Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode No 41
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/10/2025
717 Views
Episode No 41
دھوپ چھاؤں سا ہرجائی ازہماقریشی قسط نمبر ۴۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’افگن اب کیا ہوگا؟‘‘وہ جو بامشکل کار کو سنبھال پایا تھا۔۔حیات کی خوفزدہ آواز پر چونکا جو ٹھنڈی برف ہوتی گاڑی ،میں پسینے سے شرابور اس کا بازؤں دبوچ چکی تھی۔ ’’ریلیکس حیات کچھ نہیں ہوا۔۔میں ہوں نا یہاں پر۔پھر ڈر کس بات کا ہے۔‘‘افگن نے محبت سے اُس کے بال سہلا کر نرمی سے اُس کا گال تھپتھپایا ۔جو پریشان سی گھپ آندھیرے میں اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔۔دور دور تک اندھیرا چھایا ہوا تھا نہ آدم تھا نہ آدم کی ذات۔ ’’یہ کون لوگ تھے افگن ۔۔اور ہم پر کیوں حملہ کیا؟‘‘شیر افگن جو موبائل پر کسی کا نمبر ڈائل کر رہا تھا مصروف سا بولا۔ ’’یہ اُسی شخص کے بندے تھے،جس شخص نے تین سال تمہیں میرے نام سے ٹریپ کیا تھا۔اور ہمارے پیچھے اِسی لئے آئے ہیں کیونکہ میں نے اُن کے خلاف عدالت میں کیس فائل کیا ہے۔‘‘ وہ ارتضیٰ کا نمبر ڈائل کرتا خشک لہجے میں بولا۔جس کے چہرے کی رنگت پل میں متغیر ہوئی تھی۔ ’’افف !اَب یہ منحوس آدمی کال کیوں نہیں پِک کر رہا۔‘‘وہ ارتضٰی کے نمبر پر مسلسل بیل ہونے پر تلملایا۔ ’’افگن ہم پیدل چلتے ہیں ناں۔آخر کب تک یہاں پھنسے رہیں گے۔‘‘حیات کو رات کی سیاہ تاریکی دیکھ ویسے ہی خوف آرہا تھا۔ ’’کیا بچوں جیسی بات کر رہی ہو یار ۔ میں اکیلا ہوتا تو اب تک یہاں سے جا بھی چکا ہوتا۔صرف تمہاری وجہ سے یہاں بیٹھنا پڑ رہا ہے۔اور تم کہ رہی ہو کہ میں رات کے اس پہر تمہیں پیدل لے جاؤں۔۔‘‘ وہ ذرا ناراضگی سے بولا تو فی الحال حیات نے اُس کا بگڑا موڈ دیکھ خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی تھی۔چند لمحے خاموشی سے سرک گئے تھے۔ ’’افف!مجھے نہیں لگتا کہ آج کی تاریخ میں کوئی بھی ہماری کال پِک کرے گا۔‘‘ وہ ارتضیٰ اور پھر اُس کے بعد گھر کے مختلف نمبرز پر کال ملاتا تھکے ہارے لہجے میں بولا تھا۔۔اِس وقت اُسے سب سے زیادہ ٹینشن حیات کی تھی۔۔ ’’تم ایک کام کرو۔ جلدی سے یہ جیکٹ پہنو۔۔اور فی الحال ہمیں مین روڈ تک پیدل ہی جانا ہوگا یار،جبھی کوئی مدد مل سکتی ہے۔‘‘وہ ساری رات تو اس کچے کے علاقے میں نہیں گزار سکتے تھے۔ویسے ہی شہر میں بڑھتی لوٹ مار کے سبب کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ ’’مگر اس کی کیا ضرورت ہے۔‘‘شیر افگن نے ایک نظر اِسے دیکھا اور پھر ایک جھٹکے سےحیات کو اپنی جانب کھینچا تھا۔وہ جو پہلے ہی اس کے قریب ہوئی بیٹھی تھی۔۔سیدھی اُس کے سینے سے جا لگی تھی۔ ’’کیا ہوگیا ہےآپ کو ۔ بھلا اس وقت کونسی مذاق سوجھ رہی ہے۔‘‘اچانک افتاد پر خود کو بامشکل سنبھالتی حیات نے گھُور کر دیکھا جس کی گرفت سخت تھئ۔چہرہ افگن کے چہرے سے خاصہ نزدیک تھا۔نیلی آنکھوں کی چمک واضح تھی۔ ’’ضرورت کا تو میں تمہیں بعد میں بتاؤنگا۔فی الحال اپنا یہ سولہ سنگھار ذرا کم کرو۔دُلہن سے زیادہ تم دلہن لگ رہی تھیں آج۔ ‘‘اِس قدر سیریس سچویشن میں بھی شیر افگن کو اِسے چھیڑنے میں لطف آیا تھا۔ ’’وری فنی!‘‘وہ ایک جھٹکے سے اُسے پیچھے دکھیلتی اب ایک ایک کر کے ساری جیولری اُتار رہی تھی۔ جو اُس نے ویسے ہی اُسے اچھا لگنے کی خاطر پہن لی تھی۔اور یہ آدمی فضول میں اس پر طنز کر رہا تھا۔ ’’فضول انسان!‘‘واضح بڑبڑاہٹ پر شیر افگن کے کان کھڑے ہوگئے تھے۔ ’’کیا کہ رہی ہو،میں فضول انسان ہوں۔‘‘آنکھوں میں بے پناہ شرارت سموئے اُس کا چہرہ جبڑے سے پکڑ کر رُخ اپنی جانب پھیرتا وہ خشگمیں نظروں سے گھُور کر بولا۔ ’’جی بالکل!انتہا کے فضول اور بد ذوق انسان ہیں آپ۔‘‘وہ منہ بسور گئی۔جبکہ وہ لمحے کی سی تیزی سے ایک چھوٹی سے شرارت کرتا اِسے سیخ پا کرگیا۔ ’’اب میں یہ نمونہ جیولری کبھی زندگی میں نہیں پہنوگی،بولیں گے،منتیں کریں گے جب بھی نہیں۔‘‘ وہ بھی سختی سے بولی۔ ’’ہونہہ!اتنی تم کوئی حور پری ! کہ میں منتیں ترلے کروں۔‘‘وہ چڑانے سے باز نہ آیا۔ ’’خیر یہ جیکٹ پہن لو! پتہ چلے رات میں کوئی لفٹ ہی نہ دے یہ سمجھ کر کہ کہیں اِس قدر ہینڈسم سے لڑکے کو رات کے اس پہر کوئی بھوتنی تو نہیں چمٹ گئی۔پتہ چلے اور مصیبت۔‘‘حیات نے ناراض نظروں سے گھورتے ایک جھٹکے سے جیکٹ جھپٹنے کے آنداز میں لے کر پہنا تھا۔جبکہ اب وہ سنجیدہ سا ہاتھ میں پسٹل لے کر پہلے خود کار سے اُترا تھا،اور پھر گھوم کر حیات کو اُتارا تھا۔ ’’چلو!‘‘اچھے سے گاڑی لاک کرنے کے بعد اِس کا ہاتھ تھامتا وہ قدم آگئے بڑھا گیا۔ ’’آرام سے افگن !آپ کی اِس ہوا کے گھوڑے والی اسپیڈ سے میں گر جاؤنگی۔‘‘وہ جو پینسل ہیل میں بامشکل کچے پر پیر جما کر چل رہی تھی افگن کی تیز رفتار پر چیخ اُٹھی۔ ’’افف !میرے خدا۔۔حیات صاحبہ اِس اسپیڈ کے ساتھ گھر تو نہیں البتہ ہم جنت میں ضرور پہنچ جائیں گے آگر پیچھے سے کوئی پروفیشنل ڈکیٹ صاحب آگئے تو۔کیونکہ اس ملک میں ایک واحد یہی صاحب ہیں،جو اپنی ڈیوٹی پوری ایمانداری سے نبھا رہے ہیں۔‘‘وہ طنزیہ لہجے میں بولا تو اُس کی تیوری چڑھ گئی تھی۔ ’’ہاں تو مجھے کیا معلوم تھا کہ رات کے اس پہر، پینسل ہیل پہن کر کیٹ واک بھی کرنی پڑے گی مجھے۔‘‘ وہ اَپنے وجود کو سارا وزن اِس پر ڈالنے کے باوجود بار بار لڑکھڑا رہی تھی۔ ’’بندے کو شادی کرنی ہی نہیں چایئے۔روز ایک نیا تماشہ۔‘‘وہ جھلبلا کر بولتا،اُسے کچھ بھی کہنے یا سمجھنے کا موقع دئے بغیر،ایک جھٹکے سے گود میں اُٹھا چکا تھا۔جو پہلے پہل تو چونکی اور پھر معنی خیزی سے مسکراتی لاڈ سے اپنی بانہیں افگن کے گلے میں ڈال چکی تھی۔ ’’ اب ٹھیک ہے۔ویسے بھی میں تھک گئی تھی۔‘‘اپنا چہرہ افگن کے چہرے کے قریب کئے وہ چڑانے کی غرض سے بولی۔ ’’ہاں کے ٹو سر کیا ہے ناں تم نے۔‘‘وہ اُس کی آنکھوں میں ناچتی شرارت دیکھ خفا ہوا۔ ’’ویسے آپ کیا گھر تک مجھے گود میں لے کر جانا کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔‘‘کچھ راستہ خاموشی سے گزرا تو ایک بار پھر اُس کی زبان میں کھجلی ہوئی تھی۔ ’’شٹ اپ حیات!اب آگر تم نے کچھ کہا تو تمہیں یہیں پھینک کر چلا جاؤنگا ۔‘‘ اُس کا سانس پھول گیا تھا۔ٹینشن الگ تھی جبکہ حیات صاحبہ کی شوخیاں ہی نہیں ختم ہورہی تھیں۔ ’’ اچھا بس بس روئیں تو مت!بس اب اُتار دیں۔۔میں خود چل لونگی،ویسے بھی اب پکی سڑک آگئی ہے۔‘‘وہ اُس کےماتھے پر چمکتا پسنیہ اپنی ساڑی کے پلو سے پونچھتی احسان کرنے والے لہجے میں بولی تھی۔ ’’بڑی جلدی خیال نہیں آگیا۔‘‘ وہ دو چار بڑے بڑے قدم لیتا سنسان پڑی سڑک کے دوسرے کنارے تک آیا تھا۔اور ساتھ ہی حیات کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا تھا۔ ’’چلیں شکر کریں خیال آ توگیا۔وہاں اسٹریٹ لائٹ جل رہی ہے،شاید وہاں سے ہمیں کوئی مدد مل جائے۔‘‘ حیات آنکھیں چندھیا کر دور تک دیکھتی مزے سے بولی۔جو ایک بار پھر ارتضیٰ کا نمبر ڈائل کرنے لگا تھا مگر پھر کچھ سوچ کر ارادہ ملتوی کر گیا۔ ’’ چلو اب! اور ذرا دھیان سے۔‘‘وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے قدم اُٹھانے لگا حیات کو بھی چار و نچار قدم ملانے پڑے تھے۔ ’’شکر ہے کوئی انسان تو نظر آیا۔‘‘ دور ایک چائے کا ہوٹل تھا جہاں اچھے خاصے لوگ نظر آرہے تھے۔ ’’ہمم! افگن قدم روک چکا تھا۔ ’’ اب کیا ہوا؟‘‘وہ اسے ساکت کھڑا دیکھ ناسمجھی سے بولی۔ ’’تم
Comments
Leave a Comment
Hina Batool
Thu Oct 16 2025
Zaberdast ♥️♥️ Bhut bhut khubsurt ♥️♥️ Best couple afgan and hayat🫰🫰 Feeling sad for ujala😢
Hina Batool
Thu Oct 16 2025
Zaberdast ♥️♥️ Bhut bhut khubsurt ♥️♥️ Best couple afgan and hayat🫰🫰 Feeling sad for ujala😢
Mano Khan
Thu Oct 16 2025
Zabardast kamaal and amazing 😍😍😍 hamesha ki Tara
Mano Khan
Thu Oct 16 2025
Zabardast kamaal and amazing 😍😍😍 hamesha ki Tara
Mano Khan
Thu Oct 16 2025
Zabardast kamaal and amazing 😍😍😍 hamesha ki Tara
