Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode No 41
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/10/2025
717 Views
Episode No 41
یہیں ٹھرو،میں دو منٹ میں آیا۔اور یہاں سے ہلنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ وہ جانتا تھا کہ اس طرح کے ڈھابہ ہوٹلزپر اس وقت اوباش قسم کے مرد بیٹھتے ہوتے ہیں۔اس لئے حیات کو دور ہی کھڑا کرتا خود مدد کے لئے اس طرف بڑھا۔جبکہ حیات کی نظریں شیر افگن کی پشت پر ہی مرکوز تھیں،جو ایک دو بار پلٹ کر اِس کی جانب دیکھتا اب کسی سے بات کر رہا تھا۔بال وہ پہلے ہی سمیٹ چکی تھی،شیر افگن کی جیکٹ میں مکمل طور پر خود کو کور کئے اب وہ بس جلد از جلد اپنے گھر جانا چاہتی تھی،افگن کی موجودگی ہونے کے باوجود،رات کی تاريكی میں ایک ڈر سا تھا جو دل میں بیٹھا ہوا تھا۔ ’’چلو انتظام ہوگیا ہے۔‘‘ وہ مخالف سمت میں بغور کسی ہیولے کو تلاش کر رہی تھی کہ افگن کی آواز پر چونکی۔ ’’ہمم!کیا گاڑی مل گئی۔‘‘ ’’نہیں!مگر یہ ہے ناں۔‘‘اس نے کی چین میں پڑی چابی ُاس کی نظروں کے عین سامنے لہرائی۔ساتھ ہی پاس کھڑی بائیک کی جانب اشارہ بھی کیا۔ ’’کیا بائیک!کیا آپ کو بائیک چلانی آتی ہے۔‘‘ حیات نے زرا تیز لہجے میں کہا تو افگن نے پیچھے موڑ کر دیکھتے اِسے گھورا۔ ’’آرام سے! انسان بن جاؤ۔‘‘ وہ جلدی سے سنبھلی۔ ’’’افگن ہم اِس پر کیسے جائیں گے۔‘‘وہ پریشان ہوئی تو افگن نے گھور کرُ اس کی جانب دیکھا تھا۔ ’’تم تو ایسے ریکٹ کر رہی ہو،جیسے پہلے کبھی بیٹھی ہی نہیں ہوگی بائیک پر۔‘‘وہ استہزائیہ آنداز میں بولتا خود بائیک کے ساتھ نزدیک آیا تھا۔اور تیزی سے بیٹھ بھی گیا تھا۔۔وہ اچھی خاصی خستہ حال بائیک تھی جو افگن اچھے خاصے معاوضے کے عوض نہ صرف کچھ دیر کے لئے لے چکا تھا بلکہ صبح ایک مخصوص مقام پر واپس کرنے کا وعدہ بھی کر چکا تھا۔ ’’آپ کو چلانی تو آتی ہے ناں۔‘‘‘وہ جو بائیک اسٹارٹ کرتا اس کے بیٹھے کا منتظر تھا،حیات کی باتوں پر زچ ہوا۔ ’’تم بیٹھ رہی ہو یا یہیں چھوڑ جاؤں تمہیں؟‘‘ وہ سیخ پا ہوا تھا۔ ’’اچھا بھئی بیٹھ رہی ہوں۔‘‘وہ اپنے کپڑے سمیٹتی فوٹرس پر پپیر رکھتی ایک بار پھر ٹھری تھی۔ ’’آپ مجھے کہیں گرائیں گے تو نہیں ناں؟‘‘کان کے قریب ہوئی سرگوشی پر افگن کا ضبط جواب دینے لگا۔ ’’اس سے پہلے میں تمہیں کہاں،کہاں گرا چکا ہوں،جو تمہیں اس قدر خدشے لاحق ہیں۔‘‘وہ ذرا سی گردن ترچھی کرتا گھور کر بولا۔ ’’ اچھا سوری!ایک بار میں اس شہریار کے بچے کے ساتھ بائیک پر بیٹھ گئی تھی ،اس نے مجھے گلی کے ُنکڑ پر ہی گرا دیا تھا۔میرے ہاتھ ،پاؤں سب چھل گئے تھے۔‘‘وہ روانی میں بولتی اب بائیک پر بیٹھ چکی تھی۔جبکہ دوسری جانب خاموشی سی چھا گئی تھی۔ ’’شوہر نامدار صاحب!اب ذرا اس کھچاڑا بائیک کو آگے بڑھا بھی لیں۔کیاآپ کا یہیں قیام کرنے کا اارادہ ہے۔‘‘وہ دھیرے سے اُس کا گال چھوتی شرارتی آنداز میں بولی،جس نے باقاعدہ آنداز میں پلٹ کر گھورا۔۔ ’’تم زیادہ ہی اُور نہیں ہورہی ہو آج کل؟‘‘وہ ذرا مشکوک ہوا،جو اُس کی کمر کے گرد ہاتھ لپیٹتی مضبوطی سے تھام کر بیٹھ گئی تھی۔ ’’تم انسان نہیں بنو گی حیات۔‘‘اُس نے بائیک کو ایکسلیٹر دیتے مصنوعی سخت لہجے میں کہا۔ ’’ارے اب کیا کردیا میں نے۔‘‘وہ ذرا اُچک کر کندھے پر تھوڑی ٹیکاتی معصوم بنی۔ ’’جتنی مضبوطی سے تم مجھے پکڑ کر بیٹھتی ہو عنقریب میرے پیٹ کی تمام آنتیں کہیں باہر گری ہوئی ملیں گی۔‘‘ وہ منہ بناکر گرفت نرم کر گئی۔۔ ’’ ہونہہ!انتہائی ڈرپوک انسان ہیں آپ۔‘‘ وہ چھیڑنے کی غرض سے بولی۔جبکہ وہ اچانک سے بائیک کو سڑک پر فل ریس دے چکا تھا۔جو ایک لمحے میں ہوا کی رفتار سے باتیں کرنے لگی تھی۔۔حیات نے بامشکل خود کو سنبھالا تھا۔ ’’افگن پلیز بائیک آہستہ چلائیں۔۔کیا ہوگیا ہے آپ کو۔‘‘وہ پر شدت آنداز میں چیخی تھی۔جبکہ افگن اب قہقہے پر قہقہے لگا رہا تھا۔۔زندگی حسین تھی۔۔زندگی مسکرا رہی تھی۔۔ہر سو محض خوشیاں ہی خوشیاں رقصاں تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آپ صبح دیکھئے گا میں بابا سے آپ کی شکایت کرونگی۔‘‘وہ اِس کا ہاتھ تھامے گھر میں داخل ہوا تو حیات نے باقاعدہ ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ ’’کیوں بھئی!اب مجھ معصوم نے کیا کردیا۔‘‘ وہ اُس کے وجود پر جھولتا جیکٹ درست کرتا مسکراہٹ ضبط کئے بولا۔ ’’کیا کیا!اِس قدر اسپیڈ میں بائیک چلائی نہیں۔بلکہ اُڑائی ہے آپ نے۔۔مجھے تو لگ رہا تھا کہ آج کی تاریخ میں تو ،میں شاید ہی زندہ سلامت گھر پہنچ سکوں۔‘‘وہ منہ بسور گئی۔اُسے یکدم ہی اُس پر پیار آیا تھا۔ ’’یہ تم آج کل اتنی کیوٹ ،کیوٹ سی کیوں لگ رہی ہو مجھے۔‘‘وہ اُس کے دونوں گال انگھوٹے اور انگلیوں کی درمیان چٹکی بھر کر گرفت میں لیتا کسی شرارتی بچے کے گال کھینچنے کے سے آنداز میں پیار کرتا لاڈ بھرے لہجے میں بولا۔۔جو اِس قدر پر شدت آنداز میں کی گئی کاروائی پر سٹپٹا سی گئی تھی۔ ’’ افف اللہ!کیا ہوگیا ہے افگن آپ کو۔۔آپ تو بالکل ہی بچوں جیسی حرکتیں کر رہے ہیں۔‘‘ وہ گھر میں سب کی موجودگی کے باعث جھینپ گئی تھی۔اس وقت وہاں کوئی زی روح موجود نہیں تھی۔مگر پھر بھی وہ گھور کر بولی۔ ’’اچھا!اور یہ جو تم جب سے مجھے اپنی ادائیں دکھا کر بہکانا چاہ رہی ہو اُس کا کیا؟‘‘ وہ اُس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود سے قریب کرتا آئی برو اُُچکا کر گویا ہوا،ساتھ ہی چہرے پر جھولتی لٹ کو کان کے پیچھے لگایا تھا۔ ’’جی نہیں!افگن صاحب مجھ معصوم نے تو کچھ بھی نہیں کیا ہے۔یہ سارا قصور آپ کے ٹھرکی دل کا ہے۔جو ہر وقت ٹھرک پر آمادہ رہتا ہے۔‘‘وہ آنکھ کا کونا دبا کر مزید شرارت پر آمادہ تھی۔جبھی وہ اس کی شرآرت پر گھورتا،ایک جھٹکے سے اُسے گود میں اُٹھا چکا تھا۔ ’’اب تم مجھ سے بچ کر دکھاؤزرا۔۔ٹھرکی کس کو کہتے ہیں۔۔یہ میں ابھی بتاتا ہوں تمہیں ۔‘‘ وہ اُس کی آنکھوں میں ناچتی شرارت دیکھ معنی خیز لہجے میں بولا۔جو اِس تمام عرصے میں پہلی بار جھینپ کر اپنا چہرہ اُس کے سینے میں ہی چھپا گئی تھی۔ ’’افگن ایک سیکنڈ!جلدی سے نیچے اُتاریں مجھے۔‘‘وہ ابھی آدھے زینے پر ہی پہنچے تھے کہ وہ تیزی سے بولی۔ ’’کیوں؟کیا ہوا؟‘‘وہ ناسمجھی سے بولا۔ ’’’میں اپنا موبائل آپ کی گاڑی میں ہی بھول آئی ہوں۔‘‘وہ یاد آنے پر ماتھا پیٹ گئی۔ ’’اوہ!چلو خیر ہے۔صبح گاڑی آجائے گی تو موبائل بھی آجائے گا۔تم ایسا کرو روم میں جاؤ۔میں کسی کو بھیجتا ہوں گاڑی لینے۔‘‘وہ اُسے زمین پر کھڑا کرتا خود اُلٹے قدموں سرونٹس کواٹرز کی جانب بڑھا تھا۔جبکہ وہ جو ساڑھی کا پلو سنبھالتی اپنے روم کی جانب قدم اُٹھا رہی تھی،کہ کسی احساس کے تحت اُجالا کے روم کی جانب بڑھی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’اُجالا!اُس کے روم کی لائٹ روشن تھی۔مطلب وہ جاگ رہی تھی۔حیات نے ڈائریکٹ روم میں جانا مناسب نہیں سمجھا تھا۔ ’’کیا میں روم میں آجاؤں۔‘‘ اس نے ایک بار پھر پُکارا!مگر جواب ندار۔ ’’افف!لگ رہا ہے سو گئی ہیں۔‘‘وہ واپس پلٹنے ہی لگی تھی۔کہ سیڑھیوں سے جاتا افگن اُسے اُجالا کے روم کے باہر کھڑا دیکھ چونکا۔ ’’کیا ہو حیات!وہاں کیوں کھڑی ہو۔‘‘ ’’وہ میں اُجالا کو دیکھنے آئی تھی،مگر وہ کوئی جواب ہی نہیں دے رہی۔‘‘قدم اُٹھاتا افگن اب اِسی کی جانب آرہا تھا۔۔ ’’اوہ مائی گاڈ!اُس کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں۔‘‘زہن میں یکدم جھماکا ہوا تھا۔حیات کو بھی پریشانی سی ہوئی۔وہ بھی تیزی سے پلٹتی روم کا درازوہ دھکیلتی انٹر ہوئی تھی،سامنے کا منظر دیکھ اُس کی خوف کے مارے آواز بند ہوگئی تھی۔دو قدموں کے فاصلے
Comments
Leave a Comment
Hina Batool
Thu Oct 16 2025
Zaberdast ♥️♥️ Bhut bhut khubsurt ♥️♥️ Best couple afgan and hayat🫰🫰 Feeling sad for ujala😢
Hina Batool
Thu Oct 16 2025
Zaberdast ♥️♥️ Bhut bhut khubsurt ♥️♥️ Best couple afgan and hayat🫰🫰 Feeling sad for ujala😢
Mano Khan
Thu Oct 16 2025
Zabardast kamaal and amazing 😍😍😍 hamesha ki Tara
Mano Khan
Thu Oct 16 2025
Zabardast kamaal and amazing 😍😍😍 hamesha ki Tara
Mano Khan
Thu Oct 16 2025
Zabardast kamaal and amazing 😍😍😍 hamesha ki Tara
