Yeh Ishq tum na karna ( Episodic Novel ) — Yeh Ishq Tum Na Karna Episode No 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 28/10/2025
457 Views
Yeh Ishq Tum Na Karna Episode No 05
گویا ہوا۔۔حیا اب اسکی گود میں تھی۔۔ ’’جی کہیں میں سن رہی ہوں؟‘‘وہ پوری توجہ سے ہمہ تن گوش ہوئی۔۔ ’’ دراصل میں۔۔‘‘وہ ذرا ہچکچاہٹ کا شکار ہوا۔۔ ’’جی میں سُن رہی ہوں۔۔‘‘وہ سپاٹ تاثرات سے اس کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھ رہی تھی۔۔ ’’وہ۔۔۔۔دراصل،کیا آپ میری بیٹی کی مما بننا پسند کریں گی؟‘‘اس قدر عجیب آنداز میں پرپوز کر رہا تھا کہ ایک لمحے کو اس کے ماتھے پر تیوری چڑھی تھی۔ ’’سوری!‘‘اس سے شاید سننے میں غلطی ہوئی تھی۔۔ ’’ لائبہ کیا آپ تاحیات کے لئے میرا ساتھ قبول کریں گی؟‘‘اس بار لائبہ کے لبوں پرا یک عجیب سی مسکراہٹ کھل گئی تھی۔۔ جبکہ مقابل بیٹھے شاہزل کو تھوڑا عجیب محسوس ہوا تھا۔۔ ’’کہاں جارہی ہیں آپ؟؟میری بات کا جواب تو دے دیں؟‘‘وہ اس کی حرکت پر ہونق ہوا۔۔ ’’میں نے آپ کو اپنا اکاؤنٹ نمبر سینڈ کردیا تھا۔۔مگر مجھے ابھی تک بینک سے ای میل نہیں آئی۔۔۔شاید آپ کی طرف سے ہی سیلری لیٹ ہوگئی ہے۔‘‘وہ الٹا ہی جواب دیتی، اسے حیران و پریشان چھوڑ کر چلی گئی تھی۔۔جبکہ وہ اپنی بیٹی کے رونے کی آواز پر چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یہ ہم کیا سن رہے ہیں برخواردار!‘‘وہ ذرا رعب دار لہجے میں سوالیہ گویا ہوئے تھے۔ ’’کیا سُن لیا ! میرے پیارے دادا جان نے!‘‘وہ صوفے کی پشت پر سر گرائے بڑے مطمئن آنداز میں بات کر رہا تھا۔ ’’ یہی کہ آپ نے شادی سے انکار کردیا ہے؟‘‘وہ ذرا رعب سے سوالیہ بولے۔ ’’جی کیونکہ وہ آ پ کی کبھی نہ ہونے والی بہو پاکستان میں نہیں رہنا چاہتی تھی۔اورمیں اپنا بزنس پاکستان مین سیٹ کر چکا ہوں تو ایسے میں آپ ہی بتائیں کہ ہم کیسے ایڈجسٹ کرتے۔۔‘‘دوسرے جانب سے گہری خاموشی چھا گئی تھی۔ ’’تو اب؟‘‘وہ سوالیہ گویا ہوئے۔ ’’اب یہ کہ میں نے پاکستان میں ہی ایک لڑکی سے نکاح کرلیا ہے۔۔‘‘اس بار چونکنے کی باری رحمان صاحب کی تھی۔ ’’یوسف یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟‘‘وہ شاکڈ ہوئے۔ ’’میری مجبوری تھی بابا جان!‘‘وہ لب دانتوں تلے دبا گیا۔ ’’ایسی کونسی مجبوری تھی آپ کی؟‘‘وہ سخت لہجے میں گویا ہوئے۔ ’’میں محبت کرتا ہوں اس لڑکی سے۔۔‘‘اس نے بہانہ بنایا۔۔ ’’ چار دن ہوئے ہیں آپ کو پاکستان گئے،اور آپ کو محبت بھی ہوگئیَ؟ کون ہے وہ لڑکی؟ نام بتائیں بلکہ بات کرائیں ہماری۔۔کس گھر خاندان سے ہے کچھ پتہ تو چلے۔‘‘اب وہ سختی پر اتر آئے تھے۔ ’’ابھی تو میں گھر سے باہر ہوں بابا جان! گھر پہنچ کر کرادونگا۔‘‘اس نے ٹالنا چاہا۔ ’’یعنی ہماری اجازت کو تو چھوڑیں ہمیں بتانا بھی گوارہ نہیں کیا اور نکاح رخصتی کے تمام معاملات طے کرلئے آپ نے؟‘‘وہ خفا ہوئے۔ ’’میری مجبوری تھی بابا! وہ اکیلی ہوتی ہے،بس اسی لئے۔۔‘‘اسے خود نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا بکواس کر رہا تھا۔۔ ’’اچھا ٹھیک ہے۔پھر میں پاکستان آجاتا ہوں تمھارا ولیمہ ارینج کر لیتے ہیں پھر تمھارے چچا چچی کو بھی بلوا لیں گے۔۔‘‘اس بار یوسف گڑبڑایا تھا۔ ’’پاکستان!میرا مطلب ہے ابھی کیا ضرورت ہے۔۔‘‘ اس نے گردن سہلائی۔ ’’تو کیا باپ بننے کے بعد ولیمہ کرنے کا ارادہ ہے۔۔‘‘یوسف بُری طرح سے سَٹپٹایاتھا۔۔ ’’بس فیصلہ ہوگیا! ہم اگلے ماہ تک پاکستان آنے کی کوشش کرتے ہیں۔پھر دیکھ لیں گے۔کیا کرنا ہے۔‘‘وہ دو چار اور باتیں کر کہ رابطہ منقطع کر گئے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
Comments
Leave a Comment
Maliha Almas
Fri Nov 07 2025
V.nice
Maliha Almas
Fri Nov 07 2025
V.nice
