Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 33
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 10/10/2025
5 Views
Episode no 33
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #ہما_قریشی #قسط_نمبر_33 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیرافگن تیزی سے ہاتھ چلاتا تیاری میں مگن تھا۔۔مگر ساری توجہ آئینے سے نظر آتے حیات کے عکس پر ہی مرکوز تھی۔۔جو بیڈ پر خاموش بیٹھی کسی غیر مرئی نکتے کو گُھور رہی تھی۔۔۔۔ نیوی بلیو ڈریس کوٹ میں ملبوس اوشن بلیو آئیز میں فکر ،محبّت ،پریشانی لئے وہ بس خاموش بیٹھی حیات کو ہی تک رہا تھا۔جو نجانے شام سے کن سُوچوں میں گمُ، تھی۔ ’’میں جارہاہوں حیات!رات کو واپسی میں دیر ہوجائے گی۔۔تم میرا انتظار نہیں کرنا۔۔اور کھانا لازمی کھا لینا۔۔اب میں مزید تمہاری کھانے سے ناراضگی برداشت نہیں کرونگا۔‘‘وہ سائیڈ ٹیبل سے اپنا والٹ اور کار کی چابیاں اُٹھاتااسے تنبیہ کرنا نہیں بھولا تھا۔۔کل تک وہ اس سے ناراض تھا اور آج فکر جتا رہا تھا۔۔حیات نے خالی خالی نگِاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔جو کچھ دیر کھڑا اُسے دیکھتا رہا تھا۔۔اور پھر آنکھیں میچ کر خود کو کمپوزڈ کرتا وہاں سے نکل آیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’دادو آپ لوگ کہیں جا رہے ہیں؟‘‘ عابثہ نے ارتضیٰ اور زینت بیگم کو تیار دیکھ تعجب سے پوچھا۔۔ ’’جی عابثہ!دراصل میرے ایک بہت خاص دوست کی آج شادی ہے۔بس وہیں جارہے ہیں۔آپ کو بھی ضرور ساتھ لے جاتے مگر وہاں آپ اجنبیت نہ محسوس کریں۔اس لئے یہ کام ولیمہ کے بعد کے لئے رکھیں۔‘‘ وہ گھمبیر لہجے میں بولتا عابثہ کے دل کی دنیا زِیر زَبر کر گیا تھا۔۔ ’’جی بیٹا!مجھے بھی یہی مناسب لگا تھا۔۔اور آپ کو ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔گھر میں ملازمائیں موجود ہیں۔اور ہم بس ابھی آجائیں گے۔‘‘زینت بیگم نرمی سے گویا ہوئیں تھیں۔ارتضٰی آنکھوں میں شوخی سموئے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔جو خومخوا نگاہیں ملانے سے کترا رہی تھی۔۔ ’’ایک منٹ دادو!‘‘کچھ یاد آنے پر وہ تیزی سے دو سیڑھیاں چھوڑ کر اُپری منزل کی جانب غائب ہوا تھا۔اور پھر کچھ لمحوں کی تاخیر کے بعد وہ ہاتھ میں کچھ لئے واپس آتا دکھائی دیا تھا۔ ’’یہ آپ کے لئے نیو موبائل ہے عابثہ!اور ڈرنے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔اس میں میرا اور دادو کا نمبر سیو ہے۔۔آگر کوئی بھی مسٔلہ ہو ، تو آپ ہمیں کال کر لیجئے گا ۔۔‘‘عابثہ نے ذرا جھجھک کے ساتھ موبائل تھام لیا تھا۔۔۔ اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ دونوں نفوس گاڑی میں بیٹھ کر بینکوئٹ کے لئے نکل گئے تھے۔۔ جہاں ایک نیا تماشہ اُن کا منتظر تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محفل کی رنگینیاں عروج پر تھیں۔آج فردوس منزل کی لاڈلی پوتی مینا کی احمر اصغر کی ہمراہی میں رخصتی تھی۔۔ہر سو خوشیاں رقص کر رہی تھیں۔بارات آئے ابھی کچھ ہی دیر ہی گزری تھی۔ہر طرف رنگ و بو کا سیلاب سا اُمڈ آیا تھا۔۔اسٹیج پر بیٹھے دلہا دلہن ہر ایک کی توجہ کا مرکز تھے۔ شیر افگن ہاتھ میں سافٹ ڈرنک تھامے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنسائے کھڑا مطمئن نظر آرہا تھا۔۔ چہرے پرمسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔۔۔ ارتضیٰ اور زینت بیگم ابھی کچھ دیر قبل ہی وہاں پہنچے تھے۔اپنے مخصوص آنداز میں کوٹ جھٹکتا ارتضیٰ بھی اُس کے عین مقابل آکر ٹھرا تھا۔ ’’کیا حال ہیں ؟سب اوکے ہے؟‘‘ وہ دونوں ساتھ ہی کھڑ ے تھے۔افگن کے چہرے پر رقص کرتی ایک بھرپور مسکراہٹ نے اپنی چھاپ دکھائی تھی۔ ’’ہاں !تم سناؤ۔دلہا میاں۔۔کیا حال ہیں؟‘‘وہ شرارتی لہجے میں بولا تو ارتضیٰ کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ ’’ابھی تو فی الحال جب تک معاملات سیٹل نہیں ہوجاتے۔تم نا چیز کو سنگل ہی سمجھو۔‘‘وہ مزے سے بولا تو افگن نے محض مسکرانے پر اکتفا کیا تھا۔ ’’اُجالا کیسی ہے؟ ‘‘اس بار وہ دونوں ہی سنجیدہ ہوگئے تھے۔ ’’شی از فائن !بٹ وہی ہوا جس کا ہمیں ڈر تھا۔‘‘ افگن کی آنکھوں میں خون اُتر آیا تھا۔ارتضیٰ نے ضبط سے آنکھیں میچ کر کھولی تھیں۔ ’’اور حیات بھابھی اُن کا کیا ریکشن تھا؟‘‘ اس بار افگن کے چہرے پر گہرے سائے لہرائے تھے۔ ’’کچھ نہیں۔۔صدمے میں ہے ابھی تو۔۔۔کل صبح سمجھاؤنگا اسے بھی۔‘‘ وہ دُکھ سے چور لہجے میں بولا تھا۔ ’’ہمم!جتنی جلدی ہو سکے معاملات کو سنبھال لے۔اس سے قبل کہ سب کچھ بکھر کر رہ جائے۔‘‘وہ سمجھانے والے لہجے میں بولا تو وہ سر ہلا گیا۔۔ ’’خیر چل ذرا نوشے میاں سے مل کر آتے ہیں۔‘‘وہ دونوں ساتھ ہی اسٹیج کی جانب بڑھے تھے۔جہاں شاید نکاح کی سنت ادا کی جانے کی تیار ی ہورہی تھی۔ ’’اوہ ہیلو بڈی!شادی کی بہت بہت مبارک ہو۔‘‘سب سے پہلے افگن گلے ملا تھا۔احمر اُس کی شدت پر چونکا۔ ’’ابے کیا پسلیاں توڑے گا میری۔اور میں بھابھی نہیں ہوں۔‘‘وہ اِس قدر سختی پر بلبلا اُٹھا تھا،جبھی ارتضیٰ نے اسے سائیڈ پر کر خود گلے لگایا تھا۔ ’’شادی کی بہت بہت مبارک ہو برو!فائنلی !اب تو بھی شادی شدہ ہونے جارہا ہے۔۔ایک صنف نازک کی زمہ داری کا بوجھ تیرے کندھوں پر آجائے گا۔‘‘ارتضیٰ کا لہجا عجیب سا تھا۔۔جیسے وہ نظر آنداز کرگیا۔ "میرے وليمے پر کیوں نہیں آئے تھے تم ؟"افگن نے چبھتے لہجے میں استفسار کیا تھا۔ "آئی ایم سوری یار !! مجھے ایمرجنسی میں دوسرے شہر جانا پڑا تھا۔"وہ استہزائیہ مسکراتا مینا کی جانب متوجہ ہوا۔۔ ’’ بہت مبارک ہو بھابھی آپ کو بھی۔۔بٹ سوری ہم آپ کے لئے کچھ نہیں کر سکے۔‘‘احمر نے ٹھٹھک کر ناسمجھی سے افگن کی جانب دیکھا۔ ’’کیا مطلب؟‘‘ ’’یار میرا مطلب تھا کہ ہم تیرے اور بھابھی کے لئے کوئی گفٹ نہیں لا سکے۔‘‘ارتضیٰ نے ہلکے پھلکے آنداز میں کہا تو احمر قہقہہ لگا اُٹھا۔جبکہ مینا کو ان دونوں شخص کا اسٹیج پر کھڑا ہونا زہر لگ رہا تھا۔۔ ’’چل کوئی بات نہیں۔‘‘وہ باتوں میں مصروف ہونے ہی لگے تھے کہ وہاں فائنلی مولوی صاحب نکاح کی کاروائی شروع کرنے لگے تو وہ دونوں پر سکون آنداز میں اسٹیج سے نیچے آتے ،دادو کی جانب بڑھے تھے جو اپنی ہم عمر خواتین کے ساتھ بیٹھیں باتوں میں مشغول تھیں۔۔ نکاح پائے تکمیل تک جا پہنچا تھا۔ارتضیٰ قدم قدم چلتا فردوس بیگم کے نزدیک گیا تھا جو محفل میں ارتضیٰ کی موجودگی دیکھ حواس باختہ سی رہ گئیں تھیں۔ ’’کیسی ہیں ساس صاحبہ!‘‘وہ مزے سے تفخر بھرے لہجے میں بولا تو فردوس بیگم نے گڑبڑا کر ِارد گرد میں دیکھا تھا۔ ’’تم لڑکے۔۔دیکھو ہماری پوتی کی رخصتی ہے آج۔۔اور ہم یہاں کوئی تماشہ نہیں چاہتے۔‘‘انہونے سخت لہجے میں باور کرایا۔ ’’جی تماشہ تو میں بھی نہیں کرنا چاہتا۔۔میں تو محض آپکی خیریت دریافت کرنے چلا آیا تھا۔۔۔خاصہ قابل لگتا ہے آپ کا داماد تو۔‘‘وہ طنز کرنا نہیں بھولا تھا۔ ’’’ خاموش ہوجاؤ۔ابھی تو ہنس ہنس کر اپنے دوست سے گلے مل رہے تھے اور اب بُرائی کر رہے ہو۔‘‘ وہ بھی فوری طور پر اپنی اصل میں آئی تھیں۔ ’’ہمم!گڈ شاٹ۔۔۔چلیں۔۔میں زرا اب باقاعدہ طور پر مووی انجوائے کرنے کے لئے ذرا اپنی پیٹ پوجا کا انتطام کرلوں۔‘‘وہ ذومعنی لہجے میں شرارت سے بولتا منظر سے غائب ہوگیا تھا۔فردوس بیگم سر جھٹک کر مہمانوں میں مصروف ہوگئی تھیں۔اب اسٹییج پر دلہا دلہن کے کلوز اپ چل رہے تھے۔ہر طرف سکون اورخوشیاں ہی خوشیاں رقص کر رہی تھیں۔مگر ارتضیٰ اور افگن کے دل میں انگارے دھک رہے تھے۔ ارتضیٰ بظاہر سوفٹ ڈرنک پی رہا تھا جبکہ نظریں انٹرنس پر جمعی ہوئیں تھیں۔افگن بھی ذرا فاصلے پر موجود تھا۔۔اور انٹرنس سے داخل ہوتے نفوس کو دیکھ دونوں کے چہروں پر ایک محظوظ ُکن مسکراہٹ کھل گئی تھا ’’ مسٹر احمر!یو آر آنڈر آریسٹ!‘‘ہال میں پولیس کی بھاری نفری دیکھ گویا سب کو سانپ سونگھ گیا تھا۔۔اور اسٹیج پر کروفر سے براجمان احمر پر تو مانو ساتوں آسمان ٹوٹ پڑے تھے۔ ’’وہاٹ ربش!‘‘وہ ایک نظر حیران و پریشان مینا
