Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 31
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 09/10/2025
5 Views
Episode no 31
دھوپ چھاؤں سا ہرجائی از ہما قریشی قسط نمبر 31 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’دادو آپ یہاں،مجھے بلا لیا ہوتا۔‘‘عابثہ جو بیڈ پر بیٹھی اپنے ہونٹ چبا رہی تھی۔کمرے میں داخل ہوتی دادو کو دیکھ وہ احتراماً تیزی سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ’’بس بیٹا!ایک ضروری بات کرنی تھی آپ سے۔‘‘انہوں نے گھڑی پہ نظر ڈالی۔جہاں بس دو بجنے میں کچھ ہی دیر باقی تھی۔ ’’جی جی دادو بولئے!‘‘وہ فوراً انہیں صوفے پر پکڑ کر بیٹھاتی ہمہ تن گوش ہوئی۔ ’’دیکھو بیٹا!ہم جانتے ہیں کہ یہ وقت آپ کے لئے بہت مشکل ہے!مگر پھر بھی ہم نے آپ کی زندگی کے لئے ایک فیصلہ کیا ہے۔‘‘وہ ماپ تول کر بولیں تھیں۔عابثہ نے ناسمجھی سے اُن کی جانب دیکھا تھا۔ ’’کیا مطلب ہے آپ کا دادو ! میں سمجھی نہیں۔‘‘اُس کی ڈھڑکن تیز ہوگئی تھی۔ ’’بیٹا ہم چاہتے ہیں کہ،گھر کی عزت،گھر میں ہی رہ جائے۔‘‘انہونے بامشکل لفظ ترتیب دئے تھے۔ ’’مطلب دادو میں سمجھی نہیں۔‘‘ ’’بیٹا ہم نے آپ کا اور ارتضیٰ کا نکاح کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔ابھی اور اسی وقت۔‘‘ یہ لفظ نہیں دھماکا تھے۔عابثہ گڑبڑا کر اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ’’نہ۔۔نہیں دادو۔۔۔کیا آپ بھی مجھے ویسا ہی سمجھتی ہیں۔جیسا نانو کہ رہی تھیں۔‘‘عابثہ کونجانے کیوں آج اپنا آپ بہت بے مول لگ رہا تھا۔۔ ’’نہ میرا بچہ!میں جانتی ہوں۔میری بیٹی تو بہت پیاری اور نیک ہے۔۔اور یہ فیصلہ ہم نے آپ کی اور ارتضیٰ کی خوشی کی خاطر ہی تو لیا ہے۔‘‘وہ سمجھانے کی غرض سے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر اپنائیت سے بولی تھیں۔ ’’نہیں دادو پلیز!میں یہ نکاح نہیں کر سکتی۔‘‘وہ ان کے ضعیف ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتی ان پر اپنا ماتھا ٹیکاتی منتی لہجے میں بولی تھی۔ ’’اور آپ کیوں نہیں کر سکتیں یہ نکاح!‘‘ارتضیٰ کی آواز پر وہ دونوں ہی چونک گئ تھیں۔ ’’ارتضیٰ بیٹا!ہم بات کر رہے ہیں۔‘‘انہوں نے رسانیت سے سمجھانا چاہا تھا۔ ’’دادو کیا میں عابثہ سے کچھ دِیر اکیلے میں بات کر سکتا ہوں۔‘‘انہونے ذرا کی ذرا نظر اُٹھا کر اپنے خوبرو پوتے کو دیکھا تھا۔۔جس کی شادی کو لے کر انہونے ان گنت ارمان سجا رکھے تھے۔ ’’میں زبردستی کی قائل نہیں ہوں ارتضیٰ!‘‘ارتضیٰ کا ہاتھ تھام کر اپنی اسٹک سنبھال کر کھڑی ہوتیں ،وہ اسے وارن کرنا نہیں بھولیں تھیں۔جو انہیں باہر تک چھوڑتا اب خود کمرے میں عابثہ کے نزدیک آیا تھا۔ ’’ کیا میں جان سکتا ہوں کہ آپ نے نکاح سے انکار کیوں کیا ہےعابثہ؟‘‘کمرے کی تنہائی ،اور مقابل کا گھمبیر لہجا اُس کی ڈھڑکنیں منتشر ہوگئی تھیں۔یہ وہی شخص تھا جس سے نکاح کے لئے وہ شرطیں لگایا کرتی تھی۔مگر وقت اور حالات محض ایک رات میں یکایک تبدیل ہوگئے تھے۔۔ ’’کیونکہ میں آپ کا احسان نہیں لینا چاہتی۔‘‘لہجا آپ ہی لڑکھڑا گیا تھا۔ ’’ویسے میرے گھر میں رات کے اس پہر آپکی موجودگی میرے احسان کی گواہ ہے۔‘‘عابثہ نے بغور اس کے تاثرات کا جائزہ لیا تھا۔۔کرسٹل گرے آنکھیں مسکراتی محسوس ہوئیں تھیں۔۔ ’’آپ سمجھ کیوں نہیں رہے ہیں ارتضیٰ !میں آپ سے نکاح نہیں کرنا چاہتی۔‘‘اُس کے چہرے پر رقص کرتی محظوظ کُن مسکراہٹ دیکھ وہ لمحوں میں زچ ہوئی تھی۔ ’’مگر عابثہ جی!آپ کو یہ نکاح لازماً کرنا ہوگا کیونکہ میں انتہائی کھرا اور انصاف پسند آدمی ہوں۔۔احسان کے بدلے حسین احسان لینے کاروادار !‘‘وہ دو قدم چل کر مزید نزدیک آتا اس کی سیاہ خوفزدہ آنکھوں میں جھانک کر بولا تھا۔۔جیسے اپنے حواس گمُ ہوتے محسوس ہوئے تھے۔ ’’آپ۔۔۔۔آپ تو حد سے زیادہ منہ پھٹ ہیں۔‘‘وہ خائف سی نگاہیں چُراتی نظر پھیر گئی۔ ’’اور بے شرم بھی محترمہ!‘‘اس نے اپنی قابلیتوں میں اضافہ کرنا ضروری سمجھا تھا۔ ’’میں اب یہاں ایک پل نہیں ٹھرونگی۔‘‘ اس نے سائیڈ سے نکلنے کو پر تولے۔ ’’مگر جنابہ میں تو آپ کے مستقل ٹھکانےکا بندوبست اپنے روم میں کر چکا ہوں۔‘‘وہ دیوار پر ہاتھ رکھتا اسے قید کر چکا تھا۔ ’’آپ کس قدر چیپ ہیں۔‘‘ عابثہ نے دانت پیسے تھے۔ ’’اور رومیینٹک بھی۔مگر پریکٹیکل طور پر شادی کے بعد رومانس دکھاؤنگا۔‘‘ عابثہ کے اُڑے اُڑے تاثرات دیکھ اس نے بامشکل ہنسی ضبط کی تھی۔ ’’میں۔۔۔۔‘‘وہ مزید کوئی جوابی کاروائی کرتی اِس سے قبل ہی کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ ’’یس!وہ ذرا فاصلے پر جاکھڑا ہوا تھا۔ ’’ارتضیٰ باہر آجاؤ۔۔مولوی صاحب کا بندوبست ہوگیا ہے۔‘‘دروازے سے نمودار ہونے والا چہرہ دیکھ عابثہ نے اچنبھے سے مقابل شخصیت کو دیکھا تھا۔۔وہ بلاشبہ شیر افگن ہی تھا جو دوست کی ایک پُکار پر دُوڑا چلا آیا تھا۔ ’’مگر یہ محترمہ تو ابھی تک انکار اور اقرارکی کشتی میں سوار ہیں۔اب یہ راضی ہوں تو نئیا بھی پار لگے۔‘‘وہ سر جھٹک گیا۔ ’’میرا نہیں خیال کہ اتنا سب کچھ ہوجانے کے باوجود بھی عابثہ کو کسی قسم کا کوئی اعتراض ہوگا۔کیوں عابثہ اس نکاح پہ کوئی اعتراض ہے؟‘‘اُس نے برائے راست خاموش کھڑی عابثہ کو مخاطب کیا تھا۔جو چونک کر ہوش میں آئی تھی۔ ’’ہاں۔۔۔میرا مطلب نہیں۔۔نہیں مجھے اس نکاح ہر کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔‘‘ارتضیٰ نے بے یقینی سے اس کی جھکی نظروں کو دیکھا تھا ،جو اپنی رضامندی ظاہر کرتی غیر مرئی نکتے کو گھور رہی تھی۔ ’’تو چلو پھر تم دونوں۔۔باہر مولوی صاحب انتطار کر رہے ہیں۔زبردستی جگا کر لایا ہوں۔۔اس سے قبل کے وہ یہیں سوجائیں تم دونوں جلدی نیچے آجاؤ۔‘‘وہ بات کو مزاح کا رنگ دیتے ہوئے نیچے کی جانب بڑھا تھا۔ جبکہ ارتضیٰ نے اُپر سے لے کر نیچے تک اس کا بھرپور نظروں سے جائزہ لیا تھا۔۔جو عجیب رنگ کا کُرتا پجامہ زیب تن کئے ملگجے سے حلیے میں ملبوس تھی۔مگر فی الحال اس کا حُلیہ درست کرانے کا وقت نہیں تھا۔ ’’دادو کے روم میں جاؤ!وہاں ان کی الماری سے کوئی لارج سائز دوپٹہ یا پھر چادر سر پر کے کر فوراً نیچے پہنچو۔‘‘وہ اسے حکم سناتا تیزی سے روم سے نکل گیا تھا۔اِس نے ایک نظر اپنا حلیہ دیکھا پھر مرے مرے قدم اُٹھاتی دادی بیگم کے روم کی جانب بڑھی تھی۔دل پہ بوجھ سا آگیا تھا۔۔نجانے اب اس کی زندگی کیا رُخ اختیار کرنے جارہی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ عباس پیلس کے ہال کا منظر ہے۔ہال میں موجود چاروں نفوس آدھی رات کو پیش آنے والی اس صورت حال سے پریشان اپنی پنی سُوچوں میں گمُ بیٹھے تھے۔جبھی مولوی صاحب کی بھاری آواز نے ماحول میں چھایا سکوت توڑا تھا۔ ’’عابثہ اسماعیل ولد اسماعیل بیگ آپ کا نکاح ارتضیٰ ولید عباس ولد ولید عباس کے ساتھ پانچ لاکھ حق مہر سکہ رائج الوقت گواہان کی موجودگی میں طے پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔‘‘مولوی صاحب کے لفظوں پر عابثہ نے خود کو ہر احساس سے عاری پایا تھا۔گویا ہر قسم کے احساسات اورجزبات ناپید ہو گئے ہوں۔ ’’کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔‘‘شیر افگن اور ارتضیٰ نےاس کی مسلسل خاموشی پر پریشان نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔جو سیاہ چادر میں لپٹی کوئی اور ہی عابثہ لگ رہی تھی۔پاس کھڑے افگن نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو اپنے ماں باپ کو یاد کر دو آنسو گالوں پر لڑکھ گئے مگر وہ خاموش تھی۔۔ ’’’قبول ہے!‘‘اس سے قبل کوئی کچھ کہتا وہ سپاٹ لہجے میں رضامندی ظاہر کر چکی تھی۔ اور اس کے بعد ارتضٰی سے بھی رضا مندی لی گئی تھی۔نکاح نامےپہ ان دونوں کے دستخط لئے گئے ،مگر عابثہ کے تو گویا حواس ہی سلیب ہو کر رہ گئے تھے۔۔اور کچھ ہی لمحوں میں وہ ارتضیٰ عباس کی زوجیت میں آتی اپنے تمام جملے حقوق اس شخص کے نام کر گئی تھی۔۔۔پہلی بار کسی محرم رشتے
