Yeh Ishq tum na karna ( Episodic Novel ) — Episode 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 12/10/2025
550 Views
Episode 01
گاڑی میں لٹاتا، گاڑی زن سے بھگا لے گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ منظر ہے جنّت منزل کا، جس کے ماسٹر بیڈ روم میں موجود وہ عورت براؤن کلر کی نائٹ گاؤن میں ملبوس ون سیٹر صوفے پر براجمان اپنے شوہر کے پہلو میں بیٹھی، ہر تھوڑی دیر بعد کچھ نہ کچھ بول ہی رہی تھی، جبکہ وہ سادہ ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس، اس کی باتوں سے بے نیاز سگار پھونکنے میں مصروف تھے۔ ’’آپ سمجھ کیوں نہیں رہے ہیں، یہ لڑکی جیسے جیسے بڑی ہوتی جا رہی ہے، ہمارے لیے خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔‘‘ وہ ناگواری سے بولی۔ ’’تو کیا کروں؟وقت سے پہلے گھر سے نکال دوں۔۔‘‘ وہ غرائے۔ ’’میں کہتی ہوں، شادی کریں اس کی، تمام جائیداد اپنے نام لکھوائیں اور اس گھر سے رخصت کریں۔‘‘ وہ غرائی۔ ’’صبر رکھو، ہر کام جلدی نہیں ہوتا۔‘‘ وہ ایک گہرا کش لے کر بولے تھے۔کیونکہ وہ کارروائی تو پہلے ہی ڈال چکے تھے۔ ’’لیکن میں مزید اس بلا کو اس گھر میں برداشت نہیں کر سکتی۔‘‘ وہ ناگواری سے پھنکاری تھی۔ ’’وہ ہے کہاں؟‘‘ گھڑی میں نگاہ دوڑائی تو رات کے بارہ بج رہے تھے۔ ’’پتہ نہیں! پڑی ہو گی کہیں نشے میں دھت۔‘‘ انہوں نے سر جھٹکا۔ ’’تم سے کہا تھا نا، اسے ان سب لتوں میں مت لگاؤ۔‘‘ ان کا دماغ گھوما تھا۔ ’’اس کی گیدرنگ کا اثر ہے۔‘‘ انہوں نے ناک سے مکھی اُڑائی۔ ’’اوہ رئیلی!‘‘ انہوں نے بیوی کو ایسے دیکھا جیسے وہ تو کچھ جانتے ہی نہیں۔ ’’میں نے اس کا رشتہ دیکھا ہے۔ میرا ایک بہت اچھا بزنس پارٹنر ہے، عمر میں مجھ سے تقریباً سات سال چھوٹا ہے، مگر بہت پیسے والی آسامی ہے۔ اگر ہماری رشتہ داری بن گئی تو سمجھو ہم بیٹھے بٹھائے ارب پتی بن سکتے ہیں۔‘‘ اس بار دونوں میاں بیوی کی آنکھیں چمکی تھیں۔ ’’ارے واہ! تو کب آ رہے ہیں رشتہ دیکھنے؟‘‘ وہ زیادہ ہی جلد باز تھی۔ ’’رشتہ؟ میں نے تو دو دن بعد کا نکاح ڈن کر دیا ہے۔ لائبہ کی تصویر دیکھتے ہی وہ پاگل ہو گیا تھا۔ پچپن سال کی عمر میں بیس سال کی لڑکی ملنا کوئی آسان بات ہے۔‘‘ دونوں میاں بیوی کا بے ہنگم سا قہقہہ گونجا تھا۔ ’’ویسے سچ بتاؤ، تمہاری سگی بیٹی ہی ہے نا یہ؟‘‘ اس عورت نے لب دبائے۔ ’’وہ صرف اس ناہنجار عورت کی بیٹی ہے، جسے زبردستی میرے پلو سے باندھا گیا تھا۔‘‘ ان کا دماغ گھوما تھا۔ ’’اچھا دفع کرو، تمہاری بیٹی مان جائے گی؟‘‘ وہ خدشات کا شکار تھیں۔ ’’اس نے آج تک میری کسی بات سے انکار کیا ہے کیا؟‘‘ انہوں نے آئی برو اٹھائے۔ ’’افف! مجھے تو سوچ سوچ کر ہی ایکسائٹمنٹ ہو رہی ہے۔۔۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کا سورج ہر سو اپنی روشن کرنیں پھیلا چکا تھا۔ وہ بھاری ہوتے سر کے ساتھ اُٹھی تو اسے محسوس ہوا کہ وہ اس وقت بیڈ پر موجود تھی، دماغ پر زور ڈالا تو یاد آیا کہ وہ تو اپنی دوست کے ساتھ ڈسکو گئی تھی۔ ’’افف! یہ مجھے کیا ہو رہا ہے۔۔‘‘ اُس کا دماغ ابھی تک گھوم رہا تھا۔۔ ’’یہ لو! یہ پیو، اچھا محسوس کروگی؟‘‘ لائبہ نے چونک کر سر اٹھایا تو اس کی نگاہ مقابل کھڑے خوبصورت نوجوان پر جا ٹکی تھی۔ وہ نوجوان، جو ٹراؤزر اور شرٹ میں ملبوس جاذبِ نظر شخصیت کا مالک تھا۔ اس کے گھنے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے، جو اس کی دلکش شخصیت میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔ کسرتی جسامت ،چست پولو شرٹ میں اس کا جسم مزید نمایاں تھا، اس کی سیاہ گہری آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے دیکھ کر ہی لائبہ کو عجیب سی وحشت ہوئی تھی۔۔ ’’گھور لیا مجھے؟ اب یہ پی لو۔۔‘‘ یوسف نے جتا کر کہا تو وہ گڑبڑا کر ہوش میں آئی۔ ’’کون ہو تم؟ میں کہاں ہوں؟‘‘ اس نے بھاری ہوتے سر کے ساتھ دماغ پر زور ڈالا تھا۔۔ ’’تم اس وقت میری قید میں ہو، اور اب ہمیشہ اس قید میں ہی رہو گی۔۔‘‘ بیڈ پر ایک گھٹنا ٹکاتا، وہ ذرا نزدیک جھکا، لائبہ سہم کر پیچھے ہوئی تھی۔۔ ’’میں یہاں کیسے؟ کون ہو تم؟ پلیز مجھے جانے دو۔۔‘‘ اس نے ہوش میں آتے نگاہ دوڑائی تو وہ کوئی انجانی سی جگہ تھی، سامنے کھڑا اجنبی شخص کوئی خواب نہیں، حقیقت تھا۔ ’’آہاں، ایسے کیسے۔۔‘‘ وہ مزید اس پر جھکتا،اپنے لب اس کے رخسار پر رکھ گیا تھا۔۔ ’’نہیں پلیز! میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں۔۔‘‘ لائبہ نے اپنا بچاؤ کرنے کی خاطر خود پر نگاہ دوڑائی تو محسوس ہوا کہ وہ اس وقت جینز کی پینٹ کے ساتھ کمر تک آتا اسٹائلش سا ٹاپ پہنے غیر مناسب حالت میں اس کے سامنے موجود تھی۔۔ ’’تم کیسی لڑکی ہو، اس بات کا اندازہ تو مجھے رات میں ہی ہو گیا تھا۔۔ خیر جلدی سے ناشتہ کر لو، جب تک میں ہمارے نکاح کا انتظام کر لیتا ہوں، سوئیٹ ہارٹ!‘‘ لائبہ کو چار سو والٹ کا زبردست جھٹکا لگا تھا۔۔ ’’یہ۔۔۔۔ یہ کیا بکواس ہے؟ کون ہو تم؟ اور میرے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو؟ کیوں لائے ہو یہاں پر؟‘‘ وہ یکدم جذباتی ہوتی، بیڈ سے اٹھ کر بھاگنے کے لیے دوسری جانب سے اتری تھی۔ ’’کوشش بے کار ہے، اس گھر کے باہر میرے ہزاروں گارڈز کھڑے ہیں، تم چاہ کر بھی یہاں سے نہیں بھاگ سکتیں۔۔‘‘وہ گھوم کر بیڈ پر پاؤں پسار کر لیٹتا، ذو معنی لہجے میں بولا تھا۔ ’’کیا چاہتے ہو مجھ سے؟‘‘ وہ خوف زدہ ہوئی۔ ’’یہاں تمہاری موجودگی چاہتا ہوں۔‘‘وہ بے باکی سے اپنے پہلو میں ہاتھ دھر کر بولا۔لائبہ کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔ ’’شٹ اپ! میں تمہیں تمہارے ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دوں گی۔۔‘‘ وہ چنگھاڑی۔۔ ’’اوہ رئیلی!!! شکر مانو کہ تم جیسی بے حیا سے نکاح کر رہا ہوں، ورنہ تمہیں اس جگہ لانا میرے لیے مشکل بات نہیں ہے۔‘‘ وہ ایک ہی جست میں اُس کے نزدیک پہنچتا، درشتگی سے غرایا تو لائبہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ’’تم جو کوئی بھی ہو، پلیز مجھے یہاں سے جانے دو۔‘‘ وہ آنسوؤں سے رُوتی، اُس کے آگے ہاتھ جوڑ چکی تھی۔ ’’ضرور جانے دوں گا، مگر میرا مقصد پورا ہونے کے بعد! چپ چاپ سے نکاح کے لیے ہامی بھر دینا، ورنہ یاد رکھنا، مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔‘‘ وہ انگشت شہادت اٹھا کر تنبیہی لہجے میں بولا تو اس کی آنکھوں سے تواَتر سے آنسو بہہ پڑے تھے۔۔ ’’یا اللہ! یہ کیسی آزمائش ہے۔‘‘وہ سسکیوں اور ہچکیوں سے رو پڑی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔
Comments
Leave a Comment
Tooba
Tue Sep 30 2025
MashaAllah <3
test
Thu Oct 09 2025
test
test2
Thu Oct 09 2025
zcsdcdadsff
Sweet Huma Qureshi
Sat Oct 25 2025
Best story h
Zamal
Wed Aug 19 2026
Bhtttt Behtreen Novel hey Huma.Aaap bht acha likhti hein..please baqi ebook nobels bhi upload krein
