Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Festive Romance
Published: 12/01/2026
43 Views
Part 03
تھی۔جن کی جان طوطے میں جو تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’دل آپی کہاں جارہی ہیں؟‘‘وہ موبائل میں مصروف قمروش بیگم کے روم کی جانب جا رہی تھی۔کہ جبھی مسکین اس کی راہ میں حائل ہوا۔ ’’چاند پر ۔۔۔چلنا ہے ساتھ۔۔‘‘مسکین کو دیکھ ایسے سابقہ غصہٰ عود آیا تھا۔ ’’اچھا!کیا واقعی؟‘‘وہ چہکا۔ ’’بکواس نہیں کرنا میرے سامنے۔۔اگر میں نے تمہاری شکایت چاچو سے نہیں کی ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے۔کہ تم ہمارے سروں پر چڑھ جاؤ۔‘‘دلنشین کا دماغ گھوما تھا۔ ’’اچھا ناں غصہٰ تو نہیں کریں۔۔۔ آپ بس مجھے اچھی لگتی ہیں۔۔اس لیے بول دیا تھا اس دن۔۔اچھاسوری!‘‘مسکین شرمندہ سا منہ بنا کر بولا۔جو ہنوز ایسے گھور رہی تھی۔ ’’بولنے سے پہلے انسان کو سوچ لینا چاہیے کہ وہ کیا بول رہا ہے۔بعد میں شرمندگی محسوس کرنے سے تو لاکھ درجہ بہتر ہے۔‘‘دلنشین کا غصہٰ ہنوز برقرار تھا۔ ’’اچھا!غصہٰ تھوک دیں۔۔پہلے میری بات سن لیں پلیز!‘‘وہ ملتجائیہ آنداز میں بولا۔ ’’بولو!وہ سینے پر بازہ لپیٹے سختی سے بولی۔ ’’مجھے اس شکل مومنہ ،معصومہ سے شادی نہیں کرنی۔۔پلیز آپ دادی کو سمجھائیں نا۔۔۔ابھی تو میں پڑھ بھی رہا ہوں۔‘‘مسکین نے روندو سی صورت بنائی تھی۔ ’’کیوں تمہیں تو بڑا شوق تھا شادی کا؟‘‘دلنشین نے گھورا تو وہ خجالت سے سر کھُجاتا خائف ہوا۔۔ ’’پلیز نا پیاری آپی!سمجھائیں ناآپ دادی کو۔۔اور اب تو آپ بھی شادی کے لئے راضی ہوگئی ہیں۔بس کسی طرح ضامن بھائی کو بھی راضی کرلیں تاکہ ہماری جان چھوٹ جائے۔‘‘دلنشین ایک نظر گھوری سے نوازتی دادی کے کمرے کی جانب بڑھی۔آج ویسے بھی سارا دن سے وہ بیوقوف نظر نہیں آیا تھا۔جانے غصہٰ میں اس نے کیا کر بیٹھنا تھا۔ ’’دل آپی!‘‘اپنے گھمبیر مسئلہ کا کوئی خاطر خواہ جواب نا موصول ہوتا دیکھ اس نے پیچھے سے ہانک لگائی تھی۔۔ ’’دادی کے پاس تمہارے مسئلہ کا ہی حل نکالنے جا رہی ہوں۔‘‘دل بھی اسی کے آنداز میں جواب دیتی اپرُکی جانب بڑھی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’السلام علیکم دادی! چاند مبارک!‘‘دلنشین اپنی جون میں دلکش آنداز میں بولتی ہوئی ابھی کمرے میں داخل ہوئی ہی تھی کہ بیڈ پر دادی کے گود میں سر رکھ کر لیٹے ہوئے ضامن کو دیکھ ٹھٹھک کر ٹھر گئی۔۔ ’’خیر مبارک میری بچی!تمہیں بھی مبارک۔۔‘‘ضامن نے اس کی آواز پر محض چند لمحوں کے لیے آنکھیں کھول کر ایسے دیکھا تو جو اب ہونق بنی کھڑی تھی۔ ’’وہاں کیوں جم گئی ہو دلنشین؟آندر آؤ۔۔‘‘ایسے یونہی دروازہ میں استاذہ دیکھ انہوں نے ایسے احساس دلایا۔ ’’آہاں۔۔جی جی۔۔‘‘دلنشین گڑبڑا کر ایسے چور نظروں سے گھورتی دادی کی دوسری سائیڈ آکر بیٹھ گئی تھی۔جو لاپرواہی سے اس کی آمد سے بیگانا ہوا بیٹھا تھا۔۔ ’’دادی جانی!مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی۔‘‘وہ ان کے پاس ہی بیٹھ گئی تھی۔ضامن نے دادی کا دھیان بھٹکتا دیکھ ہاتھ تھام کر سر پر رکھا۔ ’’ہاں!میرا بچہ بولو۔‘وہ ہم تن گوش ہوئیں۔۔جبکہ ہاتھ اس کے بالوں میں گھمانا شرو عہاگیا تھا۔ ’’آپ پلیز! مسکین اور معصومہ کی شادی کا اردہ ابھی ملتوی کردیں۔۔ابھی بچے ہیں دادی وہ۔۔‘‘دلنشین نے لب دانتوں میں دبا کر بات کا آغاز کیا۔ ’’کوئی بچے نہیں ہیں۔۔۔اور جب شادی ہوجائے گی۔تو خود ہی سدھر جائیں گے۔‘‘انہونے سختی سے نفی کی۔ ’’مگر۔۔۔۔‘‘ ’’کوئی اگر مگر نہیں۔مجھے اب اپنے پوتے کی شادی ہوتی دیکھنی ہے۔مگر یہ بد بخت تو مانتا ہی نہیں ہے تو اب میں مسکین کی شادی کر کے ہی رہونگی۔‘‘قمروش بیگم نے ناک بھنوئیں سمیٹ کر ضامن کے سر پر چپت لگا کر آٹل انداز میں کہا۔جو دلنشین کو گھور کر رہ گیا۔۔ ’’ذوالحج کا چاند نظر آچکا ہے۔بس طے ہو گیا کل شام کو مسکین اورمعصومہ کا نکاح ہے۔اب میں مزید کوئی بات نہیں سنوؤں گی۔آخر اس نکاح میں مسئلہ ہی کیا ہے؟دونوں بچے بالغ ہیں اپنا اچھا برا پہنچانتے ہیں۔عمر چھوٹی ہے تو کیا ہوا میرا نکاح بھی سولہ سال کی عمر میں ہوا تھا،اب بس یہ دونوں بچے ہماری نسل کی پرانی روایت کو پھر سے زندہ کریں گے۔قمروش بیگم سختی سے بولتیں انہیں لب بھینچنے پر مجبور کر گئیں۔ضامن دلنشین کو ایک سرد نگاہ سے نوازتا پھر سے آنکھیں موند گیا تھا۔۔ ’’ٹھیک ہے دادی جیسی آپ کی مرضی!‘‘اس نے خاموشی میں ہی عافیت جانی تھی۔ ’’خیر سے تم یہ بتاؤ لڑکی۔کہ تمہارا آج آنے والے رشتہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘دادی کے اچانک سوال پر ضامن جو خود کو لاپرواہ شو کر رہا تھا۔چونک کر سیدھا ہوا۔ ’’دادی!جو آپ بہتر سمجھیں وہ فیصلہ کرلیں مجھے اس رشتہ پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘وہ خود کو سخت نظروں سے گھورتے ضامن کو نظر آنداز کئے سپاٹ سے لہجے میں بولی تھی۔قمروش بیگم اپنے دونوں بچوں کے تاثرات دیکھ کر رہ گئیں۔۔۔ ’’خیر ضامن!تم بتاؤ اب تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘قمروش بیگم نے ایک بار پھر ایسے راضی کرنا چاہا ۔۔جس کی آنکھوں سے جنون کی چنفاریاں نکل رہی تھیں۔جس سے دلنشین نظریں چرا رہی تھی۔ ’’آپ اپنے پوتی پوتے کی شادی کرلیں پہلے۔میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو۔‘‘ضامن سختی سے بول کر جھٹکے سے اٹھتا کمرے سے باہر نکل گیاجبکہ وہ ہکا بکا سی منہ کھولے ہی رہ گئیں تھیں۔ ’’دلنشین کیا تم واقعی میں اس رشتہ کے لیے راضی ہو۔‘‘وہ ضامن کے بگڑے تیور دیکھ پاس بیٹھی دلنشین سے مخاطب ہوئیں جو گم سم سی خاموش تھی بیٹھی۔ ’’جی دادی میں راضی ہوں۔‘‘ ’’دلنشین ضامن چاہتا ہے کہ۔۔۔‘‘لاڈلے پوتے کی خواہش انہیں بھی بڑی عزیز تھیں مگر وہ زبردستی کی قائل نہیں تھیں۔ ’’دادی میں سعد سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں۔۔آپ انہیں کال کر کے ہاں کہ دیں۔۔‘‘دلنشین انہیں بولنے کا موقع دیے بغیر ہی اپنا فیصلہُ سناتی کمرے سے باہر کی جانب بڑھ گئی تو وہ گہری سانس بھر کر گئیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یہ تم ہر وقت بھٹکی ہوئی اتماؤں کی طرح ہمارے گھر میں ہی منڈلاتی رہتی ہو کیا؟‘مسکین جو گنگناتا ہوا بائیک کی چابی انگلی پر ُگھماتا ہوا باہر کی جانب جا رہا تھا سامنے سے آتی معصومہ کو گھر میں داخل ہوتا دیکھ چڑ کر بولا۔ ’’ہاں تو !میری خالہ جانی کا گھر ہے تمہیں کیا مسئلہ ہے بھئ؟’’معصومہ عادتً پھاڑ کھاتے لہجے میں بولی تھی۔ ’’آئی بڑی خالہ کا گھر۔۔چلو اپنے گھر میں جاکر بیٹھو سکون سے۔‘‘وہ گھور کر بولا جس کی پیشانی پر ناگواری کے بل واضح ہوئے۔ ’’صرف خالہ کا نہیں۔۔یہ اب میرا بھی ہونے والا گھر ہے مسکین شکل والے۔‘‘معصومہ سینے پر ہاتھ لپیٹے مزے سے بولتی مسکین کو حیرت کے سمندر میں غوطہ زن کر ر گئ تھی۔ ’’کیا کیا؟؟آج سورج مشرق میں تو غروب نہیں ہوگیا؟کیا بکواس کیے اجارہی ہو؟‘‘مسکین سر پھینک کر بےے ساختہ قہقہہ لگا آٹھا تھا۔ ’’جی نہیں!میں نے بہت سوچا اور اب دی گریٹ معصومہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ میں تم جیسے مسکین شکل والے سے شادی کر ہی لوں۔۔‘‘معصومہ معصوم سا منہ بنائے مخالف سمت میں دیکھتی زمین پر پیر بجا کر بولی۔ ’’ہاہاہاہاہا!لگتا ہے پھر کسی یوٹیوبر یا ولوگر کو دیکھ کر آرہی ہو۔جو ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو۔‘‘مسکین نے مسکرا کر مشکوک انداز میں گھورتے ایسے چھیڑا۔ ’’جی نہیں !میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔بٹ تم سے شادی کرنے میں ایک فائدہ ہے اور وہ ہے کہ عید کے کپڑے تو بنےگے ہی مگر ساتھ اتنے سار گفٹس بھی تو ملیں گے۔‘‘ معصومہ فیاض کی اپنی ہی معصوم سی خوشیاں تھیں۔ ’’بھوکی جب کرنا اپنی طرح کی ہی کوئی بھوکی بات ہی کرنا۔‘‘مسکین کے تو منہ پر بارہ ہی بج گئے تھے۔ ’’ہاں تو مجھے تو بڑا مزہ آئیے گا۔۔اتنے سارےنیو ڈریسز،اور پھر گفٹس بھی۔۔فنکشنز
