Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 31
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 09/10/2025
5 Views
Episode no 31
کی سپورٹ ملی تھی۔۔مگر نجانے کیوں آج اپنا آپ مزید غیر محفوظ کیوں محسوس ہو رہا تھا۔۔وہ فی الحال ان احساسات کو سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فجر ہونے میں بس کچھ ہی دیر باقی تھی۔افگن کی گاڑی کے ٹائروں کی چرچراہٹ کی آواز پر اپنی سوچوں میں گم ُکھڑکی میں کھڑی حیات تیزی سے پیچھے ہوتی اپنے آنسو خشک کرتی بیڈ پر چت لیٹ گئی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ روم میں داخل ہوا تھا تو پورا کمرہ نیم اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔اور حیات بیڈ پر موجود تھی۔مطلب اُس کے جانے کے بعد وہ واپس روم میں آگئی تھی۔سر جھٹکتا وہ اپنا موبائل ، گاڑی کی چابی،اور والٹ سائیڈ ڈرار میں ڈالتا مسلسل حیات کے چہرے کو ہی تک رہا تھا۔جو لیمپ کی روشنی میں بھرپور آنداز میں چمک رہا تھا۔ وہ واشروم میں گیا تو حیات نے اپنی آنکھیں کھولی تھیں۔جو سُرخ مسلسل رونے کی چغلی کھا رہی تھیں۔افگن باہر آیا تو وہ تیزی سے آنکھیں موند گئی۔ وہ بیڈ پر بیٹھا مسلسل اس کا معصوم چہرہ دیکھتا اسی کو سوچ رہا تھا۔۔اُس پہ آج کا دن کس قدر بھاری گزرا تھا۔ وہ لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر تھا۔۔مگر اس وقت وہ خود کو بہت ریلکس فیل کر رہا تھا گو یا کوئی بہت بڑی زمہ داری ہو جو کندھوں پر سے ہٹا دی گئی تھی۔ ’’حیات!‘‘اُس کے نقوش کو انگلیوں کے پوروں سے چُھو کر اس نے دھیرے سے پکارا تھا۔مگر جواب ندار۔ وہ دھیرے سے جھکا اور اس کی پیشانی پر لب رکھتا اِسے خود میں سمیٹ کر آنکھیں موند گیا تھا۔اور حیات کو لگا تھا کہ اس کے جلتے دل پر کسی نے ٹھنڈی پھوار سی برسا دی ہو۔جبکہ افگن کے چٹختے اعصاب اب پُرسکون تھے۔۔۔ایک مزید نئی روشن صبح ان کی منتظر تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کا اُجالا چاروں جانب پھیل رہا تھا۔آج شیر افگن کی چائنہ کی فلائٹ تھی،مگر حالیہ صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ ایک بار پھراپنا کام نظر آنداز کر گیا تھا۔فی الحال اسے پولیس ڈیپاٹمنٹ سے وابسطہ اپنے دوست سے ملنے جانا تھا۔وہ تیزی سے ہاتھ چلتا تیاری میں مگن تھا۔۔حیات ابھی تک بے سُدھ نیند کی وادی گُم تھی۔۔ ’’شیرافگن بیٹا کہاں جارہے ہو؟ناشتہ نہیں کرو گئے؟‘‘زرین نے اُسے عجلت بھرے آندازز میں خالی پیٹ نکلتا دیکھا تو ٹوکے بغیر نہیں رہ سکی تھیں۔ ’’نہیں!میں باہر ہی کرلونگا۔۔مگر ہاں آپ حیات کو لازمی ناشتہ کروادیجیے گا۔اُس نے رات بھی کھانا نہیں کھایا تھا۔‘‘ گھڑی پہ نظر دالتا وہ بلا ارادہ ہی فکرمندی جتاتا تیزی سے وہاں سے نکلنے ہی لگا تھا،کہ یکدم اپنے لفظوں کا خیال آیا تھا۔وہ چونک کر ٹھرا تھا۔ایک نظر نیوز پیپر پڑھتے اپنے باپ پر ڈالی وہ بظاہر لاپرواہ نظر آرہے تھے۔اور پھر زرین بیگم پر،جن کے تاثرات تن گئے تھے۔وہ سر جھٹکتا تیزی سےوہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فردوس منزل میں اس وقت عجیب ہی منظر بنا ہوا تھا۔دونوں ماموں غصےٰ سے کھول رہے تھے۔جبکہ شاہ ویز کا تو مانوں خون کھول گیا تھا۔ ’’میں بخشونگا نہیں دادی بیگم ۔آپ کی بے غیرت پوتی کو۔۔یہ بات یاد رکھئے گا۔۔ میں برباد کردونگا اس لڑکی کو۔‘‘وہ طیش میں پھنکارا تھا۔ ’’خاموش ہوجاؤ لڑکے!بلکہ ہم تو شکر کر رہے ہیں کہ جان چھوٹی تو لاکھوں پائے۔ارے اچھا ہی ہے کہ وہ منحوس لڑکی ہمارے گھر سے دفعہ ہوئی۔کسی روگ کی مانند چمٹ کر رہ گئی تھی۔‘‘فردوس بیگم نے سر جھٹکا تھا۔ ’’اماں بی یہ کیا کہ رہی ہیں آپ۔۔وہ کم بخت اپنے ساتھ ساتھ ہمارے گھر کی عزت ساتھ لے گئی اور آپ یہ باتیں کر رہی ہیں؟‘‘عدیل صاحب کا غصہٰ سوا نیزے پہ تھا۔ ’’ارے میاں ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچو۔عابثہ گئی تو سمجھو ہم پہ سے ایک زمہ داری بھی چلی گئی۔اور اس کی ساری جائیداد بھی ہماری ہوگئی۔‘‘وہ دور کی کوڑی لائیں تھیں۔ ’’نہیں !نہیں دادی جان!آپ کچھ بھی بولیں ،مگر میں اس لڑکی کو سکون نہیں لینے دونگا،یہ بات یاد رکھئے گا۔‘‘شاہ ویز کرخت لہجے میں بولتا وہاں سے واک آوٹ کر گیا تھا۔پیچھے وہ سب اپنی اپنی شیطانی سوچوں میں گمُ تھے۔۔۔ ’’فی الحال مینا کی شادی تک اس مٔسلہ کو دفعہ کرو۔۔باقی باتیں بعد میں طے کرلیں گے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
