Yeh Ishq tum na karna ( Episodic Novel ) — EPISODE NO 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 23/10/2025
610 Views
EPISODE NO 02
دہلیز پر آئی۔ چوکیدار نے اسے دیکھتے ہی سائیڈ کا چھوٹا گیٹ کھول دیا تھا۔ اور وہ پتھر کی مورت بنی، مرے قدموں سے گھر میں داخل ہوئی تھی۔ سامنے لاؤنج میں بیٹھے باپ سے نظر ٹکرائی۔ ’’رات سے کہاں تھیں تم؟‘‘ وہ ایک جست میں نزدیک آئے۔ ’’بابا وہ میں۔۔‘‘ وہ ہکلائی۔ ’’کیا بابا؟‘‘ وہ غرائے۔ ’’میں۔۔ وہ میں۔۔۔‘‘ لفظ لبوں میں ادھورے ہی رہ گئے، اور وہ لہرا کر ان کے بازوؤں میں جھول گئی۔ ’’ضوفئ! دیکھو، کیا ہوا اس بدبخت کو؟‘‘ انہوں نے تیز آواز میں بیوی کو پکارا۔ ’’اوہ! یہ کہاں سے آگئی؟‘‘ وہ حیران تھی۔ ’’پتا نہیں! کیا کر کے آئی ہے۔ مجھے تو نشے میں لگ رہی ہے۔‘‘ انہوں نے کسی اچھوت چیز کی طرح صوفے پر پٹخا۔ ’’اس کے کپڑے! یہ تو ڈسکو کے حساب سے کپڑے پہن کر گئی تھی۔‘‘ ’’ہوگی رات بھر اپنی کسی دوست کے۔‘‘ ضوفی نے بغور اس کے چہرے کا جائزہ لیا۔ ’’کمرے میں پہنچاؤ اس بدبخت کو۔ اور خیال رہے کہ کسی نوکر کو اس کے رات بھر گھر سے باہر رہنے کی خبر نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ سفاکیت کی انتہا ہوئی تھی۔ ’’اوہ! کون سا پہلی بار باہر رہی ہے۔۔ ‘‘ وہ مسکرائیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ہیلو! یوسف، کہاں ہو تم؟ ساری رات سے کالز کر رہی ہوں تمہیں۔۔‘‘ وہ تیز لہجے میں پھنکاری تو یوسف نے ماتھا کھجایا۔ ’’یار! بس بزی تھا۔۔‘‘ اس نے لب چبائے۔ ’’کہاں بزی تھے؟‘‘ اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’’ایک امپورٹنٹ میٹنگ میں بزی تھا، سوئیٹ ہارٹ۔۔ تم بتاؤ، کس لیے یاد کر رہی تھیں؟‘‘ وہ ریلیکس انداز میں بیڈ پر پاؤں پسار کر بیٹھ گیا تھا۔ ’’بس ویسے ہی تمہاری یاد آ رہی تھی، تم لندن کب آؤگے؟ تم تو وہاں جا کر اپنی فیملی کو بھول ہی گئے ہو۔‘‘ وہ شکوہ کناں لہجے میں بولی۔ ’’یار! یہاں بزنس سیٹ کر رہا ہوں، کیونکہ میرا ارادہ پاکستان میں سیٹل ہونے کا ہے۔ یہاں بابا کا بزنس ہے، سب کچھ ہے۔‘‘ وہ آگاہ کر رہا تھا۔ ’’مگر تم جانتے ہو نا کہ مجھے پاکستان کچھ خاص پسند نہیں ہے، میں بچپن سے یہاں گرینی کے پاس رہی ہوں۔ یار، میں پاکستان نہیں رہ سکتی۔۔‘‘ وہ زچ ہوئی۔ ’’وہ ہم شادی کے بعد ڈیسائیڈ کر لیں گے۔‘‘ وہ ایسے بات کر رہا تھا، گویا کچھ دیر قبل اس نے کسی لڑکی کی زندگی برباد ہی نہ کی ہو۔ ’’اچھا، خیر تم بتاؤ، پاکستان آنے کا کوئی ارادہ ہے؟ کیونکہ میں تو ابھی سال بھر یہیں ہوں، کچھ کام نبٹانے ہیں۔۔ویسے بھی تمھارے پیرنٹس بھی تو یہیں ہیں۔۔میری ان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔‘‘‘‘ وہ آگاہ کر رہا تھا۔ ’’نہیں، فی الحال میرا تو کوئی ارادہ نہیں ہے۔اور مام ڈیڈ سے ملنا اتنا ضروری نہیں ہے۔۔۔گرینی سے مل لئے بس کافی ہے۔۔۔‘‘ وہ بے نیازی سے بولی۔ ’’اچھا، چلو جیسے تمہاری مرضی!‘‘ اب وہ دونوں بات کرنے لگے تھے۔ وہ اور زمل یونیورسٹی کے زمانے کے فرینڈز تھے۔۔۔یوسف کی فیملی شروع سے باہر سیٹل تھی۔۔۔اور وہ بھی اپنی گرینی کے پاس باہر ہی رہتی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا نجانے کونسا پہر تھا،جب اسکی آنکھ کھل گئی تھی،ارد گرد میں نگاہ گئی تو احساس ہوا وہ اسکا کمرہ تھا۔ ’’افف! یہ ہو کیا رہا ہے میرے ساتھ۔۔‘‘ ایک ہی رات میں کافی کچھ بدلہ تھا۔ ’’ بابا!‘‘یکدم سب یا د ایا تھا۔ ’’میں یہاں۔۔۔وہ شخص!وہ کون تھا۔۔‘‘ وہ جیسے جیسے سوچ رہی تھی سر دکھنے لگا تھا۔۔ ’’یا میرے اللہ! دل کیا چیخ کر روئے۔ ’’پتہ نہیں یہ میرے نصیب کی کونسی آزمائشیں ہیں،جو بڑھتی ہی رہتی ہیں۔‘‘ بھوک کے مارے برا حال تھا،اس نے کل شام کا کھانا کھایا ہوا تھا۔سارا دن وہ کمرے میں بے ہوش پڑی رہی تھی۔۔ ’’مجھے بابا کے پاس جانا چاہئے۔ان سے پوچھنا چاہئے کہ وہ شخص کون تھا۔ مگر مجھے تو اسکا نام ہی نہیں معلوم!‘‘ وہ یاد کر کپکپائی۔ ’’میں بابا کو کیا منہ دکھاؤنگی۔‘‘وہ سوچ کر ہی کانپنے لگی تھی،درحقیقت تو وہ ایک خوفزدہ رہنے والی،ڈری سہمی سی چڑیا تھی۔ ’’نہیں نہیں!میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤنگی،اور نیکسٹ ویک بجائے ،کل ہی ہوسٹل واپس چلی جاؤنگی۔‘‘ سوچ کر ہی دل کانپ گیا تھا۔اسکی سوتیلی ماں تو پہلے ہی ناپسند کرتی تھی،پھر اب وہ نجانے کیا کرتی۔ ’’لیکن وہ شخص!‘‘ دل ہنوز خدشات میں تھا۔ ’’یا اللہ میری مدد کر۔۔‘‘ جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو وہ آنسوؤں سے رو پڑی تھی۔اوت بے ساختہ رب کا پکارا تھا۔۔اور پھر مشکل وقت میں تو انسان کو بس ایک ہی سہارا نظر آتا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔
