Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 38
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 12/10/2025
5 Views
Episode no 38
عابثہ کے نزدیک آیا تھا۔۔ ’’خوش ہو گڑیا!‘‘وہ لہجے میں ہمیشہ والی اپنائیت لئے نرمی سے بولا تھا،جبھی وہ آگے بڑھتی سیدھی اُس کے سینے سے جا لگی تھی۔ ’’میں نے بہت یاد کیا تھااُس دن آپ کو۔‘‘ وہ یکدم ہی ہچکیوں سے رونے لگی تھی۔۔افگن نے ہولے سے اُس کا سر تھپتھپایا تھا۔ ’’فکر نہیں کرو،اُس ذلیل انسان کو میں جہنم رسید کر چکا ہوں۔۔اور اب تم میری نہیں بلکہ ارتضیٰ کی زمہ داری ہو۔‘‘وہ محبت سے بولا تھا۔ ’’کیا ہوجائے گا!آگر آپ دنیا کے سامنے میرے اور اپنے رشتے کو ایک نام دے دیں گے۔‘‘وہ لہجے میں شکوہ سموئے نظریں اُٹھاتی خفگی سے اُسے گھورنے لگی تھی۔ ’’ارتضیٰ عباس کی بیوی ہو اب تم۔ میرے سب سے جگری یار کی بیوی ہونے کی حثیت سے میرے لئے بہت زیادہ خاص ہو۔۔اور کیا چاہئے تمہیں ۔‘‘شیر افگن جس حقیقت سے ہمیشہ نظر بچاتا آیا تھا۔۔وہ یوں دنیا کے سامنے اقرار مانگ رہی تھی۔۔ ’’نہیں !میں آپ کے اور میرے رشتے کی بات کر رہی ہوں۔‘‘ وہ ذرا فاصلے پر ہوتی ناراض لہجے میں گویا ہوئی تھی۔ ’’چندہ تم میری سب سے پیاری گڑیا،میری کرائم پارٹنر،بہت اچھی بیٹی ،بہن ہو ناں اور تمہارا بھائی اس سے زیادہ تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘ وہ محبت سے اس کے گال خشک کرتا،محبت سے بولا تھا۔ جیسے کبھی بچپن میں روٹھی ہوئی عابثہ کے کیا کرتا تھا۔ ’’فردوس منزل میں آٹھ سال اس حقیقت کے ساتھ گزارنا کہ اس دنیا میں میرا بھی کوئی قریبی رشتہ ہے یہ آسان نہیں تھا میرے لئے۔مگر پھر بھی میں ہمیشہ خاموش رہی۔۔سب کی زیادتیاں برداشت کیں۔۔کیا آپ کو کبھی مجھ پر ترس نہیں آیا۔‘‘ وہ استہزائیہ آنداز میں مسکائی تھی۔ ’’ میرا بچہ اس دنیا میں سب سے محفوظ چھت تمہاری نانی کا گھر تھا۔میرا تمہارا کوئی رشتہ نہیں ہے۔‘‘وہ یکدم تلخ ہوا تھا۔۔عابثہ کے دِل پر چھریاں چل گئیں تھیں۔ ’’جانتے بھی ہیں اُس رات ،اُس محفوظ چھت میں میرے ساتھ کیا ہونے والا تھا۔‘‘ وہ درد ناک لمحات یاد کر چٹخ کر بولی تھی۔ ’’میں اُس عابثہ کو جانتا ہوں،جو ہمیشہ ہر مشکل کا ڈٹ کر سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے،خو ترسی کا شکار تو تم کبھی نہیں رہیں۔میری کرائم پاٹنر اتنی کمزور ہر گز نہیں ہے۔اور اب یہ رونا دھونا مت ڈالو۔۔ بالکل افریقن بھوتنی لگ رہی ہو۔اور ذرا فاصلے پر ہوجاؤ، آگر میری پوزیسو بیوی نے تمہیں دیکھ لیا نہ تو ابھی تمہارے ساتھ جتنی گھی شکر ہے ،کاٹ کھانے کو ڈوڑ پڑے گی۔‘‘ وہ جس آنداز میں بولا تھا عابثہ روتے روتے مسکرا اُٹھی تھی۔۔جبکہ افگن اب اُسے نجانے کیا کیا سمجھانے میں مصروف ہوگیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’وہ حیات بات سنئے گا۔‘‘ حیات جو داددوسے ملاقات کرنے کےے بعد لان کی جانب جارہی تھی۔روم سے باہر آتے ارتضیٰ کو دیکھ ٹھر گئی۔ ’’جی بھائی!‘‘وہ ٹھری۔ ’’ایکچوئلی مجھے آپ سے سوری کرنا تھا۔‘‘وہ شرمندگی سے کان کھجاتا خفت سے بولا تھا ’’سوری مگر کیوں؟‘‘وہ حیران ہوئی۔یہ کھڑوس انسان اور سوری۔۔ ’’دراصل ولیمے والی رات کو سڑک پر میں نے غصےٰ اور جذبات میں آپ کو بہت باتیں سُنادی تھیں،میں اُس کے لئے بہت شرمندہ ہوں۔مجھے کوئی حق نہیں تھا آپ سے بدتمیزی کرنے کا۔‘‘ وہ واقعی اُس روز سے شرمندہ تھا۔۔اور حیات سے آج اُس کا سامنا ہوا تھا۔ ’’ کوئی بات نہیں!آپ کو احساس ہے میرے لئے یہی کافی ہے۔۔بلکہ میں تو آپ کی مشکور ہوں کہ ،آپ نے میری آنکھیں کھول دی تھیں ورنہ افگن تو نجانے کب تک مجھے آندھیرے میں رکھتے۔‘‘ وہ زرا شکستگی سے بولی تھی۔ ’’ٹینشن نہ لیں،وہ سب سیٹ کر دے گا۔اور اُجالا کی طرف سے بالکل بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔‘‘وہ مزید کچھ بولتا کہ حیات بیچ میں بول اُٹھی۔ ’’فکر نہیں کریں۔۔میں ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ مزید کچھ کہے بغیر ہی قدم لان کی جانب بڑھا چکی تھی ۔مطلب حیات کو اُس روز کے لفظ واقعی گراں گزرے تھے۔شاید وہ زندگی میں پہلی بار کسی صنف نازک سے اس آنداز میں مخاطب ہوا تھا۔۔۔وہ سر جھٹک گیا۔۔کچھ تلخیوں کا اثر محض ایک معذرتی لفظ سے نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ہی ختم ہوتا ہے۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’چلیں افگن!‘‘وہ دوپٹہ سنبھالتی اُن دونوں کے قریب آئی تھی۔ ’’ہاں جی بیگم بالکل چلیں!کیونکہ آج ہم کافی لیٹ ہوگئے ہیں۔۔نیو کپل بھی کہ رہا ہوگا کہ، انگلی پکڑائی تھی یہ تو گلے ہی پڑ گئے۔‘‘افگن قریب آتے ارتضیٰ کو دیکھ شرارتی لہجے میں بولا تو وہ تاسف سے نفی میں سر ہلا کر رہ گیا۔۔جس کی شاید ہی کوئی کل سیدھی تھی۔ ’’بالکل ڈنر پر مدعو کیا تھا،اور اب تک آپ کی یہاں موجودگی دیکھ لگ رہا ہے ناشتہ بھی یہیں کرنے کا پروگرام ترتیب دئے بیٹھے ہیں آپ۔‘‘وہ کہاں باز آنے والا تھا۔ ’’افف!اللہ آپ دونوں تو لڑے ہی جارہے ہیں۔افگن اب چلیں۔دیکھیں عابثہ بھی تھک گئیں ہیں۔‘‘بلآخر اُسے ہی بیچ میں کودنا پڑا تھا۔۔ ’’ہمم!چل پھر ہم لوگ نکلتے ہیں۔‘‘ وہ عابثہ کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ دیکھ بولا۔ ’’عابثہ اب تم ہمارے گھر آنا۔‘‘وہ اُس سے گلے ملتی محبت سے بولی تھی۔جبکہ اُس نے محض مسکرانے پر اکتفا کیا تھا۔۔۔اور یونہی ایک شام اپنے اختتام کو پہنچی تھی۔ اُن دونوں کا رُخ اب گھر کی جانب تھا۔۔اس بات سے انجان کہ وہاں بھی ایک قیامت اُن کی منتظر تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔ 👇
