک خاموش آنسو ٹوٹ کر رخساروں پر سے بہتا زمین پر گرتا بے مول ہوگیا تھا۔جبکہ دل تھا جو بار بار کسی انہونی کے خد شے میں عجیب لے میں دھڑک رہا تھا۔ہاتھ کی پشت سے آنسو پونچھتی وہ کسی خیال کے تحت پلٹتی قدم قدم اٹھا کر بیڈ پر آکر بیٹھ گئی تھی۔ جبھی موبائل پر ایک انجان نمبر سے کال آنے لگی تھی۔دلنشین نے اچنبے سے ان نان نمبر کو دیکھا تھا جو بج بج کر خاموش ہو گیا تھا۔ ’’یہ کس کا نمبر ہے۔‘‘وہ ہم کلامی کرتی حیران تھی کہ موبائل ایک بار پھر بجنے لگا تھا۔ ’’ ہیلو دلنشین!‘‘دوسری جان سے بڑی اجنبی سی آواز ابھری تھی۔ ’’کون؟‘‘دلنشین کو کسی مرد کی آواز سن حیرانگی ہوئی۔ ’’میں سعد!‘‘دل کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔ ’’پہچانا!دوسری جان وہ ٹیرس پر کھڑا تذبذب کا شکار تھا۔ ’’جی پہچان لیا!کہیے کیسے فون کیا؟‘‘دل کے لہجے میں آپ ہی سرد مہری در آئی تھی۔ ’’در اصل میں پوچھنا چاہ رہا تھا کہ آپ اس رشتہ کے لیے راضی ہیں؟‘‘سعد پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتا زرا مخمصے کا شکار تھا ۔دلنشین کا سرد لہجا سمجھ سے باہر تھا۔ ’’میرے بڑوں کا جو فیصلہ ہوگا مجھے منظور ہے۔‘‘دلنشین کے مختصر سے جواب پر وہ چند لمحے خاموش رہ گیا۔کچھ دیر دونوں کے بیچ خاموش حائل ہوگئی تھئ۔جیسے سعد کی بارعب آواز نے توڑا۔۔ ’’میں ُامید کرونگا۔کہ آپ کے سنگ میرا آئندہ کا سفر خوشگوار گزرے گا۔۔اللہ حافظ!‘‘مقابل کے لہجے کا بھاری پن محسوس کر دوسری جانب خاموش کھڑی دلنشین کو ریڑ ھ کی ہڈی میں سنسنا ہٹ سی محسوس ہوئی تھی۔جو موبائیل بند کر چکا تھا۔وہ کتنی ہی دیر ایک ٹرانس میں یونہی اسٹل کھڑی رہ گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کی تاریکی پورے شہر پر اپنے سیاہ پر پھیلا کر دن کی روشنی کو سمیٹ گئی تھی۔شہر کی مصنوعی روشنیوں میں گُم شہری اپنی ہی ترنگ میں تھے۔اپنی اسپورٹس بائیک ڈیفنس کی سیدھی لمبی سڑکوں پر بھاگتا وہ سخت طیش میں تھا۔سر پر ہیلمٹ پہنے وہ مسلسل ریس بڑھا رہا تھا۔ارد گرد سے گزرتی تیز رفتار گاڑیوں کو کٹ دیتا وہ بہت اسپیڈ میں جارہا تھا۔غصہٰ اتنا تھا کہ بس نہیں چل رہا تھا کہ آج دلنشین کے لیےآئے رشتوں والوں کو گولیوں سے بھون ڈالتا۔۔ دماغ کی پھولتی رگوں میں جوش مارتا خون مسلسل کاری ضربیں لگا رہا تھا۔ہوا کے دباؤ کے باعث سردی سی محسوس ہورہی تھی مگر دوسری جانب پرواہ کیسے تھی۔زہن میں اب تک کی ساری باتیں گونجنے لگیں تھیں۔۔ ’’ضامن تمہارا دماغ خراب ہوچکا ہے۔تمہیں میری ایک بات سمجھ کیوں نہیں آجاتی کہ میں تم سے شادی نہیں کر سکتی ۔سارے لحاظ بھول گئے ہو تم۔کسی رشتہ کا کوئی پاس نہیں ہے تمہیں ۔کیوں اس خوبصورت رشتہ کا تقدس پامال کرنے پر تل گئے ہو۔۔میری اور تمہاری عمر میں دو سال کا فرق ہے بیوقوف۔‘‘اس کی ایک ہی گردان پر بلآخر وہ زچ ہوتی چیخ اٹھی تھی۔گہری سمندری آنکھوں میں رنج و ملال کا ہر رنگ واضح تھا۔ ’’دلنشین آپ میرا عشق ہیں۔۔میں نہیں جانتا کہ آپ مجھ سے کتنی بڑی ہیں۔ بس مجھے آپ سے شادی کرنی ہے۔‘‘اس بار اپنی ہی آواز گونجی تھی۔ ’’شٹ اپ!ضامن۔۔‘‘ ’’دادی میں اس رشتہ کے لیئے تیار ہوں۔‘‘ایک سریلی سی آواز کے گونجتے ہی اس کے حواسوں نے کام کرنا چھوڑا تھا اور وہ جو اسسپیڈ میں تھا اچانک ہی گاڑی کا بیلنس بگڑنے کے باعث روڈ پر گھسٹتا ہوا دور جا گرا تھا۔آہستہ آہستہ گاڑیوں کا ہجوم لگنے لگا تھا ۔زمین پر گرے ضامن کو کچھ لوگ اپنی جانب بھاگتے ہوئے نطر آےئے تھے اور بس پھر اس کے دماغ نے ساتھ چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔ السلام علیکم! ’’ اپنی عادت کے برخلاف تین دن سے لگاتار لانگ قسط دے رہی ہوں مگر رسپانس زیرو ہے۔جو پڑھ رہیے ہیں وہ خاموشی سے پڑھ کر گزر جاتے ہیں۔ آپ لوگوں سے ایک کمنٹ تک نہیں ہوتا۔۔🤧
