Yeh Ishq tum na karna ( Episodic Novel ) — Episode No 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 25/10/2025
575 Views
Episode No 03
یہ عشق تم نہ کرنا از ہما قریشی قسط نمبر ۰۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آپ لوگوں کو سمجھ کیوں نہیں آتا بابا جان کہ میں یہ نکاح ہر گز نہیں کرونگی۔‘‘ وہ چیخ کر بوُلتی ،باپ کے مقابل آکھڑی ہوئی تھی۔ ’’تمہیں اس نکاح کے لئے ماننا ہی ہوگا، لائبہ!تمھیں پتہ بھی ہے کہ میں تمھارا نکاح کتنے امیر شخص سے کروا رہا ہوں؟" اس سفاک باپ کی بھاری آواز کمرے میں گونجی۔ وہ صوفے پر بیٹھے تیز نگاہوں سے بیٹی کو گھور رہے تھے۔ لائبہ کی آنکھوں میں آنسو لرز رہے تھے، مگر وہ انکے حکم کے سامنے ، سر جھکانے پر تیار نہ تھی۔ اُس نے ناگوار نظروں سے بیٹی ہو دیکھا۔۔جو انکی جان کا عذاب بن گئی تھی۔۔۔۔ ’’میں ایک ہی بات کتنی بار بتاؤ ں آپ کو بابا جان۔۔کہ میں کسی اور کہ نکاح میں ہوں۔۔‘‘وہ شدت گریہ سے چلائی تھی۔ ’’بکواس بند کرو۔۔تمھیں لگتا ہے کہ تمھارے ان ڈرامے بازیوں پر یقین کرونگا۔۔‘‘وہ تیز لہجے میں دھاڑے۔ ایک زوردار تھپڑ اس کے گلابی گال پر رسید کر دیا۔ ’’مجھ پر ظلم کر رہے ہیں آپ بابا جان!‘‘وہ سسک اُٹھی تھی۔اس نامعلوم شخص نے اسے کسی قابل نہیں چھوڑا تھا۔۔ "ظلم؟ یہ ظلم نہیں، تمہاری بہتری ہے! تمہاری ضد اور حرکتوں نے پہلے ہی مجھے پوری دنیا کے سامنے بدنام کر کہ رکھا ہے۔۔۔ یہ نکاح تمہیں کرنا ہوگا!" وہ غرّائے۔۔ لائبہ نے جلتی ہوئی آنکھوں سے باپ کو دیکھا،جنھونے ہمیشہ سے اسکے ساتھ سوتیلوں والا سلوک کیا تھا۔ "مجھے اپنی جاگیر مت سمجھیے، بابا جان!! میں کوئی سودا نہیں جو بار بار بیچا جائے۔اور کتنی بولیاں لگائیں گے آپ میری؟کتنے کی ڈیل سائن کی ہے آپ نے؟‘‘وہ چلائی۔" دروازے پر کھڑی ،اس کی سوتیلی ماں نے جلتی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا تھا،وہ اپنی بیٹی کی شادی سے قبل ہی اس منحوس لڑکی کو یہاں سے دفعہ کرنا چاہتی تھی،وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکے منگیتر کی نگاہ اسکی خوبصورت بہن پر پڑے،اور وہ اپنا ارادہ تبدیل کرلے۔۔ یہ نکاح ہر حال میں ہوگا!یہ بات اپنے زہن میں بیٹھا لو۔‘‘وہ گرجے، !" لائبہ کے دل میں دھڑکنیں بے قابو ہونے لگیں۔ اس نے اپنے کانپتے ہونٹوں کو قابو میں رکھتے ہوئے ایک آخری بار التجا کی۔۔ اگر زبردستی کریں گے تو میں ۔۔۔ میں مر جاؤں گی، بابا۔‘‘وہ سسکیوں سے رو رہی تھی،دروازے پر کھڑی،اسکی سوتیلی ماں خباثت سے مسکرا رہی تھیں۔۔ ’’تو پھر مر جاؤں،کیونکہ ویسے ہی منحوس وجود ہے تمھارا،جب سے میری زندگی میں آئی ہو کوئی خوشی دیکھنا نصیب نہیں ہوئی۔‘‘وہ دھاڑے،تو اس نے بمشکل اپنی سسکیوں پر قابو کیا تھا،اور اس شخص کو بددعاؤں سے نوازہ تھا،جو اسکی ذات کو سوالیہ نشان بنا کر چھوڑ گیا تھا۔ ’’باہر مولوی صاحب آئے بیٹھے ہیں،نکاح شروع ہو رہا ہے۔اپنی رضامندی دے دینا،اور یاد کرلو،آج سے ٹھیک چار دن بعد تمھاری رخصتی ہے۔‘‘انھونے تنبیہ کی۔لائبہ نے بے بسی سے باپ کو دیکھا ،جو کمرے سے نکل گئے تھے،جبکہ وہ دونوں بھی اس پر استہزائیہ نگاہ ڈالتی وہاں سے نکل گئی تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھر کے وسیع سے ڈرائینگ روم میں وہ اَدھیڑ عمرَ بوڑھا شخص، کروفر سے ڈبل سیٹر صوفوں پر براجمان تھا۔۔اسے بس جلد از جلد نکاح کا انتظار تھا۔۔اور اسفند یار آندر گیا تھا اور ابھی تک باہر نہیں آیا تھا۔۔۔ جبھی اسکی نگاہ گھونگھٹ میں ساتھ آتی لڑکی پر پڑی تو ماتھے پر شکنیں نمودار ہوئیں۔۔مگر وہ خاموش رہا۔۔ ’’اس لڑکی کے چہرے پر گھونگھٹ کیوں ڈال دیا؟‘‘اس نے سوال کیا۔ ’’نکاح تو ہوجانے دیں۔ شیخ صاحب!‘‘انھونے کھسیا کر کہا۔تو وہ سر جھٹک گئے۔۔۔ ’’جلد از جلد نکاح شروع کرو۔مجھے آج دبئی جانا ہے شام کی فلائٹ سے۔‘‘وہ عجلت میں بولا تھا۔۔۔ جبھی ڈرائینگ روم میں مولوی صاحب کے الفاظ سماعتوں سے ٹکرائے تھے۔۔۔۔ لائبہ جو زبردستی پر یہاں تک آئی تھی۔۔اس کی بس ہوئی تھی۔۔۔ایک جھٹکے سے گھونگھٹ چہرے سے ہٹا یا تھا۔۔روئی روئی آنکھیں،کپکپاتے لب، لرزتا سراپا۔۔۔وہ ایک لمحو کو فریز ہو ا تھا۔۔۔ ’’کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟‘‘سماعتوں میں باز گشت کرتے لفظوں پر اِس نے بے بسی سے آنکھیں میچ لی تھیں،یہی الفاظ کچھ روز قبل بھی اُسکی سماعتوں میں گونجے تھے،اور جب سے ہی اسکی آزمائشوں کا آغاز ہوا تھا۔۔ ’’بیٹا کیا آپ کو یہ نکاح قبو ل ہے؟‘‘لفظ دوبارہ دُہرائے گئے تھے۔ ’’میں یہ نکاح نہیں کر سکتی،میں نکاح پر نکاح کرنے کا گناہ نہیں کر سکتی مولوی صاحب!‘‘وہ خود پر ضبط کھوتی چلا اُٹھی تھی،اور اسفند یار صاحب بُری طرح سے گڑبڑائے تھے۔ ’’لائبہ یہ کیا بکواس کر رہی ہو؟‘‘وہ بُری طریقے سے دھاڑے تھے۔جبکہ شیخ صاحب نے گھور کر دیکھا تھا۔۔۔ ’’بکواس؟میں بکواس کر رہی ہوں؟‘‘اُس نے سسکتے لہجے میں استفسار کیا تھا۔ ’’تو بہ استغفار یہ کیا ماجرہ ہے،آگر بچی کا پہلے سے کہیں نکاح ہوا ہے تو نکاح پر نکاح کرانے کا گناہ کرنے سے بہتر ہے کہ آپ عزت سے بچی کو اسکے شوہر کے ساتھ رخصت کر دیں۔‘‘مولوی صاحب نے سمجھانے والے لہجے میں کہا تھا۔ ’’جھوٹ بول رہی ہے مولوی صاحب!آگر اسکا نکاح ہورکھا ہے تو پوچھیں اسکا شوہر کہاں ہے؟اس لڑکی کا نکاح نامہ کہاں ہے؟‘‘انھونے گھورا۔۔ ’’میں نہیں جانتی بابا!مگر پلیز مجھے مجبور مت کریں۔‘‘وہ روہانسو ہوگئی تھی۔ ’’آپ اپنی بیٹی کے ساتھ معاملات طے کرلیں،بچی کی رضامندی کے بغیر یہ نکاح نہیں ہوسکتا،مجھے اجازت دیجئے۔‘‘وہ وہاں سے نکل آئے تھے،جبکہ وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔ ’’یہ کیا ڈرامہ ہے اسفند یار!‘‘ا س بار وہ غُرائے تھے۔جبکہ اِس لڑکی کا غیر معمولی حسن اور کم عمر دیکھ ان کی نیت پہلے ہی خراب ہو چکی تھی۔۔۔ ’’ یہ ڈرامہ کر رہی ہے۔۔پڑ گئی ہو گی یونیورسٹی میں کسی بد بخت کے عشق میں۔۔‘‘وہ خود ہی بیٹی کی ذات کے پرخچے اُڑا رہے تھے۔۔۔ ’’ تو پہلے اپنی آوارہ بیٹی کو سنبھالوں نا۔۔ اور ہمارے در میان جتنی بھی ڈیلز ہوئیں تھیں،وہ سب کینسل سمجھو۔۔‘‘وہ درشتگی سے بولتے اپنے ساتھ آئے کچھ عزیز و اقارب کو ساتھ لئے وہاں سے نکل آئے تھے۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’دیکھا ہمیں بدنام کر کہ رکھ دیا ہے آپ کی بے حیا بیٹی نے۔وہ شخص دوسری بار ناراض ہوکر گیا ہے،کڑوڑوں کا نقصان ہوگیا ہے مجھے۔‘‘وہ بیوی پر بُری طریقے سے چلا رہے تھے۔جبھی انھونے بھی نخوت سے کہا تھا۔۔۔ ’’تو مجھ پر کیوں چیخ رہے ہیں آپ کی بیٹی ہے۔میں تو شروع سے کہتی ہوں،ہے ہی بے حیا۔‘‘وہ ناگواری سے پھنکاری تھیں۔ ’’اس لڑکی کو میری نظروں کے سامنے سے دور کردو۔‘‘وہ تیز لہجے میں پھنکارتے کمرے سے نکل گئے تھے۔ ’’چلو بی بی بہت آنسو بہا لئے،نکلو اس گھر سے۔۔‘‘ انھونے آگے بڑھ کر اسے ہاتھ پکڑ کر اُٹھایا تھا۔۔ ’’یہ کیا بدتمیزی ہے؟چھوڑو میرا ہاتھ۔‘‘لائبہ نے اپنا دفعہ کرنا چاہا تھا۔ ’’کیوں چھوڑ دیں بی بی؟ تاکہ تم پھر ہمارے سر پر عذاب کی طرح مسلط ہوجاؤ۔۔‘‘وہ ناگواری سے غرائی تھیں۔۔جبھی ملازمہ کی آواز پر وہ چونکی۔۔ ’’بی بی۔۔چھوٹی بی بی کا فون ہے۔۔‘‘ضوفی نے ایک کاٹ دار نگاہ ڈال کر کال ریسیو کی تھی۔۔ ’’ہیلو!مام کیا اس منحوس کا نکاح ہوگیاَ؟وہ ہمارے گھر سے دفعہ ہوگئی؟‘‘دوسری جانب سے چہکتی ہوئی آواز سنائی دی تھی۔۔۔لائبہ نے کر ب سے آنکھیں میچ لی تھیں۔۔ ’’کہاں بیٹا! یہیں ہے منحوس۔۔‘‘وہ تنفر سے غرائی۔۔ ’’کیا مسّلہ ہے اِس کے ساتھ؟نکاح نہیں ہوا؟‘‘اس کے تلخ آنداز پر وہ یونہی ساری رُودَاد سُنانے لگی تھیں،جبھی وہ غصےٰ سے بولی۔۔ ’’آپ اس لڑکی کو ابھی یہاں سے چلتا کریں۔۔اسکا انتظام تو میں کراتی ہوں۔۔‘‘وہ غصےٰ سے بولتی رابطہ منقطع کر گئی۔ ’’چلو بی بی! نکلو ہمارے
