Yeh Ishq tum na karna ( Episodic Novel ) — Yeh Ishq Tum Na Karna Episode No 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 28/10/2025
457 Views
Yeh Ishq Tum Na Karna Episode No 05
یہ عشق تم نہ کرنا ازقلم ہما قریشی قسط نمبر ۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’لائبہ بیٹی!‘‘وہ اس وقت ایک گھر میں بے بی سیٹر کی حثیت سے موجود تھی۔اسے اس گھر میں قیام کئے ایک ماہ ہونے والا تھا۔۔۔ ’’یس میم!‘‘وہ دوڑ کر ان خاتوں کے پاس گئی ،جو دکھنے میں تقریباً ساٹھ سال کے لگ بھگ تھیں۔ ’’بیٹا! تم نے بے بی کو دودھ دے دیا تھا؟‘‘وہ پوچھ رہی تھیں۔ ’’جی میڈم دے دیا تھا! انھونے سمجھ کر سر ہلایا۔۔ ’’ویسے تمھارے گھر میں کون کون ہوتا ہے؟‘‘اس بار انھونے ذرا اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا تھا۔ ’’کوئی بھی نہیں۔۔میری ماں باپ کا انتقال ہو چکا ہے۔۔‘‘ ’’اوہ معاف کرنا بیٹا!‘‘ ’’ویسے شاہ زل بتا رہا تھا کہ آپ اور وہ یونیورسٹی میں ساتھ ہی تھے؟‘‘ اس بار انھونے ذرا اچنبھے سے پوچھا۔ ’’جی وہ ہم ایک ہی یونیورسٹی میں تھے۔۔مگر شاہزل تو مجھ سے پانچ سال سینئیر ہیں۔۔بس ویسے ہی پروفیسر کے تھرو ہماری ملاقات ہوئی تھی۔‘‘وہ لب دانتوں تلے دبا گئی تھی۔۔ ’’ اوہ اچھا اچھا!‘‘وہ سمجھ کر سر ہلا گیا۔ ’’اچھا آنٹی وہ میں حیا کو دیکھ لیتی ہوں،کہیں رو نہ رہی ہو۔۔‘‘ وہ ایک سال کی بچی تھی۔۔جبکہ شاہزل کی بیوی کا انتقال ایک روڈ ایکسیڈینٹ میں ہوگیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یوسف ڈارلنگ تم لندن کب واپس آؤگے یار!‘‘وہ نیل فائیلر سے ناخن گھس رہی تھی۔ ’’سوری ماہ رُخ! مگر میں تم سے شادی نہیں کر سکتا۔۔‘‘دوسری طرف مقابل کو زبردست قسم کا جھٹکا لگا تھا۔ ’’واٹ؟ تم ہوش میں تو ہو؟ کیا بول رہے ہو؟‘‘وہ گڑبڑائی۔ ’’سوری ڈئیر! مگر میں مزید اس ریلشن شپ میں نہیں رہنا چاہتا۔۔‘‘وہ بول کر کھٹ سے موبائل بند کرگیا تھا۔۔دوسری جانب وہ ہیلو ہیلو ہی کرتی رہ گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’سر کیا ہوگیا آپ اتنا پریشان کیوں ہیں؟‘وہ اپنا سر تھامے بیٹھا تھا۔ ’’ بابا مجھ سے ایک بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔‘‘ وہ حد سے زیادہ پریشان تھا۔ ’’کیسی غلطی بیٹا!‘‘وہ ان کے گھر کے بہت پرانے ملازم تھے۔ ’’میری وجہ سے ایک لڑکی کی زندگی برباد ہوگئی۔‘‘ وہ پشیمان تھا۔۔ ’’یا میرے اللہ!‘‘ ’’ایسا کیا کردیا بیٹا!‘‘ ’’وہ میں نے ۔۔۔۔۔۔ اسفند یار کی بیٹی سے زبردستی نکاح کرلیا تھا۔۔پھر میں نے اس سے نکاح نامہ چھین کر گھر واپس چھوڑ دیا۔۔۔ مگر میں ایک ماہ سے اسے ڈھونڈ رہا ہوں تاکہ طلاق دے سکوں مگر ، ملازمین کہہ رہے ہیں کہ اس کے ماں باپ نے اس کی زبردستی کہیں شادی کردی ہے اور وہ ملک چھوڑ گئے ہیں۔۔‘‘وہ ہوٹل کے کمرے والی بات گول کرگیا تھا۔۔اصل پریشانی تو اسے اس لڑکی کی تھی۔جو کسی کی عزت تھی۔۔ ’’یا میرے اللہ ! یہ کیا گناہ کردیا آ پ نے بابا! بڑے صاحب کو آگر خبر ہو گئی تو وہ۔۔۔۔‘‘ ’’نہیں! پلیز! ایسا کچھ نہ کہئے گا جو میں سن نہ سکوں۔۔‘‘ اس نے انھیں فوراً روکا۔ ’’بیٹا عورت ذات کا نکاح پر نکاح نہیں ہوتا!‘‘وہ سمجھا رہا تھا۔ ’’یہ سب میری جلد بازی کا انجام ہے۔۔میں نے کسی نکاح شدہ لڑکی کی عزت خراب کی تھی،اللہ نے مجھے سزا دی۔پتہ نہیں میرے نکاح میں موجود لڑکی۔۔۔‘‘وہ دھیمی سی آواز میں خود ساختہ بڑبڑایا تھا۔ ’’کیا کہہ رہے ہیں بابا!‘‘ وہ نا سمجھی سے بولے۔۔ ’’کچھ۔۔۔کچھ نہیں۔۔آپ پلیز۔۔ دادا ابو کو کچھ نہ بتائیے گا۔۔‘‘وہ سر ہلا کر خاموش رہ گیا۔جبکہ آندر ہی آندر اسے ایک ہی غم کھائے جا رہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یار کہاں غائب رہتے ہو تم؟‘‘ شاہزل اور یوسف دونوں بزنس پارٹنر تھے۔۔دونوں نے پارٹنر شپ پر نیا بزنس اسٹارٹ کیا تھا۔ ’’میں نے کہاں جا نا ہے یار ۔۔۔یہیں ہوتا ہوں۔۔‘‘وہ ہولے سے مسکرایا۔۔ ’’اوہ رئیلی! مجھے لگا کوئی لڑکی کا چکر ہے بھئی! کیونکہ گزشتہ ایک ماہ میں،میں جتنی بار بھی تمھارے آفس آیا ہوں ،صاحب سیٹ پر ہی نہیں ہوتے۔‘‘وہ ذومعنی لہجے میں بولا۔۔ ’’نہیں یار ایسا نہیں ہے۔تم بتاؤ گڑیا کیسی ہے؟‘‘وہ حیا کا پوچھ رہا تھا۔ ’’ٹھیک ہے۔۔بلکہ اب تو وہ بہت زیادہ ٹھیک ہے۔۔ کیونکہ، اسے بہت جلد اپنی نئی مومی جو ملنے والی ہے۔‘‘ یوسف نے حیرت سے اسے دیکھا۔ ’’رئیلی تو دوسری شادی کرنے والا ہے؟بھابھی کو اتنی جلدی بھول گیا؟‘‘وہ ہونق ہوا۔ ’’ نہیں یار! ہالہ کو میں کبھی نہیں بھول سکتا! مگر حیا کو دیکھتے ہوئے میں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ میں دوسری شادی کرلوں۔۔۔وہ لڑکی یونیورسٹی میں پڑھتی رہی ہے۔۔۔مجھ سے تو کافی جونئیر ہے۔۔بٹ بد قسمتی ہے اسکا کوئی ہے نہیں پہلے ہوسٹل رہتی تھی،ابھی ایک ماہ سے حیا کی بے بی سیٹر کی حثیت سے گھر میں موجود ہے،اور حیا کو بہت خیال بھی رکھتی ہے۔۔۔‘‘یوسف سمجھ کر سر ہلا گیا۔۔ ’’ چل اچھی بات ہے۔۔اس طرح تجھے بھی اپنی لائف پارٹنر مل جائے گی۔۔‘‘ وہ سر ہلا گیا۔۔ ’’تو بتا بھئی تیری وہ تین سال والی محبوبہ سے شادی کا کب ارادہ ہے؟‘‘ اب وہ یوسف سے استفسار کر رہا تھا۔۔ ’’اس سے تو میرا بریک اپ ہوگیا ہے۔ ‘‘اس نے گویا بم پھوڑا تھا۔ ’’واٹ؟آر یو سیریس؟‘‘وہ شاکڈ ہوا۔۔ ’’ہاں یار! بس مجھے وہ اپنے ٹائپ کی نہیں لگتی۔۔ویسے بھی وہ پاکستان نہیں آنا چاہتی اور اب میرا ارادہ یہیں سیٹل ہونے کا ہے۔۔۔‘‘ وہ سر ہلا گیا۔۔ ’’چل بیسٹ آف لک! تو کوئی لڑکی پسند آئی تجھے!‘‘اب وہ شرارت سے پوچھ رہا تھا۔۔ ’’ کیوں سیل لگی ہوئی ہے۔۔جو ایک گئی اور ایک آئی۔‘‘وہ خفا ہوا تو وہ قہقہہ لگا گیا۔۔جبکہ اب دونوں کام سے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’واٹ دا ہیل از دس! مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے!‘‘ اسفند صاحب اس وقت دبئی میں موجود تھے۔۔جب ان کی لاڈلی بھی لندن سے انہی کے پاس آگئی تھی۔۔ ’’ یوسف نے مجھ سے شادی کرنے سے انکار کردیا ہے بابا! آپ کو اتنی سی بات سمجھ کیوں نہیں آرہی۔۔‘‘وہ زچ ہوئی۔۔ ’’وہی تو میں جاننا چاہتا ہوں کہ یوسف نےا س شادی سے انکار کیون کیا ہے؟‘‘ ’’میں نہیں جانتی! آپ پاکستان میں پتہ نہیں کیا کر کہ آرہے ہیں۔۔میں کچھ کر بھی نہیں سکتی!‘‘ وہ زچ ہوئی۔ ’’تمھاری نانی نے اس کے خاندان والوں سے بات نہیں کی؟ وہ سالوں کی رشتہ داری یوں لمحوں میں کیسے توڑ سکتے ہیں؟‘‘وہ غصہٰ ہوئے۔ ’’یہ سب آپ کی اس بیٹی کی منحوسیت کی وجہ سے ہوا ہے۔‘‘ضوفی نے نفرت بھرے لہجے میں کہا تھا۔۔ ’’چپ کر جاؤ تم دونوں ماں بیٹی!کچھ سوچنے دو مجھے!‘‘وہ غصےٰ سے غرائے تھے۔۔ جبکہ وہ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ خاموش ہوگئی تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اوہ میری گڑیا! کتنی پیاری لگ رہی ہے۔۔۔بالکل ڈول جیسی!‘‘وہ بیڈ پر بیٹھی اس کے ساتھ کھیل رہی تھی۔۔دروازہ کھلا ہوا تھا۔۔یہ حیا کا کمرہ تھا۔۔جو شاہزل کے کمرے کے ساتھ ہی تھا۔ جبکہ و ہ دروازہ کی چوکھٹ پر کھڑا محبت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔ ’’ بالکل ایسے جیسی کوئی پری ہو۔۔ہے نا!‘‘ وہ اچانک آواز پر پوری اچھل گئی تھی۔ ’’آپ کب آئے!‘‘وہ فوراً سیدھی ہوکر بیٹھی تھی۔ ’’جبھی! جب آپ میری ڈول کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔‘‘وہ محبت بھرے لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔ ’’ یہ دیکھیں شاہزل یہ کتنی پیاری لگ رہی ہے۔‘‘ وہ محبت بھر لہجے میں گویا ہوئی۔ ’’میری بیٹی! ہے ہی پیاری،بالکل اپنی مما کی طرح!‘‘وہ محبت سے بولتا اسکا ماتھا چوم گیا۔۔جبکہ اس نے یہ منظر بہت محبت سے دیکھا تھا۔۔ ’’میں کھانا لگوا دیتی ہوں۔۔‘‘اس نے بھاگنے کی تھی۔ ’’ارے ابھی نہیں! میں کھانا کھا کر آیا ہوں۔۔یہیں بیٹھو مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی تھی۔۔‘‘وہ گلہ کھنکھار کر
Comments
Leave a Comment
Maliha Almas
Fri Nov 07 2025
V.nice
Maliha Almas
Fri Nov 07 2025
V.nice
