Wabasta Tere Name Say — Episode No 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
56 Views
Episode No 03
وابستہ ہوئے تم سے ازہما قریشی قسط نمبر 03 ’’رابیل جمال آفندی ولد جمال آفندی آپ کا نکاح ،حنان کمال عالمگیر ولد کمال عالمگیر کے ساتھ باعوض دس لاکھ حق مہر سکہ رائج الوقت دوگواہاں کی موجودگی میں ہونا قرار پایا ہے ،کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟‘‘مولوی صاحب کے لفظوں پر رابیل کے جسم میں کھلبلی سی مچ گئی تھی۔۔دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو تھا۔۔جو نکاح پر نکاح کا گناہ کرنے جا رہی تھی، الفاظ حلق میں اٹک سے گئے تھے۔۔نیٹ کے سرخ دوپٹے کے پار سے سامنے نظر آتا اپنے باپ کا عکس دیکھا تھا،جو پریشان نظر آرہے تھے،جبکہ ماں کے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔۔نجانے وہ لوگ اسی بات کا یقین کیون نہیں کر رہے تھے۔بھلا وہ اتنی بڑی بات جھوٹ بول سکتی تھی کیا؟‘‘وہ مسلسل اپنے دونوں ماں باپ کو دیکھ رہی تھی،کہ وہ کچھ کہہ دیں اور یہ نکاح رک جائے۔۔ ’’بیٹی کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟‘‘دل میں آیا کہ جھٹ سے بول دے نہیں،کیونکہ وہ پہلے ہی کسی اور کے نکاح میں ہے مگر پھر باپ کی دھکمی یاد آتے ہی اس نے اپنے لب سئے لئے تھے۔ ’’کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟‘‘تیسری بار پوچھنے پر اس کے سسرال والوں میں کھلبلی سی ہوئی تھی۔دلہن چپ ساد ھ کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔ ’’رابیل بیٹا جواب دیجیے۔‘‘باپ کے تنبیہ لہجے پر اس کی رہی سہی ہمت بھی ختم ہوگئی تھی۔۔ وہ خفیہ نکاح تو کر چکی تھی،مگر اس کو ثابت کرنے کی نبھانے کی ہمت ختم ہوگئی تھی۔۔ ’’قبول ہے۔۔‘‘ باپ کی عزت،سماج کا خوف، اور اس بزدل شخص کا نکاح کے بعد فرار ہوجانا رابیل آفندی کی سانسیں کھینچ گیا تھا۔۔قبول ہے کا لفظ ادا ہوتے ہی اسکی روح تو پرواز کر گئی تھی۔۔نیچے اب بس بے جان جسم تھا۔جسے جب خود سے لگاتے مبارک باد دے رہے تھے۔اسکی آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔۔جبکہ جمال آفندی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھتے کمرے سے نکل گئے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئندہ سارا دن وہ بس پتھر کی مورت بنی رہی تھی۔۔زبردستی کے نکاح کے بعد وہ بالکل خاموش ہوگئی تھی،ہر التجا دم توڑ گئی تھی۔۔شام کو پالر کے بعد وہ سیدھی بینکویٹ پہنچی تھی،جہاں سے اسکے ماں باپ اسکے شوہر کے ساتھ رخصت کرتے دنیا کے سامنے اپنے فرض سے سبکدوش ہوتے سرخرو ہوگئے تھے۔گویا انھونے بیٹی کو عزت سے بیاہ کر کوئی مارکا سر کرلیا تھا،مگر بیٹی کو کسی آزمائش کی بٹھی میں جھونک چکے تھے،اسکا انھیں کوئی آندازہ ہی نہیں تھا۔۔۔ عالمگیر ہاؤس کے کشادہ اور عالیشان بیڈ روم کے جہاز ی سائز بیڈ کے عین وسط میں سُرخ جوڑے زیبِ تن کئے دلہن بنی بیٹھی وہ ماہ جبیں لڑکی نظریں جھکائے بیٹھی پورے وجود سے کانپ رہی تھی۔۔آئندہ صورت حال کا سوچتے ہی دل لرز رہا تھا۔۔ ’’یا اللہ مجھے موت دے دے۔۔میرے مالک مجھے موت دے دے۔۔۔میں نہیں جینا چاہتی۔۔۔مجھے موت دے دے۔۔‘‘وہ مسلسل اپنے لئے موت کی دعائیں کر رہی تھی۔دل سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا۔۔جبھی کھٹکے کی آواز کے ساتھ وہ روم میں داخل ہوا تھا۔۔رابیل کا لگا تھا،اسکی روح نکل جائے گی۔۔اسے کچھ ہوجائے گا۔۔مگر ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔۔اور جس وقت سے وہ ڈر رہی تھی۔۔وہ سر پر آن پہنچا تھا۔۔۔ ’’السلام علیکم!‘‘سرخ گھونگھٹ کے اس پار چہرہ جھکائے بیٹھی وہ مزید خود میں سمٹ گئی تھی۔۔جبکہ وہ اسے خاموش دیکھ،شیروانی کے بٹن کھول کر ایک طرف کو رکھتا اس کے قریب ہی بیٹھ گیا تھا تھا۔۔ ’’کیسی ہیں آپ رابیل؟‘‘ وہ اُس سے سوالیہ گویا ہوا۔۔جو اب بھی خاموش تھی۔۔جبھی حنان نے آگے بڑھ کر اسکے چہرے سے گھونگھٹ ہٹا دیا تھا۔۔ دوپٹہ ماتھے پر پلٹتے ہی اسکا دوآتشہ روپ واضح ہو اتھا۔۔مگر آنسوؤں سے تر چہرہ دیکھ،اسکی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’’کیا ہوا؟ آپ اس طرح رو کیوں رہی ہیں؟‘‘اس نے ذرا اچھنبے سے پوچھا تھا۔شاید وہ اپنے ماں ،باپ کو یاد کر رہی تھی۔۔مگر وہ زارو قطار ہچکیوں اور سسکیوں سے رونے لگی تھی۔۔ ’’کیا ہوا رابیل؟ آپ مجھے کچھ بتائیں گی ؟‘‘اب وہ پریشان ہوا تھا۔۔کیونکہ وہ مزید خود میں سمٹی پیچھے کو کھسک چکی تھی۔۔اس نے اسکا یہ آنداز شدت سے نوٹس کیا تھا۔ ’’کیا اس شادی میں آپ کی مرضی شامل نہیں ہے؟‘‘اسے تو اب یہی لگا تھا۔۔مگر وہ خاموش رہی،جبکہ آنسو ؤں سے تر چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔ ’’پلیز پہلے آپ خاموش ہوجائیں۔۔اور جو بھی بات ہے مجھے کھل کر بتائیں۔۔‘‘اس نے اسے ریلیکس کرنا چاہا۔۔ ’’آگر میں۔۔۔میں آپ سے یہ۔۔۔کہوں کہ ہمارا نکاح نہیں ہوا ہے تو؟‘‘وہ ڈرتے ڈرتے گویا ہوئی تھی۔۔حنان بدک کر بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔ ’’یہ۔۔۔یہ کیا بکواس کر رہی ہیں آپ؟کیا آپ نے نکاح کے وقت اپنی رضامندی نہیں دی تھی؟‘‘حنان کو تو اچھو ہی لگ گیا تھا۔۔کیا یہ نکاح مولوی صاحب نے بغیر رضامندی لئے بھی پڑھا کر مکمل کر دیا تھا۔۔ ’’ایسی بات نہیں ہے۔۔۔‘‘اس بار اس نے اسے سب بتانےکا فیصلہ کرلیا تھا۔۔کیونکہ وہ مقابل شخص کو اس رشتے کے تقاضے نبھانے کی نہ اجازت دے سکتی تھی،نہ مزید گناہ کی مرتکب ہوسکتی تھی۔۔ ’’تو پھر؟ آپ کو علم بھی ہے آپ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘اس بار اس نے اسے گھرکا تھا۔۔جو بیدردی سے گال رگڑتی گہرے سانس بھر رہی تھی۔۔ناک کی نتھ بیدردی سے نوچ کر اتاری تھی۔۔ساتھ ہی کانون میں پہنے جھمکے بھی اتار کر ایک طرف کو پھینکے تھے۔۔ ’’یہ سب کیا ہے؟‘‘اس کا رویہ دیکھ حنان کا دماغ آوٹ ہورہا تھا۔ ’’ میں۔۔آگر آپ کو کچھ بتاؤں تو کیا آپ تحمل سے میری بات سنیں گے؟‘‘اب وہ ڈرتے ڈرتے بولی تھی۔۔ ’’آپ کہیئے۔۔کیا کہنا چاہتی ہیں؟‘‘اس نے گویا اسے بولنے کا موقع دیا تھا۔ ’’ہمارا نکاح نہیں ہوا ہے۔۔کیونکہ میں پہلے سے کسی اور کے نکاح میں ہوں۔۔‘‘حنان پر گویا ساتوں آسمان ٹوٹ پڑے تھے۔۔ ’’واٹ؟ کیا بکواس ہے یہ؟‘‘وہ شدید لہجے میں گرجا تھا۔۔وہ سہم کر بیڈ کراؤن سے جا چپکی تھی۔۔ ’’یہ۔۔۔۔۔‘‘ ’’آپ پلیز ،پہلے تحمل سے میری بات سن لیجئے۔۔۔‘‘اس نے اسکے ہاتھ پکڑے تھے۔۔ ’’کیا بات سنوں میں آپ کی۔۔معلوم بھی ہے کیا کہہ رہی ہیں آپ؟‘‘اس نے درشت لہجے میں استفسار کیا تھا۔۔ ’’دیکھیں۔۔میں نہ خود کو اور نہ آپ کو گناہ گار کرنا چاہتی ہوں،تو پلیز آپ میری بات سن لیجئے ۔۔‘‘ حنان کتنی ہی دیر اسے دیکھتا رہا،پھر چھ سوچ کر اسے بولنے کا موقع دیا تھا۔ ’’بولو کیا بولنا چاہتی ہو۔۔‘‘لہجے مین بلا کی سردگی تھی۔جبکہ وہ شروع سے لے کر اب تک کی ساری روداد سناتی اسے عجیب کشمکش میں ڈال چکی تھی۔۔وہ سر پکڑ کر صوفے پر جا بیٹھا تھا۔۔اس لڑکی کے لفظوں نے غیرت پر کاری وار کیا تھا۔۔آنکھیں ضبط کی سرخی سے سرخ پڑ گئیں تھیں۔۔ ’’آئی ایم سوری۔۔۔اس شادی میں قطعی میری مرضی شامل نہیں تھی۔‘‘وہ اب روتے ہوئے اپنی صفائی دے رہی تھی۔ ’’معلوم بھی ہے۔۔کیا بکواس کی ہے آپ نے میرے سامنے۔۔ابھی آگر میں جاکر گھر والون کو بتا دوں تو کیا ہوگا؟‘‘حنان نے انگارے چباتے لہجے میں سوالیہ استفسار کیا تھا۔۔ ’’پلیز میری پوزیشن کو سمجھنے کی کوشش کریں۔۔اللہ کی قسم آگر میں نے یہ فضول سے نکاح نہ کیا ہوتا تو اپنے باپ کی مرضی میں خوشی خوشی راضی ہوجاتی۔۔‘‘وہ روتے ہوئے بولی تو حنان استہزائیہ مسکرایا تھا۔ ’’اب مجھ سے کیا چاہتی ہو لڑکی ہو؟‘‘وہ تو برا پھنس گیا تھا۔ ’’میں نہیں جانتی۔بتانے کا مقصد بس اتنا تھا کہ اس رشتہ کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔۔مگر مجھے بلال کا بھی کچھ نہیں معلوم۔۔ لیکن میں اپنے
