Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 46
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 16/10/2025
5 Views
Episode no 46
نے اس ڈفر کی وجہ سے میری نیند خراب کی ہے؟‘‘ارتضیٰ کو تو پتنگے ہی لگ گئے تھے۔ ’’ایسے تو نہ بولیں۔مجھے اتنی ٹینشن ہو رہی ہے۔۔اور آپ ہیں کہ۔‘‘وہ منہ بسور گئی۔ارتضیٰ نے ایک جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچا تھا۔ ’’تمہیں کیوں اتنی ٹینشن ہورہی ہے بھئی؟‘‘اُس کی کمر کے گرد گھیرا تنگ کرتا وہ شرارتی لہجے میں بولا۔ ’’حیات بھابھی کل اتنا رو رہی تھیں،تو بس اس لئے۔‘‘اسے ایک دم اپنی بے ساختگی کا خیال آیا تھا۔ ’’حیات بھابھی کو سنبھالنے کے لئے اس کا پورا کا پورا چھے فٹ کا بندہ موجود ہے۔۔تم افگن بھائی کی فکر چھوڑ کر اس بندے پر دھیان دو۔‘‘ اُس نے شرارت سے پوزیشن چینج کی تھی۔اب وہ نیچے اور وہ اُپر تھا۔ ’’کیا ہوگیا ہے آپ کو صبح صبح!‘‘وہ بوکھلائی۔ ’’تم نے جو میری نیند برباد کی ہے۔۔اب تمہیں پنشمنٹ ملے گی۔‘‘وہ اس کے بالوں میں اُنگلیاں پھیرتا مزے سے بولا۔ ’’کوئی نہیں!جلدی سے اُٹھیں۔دادو بُلا رہی ہونگی،آپ کو نیچے۔‘‘اس نے اسے خود پر سے دھکیلنا چاہا۔ ’’یار بہت ہی کوئی ظالم بیوی ہو تم۔۔خیر نیچے جاکر ذرا کچن میں ڈنر کا اچھا سا اہتمام کروالو۔آج تمہارے شیر افگن بھائی گھر بدر ہونے کی خوشی میں ڈنر یہیں کریں گے۔‘‘وہ خود ہی ایک طرف کو ہوتا نارمل لہجے میں بولا،تو عابثہ کی آنکھیں چمک اُٹھی تھیں۔ ’’او ہ رئیلی!‘‘وہ ایکسائٹمنٹ میں اس کی دوسری بات فراموش کر گئی تھی۔ ’’ بیگم آپ تو اپنے بھائی کے گھر چھوڑ دینے پر اِیسے خوش ہو رہی ہیں،جیسے وہ نیا گھر چاند پر جاکر بنانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔‘‘وہ بالوں مین انگلیاں پھیرتا مزے سے بولا،تو عابثہ نے ذرا پریشانی سےا سے دیکھا تھا۔ ’’کیا ؟تو اب وہ پھر کہاں رہیں گے؟‘‘اسے نئی پریشانی لاحق ہوئی۔ ’’ ابھی سی سائید والے اپنے پینٹ ہاؤس میں رہے گا۔۔آپ نے کیا کنگلا سمجھا رکھا ہے ،شہر میں بہت سے بنگلے ہیں اس کے۔‘‘ وہ تیزی سے اس کے گال کو چھوتا مسکرا کر بولتا واشروم میں بند ہوگیا تھا۔۔جو اچانک ہوئی افتاد پر سہی طرح سے شرما بھی نہیں سکی تھی۔۔اور پھر سر جھٹکتی وہ مسکرا کر ارتضیٰ کے کپڑے نکالتی تیزی سے نیچے کی جانب بھاگی تھی۔۔تاکہ اُن کے ڈنر کے لئے کچھ اچھا سا اہتمام کرسکے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ہم کہاں جارہے ہیں شیر!‘‘ وہ سڑکوں کو دیکھتی سیٹ پر سرگراتی ذرا اُداسی سے بولی تھی۔ ’’گھر!‘‘وہ سپاٹ لہجے میں بولا تھا۔ ’’وہ تو مجھے بھی معلوم ہے۔۔مگر کس کے گھر؟‘‘وہ زچ ہوئی۔ ’’اپنے گھر اور کس کے گھر؟‘‘وہ اسکی بات پر دو پل کو حیران ہوا۔ ’’آپ کا اپنا گھر؟‘‘وہ سیٹ پر سر اُٹھا کر ہونقوں کی طرح بولی تھی۔ ’’نہیں ہمسایوں کا !‘‘وہ طنزیہ بولا۔ ’’آگر ایک گھر سے دوسرے گھر ہی جانا تھا تو فضول میں اتنا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔وہ بھی تو انکل ہی کی پراپرٹی ہوگا۔‘‘ وہ اپنی سوچ کے مطابق سر جھٹک کر بولی تو افگن نے آنکھیں چھوٹی کئے اپنی بیوی کو گھور کر دیکھا تھا۔۔جو نجانے کیوں اسے اس قدر گیا گزرا سمجھ رہی تھی۔ ’’میڈم وہ میرا ذاتی پیسوں سے خیریدا گیا،میری اپنی پراپرٹی ہے۔۔جو فی الحال تمہارے اور میرے لئے بہت ہے۔۔اور آگر ہمارے دو چار بچے بھی ہو جائیں ناں تو بھی ان سب کے الگ الگ رومز مووجود ہیں۔‘‘وہ جتاتے لہجے میں بولا تو اس نے آنکھیں گھمائیں۔ ’’ اچھا مگر فی الحال تو مجھے بھوک لگ رہی ہے۔۔آپ نے ناشتہ بھی نہیں کرنے دیا؟‘‘‘وہ شکوہ کناں لہجے میں بولی تو اسے اپنی لاپرواہی کا احساس ہوا۔ ’’اچھا ہوا تم نے یاد دلا دیا!یہاں پاس ہی میں ایک مارٹ ہے۔۔تم کچن کی ضرورت کی کچھ چیزیں اُٹھا لینا ذرا جلدی جلدی۔۔ناشتہ ہم اب گھر جاکر ہہی کریں گے۔‘‘ حیات نے گھور کر افگن کو دیکھا تھا۔۔جو ناشتہ کرانے کے بجائے کام کرنے کی ترغیبیں لڑا رہا تھا۔ ’’گھور کیا رہی ہو۔۔ناشتہ کے لئے بھی پیک کرالونگا ناں کچھ،میں کونسا تمہیں وہاں لے جاکر باورچن بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔‘‘ وہ اِس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر خود ہی صفائیہ لہجے میں بولا تو نا چاہتے ہوئے بھی مسکرائی۔ ’’ویسے انکل کا آئیڈیا بُرا نہیں تھا۔۔آپ کو اس بارے میں سوچنا چاہئے تھا۔‘‘وہ پوری توجہ سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔حیات کے شرارتی لہجے پر چونکا۔ ’’کونسا آئیڈیا؟‘‘وہ ناسمجھی سے بولا۔ ’’ہنی مون کا بھئی!‘‘اب وہ شرارتی نگاہوں سے گھور رہی تھی۔جس نے آنکھیں گھمائی تھیں۔ ’’ہاں جا تو رہے ہیں ہم اپنے فلیٹ پر ہنی مون منانے!‘‘وہ بھی شرارت سے بولا تو حیات نے اِس کے کندھے پر دھپ لگائی تھی۔ ’’لوگوں کو خوبصورت بیوی مل جائے،تو وہ دنوں رات قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے،ان کی ہر خواہش ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر بھی پوری کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔اور ایک آپ ہیں۔۔کیا فائدہ آپ کے اتنے امیر ہونے کا جب آپ مجھے گھُمانے بھی نہیں لے جا سکتے۔‘‘وہ لب باہر کو نکالتی شکوہ کناں لہجے میں بولی تھی۔ ’’’اصل میں وہ لوگ ہوتے ہیں ناں۔اور میں شیر افگن ہاشمی ہوں۔تو عام لوگوں سا ہونا تو ممکن ہی نہیں۔‘‘وہ فخریہ کالر جھاڑ کر بولا تھا۔ ’’کیوں آپ چاند سے آئی مخلوق ہیں کیا؟‘‘وہ گھور کر بولی تو لب دانتوں تلے دبا کر مسکرایا۔ ’’اس سے کم بھی نہیں،اب میری عجوبہ بیوی کو ہی دیکھ لو۔‘‘ وہ ہنسی ضبط کرتا بظاہر سنجیدگی سے بولا تو وہ شیر افگن بولتی اس کے کندھے پر مارنے لگی تھی۔۔جو دھیرے سے مُسکراتا اس کی کلائی تھام گیا تھا۔۔ جو اب خود بھی مسکراتی اس کے ہم قدم ہوئی ، جو گاڑی ایک سپر جنرل اسٹور کے سامنے روک چکا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’افگن!‘‘وہ ابھی کچن میں ساری چیزیں سیٹ کر تی روم میں انٹر ہوئی تھی،کہ افگن کو ٹو سیٹر صوفے پر پیر پسار ے بیٹھا پایا جو لیپ ٹاپ پر مصروف تھا۔ ’’ھمم!‘‘وہ مصروف سا بولا۔اُس کی ساری توجہ ا سکرین پر مرکوز تھی۔۔حیات کو پتنگے لگ گئے تھے۔ ’’میں کہ رہی تھی کہ کیوں ناں بالکنی سے چھلانگ لگا دوں۔تو میں یہ جاننا چاہ رہی تھی کہ پچیس منزل سے چھلانگ لگانے کے بعد مجھے، زیادہ چوٹ تو نہیں لگے گی ناں۔‘‘وہ افگن کو گھورتی لفظ چبا چبا کر بولی تھی۔جس نےاس کی خاموشی محسوس کر سر ہلانے پر اکتفا کیا۔ ’’اوہ تھینک گاڈ!ورنہ مجھے لگا تھا کہ میں تو مر مراجاؤں گی۔۔شکر ہے کہ اب میں زندہ رہونگی۔ورنہ مجھے لگا تھا مر جاؤنگی۔۔مگر میں سوچ رہی ہوں کہ میں اکیلے کیوں چھلانگ لگاؤں۔۔آپ بھی میرے ساتھ چلیں ناں۔‘‘ وہ یکدم اُٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑتی ذرا ضدی لہجے میں بولی تو چونک کر متوجہ ہوتے افگن کی اب ساری توجہ اس پر گئی۔ ’’کیا ہوگیا؟کہاں چلوں؟‘‘وہ ذرا بیزار ہوا۔ ’’ارے ابھی آپ ہی نے تو کہا کہ ہم دونوں بالکنی سے چھلانگ لگا لیتے ہیں۔۔تو چلیں اب۔‘‘ وہ معصومیت سے بولی تو افگن نے گھور کر دیکھا تھا۔ ’’یار تنگ نہیں کرو۔میں کام کر رہا ہوں۔‘‘ وہ اس کی حرکت سمجھ کر اپنا ہاتھ ا س کی گرفت سے نکال گیا۔ ’’بس ٹھیک ہے پھر میں بھی جارہی ہوں سونے۔۔۔لنچ کا انتظام کر لیں خود۔۔میں پاگل ہوں ،جو خالی کچن میں سر کھپاؤں۔‘‘وہ غصہٰ سے بولی۔ ’’یار ابھی تو اتنی چیزیں لی ہیں تم نے۔۔اب کیا رہ گیا؟‘‘وہ لیپ ٹاپ لڈ گرا گیا۔ ’’آئل!کوکنگ آئل!سب سے اہم چیزیں۔‘‘ وہ بیڈ پر نیم دراز ہوتی جتاتے لہجے میں بولی۔ ’’تو تم نے لیا کیوں نہیں؟‘‘اب وہ خفا ہوا۔ ’’اتنی جلدی میں مجھے جو یاد رہا ۔۔میں نے وہ لے لیا۔‘‘وہ سرتک چادر لیتی منہ
