Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 46
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 16/10/2025
5 Views
Episode no 46
دھوپ_چھاؤں_کا_عالم_رہا #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_46 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک نئی پر کیف صبح طلوع ہوچکی تھی۔ حیات فجر پڑھ کر دوبارہ سو گئی تھی۔جبکہ وہ مسجد سے کافی دِیر سے لوٹا تھا۔اور پھر جب سے ہی پیکنگ میں مصروف تھا۔صبح کے دس بج رہے تھے۔۔حیات گڑبڑا کر اُٹھی تھی۔آخر وہ اتنی دیر کیسے سو سکتی تھی۔۔۔ ’’گڈ مارننگ!اُٹھ جاؤ حیات۔کافی صبح ہوگئی ہے۔‘‘ وہ سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا۔ ’’ہاں!آپ نے مجھے اُٹھایا ہی نہیں۔‘‘وہ بالوں کو جوڑے میں لیپٹ کر تیزی سے اُٹھی۔شیر افگن کا نارمل آنداز دیکھ وہ پُرسکون ہو چکی تھی۔ ’’ خیر ہے۔کل تم کافی تھک گئیں تھیں۔ویسے میں تقریبً تمہاری اور اپنی ساری پیکنگ کرچکا ہوں۔تم دیکھ لو آگر ضرورت کی کوئی چیز رکھنی ہے تو۔‘‘وہ قدم چلتا اُس کے مقابل آیا۔ ’’ہم کہیں جارہے ہیں کیا؟‘‘وہ حیران ہوئی۔ ’’جی بالکل!‘‘اس کا آنداز نارمل تھا۔ ’’مگر کہاں؟‘‘ ’’ اپنے گھر۔‘‘وہ بہت نرم لہجے میں بولا تھا۔ ’’اپنے گھر!مگر ہم اپنے گھر میں تو ہیں۔‘‘حیات کو افسوس ہوا۔ ’’ میں نے سوال کرنے کو نہیں،بلکہ پیکنگ کرنے کو کہا ہے۔‘‘وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔ ’’مگر افگن آپ ایک بار انکل سے تو پو چھ لیں۔‘‘ اسے نے سمجھانے کی کوشش کی۔ ’’کیا تم میرے ساتھ نہیں جانا چاہتی۔‘‘وہ سرد لہجے میں گویا ہوا۔ ’’ جارہی ہوں۔‘‘وہ شکوہ کناں نظروں سے گھورتی ڈریسنگ روم کی جانب بڑھی تھی۔جبکہ وہ سر جھٹک کر ارتضیٰ کا نمبر ڈائل کر رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں نیچے آئے تو ناصر صاحب اور زرین بیگم ناشتے کی میز پر موجود تھے۔ناصر صاحب اس کا بیگ دیکھ متعجب ہوئے۔۔ ’’السلام علیکم!دونوں نے باآواز سلام کیا۔زرین نے ناگواری سے حیات کو گھورا ،جبکہ افگن نے ایک نظر بھی انہیں دیکھنا گوارہ نہیں کیا تھا۔۔ ’’ وعلیکم السلام!کہاں جارہے ہیں آپ دونوں۔‘‘ وہ اخبار فولڈ کر سائید میں رکھ کر بولے۔ ’’ میرے خیال سے آپ کا یہ سوال کرنا بنتا نہیں ہے۔‘‘وہ تلخ لہجے میں بولا تھا۔ ’’تو مطلب اب تم اس عمر میں اپنے باپ کو اکیلا چھوڑ کر جارہے ہو۔‘‘ وہ سر جھکا گیا۔مگر خاموش رہا۔ ’’حیات بیٹا!اپنا سامان اُٹھائیں،اور روم میں جائیں فوراً‘‘وہ ذرا سختی سے بولے۔ ’’حیات کہیں نہیں جائے گی۔۔میں فیصلہ کر چکا ہوں۔اب ہم یہاں نہیں رہیں گے۔جس گھر کے مکینوں کے لئے میری بیوی کا وجود ناقابل برداشت ہو ،میں وہاں رہ کر کیا کرونگا۔‘‘ وہ تلخ لہجے میں بولا،زرین سر جھٹک گئیں۔وہ کچھ بول کر ناصر صاحب کا غصہٰ افورڈ نہیں کر سکتی تھیں۔جنہیں وہ بامشکل منانے میں کامیاب ہوئیں تھیں۔۔ ’’ہوگئی بکواس،جاؤ بیٹا آپ۔‘‘افگن نے سختی سے اس کا ہاتھ پکڑا تھا۔وہ بُری پھنسی تھی۔ ’’ حیات کہیں نہیں جائے گی بابا!بلکہ یہ میرے ساتھ جائے گی۔‘‘اس کا لہجا بلا کی سختی لئے ہوئے تھا۔ ’’اچھا تو تم فیصلہ لے چکے۔۔ پھر میں کون ہوتا ہوں۔کچھ بھی کہنے والا۔‘‘وہ ناراض لہجے میں بولے۔ ’’میں بس ہماری زندگیاں پرُ سکون کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ دھیما پڑا تھا۔ ’’جاؤ!‘‘یک لفظی جملہ پر وہ کتنی ہی دیر خاموش رہا ،پھر قدم اُٹھایا ہی تھا کہ وہ مزید بولے۔ ’’مگر ایک بات یاد رکھنا کہ میرا تم سے کوئی رشتہ نہیں رہے گا۔ میں مر بھی جاؤں تم جب بھی پلٹ کر نہیں آؤگے۔‘‘وہ آج اس کا ضبط آزمانے کے در پر تھے۔وہ تڑپ کر ٹھرا تھا۔ ’’بابا!اللہ نہ کرے کہ آپ کو کچھ ہو۔‘‘وہ وہی چھوٹا سا افگن بن گیا تھا۔ ’’جب جوان بیٹا بوڑھے باپ کو تنہا چھوڑ جائے تو وہ باپ تو خود ہی مر جاتا ہے۔‘‘وہ تھکے ہوئے لہجے میں بولے تھے۔ ’’بھلے زرین بیگم کی نظر میں میرے وجود کی کوئی ویلیو نہ ہو۔۔ مگر حیات میری بیوی ہے۔۔ جس سے آپ نے زبردستی میرا نکاح کرایا تھا۔ اب جب میں اُسے دل سے قبول کر چکا ہوں تو یہ چاہتی ہیں کہ میں اُسے چھوڑ دوں۔اس سے بہتر ہے کہ میں یہ گھر چھوڑ دوں۔‘‘ وہ دو قدم نزدیک گیا تھا۔ ’’تمہاری لڑائی تمہاری ماں سے ہے،تو اس سے لڑو ناں،اس میں میرا کیا قصور ہے۔مجھے کس بات کی سزا دے رہے ہو شیر افگن۔۔تمہارے باپ میں اب اتنی ہمت نہیں کہ وہ تمہاری ذات کا کوئی بھی دُکھ برداشت کر سکے۔‘‘وہ نڈھال سے رنجیدگی سے بولے تھے۔ ’’میں کچھ دن اپنی بیوی کے ساتھ اکیلے رہنا چاہتا ہوں۔اس کی تو اجازت ہے نان مجھے۔‘‘ حیات کی عزت اپنی جگہ مگر وہ اپنے باپ کو بھی دکُھ نہیں دے سکتا تھا۔ ’’ضرور جاؤ۔بلکہ ایسا کرو میں تمہارے دبئی کے ٹکٹس بُک کرادیتا ہوں۔تم لوگ ہنی مون پر چلے جاؤ۔ حیات بیٹا بھی خوش ہوجائے گی۔‘‘ وہ بیچ کی راہ نکال کر بولے،تو اس نے کنپٹیاں سہلائی تھیں۔۔۔ ’’ابھی ایسا ممکن نہیں ہے۔ دراصل میں نے احمر کے خلاف عدالت میں کیس فائل کیا ہے۔میں یہیں کچھ دنوں کے لئے اکیلے رہنا چاہتا ہوں۔سکون چاہتا ہوں میں۔‘‘بلآخر وہ زچ ہوکر بولا تو پھر ناصر صاحب کو ، اس کی ذہنی حالت پر ترس آگیا تھا۔۔۔۔ ’’ ٹھیک ہے جاؤ۔مگر یہ تمہارا گھر ہے۔۔ اور تم بس کچھ دنوں کے لئے جارہے ہو یہ بات یاد رکھنا۔۔میں نے تمہیں ہمیشہ کے لئے جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔‘‘ وہ سخت تنبیہ لہجے میں بولے،تو وہ نرمی سے مسکرایا،اور اُنکے گلے سے لگا تھا۔ ’’آئی لو یو!اینڈ تھیک یو فور ایوری تھنگ!وہ انہیں سختی سے بھینچتا نم آنکھوں سے مسکرایا تو وہ کندھا تھپتھپا کر رہ گئے۔حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی زرین کو آج شدت سے احساس ہوا تھا کہ وہ اپنا بیٹا گنوا چکی ہیں۔۔۔۔ ’’حیات بیٹا اس کو آوارہ گردی کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دینا۔اور یہ تنگ کرے تو آپ نے فوراً اپنے بابا کو یاد کرنا ہے۔اس کا دماغ پھر میں خود دُرست کرلونگا۔۔ اور تم خیال رکھنا بچی کا۔۔ جہاں بھی جانا ہو آٹھ بجے سے پہلے لازمی گھر پہنچ جانا۔حیات کو رات میں اکیلے نہیں چھورنا سمجھے گئے۔‘‘ حیات کی آنکھیں جھلملا گئیں تھیں۔وہ آخر کس کس بات پر اپنے رب کا شکر ادا کرتی ۔ ’’حکم!‘‘وہ سر کو خم دیتا اب دو قدم چلتا زرین کے پاس آیا ، جو آنکھوں میں نمی لئے خاموش کھڑی تھیں۔ ’’میں نہیں جانتا کہ آپ مجھ سے کتنی محبت کرتی ہیں۔مگر میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں۔میں نے اپنی اصل ماں کو نہیں دیکھا۔مگر میرے لئے آپ ہی ہمیشہ سے میری ماں رہی ہیں۔‘‘وہ اُنکی پیشانی پر بوسہ دیتا پیچھے ہوا تھا۔ جو اب اُسے ناراض نظروں سے گھور رہی تھیں۔مگر وہ نگاہیں پھیر گیا۔ناصر صاحب نے حیات کے سر پر ہاتھ رکھا تھا، اور پھر وہ زرین کی جانب بڑھی جو بے ُرُخی سے چہرہ پھیر گئیں،افگن نے لب بھینچے اور وہ شرمندہ ہوگئی۔ ’’چلو حیات!‘‘وہ اس کا ہاتھ تھماتا ہاشمی ولاسے نکل آیا تھا،ناصر صاحب نے ایک نظر آنسو ضبط کرتی زرین پر ڈالی تھی اور پھر تاسف سے نفی میں سر ہلاتے وہ آفس جانے کے لئے ریڈی ہونے چلے گئے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ارتضیٰ!‘‘عابثہ کل سے بے چین تھی۔جبکہ وہ جو آج آفس سے چھٹی پر تھا،آج اپنی بھرپور نیند پوری کرنے کے اِرادے سے سُو رہا تھا۔ ’’ہمم!‘‘خمار ذدہ آنکھیں کھول کر عابثہ کو گھورا۔ ’’ آپ اُٹھ کیوں نہیں رہے ہیں۔‘‘ وہ کچھ دیر قبل شیر افگن کی آئی کال کی وجہ سے پریشان تھی۔جو ُاس سے نجانے کیا باتیں کر رہا تھا۔ ’’کیوں!میں نے کونسا کھیتوں میں ہل چلانے جانا ہے۔‘‘وہ ناراض ہوا۔ ’’میں اس لئے بول رہی ہوں کہ آپ نے بتایا ہی نہیں کہ وہ افگن بھائی کیا کہ رہے تھے۔‘‘وہ متجسس ہوئی۔ ’’آر یو سیریس!تم
