Wabasta Tere Name Say — Episode No 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 26/01/2026
80 Views
Episode No 02
استفسار کیا تھا۔ ’’لو بھلا۔۔کیسی لگنی ہے؟ ہماری پوتی ہے۔۔اس نے تو اچھا ہی ہونا تھا۔۔‘‘سب کا ہی قہقہہ بے ساختہ تھا، وہ سب سے مل کر کمرے میں جاکر بند ہوگئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شادی کی تیاریاں زورو شور سے جاری تھی۔جبکہ رابیل کی جان حلق میں آئی ہوئی تھی۔وہ مسلسل اس رشتہ نے لئے انکاری تھی۔۔مگر باپ کی وجہ سے لفظ لبون سے ادا ہونے سے انکاری تھے۔۔اور وہ بتاتی بھی کیا۔۔جس شخص سے وہ نکاح کر بیٹھی تھی۔۔جو بزدل تو نجانے کہاں جا بیٹھا تھا۔۔ ’’مما پلیز اس نکاح کو کسی بھی طرح روک دیں۔۔چار روز بعد انکا نکاح تھا۔۔اور رابیل نے رو رو کر حشر برا کیا ہوا تھا۔۔ ’’رابیل اللہ ک مانو۔۔تمھارے باپ کو تمھارے ان تماشوں کا پتہ چل گیا نا تو ایک لمحہ لگے گا نا انھیں سارا لاڈ پیار بھاڑ میں جھونکے میں۔‘‘انھونے بیٹی کو لتاڑا تھا۔ ’’مما۔۔‘‘اس نے روتی نگاہوں سے انھیں دیکھا۔ ’’کیا مما؟‘‘اس بار وہ سختی سے بولیں۔ ’’میں۔۔۔میں ۔۔۔میں پہلے ہی نکاح کر چکی ہوں۔۔‘‘ اس بار وہ روتی ہوئی بول رہی تھی۔۔ ’’کیا بکواس ہے یہ؟‘‘وہ درشت لہجے میں بولیں۔ ’’سچ بول رہی ہوں۔۔‘‘وہ روتے ہوئے بول رہی تھی۔ ’’کس سے نکاح کیا ہے؟‘‘انھونے خوف زدہ لہجے میں بولا۔ ’’مما وہ پتہ نہیں کہاں غائب ہوگیا ہے۔۔ہمارا نکاح دو سال پہلے ہوا تھا۔‘‘گل بانو نے اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھا تھا۔ ’’بکواس نہ کرو رابیل۔۔‘‘انھونے بیٹی کو گھورا۔۔جو شاید اب جھوٹ سے کام لے رہی تھی۔ ’’مما۔۔۔ ’’شٹ اپ۔۔‘‘وہ اسے جھڑک کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دن تیزی سے گزر گئے تھے۔۔کل اس کا نکاح تھا۔۔ وہ کسی صورت نکاح پر نکاح کا گناہ نہیں کر سکتی۔۔یہی سب سوچتے ہوئے وہ ہمت سے باپ کے پاس آئی تھی۔۔ تاکہ انھیں حقیقت بتا سکے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’بابا پلیز میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔۔میں یہ نکاح نہیں کر سکتی۔میں کسی اور کے نکاح میں ہوں۔‘‘وہ جمال صاحب کے گھٹنوں پر ہاتھ دھرے بیٹھی رو رو کر اپنی صفائی بیان کر رہی تھی۔ ’’دیکھو رابی میری جان،میں نے تمھیں بہت لاڈوں سے پالا ہے۔لیکن میرے لاڈ پیار کا ناجائز فائدہ مت اٹھاؤ۔میں تمھارا رشتہ پکا کر چکا ہوں۔اب تمھاری شادی وہیں ہوگی جہاں میں نے طے کی ہے۔‘‘جمال آفندی صوفے پر پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھے رعب دار لہجے میں باور کرانا نہیں بھولے تھےجبکہ پیچھے کھڑی انکی بیوی گل بانو،پریشانی کے عالم میں بیٹی کو دیکھ رہی تھیں۔ ’’بابا میرا یقین کریں ،میں نے آپ سے چھپ کر اپنے یونیورسٹی فیلو سے نکاح کرلیا تھا۔‘‘وہ چیخ چیخ کر سچ بیان کر رہی تھی۔ ’’اچھا تو تمھارا نکاح نامہ کہاں ہے؟ کوئی ثبوت پیش کرو۔۔یہ کونسا نکاح ہے جو اچانک سے سامنے آیا ہے۔تمھاری یونیورسٹی ختم ہوئے دو سال ہونے والے ہیں۔تمھارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا ہے۔‘‘اس بار وہ بیٹی پر گرجے تھے۔ ’’آپ۔۔۔۔آپ کیوں مجھ سے گناہ کروانے پر آمادہ ہیں بابا۔‘‘وہ انکے ہاتھ تھام کر اپنی پیشانی رکھتی،سسک اُٹھی تھی۔ ’’کل تمھارا نکاح اور رخصتی دونوں ہیں۔اب میں کوئی بکواس نہیں سنوں گا۔۔‘‘اُنھونے بیٹی کو بُری طرح سے جھڑک دیا تھا۔جبکہ وہ رُوتی رہ گئی تھی۔مگر کسی نے اس کی بات کا یقین نہیں کیا تھا۔۔اور بھلا یقین کر کہ کیا بھی کیا جا سکتا تھا۔۔ان کی شادی کی خبر پوری بردری میں پھیل گئی تھی۔۔کسی کو بھی اطلاع کا مطلب محض جگ ہنسائی تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مما!‘‘کچھ دیر میں ان دونوں کا نکاح تھا۔۔اس نے ایک آخری سی کوشش کی تھی۔کہ شاید ماں کو رحم آجاتا۔۔ ’’رابیل خاموش ہوجاؤ۔۔۔تمھارے سسرالی باہر ہی بیٹھے ہیں۔۔کسی نے سن لیا تو وبال کھڑا ہوجائے گا۔‘‘انھونے ڈپٹ کر بیٹی کو خاموش کرادیا تھا۔جبکہ وہ ہچکیوں سے رونے لگی تھی،سانس بند ہونے کے در پر تھا۔۔وہ یہ کیا گناہ کرنے جا رہی تھی۔سوچ سوچ کر ہی دل پھٹا جا رہا تھا۔۔ ’’ارے ارے ہماری بہو نکاح سے قبل ہی ایسے رونے لگ گئی ہے۔میری بچی صبر رکھو۔۔اپنے ہی گھر جا رہی ہو بیاہ کر۔‘‘ بی جان جو ابھی کمرے میں داخل ہوئی تھیں کہ اسے سسکیوں اور ہچکیوں سے روتا دیکھ،فوراً دلاسہ دینے لگیں ،جو ابھی بھی سسکیاں لے رہی تھئ۔ ’’دیکھیں نا بی جان۔۔مسلسل رُوئے جا رہی ہے،جبکہ اس کی وجہ سے اس کے بابا نے نکاح آج ہی رکھ لیا۔کہ کل بینکوئٹ سے آسانی سے رخصتی ہوجائے ،ورنہ اس نے رو رو کر حالت بُری کر لینی تھی۔‘‘گل بانو نے فوری بات سنبھالی تھی۔جبکہ وہ نم نگاہوں سے ماں کو دیکھ رہی تھی۔۔وہ ا س وقت سُسرال سے آئے ہوئے سُفید جوڑے میں ملبوس تھی، جبکہ سر پر سُرخ دوپٹہ ڈال رکھا تھا۔۔ ’’بس ابھی نکاح خواں آرہے ہیں۔۔بیٹی تم نے خوشی خوشی رضامندی دینی ہے۔۔یہ تو خوشی کا سودا ہوتا ہے۔۔بس زیادہ نہیں رُوتے۔۔تمھارا اپنا گھر ہے وہ بھی۔۔‘‘وہ شفقت اور نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتیں وہاں سے نکلتی چلی گئیں تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ to be continued
Comments
Leave a Comment
Adnan Aslam
Wed Jan 28 2026
Good
Adnan Aslam
Wed Jan 28 2026
Good
Adnan Aslam
Wed Jan 28 2026
Good
