Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode No 42
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/10/2025
653 Views
Episode No 42
دھوپ چھاؤں سا ہرجائی از ہما قریشی قسط نمبر 42 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک قیامت خیز اُجالے کو رات کی سیاہ غمگین تاریکی نے بیدری سے خود میں نگل لیا تھا۔۔ شیرافگن ہاشمی نے کچھ دِیر قبل ہی اُجالا کے وجود کو سُپرد خاک کیا تھا۔۔وہ نڈھال اور جُھکے کندھوں سے تھکا ہارا سا سیدھا اپنے کمرے میں جاکر بندھ ہوگیا تھا،نیچے بیٹھی حیات قُرآن پاک پڑھنے میں مشغول تھی۔ وہ اَفگن کو تھکے قدموں سے اپُر جاتا دیکھ جلد از جلد رکوع مکمل کرتی خود بھی اُس کے پیچھے دوڑی تھی۔۔جو کل رَات کے بعد سے بالکل خاموش سا تھا۔۔ ’’افگن!‘‘دروازے پر دستک دے کر ہولے سے پُکارا تھا۔جو شاید اکیلا رہنے کی غرض سے روم لاکڈ کر کے بیٹھا تھا۔۔۔۔ ’’افگن دُروازہ کھولیں پلیز!‘‘وہ مزید کچھ کہتی کہ تبھی افگن نے دَروازہ کھول دیا تھا۔۔حیات نے ذرا کی ذرا نظر اُٹھا کراپنے ہمسفر کی جانب دیکھا تھا،جو کاٹن کے سفید شلوار قمیض میں ملبوس پانی سے نم چہرے کو تولیہ سے تھپ تھپا کر صاف کرتا سپاٹ تاثرات لئے کھڑا تھا۔۔چوڑی پیشانی پر سیاہ نم بال بکھرے ہوئے تھے۔سُرخ مغموم آنکھیں غمزدگی کی علامت تھیں۔ چہرے پر سپاٹ تاثرات سجائے حیات کے پریشان جبیں پر ایک خاموش نگاہ ڈالتا رُخ پلٹ کر بیڈ پر جاکر چت لیٹ گیا تھا۔۔اُجالا کی اچانک موت کسی صدمے سے کم ہر گز نہیں تھی۔۔۔۔۔ ’’کھانا لاؤں؟‘‘ وہ دھیرے دھیرے قدم اٹُھا کرنزدیک آکربیٹھتی محبت بھرے لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔ ’’نہیں ایک کپ کافی بنوادو۔سر میں شدید درد ہے۔‘‘اُس کی دھیمی آواز شدید ٹوٹ پھوٹ کی شکار ،اپنے معمولی پن سے یکسر مختلف بالکل سپاٹ سی تھی۔ہر قسم کے جذبات سے عاری۔۔۔۔ ’’میں اََبھی بنا کر لاتی ہوں۔‘‘حیات نے مزید کسی قسم کی زور زبردستی کئے سیدھا رُخ کچن کی جانب کیا تھا۔جانتی تھی کہ اس وقت وہ بالکل تنہا رہنا چاہتا تھا۔جبکہ سُرخ آنکھیں چھت پرٹکائے بیڈ پر چت لیٹا افگن لایعنی سوچوں میں محو تھا۔۔نظروں کے سامنے بچپن سے لے کر لڑکپن اور پھر جوانی کی دہلیز عبور کرتی اُجالا کی پوری زندگی گھوم گئی تھی۔پہلے ایک مخلص ساتھی،پھر بہترین دوست،اور پھر جوانی کی سرحدیں عبور کرتی خاموش محبت اور پھر افگن کی وجہ سے اس کی زندگی میں رونما ہوئی تباہیاں ،افگن کی عابثہ کو لے کر خود غرضی۔۔۔اُسے آج بھی وہ شام یاد تھی جب حیات اچانک سے اُس کی زندگی میں شامل ہوگئی تھی۔اور وہ جو عابثہ کے لئے ارتضیٰ کو سوچے بیٹھا تھا یوں اپنی زندگی میں حیات کو ایک مقام دینا اس کے لئے خاصہ مشکل رہا تھا۔اور پھر وہ خودد غرض ہوگیا تھا،عابثہ کی خاطر اُجالا سے اس کی محبت ارتضیٰ کو مانگ لیا تھا۔اور وہ سدا کی نرم طبیعت اور حساس دل لڑکی اُس کی ذرا سی التجا پر اپنی سالوں پُرانی محبت سے دستبردار ہوتی ارتضیٰ عباس کو ہمیشہ کے لئے عابثہ اسمعیل کو دان کر گئی تھی۔اُجالا کا ریپ ،ولیمہ والے دن کا تماشہ،احمر کی مکاریاں،کاغذی جعلی نکاح کا فوری فیصلہ اور پھر اُجالا کو یوں خاموشی سے چلے جانااِسے شدید قسم کے گلٹ میں مبتلہ کر گیا تھا۔۔۔ وہ اپنی سُوچوں میں اِس قدر محو تھا کہ سائیڈ ٹیبل پر رکھے تواتر سے بجتے موبائل کی گھنٹی کی آواز پر بھی اُس پر چھایا فسوں نہ ٹوٹ سکا تھا۔ وہ دماغ میں ہتھوڑے کی طرح کاری ضربیں ثبت کرتی کسی آواز پر چونک کر ہوش میں آیا۔جہاں ارتضیٰ کی چار پانچ مسڈ کالز تھیں۔ارتضیٰ تو ابھی یہیں تھا تو پھر کالز،اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے،جبھی اس کی جانب سے آیا پیغام اسکرین پر جگمگا اُٹھا۔۔۔ ’’کال ریسو کرو میری۔۔‘‘ ’’نیچے آؤ جلدی۔۔‘‘ یہاں ایک پروبلم ہوگئی ہے۔‘‘ وہ کال بیک کرنے کے بجائے تیزی سے روم سے نکلتا نیچے کی جانب بڑھا تھا۔وہ ابھی سیڑھیوں کے عین وسط میں ہی تھا کہ اُس کی نگِاہ زرنین بیگم اور خاموش آنسو بہاتی حیات پر گئی تھی،جبکہ افسوس کے لئے آئیں تمام خواتین جن میں بیشتر تعداد زرین کے سوشل سرکل سے وابسطہ خواتین کی تھی۔وہ جبڑے بھینچتا تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا ڈرائنگ روم میں آیا تھا جہاں خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔۔۔ ’’ارے ایک نمبر کی منحوس لڑکی ہے،جب سے میرے بیٹے کی زندگی میں آئی ہے وہ مشکلات میں گرفتار ہے۔اِس کی وجہ سے میری خاندانی ،نیک شریف بہو نے خود کشی کرلی،یقیناً اس لڑکی نے ہی مجبور کیا ہوگا اُجالا کو یہ ناجائز قدم اُٹھانے پر۔‘‘وہ فاصلے پر کھڑی اُسے بُرا بھلا کہنے پر معمور تھیں،جو خاموش سر جھکائے آنسو بہا رہی تھی۔پاس کھڑی عابثہ اُسے خاموش کرانے میں کوشاں تھیں۔۔۔ ’’کیا ہو رہا ہے یہاں۔‘‘افگن کی اچانک آمد کے باعث شدت بھرے لہجے میں باز پرس کرتیں زرین ایک لمحے کو گڑبڑائیں،جس کی لال انگارا ہوتی آنکھیں اُس کے ضبط کی گواہ تھیں۔۔۔ ’’یہ۔۔افگن بس بہت ہوگیا،باہر نکالو اس لڑکی کو۔‘‘نجانے اُن پر کونسا جنون سوار ہوا تھا کہ وہ ایک لمحے میں اُس کی جانب بڑھی تھیں اورحیات کا ہاتھ تھام کر باہر کی جانب دھکا دیا تھا۔۔۔ ’’کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔یہ کس آنداز میں بات کر رہی ہیں آپ حیات سے۔‘‘ وہ لمحے میں اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھینچتا سخت لہجے میں بولا تھا۔ ’’کیا مطلب ہے تمہارا!کیا تمہیں نظر نہیں آرہا کہ اس لڑکی کی وجہ سے تمہیں یہ سب فیس کر نا پڑ رہا ہے۔ صرف اس لڑکی کی وجہ سے آج تمہاری محبت تم سے روٹھ کر چلی گئی ہے۔۔صرف اس لڑکی کی وجہ سے آج تمہیں یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے۔۔اور تم کہتے ہو کہ میں اس سیاہ نصیب لڑکی سے کس آنداز میں بات کر رہی ہوں۔‘‘ افگن کے پیچھے کھڑی حیات پُورے وجود سے لرز رہی تھی۔جبکہ وہ حیرت کی زیادتی سے گنگ اپنی ماں کی گوہر افشائیاں سُن رہا تھا۔۔ ’’موم!اس تمام قصےٰ میں حیات کا کوئی قصور نہیں ہے تو بہتر ہے کہ آپ اپنی سوچ کا قبلہ درست کرلیجئے۔‘‘ وہ وہاں موجود خواتین کی موجودگی کے با عث انتہائی دھیمے لہجے میں بولا تھا۔ ’’کیا مطلب ہے تمہارا!تم اب بھی اس فحاشا لڑکی کو اُجالا پر فوقیت دے رھے ہو،جس کا نہ گھر نہ خاندان،پتہ نہیں کہاں سے منہ اُٹھا کر چلی آئی ہے۔‘‘وہ بولیں نہیں تھیں بلکہ باآواز چنگھاڑی تھیں۔عابثہ تو اُس نفیس سی عورت کی اس قدر گھٹیا زبان سُن کرسکت میں چلی گئی تھی۔لوگوں کے کتنے چہرے تھے۔وہ سوچ کر رہ گئی۔۔۔ ’’موم بس بہت ہوگیا!آگر اب آپ نے حیات کے لئے ایک بھی غلط لفظ منہ سے نکالا تو میں برداشت نہیں کرونگا۔‘‘نا چاہتے ہوئے بھی اُس کا لہجا انتہائی سخت ہوگیا تھا۔آنکھوں سے خون ٹپک رہا تھا۔۔۔ ’’افگن دیکھو میرے بیٹے!تم اپنی ماں کی بات کو سمجھو! میں چاہتی ہوں کہ اب تم کسی اپنے اسٹیٹس کی لڑکی سے شادی کرو۔اُجالا کو دیکھ میں مطمئن ہوگئی تھی۔وہ ہماری بہو تھی اور اب تو وہ ہمیں ہمارا وارث دینے والی تھی۔مگر اس لڑکی کی وجہ سے ہم اس خوشی سے بھی محروم ہوگئے ۔‘‘وہ انتہائی سخت لہجے میں پھُنکاری تھیں۔۔۔ ’’میرے خیال سے آپ اپنی ان سہیلیوں کے سامنے میری بیوی اور میری عزت کا اچھا خاصہ جنازہ نکال چکی ہیں۔یقیناً اب آپ کا شوق ضرور پورا ہوگیا ہوگا۔۔لیکن آئندہ میں برداشت نہیں کرونگا۔میں پہلے بھی بتا چکا پھر کہ رہا ہوں یہ بیوی ہے میری ،عزت ہے میری،ایسا نہ ہو کہ اب میں آپ کے ماں ہونے کا لحاظ بھول جاؤں۔‘‘وہ سخت لہجے میں باور کراتا سہمی کھڑی حیات کا ہاتھ تھام کر اندرونی حصےٰ کی
Comments
Leave a Comment
Jia
Fri Oct 17 2025
Super epi but short boht h Novel boht zabardast h yh
