Wabasta Tere Name Say — Episode No 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 26/01/2026
80 Views
Episode No 02
’’وہ آج سالوں بعد عالمگیر ہاؤس آیا تھا۔۔جہان بی جان نے اسے دیکھتے ہی سینے سے لگایا تھا۔ ’’کیسی ہیں آپ؟‘‘وہ سوالیہ گویا ہوا ۔ساتھ ہی ان کے ہاتھ چومے تھے۔ ’’میں بالکل ٹھیک ہوں میرا بیٹا۔۔تم نے تو آنا ہی چھوڑ دیا ہے۔‘‘وہ رنجیدہ لہجے میں گویا ہوئی تھیں۔ ’’آپ تو جانتی ہیں سب۔۔‘‘ وہ پاس ہی بیٹھ گیا تھا۔جبھی وہاں حنان عالمگیر داخل ہوا تھا۔اور سیدھی نگاہ اس سے جا ٹکرائی تھی۔جو بی جان کے پاس بیٹھا ان کا پیار بٹور رہا تھا۔۔ حنان کی آنکھیں جلنے لگی تھیں۔۔ ’’تم کیا لینے آتے ہو یہاں؟‘‘وہ درشت لہجے میں بولتا قریب آیا تھا۔ ’’حنان یہ مجھ سے ملنے آیا ہے۔۔‘‘انھونے کمزور سے لہجے میں کہا تھا۔ ’’مگر کیوں؟ کیا اس کو اور اسکی ماں کو میری ماں کو برباد کر کہ سکون نہیں ملا؟ جو یہ روز مجھے ازیت دینے یہان آجاتا ہے۔‘‘وہ تیز لہجے میں غرایا تھا۔ ’’میں یہاں صرف بی جان سے ملنے آیا ہوں۔۔کچھ دیر میں چلا جاؤنگا۔‘‘وہ سپاٹ لہجے میں گویا ہو اتھا۔ ’’بہتر ہے کہ یہاں نہ آیا کرو،تمھارے جیسے نظر اور نیت کے خراب شخص کو میں اپنے گھر میں برداشت نہیں کر سکتا۔۔اس گھر میں ہماری جوان ماں بہنیں رہتی ہیں۔‘‘وہ حد سے زیادہ سفاک لہجے میں غرایا تھا۔بلال کی رنگت سرخ پڑ گئی تھی۔۔ ’’حنان۔۔۔‘‘بی جان نے اسے ٹوکا۔۔ ’’ماں جان۔۔اس گھر میں میری دو بہنیں رہتی ہیں۔اور اس شخص کا مجھے کوئی بھروسہ نہیں۔۔اس کی ماں جس جگہ سے تھی،یہ خود بھی۔۔۔‘‘وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ بلال نے اٹھ کر اس کے منہ پر مکا جڑ د یا تھا۔ ’’یا میرے اللہ۔۔یہ کیا ہو ر ہا ہے۔۔‘‘گھر کی خواتین بھی بھاگ کر باہر آئیں تھیں۔۔جہاں اب حنان غصےٰ سے اسے گھورتا مارنے کے در پر تھا،جسے چچی جان نے آگے بڑھ کر روک لیا تھا۔ ’’یہ کیا بدتمیزی ہے حنان۔۔بھائی ہے آپ کا۔۔‘‘ بی جان نےا سے گھرکا۔ ’’اس نے پہلے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ہے بی جان۔۔‘‘ ’’پہلے تم جیسے گھٹیا شخص نے میری ماں کے بارے میں بکواس کی ہے۔۔میں سب برداشت کر سکتا ہوں بی جان۔۔مگر اپنی ماں کی تزلیل مجھے کسی صورت برداشت نہیں ہے۔۔‘‘وہ پہلی بار اس قدر تیز آواز میں غرایا تھا۔۔ ’’بلال میرا بچہ۔۔۔آپ جائیں یہاں سے۔‘‘انھونے سرخ چہرہ لئے کھڑے بلال کو جانے کا کہا۔جسے حنان سرخ آنکھوں سے گھور رہا تھا۔۔ ’’ہاں جاؤ یہاں سے۔۔تمھاری اتنی اوقات نہیں ہے کہ تمھیں بہن بیٹی والے گھر میں بیٹھایا جائے۔تم ایک بے غیرت آدمی ہو۔۔دوسرے کی عزتوں کا جنازہ نکالنے والی بے حیا ماں کے بیٹے۔۔ ند نظر،بد کردار۔۔‘‘وہ غصےٰ میں مسلسل بڑبڑا رہا تھا۔۔جبکہ وہ جلتی آنکھوں میں خون لئے وہاں سے نکل آ یا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی اس دوستی کو دیکھتے ہی دیکھتے چار سال گزر گئے تھے۔۔یونیورسٹی ختم ہونے کو آئی تھی۔بلال اور رابیل کی دوستی سے پور ی یونیورسٹی واقف تھی۔۔اس تمام عرصے میں اس دوستی کو یہاں تک لانے میں سب سے زیادہ ہاتھ رابیل کا تھا۔۔آج یونیورسٹی میں اسکا آخری دن تھا۔۔۔ ’’بلال تم مجھے بھول تو نہیں جاؤ گے نا؟‘‘وہ دل ہی دل میں اس سے محبت کر بیٹھی تھی۔۔مگر اظہار میں جھجھک آڑے آرہی تھی۔ ’’پتہ نہیں۔۔۔‘‘وہ روکھے لہجے میں بولا۔۔ ’’کیا تم مجھ سے شادی کرو گے؟‘‘وہ اس قدر اچانک سے بولی تھی کہ ایک لمحے کو تو وہ ساکت سا ٹھہر گیا تھا۔۔ ’’کیا کہا تم نے؟‘‘بلال کو لگا اسے سننے میں غلطی ہوئی ہے۔ ’’یہی کہ تم مجھ سے شادی کرو گے؟‘‘ ’’نہیں۔۔‘‘وہ سپاٹ لہجے میں بولا تھا۔ ’’پلیز بلال۔۔ہم ابھی نکاح کر لیتے ہیں۔۔پھر جب تمھاری کوئی اچھی سے جاب لگ جائے تو تم رشتہ لے کر آجانا ہے۔۔میرے بابا میری شادی خاندان میں ہی کسی سے کردیں گے۔۔پلیز تم میری بات کو سمجھو۔۔‘‘وہ مسلسل سمجھانے میں کوشاں تھی۔۔ ’’نہیں رابیل یہ غلط ہے۔۔میں یہ نکاح نہیں کر سکتا۔۔‘‘وہ حقیقت سے بہت اچھےسے واقف تھا۔ ’’پلیز بلال۔۔‘‘وہ بول ہی رہی تھی کہ اس کے زہن میں حنان عالمگیر کے تلخ لفظ گھوم گئے تھے۔جو وہ اکثر اسکی ماں کے بارے میں کہتا رہتا تھا۔۔ ’’ٹھیک ہے۔۔مگر تم اس نکاح کے بارے میں جب تک کسی کو نہیں بتاؤ گی،میں تک میں نہ کہوں۔‘‘ وہ سپاٹ لہجے میں گویا ہوا تھا۔ ’’اوکے۔۔۔‘‘کچھ ہی دیر میں وہ دونوں نکاح کے بندھن میں بند گئے تھے۔ جبکہ وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔۔ نکاح نامہ بلال کے پاس تھا۔وہ آنکھوں میں سُنہرے خواب سجائے آنے والے کٹھن وقت سے بالکل بے خبر تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈگری مکمل ہوگئی تھی۔۔دوسال کا عرصہ گزر چکا تھا۔۔کنوکیشن والے دن کی آخری ملاقات کے بعد ان دونوں کی کوئی ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔کچھ ماہ وہ رابطے میں رہا۔۔اور پھر وہ اچانک سے نجانے کہاں غائب ہوگیا تھا۔۔رابیل تو اسے بہت ڈھونڈا مگر اسے نہ ملنا تھا اور نہ وہ ملا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یہ کس چیز کی تیاریاں ہو رہی ہیں؟‘‘ آفندی ہاؤس میں معمول کے برخلاف چہل پہل دیکھ وہ ذرا حیران ہوئی تھی۔۔سارے نوکر چاکر سبھی کسی نہ کسی کام میں جتے ہوئے تھے۔ ’’ تمھارے رشتے والے آرہے ہیں۔۔‘‘اس کی ماں نے شرارت سے چھیڑا تھا۔ ’’واٹ؟ کیا کہہ رہی ہیں مام آپ؟‘‘وہ حواس باختہ ہوئی تھی۔ ’’ کیا کچھ غلط کہہ رہی ہوں؟‘‘انھونے بیٹی کی ہونق ہوئی شکل دیکھی تھی۔۔جو ایسی تھی۔جیسے اب روئی اور تب روئی۔ ’’مطلب۔کون ہے۔۔اور یہ کب۔۔آپ نے مجھے بتایا بھی نہیں۔۔‘‘وہ شکوہ کناں لہجے میں بولی، ’’تمھاری بڑی دادی کا پوتا ہے نا حنان عالمگیر اس کا رشتہ۔۔ تم دونوں کا رشتہ تو بچپن سے طے تھا۔۔بس بڑوں کی وجہ سے وقتی طور پر ٹوٹ گیا تھا۔۔مگر جب بی جان نے دوبارہ سے رشتہ ڈالنے کی بات کی تو تمھارے بابا نے ہاں کردیا۔۔تم تو جانتی ہو نا کہ ہمارے یہاں خاندان سے باہر شادی نہیں کرتے۔‘‘انھونے اس بار بیٹی کو سنجیدہ لہجے میں باور کرایا تھا۔ ’’لیکن مما۔۔آپ لوگوں نے مجھ سے پوچھا بھی نہیں۔۔اور رشتے کے لئے بلالیا۔‘‘آج اسے سہی معنون میں فکر ہوئی تھی۔۔کیونکہ نکاح کے بعد سے بلال کا کچھ پتہ نہیں لگ رہا تھا۔۔ ’’یہ سب تم اپنے بابا سے جاکر پوچھو۔۔‘‘وہ تیزی سے بولتیں،وہاں سے نکلتی چلی گئی تھیں۔۔جبکہ وہ بھی بھاگتے قدموں سے اُپر کی جانب بڑھی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ’’بابا۔۔‘‘وہ سیدھی اسڈی میں آئی تھی۔۔جہاں وہ عموماً آرام کیا کرتے تھے۔ ’’جی بابا کی جان۔۔‘‘انھیں محبت سے بیٹی کو دیکھا۔۔جو پتہ نہیں کب اتنی بڑی ہوگئی تھی۔ ’’میں یہ رشتہ۔۔۔آپ نے مجھ سے پوچھا بھی نہیں۔۔‘‘ وہ شکوہ لہجے میں بولتی پاس آئی۔۔وہ شروع سے ان کے بہت قریب رہی تھی۔۔ ’’میری جان ابھی تو وہ بس رشتہ لے کر آرہے ہیں۔۔اور تم فکر مت کرو۔۔۔ حنان اچھا بچہ ہے۔۔‘‘اُنھونے محبت سے پُر لہجے میں کہا تھا۔ ’’لیکن بابا۔۔۔۔‘‘اس نے کچھ کہنا چاہا تھا۔۔ ’’جمال صاحب نیچے آجائیں۔۔مہمان آگئے ہیں۔۔‘‘ گل بانو نے آکر اطلاع دی تو وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گئی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آفندی ہاؤس کے ڈرائینگ روم کا منظر ہی الگ تھا۔۔سب اپنی اپنی نشستوں سے براجمان تھے۔۔ جبکہ سب بڑوں کے چہروں پر خوشی رقصاں تھی۔۔بی جان باقاعدہ رشتہ ڈالنے کی نیت سے اپنے ساتھ شکن کی سیکڑوں چیزیں اور میٹھائی کے ٹوکرے لے کر آئی تھیں۔۔ ’’تو بس جمال اب تم مجھے شادی کی تاریخ دو۔۔اور ہاں شادی بس اسی مہینے میں کریں گے۔۔‘‘انھونے حکم نامہ جاری کر دیا تھا۔ ’’بی جان آپ نے تو مجھے کشمکش میں ڈال دیا ہے۔۔ پہلے آپ یہ بتائیں کہ آپ کو اپنی پوتی کیسی لگی؟‘‘انھونے محبت بھرے لہجے میں
Comments
Leave a Comment
Adnan Aslam
Wed Jan 28 2026
Good
Adnan Aslam
Wed Jan 28 2026
Good
Adnan Aslam
Wed Jan 28 2026
Good
