Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 1
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 20/04/2026
74 Views
Episode no 1
لیے ،تمھیں سوچنے سمجھنے کا موقع دینے کے لئے تمہیں دنیا کے اس کونے بھیجا تھا؟ کہ جب تمہیں بلایا جائے تو تم بہانے بناؤ؟" انکے لہجے سے سختی عياں تھی۔۔ عیسٰی نے آنکھیں موند کر ماتھے پر ہاتھ پھیرا۔ وہ جانتا تھا کہ اب مزید ابتسام صاحب کا حکم ٹالنا آسان نہیں، مگر اس وقت اس کا نیویارک چھوڑنا بھی ناممکن تھا۔درحقیقت وہ پاکستان سے نہیں،بلکہ خود سے بھاگ رہا تھا۔۔۔ ’’گرینڈ پا ! بس کچھ مہینے اور دے دیں۔ میں جلد واپس آ جاؤں گا۔"لہجے میں بےبسی در آئی تھی۔ "’’تمہیں پتہ بھی ہے کہ تمہاری غیر موجودگی میں یہاں کیا ہو رہا ہے؟ کاروبار صرف ملازموں کے حوالے کر دینے سے نہیں چلتے، عیسٰی! تم نے کہا تھا کہ میں تمھیں تمہارا شوق پورا کرنے دوں ،تمہارے اس شوق کی وجہ سے ہمارے خاندانی بزنس کو کوئی نقصان نہیں ہوگا ۔۔مگر تم ۔۔۔اور یہ صرف کاروبار کی بات نہیں۔ یہ خاندان کی بات ہے۔ تمہیں پاکستان آنا ہوگا، جلد از جلد!" ابتسام صاحب کے آخری جملے میں ایسی قطعیت تھی کہ عیسٰی جان گیا کہ اب انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس نے بمشکل اپنے خیالات کو مجتمع کیا اور دھیمے لہجے میں گویا ہوا۔۔ "ٹھیک ہے گرینڈ پا ، میں جلدی واپسی کے انتظامات کرتا ہوں۔"اس نے بجھے دل سے کہا تھا ۔۔حقیقت تو یہ تھی کہ وہ پاکستان واپس جانا ہی نہیں چاہتا تھا ۔۔وہاں کے لوگ اسے اپنا مذاق اڑاتے محسوس ہوتے تھے۔۔ "جلدی کا مطلب کل یا پرسوں، نہ کہ چھ مہینے بعد!" انھونے تنبیہ انداز میں بات ختم کرتے ہوئے فون رکھ دیا۔ عیسٰی نے موبائل کی تاریک ہوئی اسکرين کو دیکھتے ہوئے ایک گہری سانس لی۔ اس کے لبوں پر ایک ہلکی سی بے بسی بھری مسکراہٹ ابھری۔ "پاکستان..." وہ زیرِ لب بولا۔ "پتہ نہیں اب وہاں کیا حالات ہوں گے۔" کھڑکی سے باہر نظر آتے نیویارک کی چکاچوند ہنوز برقرار تھی، مگر عیسٰی کا دل اب ہزاروں میل دور پاکستان کی گلیوں میں جا چکا تھا۔جہاں شاید کوئی نیا طوفان اس کا منتظر تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقدس اب تم نے کیا سوچا ہے بیٹا ؟"وہ شاید پہلی بار اس قدر نرم لہجے میں مخاطب ہوئیں تھیں ۔مقدس کی سیاہ آنکھوں میں تعجب ابھرا ۔۔ کس بارے میں پھپھو؟"وہ حیران ہوئی۔ بیٹا اب تمھارے ماں ،باپ اس دنیا میں نہیں رہے تو تم یہاں،اس گھر میں اکیلی کیسے رہو گی ؟"وہ سوالیہ انداز میں بولی تھیں ۔ مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے پھپھو۔"وہ تلخ ہوئی۔ ’’اب میں اتنی بھی بے حس نہیں ہوں بھئی کہ جوان جہان لڑکی کو یوں اکیلے چھوڑ جاؤں۔خیر اپنا سامان اٹھاؤ تم چلو میرے ساتھ گھر پر ۔۔پھر میں تمھارے سگوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتی ہوں ۔ظاہر ہے کسی نہ کسی نے تو تمھاری ذمہ داری اُٹھانی ہے نا۔"وہ ذرا نخوت بھرے لہجے میں گویا ہوئیں تھیں۔۔ ’’میں آپ کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوں مگر پلیز کسی کو اطلاع دینے کی ضرورت نہیں ہے۔۔"وہ تلخی سے بولتی واک اوٹ کر گئی ۔تو انہونے اسکے نخروں پر نخوت سے سرجھٹکا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی زندگی بھر کا آساسہ یا پھر یوں کہہ لیا جاتا کہ پوری زندگی دو بیگز میں سميٹ کر اپنے گھر کو بچپن کی خوبصورت یادوں سميت مقفل کرتی ،پھپھو کی ہمراہی میں ان کے گھر چلی آئی تھی۔۔۔ کراچی کے متوسط علاقے کے تنگ گلی سے گزرتی گاڑی ایک مناسب پرانی طرز کی بنی عمارت کے عين سامنے آکر ٹھہری تھی۔۔ چلو آجاؤ !تمھارا اپنا ہی گھر ہے۔۔"پھپھو کے لفظوں پر وہ تلخی سے مسکراتی انکی ہمراہی میں گيٹ کے نزدیک آئی۔۔پھپھو نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی تھی۔۔اور پھر جھنجھلائی ہوئی سی آواز کے ساتھ مناہل نے دروازہ دھیرے سے کھولا تھا۔ ’’ارے واہ ميم صاحب آئی ہیں !خوش آمدید ۔۔"وہ طنزیہ بولی ،جبکہ وہ اپنے سامان کا بیگ گھسیٹتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی تھی۔۔گھر میں اندر داخل ہوتے ہی مقدس کو عجیب سا محسوس ہوا تھا، آجنبیت کا احساس پورے وجود میں سرائیت کرگیا تھا۔۔۔ ’’ارے بیٹا یہاں صحن میں کیوں ٹھہر گئی ہو ۔۔چلو اندر آ جاؤ، یہ اب تمہارا بھی گھر ہے۔"انھونے شیرين لہجے میں کہا۔ جاری ہے
