Ghayal Episodc Novel — Episode No 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
702 Views
Episode No 03
حق ہے۔میں اب تک تمھارا لحاظ کر رہا تھا کیونکہ تم عورت ہو۔مگر تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ تم سے کوئی بھی لحاظ کا رشتہ رکھا جائے۔‘‘اس بار وہ سخت لہجے میں دھاڑا تھا۔تمکنت سہم کر دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔ ’’یزدان سکندر تم۔۔۔یہ میرے بچے ہیں۔‘‘وہ ایک بار پھر غرائی۔ ’’تمھارے بچے۔۔جن کا تم نے سودا کرلیا تھا۔۔ان بچوں کے عوض تم اچھی خاصی جائیداد لے چکی ہو۔۔ اور ان بچوں کی کسٹڈی میرے حوالے ہے۔اب تم ان پر حق نہیں جما سکتی ہو۔سمجھ گئیں۔‘‘ وہ شدید لہجے میں غرایا تھا۔تو وہ یکدم خاموش ہوئی۔ ’’یہ تمھاری بیوی ہے نا؟ پوچھو ذرا اس سے کیا یہ ساری زندگی تمھارے بھائی کی اولاد کو پال لے گی۔‘‘یزدان نے ضبط سے مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔ ’’ہاں پال لے گی۔اور پال رہی ہے۔تمھیں فکر میں گھلنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔گارڈر باہر لے کر جائیں اس عورت کو۔‘‘وہ سخت لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔۔ ’’تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔۔یہ میرے بچے ہیں۔۔‘‘بچے سہم کر تمکنت سے لپٹ گئے تھے۔جبکہ گارڈز اسے گھسیٹ کر باہر لے گئے تھے۔یزدان ایک گہری سانس بھرتا ان تینوں کی جانب پلٹا تھا۔ ’’ارمان،شامیر۔۔۔بوائیز اس طرح ڈرتے نہیں ہے۔۔بابا ہیں نا آپ کے پاس۔۔جسٹ ریلیکس۔۔‘‘ان دونون کے ماتھے پر بوسہ دیتا وہ انھیں ریلکس کر چکا تھا۔جبکہ تمکنت تو ابھی تک سکتہ میں کھڑی تھی۔۔یہ دونوں یزدان کے نہیں بلکہ اسکے بھائی کی اولاد تھے۔۔ ’’تمکنت انھیں روم میں لے کر جائیں گے۔‘‘ وہ اسکا گال تھپک کر خود موبائل جیب سے نکال کر وکیل کو کال کر رہا تھا۔۔اس کا ارادہ اس عورت کو لگامیں ڈالنے کا تھا۔ا۔ور وہ کسی لیگل نوٹس کو دیکھ کر ہی انسان بن کر بیٹھ سکتی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بچوں بہلا کر سلانے کے بعد وہ روم میں آئی تو یزدان بالکنی میں کھڑا سیگریٹ پھونک رہا تھا۔۔وہ بھی ساتھ آکر کھڑی ہوگئی تھی۔۔ ’’بھائی کی اس عورت سے لومیرج تھی۔۔مگر اس عورت کو عزت راس نہیں تھی۔۔شادی کے گیارہ ماہ بعد اللہ نے انھیں دو جڑواں بچوں سے نوازہ تھا۔۔زندگی اچھی چل رہی تھی۔۔جبھی بھائی کے ایک بزنس پارٹنر نے اِس عورت کو پرپوز کیا۔اور یہ کمزور نفس کی عورت بھائی سے طلاق لے کر اپنی بچوں اور شوہر کو چھوڑ کرا س شخص کے ساتھ چلی گئی۔۔بھائی اس عورت کی بے وفائی برداشت نہیں کر پارہے تھے۔۔انھیں ڈپریشن ہوگیا تھا۔ایک روز وہ کار حادثے میں اپنی جان ہار گئے تھے۔اور یہ دونوں بچے،جو صرف دو سال کی عمر میں یتیم ہوگئے۔۔جبھی اس عورت کو اس آدمی نے اپنے مقصد میں استعمال کے بعد چھوڑ دیا۔۔اسے بچے یاد آگئے،کیونکہ اسے جائیداد چاہئے تھی،ڈیڈی اور میں ایسا نہیں چاہتے تھے۔اسی لئے بھائی کی پراپرٹی میں سے پچیس پرسنٹ اس عورت کے نام کر کہ دونوں بچوں کی کسٹڈی ہمیشہ کے لئے میں نے اپنے پاس رکھ لی تھی،تاکہ وہ ہمیشہ میرے پاس رہیں۔۔مجھے عورت ذات کا یہ روپ دیکھ شدید نفرت ہوگئی تھی،اسی لئے میں شادی نہیں کرنا چاہتا تھا،کیونکہ میں اپنے بچوں کو کسی عورت کے ہاتھوں بربادہوتا نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔تمھیں یہ حقیقت اس لئے بتا رہا ہوں کہ چاہیں ہماری کتنی ہی اولاد ہوجائیں،مگر ان دونوں کی حق تلفی کبھی نہیں ہونی چاہئے۔کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرے بھائی کے بچے کبھی بھی کسی بھی محرومی کا شکار ہوں۔‘‘وہ بھاری دل سے بول رہا تھا۔۔اسکی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے تھے۔ ’’آپ بے فکر رہیں ۔میں انھیں ہمیشہ اپنی اولاد سے زیادہ عزیز رکھونگی۔کیونکہ مجھے معلوم ہےماں باپ کے بغیر زندگی کیسی ہوتی ہے۔میں نے وہ محرومیاں سہی ہیں۔۔ہزاروں کے ہجوم میں بھی جب آپ تنہا ہوتے ہو۔۔ارمان اور شامیر لکی ہیں کہ انھیں آپ کے جیسے فادر ملے ہیں۔آئی رئیلی پراؤڈ آف یو۔۔‘‘وہ بوجھل دل سے بولتی خود سے پیش قدمی کرتی اسکے سینے سے لگی تھی۔۔ان بچوں سے زیادہ یہ احساس جان لیوا تھا کہ اسکا شوہر پہلے کسی عورت کا محرم رہا تھا۔۔مگر آج اللہ اس پر مہربان ہوگیا تھا۔۔اسکا شوہر، اسکا سب سے قیمت رشتہ صرف اور صرف اسکا تھا۔۔صرف اسکا۔۔ ’’آئی لو یو۔۔‘‘اسکے گرد حصار قائم کر کہ اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا وہ جذبات سے چور لہجے میں بول رہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔
