Wabasta Tere Name Say — Epiosde No 05(Second Last)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 02/02/2026
30 Views
Epiosde No 05(Second Last)
سے ذرا آگے نکل چکی تھی۔ اس کی نظر کبھی وادی کے حسن پر جاتی، کبھی بے اختیار اس مرد کی جانب لوٹ آتی۔ اس کی شال ہلکی ہوا میں لرز رہی تھی، جی وادی میں ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آیا۔ درختوں کے پتے سرسرا اٹھے، اور کہیں دور کسی پرندے نے پر پھیلائے۔ حنان نے سر ذرا سا گھما کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ نظر مختصر تھی، مگر اس میں ٹھہراؤ تھا۔ ’’حنان! کیا آپ میری اس شخص کو ڈھونڈنے میں مدد نہیں کر سکتے؟‘‘وہ یہاں الگ الگ کمروں میں رہائش پذیر تھے۔۔یہ رشتہ ہر گزرتے دن کے ساتھ حنان کے لئے آزمائش بنتا جا رہا تھا۔ ’’کیسی مدد؟‘‘اُس نے آئی برو اُٹھائے۔ ’’مطلب کہ۔۔۔‘‘وہ ہچکچائی۔ ’’میں نے غیرت کے نام پر تمھارا قتل نہیں کیا،تم اس بات کا شکر مناؤ۔لیکن میں اتنا بھی گیا گزرا ہر گز نہیں ہوں کہ اپنی سو کالڈ بیوی کے اصل شوہر کو ڈھونڈتا پھروں۔‘‘الفاظ ادا کرتے اس نے جبڑے ایسے بھینچ لئے تھے جیسے لوہا دانتوں تلے آگیا ہو۔ ’’سوری۔۔‘‘وہ منمنائی۔ ’’تمھارا سوری کسی کام کا نہیں،خیر چلو،تھوڑا آگے چلتے ہیں، کچھ نہ صحیح،اس جگہ کو گھوم ہی لیا جائے۔۔‘‘وہ سردگی سے بولتا وہاں سے قدم آگے بڑھا چکا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’حنان مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔‘‘شام میں اندھیرا ہوجانے کے باعث وہ راستہ بھٹک گئے تھے۔۔ جبکہ حنان اسکا ہاتھ تھامے آندازے سے چل رہا تھا۔وہ ڈری سہمی سی ساتھ چل رہی تھی۔انھیں کوٹیج لوٹنے میں اچھی خاصی دیر ہو گئی تھی۔۔ ’’ایسی بھی کوئی مصیبت نہیں آگئی ہے۔جو تم اتنا پینک کر رہی ہو۔‘‘اس نے نخوت سے گھرکا تو رابیل کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ’’میں جانتی ہوں کہ میری موجودگی آپ کے لئے ازیت کا باعث ہے۔مگر پلیز اس وقت تو مجھے نہ ڈانٹیں آپ۔۔‘‘وہ آنکھوں میں آنسو لئے شکوہ کناں لہجے میں بولی تو وہ سر جھٹک کر گیا تھا۔۔یہ لڑکی اور اس کے فضول کے ڈرامے۔۔ وہ لوگ کتنی ہی دیر سے مسلسل چل رہے تھے،مگر سمت کا تعین مشکل ہوگیا تھا۔۔ حنان اب خود بھی متفکر سا بس چلتا چلا جا رہا تھا۔۔ ’’بس۔۔میں اور نہیں چل سکتی۔۔‘‘وہ بیچ سڑک میں ٹھہر گئی تھی۔۔حنان نے بھی چونک کر اپنے قدم روک لئے تھے۔ ’’تھوڑا سا اور چل لو۔۔‘‘اس نے منت کی۔ ’’نہیں حنان۔۔بلکہ وہ سامنے دیکھیں،وہاں بیٹھنے کی جگہ ہے۔۔وہان چل کر بیٹھتے ہیں۔صبح ہوتے ہی ہم اپنے راستے چل نکلیں گے۔‘‘حنان خود بھی کافی تھک گیا تھا۔جبھی اسکی بات مان کر پتھر سے ٹیک لگا کر خشک پتون پر بیٹھ گئے تھے۔۔ساتھ ہی رابیل بھی بیٹھ گئی تھی۔ ’’تمھیں ٹھنڈ لگ رہی ہے۔۔یہ کوٹ پہن لو۔۔‘‘اس نے آفر کی تو اس نے نرم نگاہون سے دیکھتے تھام لیا تھا۔ ’’تھینک یو۔۔‘‘وہ دونوں اب خاموش بیٹھے تھے۔ ’’جب تمھارا شوہر مل جائے گا،اور تم طلاق لے لوگی،ا س کے بعد تم نے کیا سوچا ہے؟‘‘وہ ٹرانس مین پوچھ رہا تھا۔۔یہ احساس ہی جان لیوا تھا کہ جیسے بچپن سے چاہا تھا وہ کسی اور کی بیوی تھی۔۔ ’’طلا ق کے بعد۔۔مجھے نہیں معلوم۔۔آگر آپ مجھ سےنکاح کرنا چاہین گے تو میں آپ سے نکاح کرلونگی،ورنہ۔۔۔‘‘وہ اب خاموش ہوگئی تھی۔۔ ’’میں کبھی تم سے نکاح نہیں کرونگا۔‘‘اس نے صاف لہجے میں واضح کیا تھا۔ ’’جانتی ہوں۔۔‘‘پھر دونوں کے درمیاں کافی دیر خاموشی حائل رہی۔۔یہاں تک کے رابیل اسکے کندھے پر سر رکھے سو گئی تھئ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ To be continued...
