Wabasta Tere Name Say — Epiosde No 05(Second Last)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 02/02/2026
30 Views
Epiosde No 05(Second Last)
وابستہ تیرے نام سے ازہماقریشی قسط نمبر ۰۵ رات کا نجانے کونسا پہر تھا۔ رُو رو کر اسکی آنکھیں تھک گئیں تھیں۔جبکہ وہ اسٹڈی میں موجود سیگریٹ پر سیگریٹ پھونک رہا تھا۔دل میں طوفان اُٹھ رہے تھے۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ آخر کرے تو کیا کرے۔اس لڑکی نے اسکی غیرت پر کڑا وار کیا تھا،اور اسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔وہ جب کمرے میں واپس آیا تو وہ ہنوز اسی پوزیشن میں نیم دراز رُونے کا شغل بڑے زورو شور سے فرما رہی تھی۔۔۔حنان نے تاسفی نگاہوں سے دیکھتے اپنی پیشانی کھرچی تھی۔۔ ’’یہ میلو ڈرامہ کب تک چلانے کا ارادہ ہے بی بی!‘‘اس نے ذرا بیزاری سے استفساریہ پوچھا تھا۔رابیل کی ہچکی بند گئی تھی۔ ’’کیا میرے آنسو آپ کو ڈرامہ لگ رہے ہیں۔۔‘‘اس نے حیرت ذدہ نگاہوں سے مقابل کو دیکھا تھا۔ ’’اس سے کچھ کم بھی نہیں لگ رہے۔‘‘اس نے ناک بھونیں سمیٹیں۔جبکہ دماغ میں الگ ہی جھکڑ چل رہے تھے۔ ’’آپ۔۔۔‘‘ ’’اوہ پلیز یہ اسٹار پلس کی ہیروئینز کی طرح فضول کی ڈرامے بازی کرنا بند کرو۔۔اور فٹا فٹ سے یہ تام جھام سمیٹو ،کیونکہ میں مزید تمھارے ڈرامے افورڈ نہیں کر سکتا۔۔رات بہت ہوگئی ہے۔۔مجھے سونا بھی ہے۔‘‘اُس نے ایک لمحے مین اس لڑکی کی طبیعت صاف کی تھی۔۔۔اس سے زیادہ وہ اچھا بننے کا ڈرامہ نہیں کر سکتا تھا۔۔ ’’آپ۔۔۔۔آپ یہیں سوئیں گے؟‘‘اس بار اس نے وحشت زدہ نگاہوں سے مقابل کو دیکھا تھا۔ ’’ظاہر سی بات ہے ،یہ میرا کمرہ ہے تو میں رات گزارنے فٹ پاتھ پر تو جاؤنگا نہیں۔‘‘وہ طنزیہ پھنکارا تھا۔وہ خاموش رہ گئی تھی۔ ’’ اور میں؟‘‘اس نے لب چبائے۔۔‘‘میرے سر پر سو جانا۔۔‘‘وہ چڑ گیا تھا۔۔ ’’مجھے اپنے بیڈ پر سونے کی عادت ہے۔۔اور تم میری بیوی تو ہو نہیں جس کے لئے میں صوفے پر سونے کی قربانی دے دیتا تو بہتر یہی ہے کہ تم خاموشی سے صوفے پر موو ہوجاؤ۔۔۔‘‘ مقابل دلہن بنی بیٹھی لڑکی اسکے نکاح میں نہیں آئی تھی۔وہ کسی اور کی بیوی تھی،یہ سُوچ سُوچ کر ہی اسکے حواس جھنجھنا اٹھے تھے۔۔مگر سورج نکلنے سے قبل وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔۔ان دونوں کو ہی فی الحال یہ قیامت خیز رات خاموشی سے گزارنی تھی۔۔ ’’میں مانتی ہوں کہ ایک مرد کی غیرت یہ کبھی گوارہ نہیں کرتی کہ جو لڑکی اس کے نکاح میں آنے والی ہو وہ پہلے سے ہی کہیں منسلک ہو۔۔اور میں تو اس نکاح سے پہلے ہی خفیہ نکاح کر چکی۔۔۔۔‘‘اس کے لفظ لبوں میں ا دھورے ہی تھے کہ حنان طیش میں ایک جست میں اس کے نزدیک جاتا،اسے ہاتھ سے تھام کر گھسیٹنے کے آنداز میں بیڈ سے اٹھا کر صوفے پر پٹخ چکا تھا۔۔جو سہم کر پیچھے ہوئی تھی۔۔جبکہ اب و ہ اسے سرخ انگارا ہوتی نظروں سے گھور رہا تھا۔۔ ’’آئندہ کے بعد سوچ سمجھ کر میرے سامنے منہ کھولنا،ورنہ منہ کھولنے کے قابل نہیں چھوڑونگا سمجھیں۔۔‘‘ حنان کا جلالی روپ عود آیا تھا۔اس کے غصےٰ کی بس ہوئی تھی۔ ’’آپ۔۔۔‘‘رابیل ہکلائی۔۔ ’’شٹ اپ۔۔‘‘وہ جبڑے بھینچ کر غرایا تو رابیل نے بھی خاموشی میں عافیت جانی تھی۔۔ ’’جلدی اٹھ کر ڈریسنگ روم میں جاؤ،اور یہ تام جھام اتارو،تمھارا کیا کرنا ہے اس کا فیصلہ اب میں صبح ہی کرونگا۔‘‘وہ جتنا سوچ رہا تھا،دماغ اتنا ہی پھٹا جا رہا تھا۔۔اب تو گویا دل نے بھی دغا دینا شروع کردیا تھا۔ایک نامحرم لڑکی کے ساتھ یہ رات گزارنا ویسے ہی سوہان رُوح تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح صادق سے طلوع ہوتا سورج اپنے جوبن پر تھا۔جبکہ حنان دروازے پر مسلسل ہوتی دستک سے بیدار ہوا تھا۔صوفےپر سوئی رابیل بھی ہڑبڑا کر اٹھ گئی تھی۔ ’’کون ہے؟‘‘اس نے ذرا ناگواری سے استفسار کیا تھا۔ ’’مگر دوسری جانب سے مسلسل دستک ہورہی تھی۔وہ شدید کوفت سے دوچار بیڈ سے اتر کر دروازے کی طرف جا ہی رہا تھا کہ نگاہ مقابل بیٹھی لڑکی سے جا ٹکرائی تھی۔ ’’تم۔۔۔۔‘‘ ’’اوہ گاڈ!‘‘وہ اپنے بال نوچ گیا تھا۔ ’’فٹا فٹ اپنا تکیہ اور چادر اٹھا کر بیڈ پر رکھو،اور خود بھی یہیں بیٹھ جاؤ۔‘‘وہ اسے تنبیہ کرتا خود دروازے کی جانب بڑھا تھا۔اس نے بھی فوری اس کے کہے پر عمل کرتے قدم بیڈ کی جانب بڑھائے۔ ’’جی؟‘‘اس نے دروازہ کھولا تو سامنے ہی اسکی چچی کھڑی تھیں۔ جو آندر جھانکنے میں پوری پوری کوشاں تھیں۔ ’’بی جان کہہ رہی ہیں کہ نوشے میاں اور کب تک سونے کا ارادہ ہے آپ کا؟‘‘انھونے آنکھیں مٹکائی تھیں۔حنان نے تاسفی سانس خارج کی تھی۔ ’’اوہ پلیز۔۔‘‘وہ بیزار ہوا۔ ’’بی جان کو بولیں ہم بس ریڈی ہوکر آرہے ہیں۔‘‘ وہ بالون میں ہاتھ پھیرتا دروازہ بند کر گی،جبکہ چچی جان کو بیڈ پر سامنے بیٹھی وہ لڑکی نظر آہی گئی تھی۔جبھی وہ دروازہ بند کرنے کا برا منائے بغیر ہی وہاں سے چلتی بنی تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’جلدی اُٹھو ریڈی ہوجاؤ۔ہمیں نیچے جانا ہے۔‘‘وہ دونون ہی اِس وقت سفید رنگ شلوار قمیض میں ملبوس تھے،رابیل کی رنگت رُو رُو کر سُرخ انگار ا ہورہی تھی۔ ’’جی۔۔‘‘رات کو حنان کا غصہٰ دیکھنے کے بعد سے ہی وہ ذرا خائف خائف سی تھی۔ ’’جی نہیں جلدی اٹھو، اپنے کپڑے نکالو،میں شاور لینے جارہاہوں۔پھر تمھین بھی میرے ساتھ ہی نیچے جانا ہے۔‘‘وہ کرختگی سے گویا ہوتا خود واشروم میں جاکر بندھ ہوگیا تھا۔ ’’حکم تو ایسے چلا رہا ہے جیسے میں زر خرید ملازم ہوں اس کی۔‘‘وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی تھی۔ساتھ ہی قدم ڈریسنگ روم کی جانب بڑھائے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شاور لے کر نکلا تو وہ بھی تیزی سے واشروم میں جاکر بند ہوگئی تھی،کچھ دیر بعد وہ دونوں ایک ساتھ تیار ہوئے نیچے جا رہے تھے ۔۔ رابیل نے مہرون رنگ کا شیفون کے دوپٹے والا بھاری کام والا سوٹ پہن رکھا تھا۔جبکہ حنان کف فولڈ کرتا اب زینہ اُتر رہا تھا۔ ’’ماشاء اللہ ! چشم بدور۔۔‘‘سب نے ہی انھیں دیکھ بے ساختہ ماشاء اللہ کہا تھا۔۔جبکہ رابیل کی روح فنا ہو رہی تھی۔۔ناشتے کی میز پر بیٹھتے ہی ناشتہ شروع ہو تھا۔۔حنان لب بھینچے خاموش بیٹھا تھا۔گھر کی خواتین رسم و رواج میں ہی الجھی ہوئی تھیں۔۔ ’’حنان بیٹا یہ تم دونوں کے ہنی مون کے ٹکٹس ہیں۔۔کل خیر سے ولیمہ ہوجائے تو آپ دونوں اگلے دن صبح کی فلائٹ سے کشمیر چلے جانا۔‘‘چچا جان نے اپنی طرف سے شادی کا تحفہ بڑھایا تھا۔ ’’بہت شکریہ۔۔مگر ابھی۔۔‘‘اس سے قبل کے وہ کچھ بولتا دادو نے بیچ میں ہی بات کاٹ دی تھی۔ ’’حنان بیٹا۔۔۔بس منع مت کرئیے گا۔ چچا نے بہت پیار سے سارا انتطام کیا ہے۔ اور یہی تو دن ہیں گھومنے پھرنے کے۔‘‘انھونے تنبیہ لہجے میں باور کرایا تو رابیل کو سرخ نگاہون سے دیکھ خاموش رہ گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کشمیر کی وادی صبح کی ہلکی دھند میں لپٹی ہوئی تھی۔ سبز پہاڑوں کے دامن میں پھیلی وہ وادی جیسے ابھی ابھی نیند سے جاگی ہو۔ دور برف پوش چوٹیاں سورج کی پہلی کرنوں سے سنہری ہو رہی تھیں، اور نیچے بہتا شفاف ندی کا پانی خاموشی سے وقت کا بہاؤ سُنا رہا تھا۔ وہ دونوں ایک چٹان کے کنارے ساتھ کھڑے تھے۔ حنان نے ہاتھ جیب میں ڈال رکھے تھے، وہ بالکل خاموش تھا،جیسے وادی سے نہیں بلکہ اپنے اندر کے شور سے بات کر رہا ہو۔ اس کی آنکھیں دور افق پر جمی تھیں، جہاں سبزہ آسمان سے ملتا دکھائی دیتا تھا۔ اس کی خاموشی میں گہرائی تھی،ایسی گہرائی جو صرف ان لوگوں میں ہوتی ہے جنہوں نے زندگی کو قریب سے دیکھا ہو۔ رابیل بھی اس کے برابر کھڑی تھی، مگر دل کی دھڑکن اس کے قدموں
