Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 33
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 10/10/2025
5 Views
Episode no 33
کو دیکھ تیزی سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔ ’’کیا بکواس کر رہے ہیں آپ لوگ!آج میری شادی ہے ۔۔اور جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے آپ کو ہر گز بھی اپنی شادی میں مدعو نہیں کیا ہے۔‘‘وہ دانت کچکچا کر بولا تھا۔ ’’جناب ہم آپ کو مختلف اوقات میں بیشتر لڑکیوں کو ہراساں کرنے اور ریپ میں ملوث ہونے کے جرم میں گرفتار کرتے ہیں۔۔‘‘ایس ایچ او کے لفظوں پر جہاں احمر کی سٹی گم ہوئی تھی وہیں فردوس منزل کے مکینوں پر گویا بجلی گر گئی تھی۔ ’’یہ۔۔۔یہ کیا بکواس ہے۔۔۔آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔کیا ثبوت ہے آپ کے پاس۔‘‘‘ وہ بوکھلا کر رہ گیا۔ ’’جناب ہمارے پاس آپ کی گرفتاری کی وارنٹس موجود ہیں۔اور کب ،کیا، کیسے یہ ہم آپ کو پولیس اسٹیشن میں بتائیں گے۔ چلو گرفتار کرو دلہے میاں کو۔‘‘ ایس ایچ او معنی خیزی سے بولتا احمر کے ہاتھ میں ہینڈ کفس پہنا چکا تھا۔ ’’یہ ۔۔یہ کیا کر رہے ہیں ایس ایچ او صاحب آپ۔۔میرے بیٹے کو کہاں لے کر جارہے ہیں۔‘‘احمر کے والد صاحب گڑبڑا کر آگئے آئے تھے۔ ’’مسٹر ایک لڑکی کے ریپ کا الزام ہے آپ کے بیٹے پر۔‘‘احمر کی ماں نے بے یقینی سے اپنی بیٹے کی جانب دیکھا تھا۔ ’’نہیں ماما یہ جھوٹ ہے۔۔یہ سب جھوٹ ہے مینا۔۔۔یہ سازش کی جا رہی ہے میرے خلاف۔‘‘وہ شدت سے چنگھاڑا تھا۔۔ ’’چلو بھئی!پولیس اسٹیشن چل کر بتاتے ہیں تمہیں۔۔کونسی سازش ہے تمہارے خلاف۔‘‘ وہ اسے زبردستی گھسییٹ کر لے گئے تھے۔۔۔وہاں بارات میں آئے موجود لوگوں میں اب حیرت ختم ہوگئی تھی۔اور چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں تھیں۔ہر کوئی توبہ توبہ کر رہا تھا،تو کوئی مینا کی قسمت پر افسوس کر رہا تھا۔تو کوئی مینا کو ہی منحوس کہ رہا تھا۔ ’’صفدر صاحب یہ کیا ہورہا ہے۔۔یہ کیا کرتا پھر رہا ہے آپ کا بیٹا!ارے ہماری بچی کی زندگی برباد کردی۔۔یا میرے اللہ۔‘‘سب سے پہلے ہوش فردوس بیگم کو آیا تھا۔۔جبکہ مینا تو حیرت سے گنگ خاموش ہی رہ گئی تھی۔ہالہ ساتھ بیٹھی اِسے دلاسہ دے رہی تھی۔ ’’دادی بیگم آپ حوصلہ کریں۔۔یہ میرے بیٹے کے خلاف سازش ہے۔۔میں ۔۔میں ابھی پتہ لگواتا ہوں۔‘‘وہ اپنی بیگم کی ہمراہی میں محفل سے نکل گئے تھے۔۔جبکہ ان کی پیروی میں آہستہ آہستہ باراتی بھی وہاں سے جانے لگےتھے۔کیونکہ سب جانتے تھے کہ رخصتی تو اب گئی تیل لینے۔۔فردوس منزل کے مرد تو ابھی تک سکتِ میں تھے۔ جبکہ خواتین مینا کے پاس بیٹھی دلاسہ دے رہی تھیں۔ جو حیرت اور بے یقینی سے گنگ آنسو بہاتی ، ہمت ہار رہی تھی۔بھلا بھری محفل میں رخصتی سے چند لمحات قبل کسی لڑکی کا دلہا بھری محفل سے پولیس اُُٹھا کر لے جائے تو اس دلہن پر کیسی قیامت ٹوٹ پڑتی ہوگی ۔۔یہ کوئی مینا عدیل سے پوچھتا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یار مووی کچھ زیادہ خاص نہیں تھی ۔۔نہیں۔۔‘‘ گول ٹیبل کے گرد بیٹھے افگن اور ارتضیٰ نے زرا نخوت سے تبصرھ کیا تھا۔ ’’ہاں مجھے لگا تھا کہ ایکشن اور تھرل سے بھرپور موی ہے۔۔مگر یہ تو میلو ڈرامہ ثابت ہوئی ہے۔‘‘وہ فردوس منزل کے مکینوں کو بین کرتا دیکھ تمسخر لہجے میں بولا تھا۔ ’’ہمم!پاپ کارن کے پیسے بھی ویسٹ ہوگئے۔‘‘ایک مزید دُکھ۔۔ ’’ہاں !مگر جو بھی کہو اس میلو ڈرامے کے مین کریکٹر احمر صفدر کا چہرہ دیکھنے لائق تھا۔‘‘ ارتضیٰ شرارت سے بولا تو دونوں کا دبا دبا سا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ ’’چل میں ذرا دادو کو لے کر آتا ہوں۔۔وہ تو کچھ زیادہ ہی غم میں ڈوب گئیں ہیں۔‘‘وہ آنکھ کا کونا دبا گیا۔ ’’ہاں چل ذرا!میں بھی فردوس منزل کے مکینوں سے تعزیت کرلوں۔‘‘ ارتضیٰ دھیرے سے مسکراتا ہوا افگن کی ہمراہی میں فردوس بیگم کی جانب بڑھا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’عدیل یہ کیا ہوگیا!یہ کیا ہو گیا۔۔میری بچی۔۔۔آپ کچھ بولتے کیوں نہیں ہیں۔۔۔کیا ہوگا ،میری مینا کا۔۔۔‘‘عدیل صاحب کی بیگم کا ضبط جواب دے گیا تھا۔ ’’ممی یار چپ کر جائیں چاچو اور بھائی گئے تو ہیں ۔اُس کی ضمانت کروانے ۔آجائیے گا کردیجئے گا اپنی بیٹی کو رخصت۔‘‘شاہ میر نخوت سے پھنکارا تھا۔جبکہ وہ دیکھ کر رہ گئیں،کیا بھائی ایسے ہوتے ہیں۔ ’’شٹ اپ!بس چپ کر جائیں آپ لوگ۔۔۔میری ذات کا اس قدر تماشہ بن جانے کے باوجود ترس نہیں آرہا ہے مجھے پر۔۔ٹھنڈ نہیں پڑی آپ سب کے سینوں میں۔‘‘ مینا یکدم سب کو پیچھے دھکیلتی اُٹھ کھڑی ہوتی شدت سے دھاڑی تھی۔رونے کی وجہ سے آنکھیں سُرخ ہورہی تھیں۔ ’’بیٹا!مینا ۔۔میرا بچہ حوصلہ۔۔‘‘ عدیل صاحب نے ضبط سے اپنی بیٹی کو دیکھا تھا۔۔ جو آج دلہن بنی بے انتہا خوش لگ رہی تھی۔۔مگر اب رو رو کر اُس کی حالت خراب ہوگئی تھی۔۔ ’’نہیں۔۔نہیں بابا ۔۔مجھے عابثہ کی بد دعا لگ گئی ہے۔۔۔ہاں۔۔ مجھے ُاس یتیم کی بدُ عا لگی ہے بابا!بہت ۔۔بہت زیادتی کی ہے آپ لوگوں نے اور دادو نے اُُس کے ساتھ۔۔۔مجھے بد عا لگی ہے اس کی۔۔۔‘‘وہ ماتھا پیٹ پیٹ کر روتی ، بس ایک ہی بات دہرا رہی تھی۔جبکہ فردوس منزل کے مکینوں کو سانپ سونگھ گیا تھا۔۔شاید وہ سہی کہ رہی تھی۔۔جب تک عابثہ اسمعیل اس گھر کی چھت تلے رہ رہی تھی ۔اللہ کی جانب سے ان سب کی رسی دراز تھی۔۔مگر اس کے نکلتے ہی ایک ہی رات میں پریشانیوں نے ان کے دروازے پر دستک دے ڈالی تھی۔بے شک خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ نیک سلوک کیا جاتا ہو اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو(۔ابن ماجہ،سنن ابی دائود) اُن کی جانب آتے افگن اور ارتضیٰ کے قدموں کو مینا کے لفظوں نے زنجیر کر دیا تھا۔۔دونوں ہی کی آنکھوں میں تاسف،غصہٰ اور طیش اپنی چھاپ دکھانے لگا تھا۔ ’’دادو!چلیں یہاں سے!‘‘ وہ دونوں اُن کے قریب جاتے افسوس کرتیں زینت بیگم کو اُٹھاتےذاتی طور پر افسوس کرنے کا ارادہ ترک کرتے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔۔۔جو کل رات ہوئی واردات کو سرے سے بھلائے فردوس منزل کے مکینوں کا ُدکھ بانٹنے میں کوشاں تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا ایک بجنے کو آیا تھا عابثہ کی پریشانی سوا نیزے پر تھی۔نجانے کیوں مگر اس کا دل بہت گھبرا رہا تھا۔ارتضیٰ کا نمبر ڈائل کیا ۔مگر دوسری جانب سے پاور آف جا رہا تھا۔وہ بلا آرادہ ہی ٹی وی کھول کر بیٹھ گئی تھی۔وہ بے توجیہی سے اسکرین کو گھور رہی تھی۔جہاں کوئی نیوز چینل چل رہا تھا۔ ہیڈلائنز میں یکدم ایک خبر آئی تھی جس پر عابثہ کی تمام تر سماعتیں متوجہ ہوئیں تھیں۔وہ غیر یقینی کی سی کیفیت سے دوچار بس خاموش سی رہ گئی تھی۔ ’’خاور بھگٹی کے فرزند دائم بھگٹی کو منشیات اسمگل کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔۔ملزم کے خلاف قانونی کاروائی جاری ہے۔دوسری جانب۔۔۔۔‘‘ نیوز اینکر مزید خبریں پڑھنے لگا تھا۔۔جبکہ اُس آنکھوں سے آنسو کسی جھرنے کی مانند بہنے لگے تھے۔ شدید رنج کے باعث تھوڑی کپکپا اُٹھی تھی۔جسم پر کپکپی سی طاری ہوگئی تھی۔۔ایک ہی رات میں کتنا کچھ بدل گیا تھا۔۔۔بھلا کیا قسمت یوں بھی مہربان ہوتی ہے۔۔۔ وہ شوخ و چنچل اپنے ہر درد کو سینے میں دبا کر رکھنے والی عابثہ زارو قطار ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔عباس پیلس میں گونجتی سسکیاں اُس کے درد کی گواہ تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔
