Ghayal Episodc Novel — Episode No 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
702 Views
Episode No 03
گھائل از ہماقریشی قسط نمبر 03 وہ ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس بالکنی میں کھڑا سیگریٹ پھونک رہا تھا۔جبھی وہ ماہ جبیں کمرے میں داخل ہوئی تھی۔اور سیدھی ڈریسنگ روم میں جاکر بند ہوگئی تھی۔۔یزدان سر جھٹک کر سیگریٹ بجھا کر واپس روم میں آیا تھا۔اور بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔جبھی وہ بھی روم میں آئی تھی۔۔ایک نظر یزدان کو دیکھ وہ بیڈ کی دوسری جانب آئی تھی۔۔شادی کے پہلے روز سے وہ دونوں بیڈ شئیر کر رہے تھے۔یہ پیش قدمی بھی اسکی طرف سے ہی کی گئی تھی۔۔مگر یزدان نے اسے دور نہیں جھٹکا تھا۔۔وہ اسکی بیوی تھی،رشتہ جس بھی نوعیت کا تھا مگر وہ ہمیشہ نبھانے کو ارادہ رکھتا تھا۔وہ سوچوں میں گم تھا ،جبھی وہ کمفرٹر خود پر ڈالتی کروٹ کے بل ہوتی آنکھیں موند گئی تھی۔۔یزدان کچھ دیر اسکی پشت پر پڑی چٹیا کو دیکھتا رہا تھا۔پھر کچھ سوچ کر اسکی جانب کھسکا تھا،ساتھ ہی ایک لمحے میں اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر رخ اپنی جانب موڑ لیا تھا۔اس اچانک افتاد پر وہ بر ی طرح سٹپٹائی تھی۔آنکھوں میں حیرانی در آئی تھی۔ ’’تم اس بیڈ پر کیوں سوتی ہو؟‘‘وہ اپنی سوچوں میں گم الٹا ہی سوال کر گیا تھا۔ ’’تو پھر کہاں لیٹوں؟‘‘وہ ہونق ہوئی۔جبکہ اسے اپنے بے حد نزدیک دیکھ،دل زورو سے دھڑک رہا تھا۔ ’’میرے پاس،میرے نزدیک ۔۔‘‘اس کے کان کے قریب جھک کر معنی خیزی سے سر گوشی کرتا وہ اسے بوکھلا کر رکھ گیا تھا۔۔ ’’م۔۔۔مجھے نیند آرہی ہے۔۔‘‘نگاہوں کا رخ پھیر کر اس نے فوراً بہانہ گھڑا تھا۔ ’’مجھے بھی۔۔‘‘ مخمور لہجے میں بولتا وہ اسکے گال سے گال مس کرتا،اسکی ڈھڑکنیں منتشر کر گیا تھا۔ ’’یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟‘‘وہ شدید بوکھلا ہٹ کا شکا رتھی۔ ’’پیار!‘‘وہ شرارتی لہجے میں بولا تو وہ پل میں سرخ انگارہ ہوئی تھی۔۔چہرہ بھانپ چھوڑنے لگا تھا۔ ’’شادی کی رات کو میں نے غصےٰ میں جو کچھ بولا تھا۔اس کے لئے آئی ایم سوری۔۔بس بچوں کی وجہ سے میں بہت انسکیور تھا۔بٹ مجھے لگتا ہے کہ ایک ماہ ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے بہت تھا۔ہمیں اس رشتے کو آگے بڑھانا چاہئے۔۔‘‘اسکی جھیل سی آنکھوں میں اپنی سرمئی آنکھیں گاڑتا وہ جذبات سے بوجھل لہجے میں بولا تو اس کی پلکیں لرز گئی تھیں۔ ’’آگر تم وقت لینا چاہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘چند ساعتیں یونہی خاموشی کی نظر ہوگئی تھیں،جبکہ وہ لب چبانے لگی تھی۔ ’’مجھے تھوڑا وقت چاہئے۔‘‘ یزدان نے گہری سانس بھری۔ ’’اوکے!‘‘اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا وہ قریب ہی دراز ہوا تھا۔اور اسکا سر اپنے سینے پر رکھ کر اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا تھا۔جبکہ وہ سانس روکے پڑی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ معمول کے مطابق آفس کے لئے تیار ہو رہا تھا،جبکہ آج وہ اسکی تیاری میں ہیلپ کر رہی تھی۔جبکہ وہ نرم نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ ’’آپ مجھے اس طرح کیوں دیکھ ر ہے ہیں۔‘‘اس با ر وہ جھنجھلائی۔ ’’کس طرح۔۔‘‘وہ شرارت سے بولا تھا۔ ’’ایسے گھور گھور کر جیسے کھا جائیں گے۔۔‘‘ اسکی کلائی پر گھڑی باندھتی وہ جھنجھلا کر بولی،جبکہ اسکا زندگی سے بھرپور قہقہہ گونجا تھا۔ ’’کیوٹ۔۔۔‘‘وہ اسے قریب کرتا،اس سے قبل ہی کوئی دراوزہ دھڑام سے کھولتا آندر آیا تھا۔وہ دونوں بری طرح سے گڑبڑائے تھے۔۔ ’’ارمان ،شامیر۔۔یہ کیا حرکت ہے؟ میں نے آپ لوگوں کو کتنی بار کہا ہے کہ کسی کے بھی روم میں ناک کئے بغیر نہیں جاتے ہیں۔‘‘تمکنت کو خفت زدہ سا ڈریسنگ ٹیبل کی چیزیں ادھر ادھر کرتا دیکھ ،اس نے اپنے بیٹوں کی جانب قدم بڑھائے تھے۔ ’’ہم تو لازمی ناک کرتے ہیں ڈیڈی۔۔بٹ مام نے کہا کہ آپ دونوں کے رومز میں ہم بغیر ناک کئے آسکتے ہیں۔‘‘یزدان نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا جو بوکھلائی سی ڈریسنگ روم میں چلی گئی تھی۔ ’’اوہ اچھا تو یہ آپ کی ممی کا فرمان ہے۔۔کوئی نہیں آپ دونوں کے ساتھ ساتھ ممی کو بھی پنشمنٹ ملے گی۔‘‘وہ ذو معنی لہجے میں گویا ہوا تو دونون نے ہی ہونق ہوکر باپ کو دیکھا۔ ’’آپ ہمیں پنش کریں گے بابا؟‘‘ ’’جی بالکل۔۔آپ دونوں لان کے چار چار چکر لگائیں گے شام میں۔۔ابھی ہم اسکول کے لئے لیٹ ہو رہے ہیں۔‘‘ وہ دونوں کو باہر بھیجتا خود ڈرسینگ روم میں گیا تھا۔جہاں وہ فضول چیزیں ادھر سے ادھر کر رہی تھی۔ ’’ریلیکس۔ آپ کے لئے میری سزا ذرا الگ ہوگی۔‘‘اسکا ہاتھ پکڑ کر رخ اپنی جانب کرتا وہ ذومعنی سے بولا تو وہ ہونق ہوئی۔ ’’چلیں ابھی ناشتے کے لئے لیٹ ہو رہے ہیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یزدان! بچوں کو بھی ساتھ لے چلتے ہیں۔۔‘‘آج رات یزادان اسے اپنے ساتھ ڈنر پر لے کر جا رہا تھا۔۔ ’’ضرور لے کر چلتے۔۔آگر صبح انکا اسکول نہ ہوتا تو۔۔مگر یہ صرف ہمارا ٹائم ہے۔بچے ویسے بھی اب سونے کی تیاری میں ہیں۔۔‘‘وہ خود پر پرفیوم چھڑکتا مصروف سے لہجے میں بولا۔۔ ’’یہ ساڑھی۔۔میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں پہنی۔۔‘‘سرخ رنگ شیفون کی ساڑھی میں وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی۔۔یزدان کی نظریں بار بار بھٹک کر اسیکی جانب اٹھ رہی تھی۔۔ ’’نہیں پہنی تو کیا ہوا میرے جان۔۔آج پہن لی نا۔۔۔اینڈ ڈانٹ وری۔۔ہم سی سائیڈ جا رہے ہیں۔۔وہاں ہمارے سوا کوئی نہیں ہوگا۔۔‘‘وہ اسے ریلیکس کرتا ہوا بولا۔۔ساتھ ہی اسکی ہمراہی میں قدم باہر کی جانب اٹھائے تھے۔۔جو اب مسکرا کر اسی کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔ ’’ڈنر کے بعد وہ دونوں سمندر کی گیلی ریت پر ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔۔رات کا وقت تھا۔۔پر کیف ٹھنڈی ہواؤں کے سنگ ساتھ ساتھ چلتے وہ الگ ہی ترنگ میں تھے۔ ’’ تمکنت۔۔۔‘‘وہ چونکی۔ ’’جی۔۔‘‘اس نے ذرا حیرانی سے اسکی جانب دیکھا تھا۔ ’’کیا آپ واقعی دل سےا س رشتے کو نبھانے کے لئے رضامند ہیں۔‘‘اتنے دونوں میں وہ اتنا تو جان گیا تھا کہ یہ لڑکی واقعی سب سے جدا اور مختلف تھی۔ ’’آپ کو کوئی شک ہے کیا۔‘‘اس نے آئی برو اٹھائے۔ ’’نہیں۔۔بس ویسے ہی پوچھ رہا تھا۔۔‘‘ ’’ویسے آپ کی سزا باقی رہتی ہے ابھی۔۔‘‘اسے اچانک یاد ؤیا تھا۔ ’’اچھا تو میری کیا سزا ہے؟‘‘اس نے شتیاق سے پوچھا تو یزدان نے پہلے اسے دیکھا اور پھر گال پر انگلی رکھی تھی۔ ’’کیا؟‘‘و ہ سمجھ کر بھی انجان بنی۔۔ ’’یہاں کس کرنی ہوگی۔۔‘‘اسکا چہرہ پل میں سرخ ہوا تھا۔ ’’یہ کوئی سزا نہیں ہے۔۔‘‘وہ نروٹھے پن سے بولی۔ ’’سچ پوچھے تو میرا آ پ کو سزا دینے کا کوئی موڈ ہے بھی نہیں۔‘‘وہ کہتے ساتھ ہی اسکے چہرے پر جھکا تھا،جبکہ سمجھ آنے تک وہ شرما کر اسی کے سینے میں چہرہ چھپا گئی تھی۔۔جبکہ اسکا زندگی سے بھرپور قہقہہ گونجا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دن یونہی گزرتے جا رہے تھے۔وہ یزدان کی سنگت میں خوش اور مطمئن تھی۔ان دونوں نے ہی اس رشتے کو ایک موقع دے کر اس رشتے کی خوبصورتی کو بچا لیا تھا۔وہ لوگ اس وقت لان میں موجود چائے کے مزے لے رہے تھے۔آج سنڈے تھا،یزدان گھر میں ہی موجود تھا۔دونوں بچے وہیں کھیل رہے تھے۔ جبھی کوئی عورت دنددناتی ہوئی وہاں آئی تھی۔یزدان اس عورت کا چہرہ دیکھ ایک لمحے میں اٹھ کھڑا ہوا تھا۔سکندر صاحب گھر پر نہیں تھے۔۔ ’’یزدان سکندر۔۔تم آخر خود کو سمجھتے کیا ہو؟ مجھے میرے بچے واپس کرو۔ورنہ میں تم پر کیس کرونگی۔‘‘تمکنت حیرانی سے اس عورت کو دیکھ رہی تھی۔ ’’تمھیں آندر کس نے آنے دیا۔۔باہر نکال کر پھینکو اس عورت کو۔۔سکیورٹی۔‘‘ وہ تیز آواز میں غرایا تھا۔ ’’تم۔۔۔تم میرے بچوں کو اپنے پاس رکھ کر اپنے بھائی کی جائیداد پر قبضہ کرنا چاہتے ہو۔‘‘وہ چلائی۔ ’’میرے بھائی کی جائیداد اور اولاد پر سب سے زیادہ میرا
