Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode No 42
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/10/2025
653 Views
Episode No 42
جانب قدم اُٹھانے ہی لگا تھا کہ زرین کے زہر میں ڈوبےلفظوں کے باعث اُسے پھر اپنے قد رُوکنے پڑے تھے۔۔۔ ’’میں تو تمہاری خوشی کی خاطر کہ رہی تھی،مگر نہیں تم نے ثابت کردیا نہ کہ ہو تو تم کسی غیر کی ہی اولاد!‘‘وہ استہزائیہ لہجے میں بولی تھیں۔افگن حیرت سے گنگ کتنی ہی دیر کچھ بول ہی نہیں سکا تھا۔وہاں موجود خواتین میں یکدم چہ مگوئیاں شروع ہوگئی تھیں۔افگن کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جو بات وہ کبھی زبان پر نہیں لایا وہ یوں سرے عام اُس کی ذات کی دھجیاں اُڑا دیں گی۔ٹھٹھک تو ساتھ کھڑی حیات بھی گئی تھی،عابثہ تلخٰی سے مسُکرائی تھی۔کہ یہی حقیقت ہےکہ اولاد کا ماں ،باپ سے زیادہ کوئی سگا نہیں ہوتا۔پالنے والی ماں بھی نہیں۔۔۔ ’’یہ کیا تماشہ لگایا ہوا ہے یہاں پر!‘‘ ناصر صاحب جو َمردوں کے ساتھ باہر مصروف تھے،ارتضیٰ کی اِطلاع دینے پروہ فوری طور پر سب سے اکسکیوز کرتے اس جانب آئے۔۔ ’’آجائیں آپ بھی آجائیں!آج بات ہوہی جائے آپ کا یہ لے پالک بیٹا کہ رہا ہے کہ آئندہ یہ میرا ماں ہونے کا لحاظ نہیں کرے گا۔۔ میں پوچھتی ہوں کہ آخر اس کی اوقات کیا ہے۔جو یہ اتنے سارے لوگوں کے سامنے میری بےعزتی کر رہا ہے۔‘‘وہ انتہائی زہر خند لہجے میں بولتی غلط بیانی سے کام لے رہی تھیں۔ ’’زرین بیگم!یہ کیا بکواس کر رہی ہیں آپ۔‘‘وہ شیر افگن کا تزلیل کے باعث لال بھبھوکا چہرہ دیکھ جبڑے بھینچ کر دھاڑے۔۔۔۔ ’’سچ کہ رہی ہوں،ہم نے تو ہمیشہ اس کی خوشی ہی چاہی ہے۔مگر یہ اِس دوٹکے کی لڑکی کی خاطر،ہمارے احسان بھول گیا ہے شاید!‘‘ ماحول میں سکوت سا چھا گیا تھا۔ ہر کوئی حیرت سے گنگ خاموش رہ گیا تھا۔۔۔۔ ’’آگر آپ واقعی میری خیر خواہ ہوتیں یا میری خوشی اتنی ہی عزیز ہوتی،تو یوں آج میری ذات کا تماشہ نہ بناتیں۔اور نہ ہی میری بیوی سے خدا واسطے کا بیر پالتیں۔میں نے تو سُن رکھا تھا کہ پیدا کرنی والی سے زیادہ پالنے والی ماں اولاد کی زیادہ سگی ہوتی ہے۔مگر شاید آپ نے تو مجھے کبھی اُولاد سمجھا ہی نہیں تھا۔۔۔‘‘وہ شدید دُکھ سے دوچار مزید کچھ بھی بولے بغیر حیات کا ہاتھ تھامتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔ ’’اور ہاں فکر نہ کریں! صرف کل تک مجھے اور میری بیوی کو اور برداشت کرلیں!‘‘وہ ٹھر کر تیز لہجے میں بولتا اپنے کمرے میں کی جانب بڑھ گیا تھا۔ حیات حیرت اور بے یقینی سے گنگ کسی مومی گُڑیا کی مانند اُس کے پیچھے کھینچی چلی گئی تھی۔عابثہ ارتضیٰ کی تلاش میں تیزی سے باہر کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’زرین بیگم یہ کیا تماشہ تھا؟‘‘ وہ عالم طیش میں ضبط سے چنگھاڑے تھے۔زرین جو نفرت اوربغض کی آگ میں اِس قدر آندھی ہوگئی تھیں کہ انہیں اپنے لفظوں کی تلخی کا احساس تک نہیں ہوا تھا یکدم گڑبڑا کر ہوش میں آئی تھیں۔ ’’ناصر صاحب آپ نے دیکھا نہیں ،اس لڑکی کی وجہ سے ہم نے اپنی بہو اور وارث کو کھو دیا۔‘‘وہ اِرد گرد موجود خواتین کے ہجوم کو دیکھ ہوش میں آئی تھیں۔۔۔۔ ’’بہو،وارث!وہ آپ کا بیٹا کب سے ہوگیا زرین بیگم!کچھ دیر قبل آپ کواس بیٹے کی ذات کا تماشہ بناتے اس بات کا احساس ہوا تھا تو اب آپ کس حق سے اسے اپنا بیٹا کہ رہی ہیں۔‘‘اُن کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ زرین بیگم کواپنی نظروں کے سامنے سے غائب کر دیتے۔جس وعدے کی پاسداری انہوں نے ہمیشہ اپنی جان سے بڑھ کر کی تھی،آج زرین بیگم نے سرے بازار انہیں رسوا کر دیا تھا۔ ’’ آپ ۔۔۔۔‘‘ ’’خاموش!آج آپ نے ثابت کردیا کہ سوتیلی ماں ہمیشہ سوتیلی ہی ہوتی ہے۔اور یہ کیا لے پالک اولاد کی رَٹ لگا رکھی ہے۔سُن لیں آپ سب وہ میرا بیٹا ہے ناصر ہاشمی کا خون ہے۔۔میری اولاد ہے وہ،میری پیدا کی ہوئی اولاد ہے۔اور یہ حقیقت ہے کہ زرین میرے بیٹے کی ماں نہیں ہیں۔اور یہ مر کر زندہ بھی ہوجائیں جب بھی یہ میرے بیٹے کی ماں نہیں بن سکتیں،کیونکہ شیر افگن کی ماں ایک باظرف عورت تھی،اُس جیسی عورت میں نے آج تک کوئی دوسری نہیں دیکھی۔وہ میرا بیٹا ہے۔۔میرا خون،اس گھر ،خاندان کا اکلوتا وارث!‘‘وہ سخت لہجے میں سب کو باور کراتے زرین کو حیرت زدہ کر گئے،جو اتنے لوگوں کے سامنے ان کی ذات کا تماشہ بنا گئے تھے۔اُن کی عمر بھر کی رفاقت کو پل میں ضائع کردیا تھا۔محض اپنے ایک وعدے کی پاسدار کی بدولت۔وہ حیرت سے گنگ کچھ بول ہی نہ سکی تھیں۔ ساتھ کھڑی اِن کی سہیلیوں نے افسوس سے زرین کو دیکھا تھا۔۔۔۔ ’’توبہ ہے بھئی،باپ ،بیٹا دونوں نے دو دو شادی کی ہیں۔‘‘یہ زرین کی ہی کوئی ملنے والی تھیں،جو بغیر لحاظ کئے کفن پھاڑ کر بولی تھیں۔۔۔ ’’جھوٹ ہے یہ!سب جھوٹ ہے۔‘‘ یہ لفظ زرین کو کسی طماچے کی طرح لگے تھے اور وہ بلبلا اُٹھی تھیں۔۔۔۔ ’’سچ ہے۔بالکل سچ!اور اب آپ بھی اس حقیقت کو تسلیم کرلیں تو بہتر ہے۔‘‘وہ زرین کا تزلیل کے باعث سرخ پڑتا چہرہ دیکھ طنزیہ مسکراہٹ سے گویا ہوئے تھے۔جو خود پر ذرا سی بھی برداشت نہیں کر پارہی تھیں اور حیات کو صبح شام اپنے طعنوں کا شکار بنایا ہوا تھا۔ ’’ناصر صاحب آپ میرے ساتھ یہ زیادتی نہیں کر سکتے!‘‘ وہ ہذیانی آنداز میں بولیں۔ ’’ زیادتی تو سالوں پہلے ہوچکی تمہارے ساتھ زرین!‘‘ایک اور طنز۔ ’’آپ سب ہمارے غم میں شریک ہوئے،اس کے لئے میں بہت شکرگزار ہوں،مگر اب بہتر ہوگا کہ آپ لوگ یہاں سے تشریف لے جائیں۔‘‘ جتنا تماشہ لگنا تھا ،وہ لگ چکا،اب وہ مزید اپنے بیٹے کی شناخت کو مشکوک بنتا نہیں دیکھ سکتے تھے۔وہ سختی سے بول کر وہاں مزید رُکے نہیں تھے،بلکہ وہاں سے نکلتے چلے گئے،جبکہ زرین سکت کی سی کیفیت سے دوچار لہرا کر صوفے پر گر پڑی تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔
Comments
Leave a Comment
Jia
Fri Oct 17 2025
Super epi but short boht h Novel boht zabardast h yh
