Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Festive Romance
Published: 12/01/2026
43 Views
Part 03
Bheegi Si Hawa Tum Huma Qureshi Part 03 السلام علیکم!خالہ جانی۔۔۔کیسی ہیں آپ؟‘‘نوشین بیگم سر پر دوپٹہ درست کرتیں قمروش بیگم کے کمرے میں داخل ہوئی تھیں۔ ’’اللہ کا شکر !خیریت تھی۔۔‘‘وہ ابھی نماز کی ادائیگی کر کے بیٹھی تھیں۔کہ نوشین کو یوں دن دہاڑے دیکھ زرا متعجب ہوئیں۔ ’’جی جی سب خیر ہے خالہ جانی!وہ بس آپ نے کل کہا تھا نا کہ دلنشین بیٹی کے رشتہ کے لیے۔، تو میں نے کل رات ہی رشتہ والی سے بات کرلی تھی۔‘‘وہ قریب ہی نشست سنبھال کر تفصیلی انداز میں بولیں۔ ’’اچھا!تو کیا اتنی جلدی مل گیا لڑکا۔۔‘‘ ’’ارے خالہ بی آپ کو تو پتہ ہے یہ رشتہ والیاں آج کل رشتے پرس میں لیے گھومتی ہیں۔‘‘وہ زراا منہ بناکر بولیں۔تو قمروش بیگم برو چڑھا کر رہ گئیں۔ ’’اچھا!تو لڑکا کیسا ہے؟۔دیکھ بھال لیا خاندانی لوگ تو ہیں ناں؟‘‘وہ زرا فکرمند ہوئیں۔ ’’جی جی خالہ بی میں اپنی دل کے لئے کوئی ایسا ویسا رشتہ تھوڑی دیکھوں گی۔باقی اپنی نظر سے جانچ پرکھ لیں گے۔ میں نے جس سے بات کی ہے وہ پروفیشل رشتہ والئ ہے۔۔کوئی اچھا رشتہ ہی بتائے گی۔‘‘انہونے مطمئن اندازز میں جواب دیا۔ ’’تو وہ کب آنا چاہ رہے ہیں؟پھر بلا لو۔۔کل یا پرسو میں۔۔‘‘وہ کسی نتیجے پر پہنچی تھیں۔۔ ’’کل یا پرسو ں نہیں ۔۔لڑکا با ہر رہتا ہے عید کی چھٹیاں گزارنے آج کل پاکستان آیا ہوا ہے۔تو بس اس کے گھر والے ااس بار نکاح کر کے ہی بھیجنا چاہتےہیں۔اور رخصتی تو بعد کی بات ہے۔‘‘وہ لمبی چوڑی تمہید باندھ کر اب اصل مدعے کی جانب آئیں تھیں۔ ’’بھئ۔۔پہلے کی طرح جلدبازی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ہماری بچی کی کونسی عمر نکلی جارہی ہے۔ابھی صرف آٹھائیس کی ہے۔دیکھ لو پرکھ لو۔۔۔پھر ہی کوئی فیصلہ لیں گے۔۔اور ویسے بھی یہ دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں۔باہر رہنے والے لڑکوں کی تو زیادہ چھان پھٹک کرنی ہوتی ہے کیا معلوم شادی شادہ ہی نکل آئے۔۔۔‘‘قمروش بیگم کا تجربہ بول رہا تھا ۔۔اب بھلا انہوں نے بال دھوپ میں تو سفید نہیں کئے تھے۔ ’’جی کالہ جان آپ کہ تو ٹھیک ہی رہی ہیں۔۔اور اب بس دل نشین کی شادی جتنی جلدی ہوسکے شادی کردیں۔تاکہ پھر ضامن کا بھی کچھ سوچیں۔اور مسئلہ کیا ہے۔ہم رشتہ دیکھ لیتے ہیں اب تو خیر سے ضامن بھی سمجھدار ہے اچھے سے چھان پھٹک کر رشتہ طے کریں گے۔‘‘نوشین نے زار سمجھانے والے لہجے میں کہتے رسانیت سے سوچ کر جواب دیا۔۔تو قمروش بیگم کے چہرے پر ناگواری کی لکیریں واضح ہوئیں۔ ’’دیکھ ہی نالے ضامن۔۔‘‘وہ سرگوشی میں بڑ بڑا کر رہ گئیں تھیں۔۔ ’’خیر!میں رشتہ والی کو فون کر کے لڑکے والوں کوُ بلا رہی ہوں۔شام کی چائے ساتھ ہی پئیں گے۔۔‘‘وہ مسکرا کر اطلع دیتیں کھڑی ہوگئیں۔ ’’چلو ٹھیک ہے۔میں دلنشین کو بتا دوں۔۔اللہ میری بچی کے نصیب اچھے کرے۔بڑے دکھ جھیلے ہیں چھوٹی سی عمر میں۔‘‘وہ دل سے دعائیا انداز میں بولیں۔ ’’آمین!چلیں میں زرا نکلتی ہوں۔معصومہ کو دیکھوں ۔جب سے مسکین اور معصومہ کی شادی کا سلسلہ چلا ہے۔اس لڑکی نے میری ناک میں دم کر رکھا ہے۔‘‘وہ بڑبڑا کر کمرے سے نکل گئیں تھیں۔جبکہ وہ تسبیح کرنے میں مصروف ہوگئیں تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بخاری ہاؤس کے ڈرائینگ روم میں اس وقت رشتہ والی خاتون کے علاوہ بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس ایک ینگ ہینڈسم سا خوبرو نو جوان سنجیدہ سے تاثرات کے ساتھ اپنی ماں کے برابر میں نظریں جھکائے بیٹھا تھا۔جبکہ ایک طرف ڈبل سیٹر براؤن صوفوں پر قمروش بیگم اور شہروز صاحب تو دوسری جانب نوشین بیگم اپنے شوہر فیاض کی ہمراہی میں بیٹھی ہوئی تھیں۔۔ ’’بیٹا کچھ اپنے بارے میں بتائیں؟ باہر جاب کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں آپ کی۔‘‘فیاض صاحب کی سوال پر خاموش بیٹھا سعد چونک کر متوجہ ہوا۔ ’’کچھ خاص نہیں انکل!جاپان کی ایک کمپنی میں بطور سافٹ وئیر انجئنیر اپنی خدمات فراہم کر رہا ہوں۔۔اس کے علاوہ مجھے نئی چیزیں اکسپلور کرنے کا زیادہ شوق ہے۔تو آئی ٹی کی فیلڈ سے وابستگی کی وجہ سے بس پرو سافٹ وئیر گرامنگ میں ہی سارا وقت نکل جاتا ہے۔‘‘وہ اپنی بول چال سے ہی خاصہ سلجھا ہوا لگ رہا تھا۔ ’’ماشاءاللہ بہت اچھی بات ہے۔ہماری دلنشین نے بھی بی ایس سی ایس میں ڈگری کی ہے۔اور فارغ اوقات میں بس وہ ہوتی ہے اور اس کا لیپ ٹاپ ۔۔۔کوڈنگ اور ہیکنگ کرنے میں ماسٹر ہے ہماری دلنشین۔‘‘نوشین بیگم نے جھٹ بیچ میں ٹہوکا دیتے ہوئے دلنشین کی خاصیت گنوائیں تھیں۔جو عام لڑکیوں کی بانسبت زرا مختلف تھیں۔ ’’ماشاءاللہ!مگر دلنشین بیٹی ہے کہاں۔۔‘‘سعد کی والدہ نے بل آخر سب کے دل کی بات کہ دی تھی۔ ’’یہی ہے۔ میں لے کر آتی ہوں۔‘‘وہ مسکرا کر آٹھیں تھیں۔ چائے اور کچھ لوازمات کے ساتھ سرونگ ٹرالی گھسیٹ کر لاتی دلنشین نے ڈرائینگ روم میں موجود سبھی لوگ پر ایک سپاٹ سی نظر ڈال کر سلامتی بھیجی تھی۔سعد ایسے ایک نظر دیکھ کر نظر یں پھیر چکا تھا۔۔۔ ’’وعلیکم السلام!آؤ بیٹا یہاں میرے پاس بیٹھوں۔‘‘بلقیس بیگم کو کاٹن کے تھری پیس میں ملبوس سلیقے سے سر پر دوپٹہ لیے وہ من موہنی سی صورت والی سمندری آنکھوں والی دلنشین اپنے نام کی طرح ہی خوبصورت لگے تھی۔۔ وہ دلنشین سے باتوں میں مصروف ہوگئیں تھیں۔جو دھیمی سی آواز میں جواب دے رہی تھی،گھر کے بڑے سعد کے ساتھ سیاسی اور آپسی گفتگو میں مصروف ہوگئے تھے۔ ’’چلیں!بس پھر ہمیں اجازت دیجئے۔ہم آپ کو انشاللہ جلد مثبت جواب دیں گے۔‘‘کچھ دیر میں ہی رسمی سی گفتگو کے ساتھ اس خوبصورت سی شام نے بھی بخاری ہاؤس سے رخصت لی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’چاند مبارک!!!!!!!! ’’دادی! دلنشین آپی! ’’مسکین شکل مسکین! ’’ذوالحج کا چاند مبارک ہو۔۔‘‘پرپل اسکرٹ اور کریم کلر کےشارٹ ٹاپ میں ملبوس معصومہ اونچی آواز میں صدا لگاتی بخاری ہاؤس میں داخل ہوئی تھی۔کچن میں کھڑی اپنے لیے کافی پھینٹتی دلنشین نے اس کے بچپنے پر مسکراہٹ چھپائی تھی۔ ’’دل آپی چاند مبارک!‘‘وہ ہانپتی کانپتی دل کے عین سامنے آکر ٹھری تھی۔۔اس وقت وہ فرداً فرداً سب کے کمروں میں جاکر مبارک پیش کر آئی تھی۔اور اب اپنا کافی کا مگ تھامے کچن سے باہر نکلتی دلنشین کو بھی مباررک پیش کرتی مسکرائی تھی۔۔ ’’خیر مبارک میری جان!تمہیں بھی چاند مبارک۔۔ویسے کہیں چاند کی اتنی زیادہ خوش صرف اس لیے تو نہیں ہے۔کہ کل دادی نے تمہارا نکاح رکھا ہے؟‘‘دلنشین نے مسکراہٹ چھپا کر شرارت سے پوچھا۔۔ ’’نہنہ!مجھ بھلا کیوں خوشی ہونے لگی۔۔۔مجھے تو گھر میں بکرے آنے کی خوشی ہے۔۔اس بار بکرا لینے ساتھ میں بھی جاؤنگی۔۔‘‘معصومہ منہ باسور کر کہتی آینڈ میں چہکی۔۔ ’’پاگل بکرے لینے لڑکیاں نہیں جاتیں۔۔‘‘دلنشین نے صوفے پر بیٹھ کر پیر پر پیر رکھے ایسے سمجھانا چاہا تھا۔۔ ’’میں نہیں جانتی بھئ۔۔بس اس بار بکرا لینے میں بھی جاؤنگی۔۔ہر بار یہ مسکین اپنی پسند کا لے آتا ہے۔‘‘ضامن تو من موجی انسان تھا ایسے تو زیادہ شوق تھا نہیں اسی لیے مسکین ہی ان کاموں میں پیش پیش رہتا تھا۔۔ ’’اچھا چلی جانا !مگر زرا یہ تو بتاؤ یہ۔۔۔مسکین کہاں غائب۔۔‘‘دلنشین نے مسکین کی جانب سے ابھی تک جوابی کروائی نا ہوتی دیکھ پوچھا۔۔ ’’اپنے کمرے میں پب جی کھیل رہیں ۔۔‘‘معصومہ بھی ڈھڑام سے صوفے پر گرتی طنزیہ بولی۔ ’’اچھا تم تمیز سے بیٹھو۔۔میں زرا دادی سے بات کر کے آؤں ۔ورنہ بیٹا کل کی تاریخ میں دادی جان نے تمہاری رسی باندھ دینی ہے ہمیشہ کے لیے مسکین کے کھوٹے سے۔‘‘دلنشین شرارتً بول کر دادی کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔تو یچھے وہ اللہ نا کرے کی صدا لگاتی اب مسکین کے کمرے کی جانب بھاگی
