Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 26
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 06/10/2025
5 Views
Episode no 26
گے،،تم اس جوئے میں اپنی حیات کو ہار جاؤ گے شیر افگن۔۔۔لمبی لمبی سانسیں بھرتی وہ خود کو نوچنے کے در پر آگئی تھی۔۔ ’’اجُالا پاگل ہوگئی ہو۔۔کیا کر رہی ہو یہ۔۔اس سب میں تمہارا کیا قصور ہے۔۔۔ اور یقین کرو ، جس شخص نے تمہاری زندگی برباد کی ہے میں اسے جان سے مار ڈالونگا۔۔‘‘وہ روتی ،بلکتی،سسکتی اُجالا کو سینے سے لگاتا اس کی کمر سہلانے لگا تھا۔۔۔ جو مسلسل خود کو قصوروار ٹھرا رہی تھی۔ ’’اُجالا پلیز خاموش ہوجاؤ۔تم اس طرح رُو رُو کر اپنی طبیعت خراب کرولگی۔۔‘‘وہ ایک مضبوط اعصاب کا مالک مرد تھا،مگر اپنے حصار میں روتی بلکتی صنف نازک کا غم اُسے آندر سے ہلا کر رکھ گیا تھا۔۔ وہ دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینے والی لڑکی دنیا سے کٹ کر سہم کر رہ گئی تھی۔۔شدید ضبط کے باوجود اُس کی آنکھوں سے پھسلتے آنسو اُجالا کے بالوں میں جذب ہورہے تھے۔۔جو بے ہوش ہوچکی تھی۔۔مگر ابھی بھی سسکیاں بھر رہی تھی۔۔ اُسے گود میں اُٹھاتا وہ بستر پر ڈالنے ہی لگا تھا کہ عین اِسی وقت حیات دھیرے سے دروازہ کھولتی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔اور سامنے نظر آتی شیرافگن کی پشت ،جو اُجالا پر جھکا کھڑا تھا یا شاید۔۔۔یہ منظر دیکھ وہ اپنے قدموں پر لڑکھڑا سی گئی تھی۔ہینڈل پر جما ہاتھ آپ لرز کر رہ گیا تھا۔۔۔وہ اُلٹے قدموں من بھر بھاری قدم اُٹھاتی اپنے کمرے میں واپس لوٹ آئی تھی۔۔آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری تھی۔۔دل غم سے پھٹا جارہا تھا۔ اُجالا پر چادر درست کرتا،سائیڈ لیمپ کی روشنی بجھاتا اپنا چہرہ رگڑ کر وہ اُلٹے قدموں واپس لوٹ آیا تھا۔۔۔وہ روم میں واپس آیا تو حیات کو ہنوز کمبل میں دبکا ہوا پایا تھا۔۔فی الحال وہ ایسی کنڈیشن میں نہیں تھا کہ حیات کا یا پھر کسی کا بھی سامنا کرپاتا،نیم آندھیرے میں ڈوبے کمرے کی مکمل لائٹ گُل کرتا وہ حیات کو اپنے حصار میں لیتا کچھ پل سکون کی غرض سے آنکھیں موند گیا تھا۔جو بے آواز روتی اپنا سانس بھی روک چکی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح صادق سے طلوع ہوتا سورج کچھ نئی آزمائشیں اپنے ساتھ لے کر طلوع ہوا تھا۔فجر کا وقت تھا۔۔۔ سورج کی نرم گرم ٹھنڈی کرنیں ہر سو پھیلتی ماحول میں خوشگواریت سی پھونکتی جارہی تھیں۔جائے نماز کو تہہ لگا کر ایک سائیڈ پر رکھتی وہ روم کا دروازہ آہستگی سے کھول کر باہر لان میں آگئی تھی۔۔صبح کا منظر انتہا کا دلکش اور حسین تھا۔۔۔ ہر سو مہکی مہکی،شبنمی قطروں سے تر تھی۔ معطر گلاب کی دلفریب خوشبو نتھنوں سے ٹکراتی اُس کی پرسوز طبیعت میں جازبیت سی پھونک چکی تھی۔ کیاری میں لگے رنگ برنگے پودوں کو چھوتی وہ ہولے سے مسکرائی تھی۔۔۔وہ ان کی نرماہٹ میں کھونے ہی لگی تھی کہ رات والا منظر کسی فلم کی مانند ایک بار پھر نظروں کے سامنے چل پڑا تھا۔ساری رات سسکتے ہوئے گزر گئی تھی۔اور وہ ستمگر پُرسکون نیند سوتا رہا تھا۔ نم نگاہیں یکدم دروازے کی جانب اُٹھی تھیں۔جہاں تعینات گارڈز میں سے اس وقت کوئی بھی موجود نہیں تھا۔۔۔دل میں آئے پہلے خیال پہ عمل پیرا ہوتی وہ خاموشی سے ہاشمی ولا کی دہلیز پھلانگ چکی تھی۔نیم آندھیرا چھٹ کر اب مکمل اُجالے میں تبدیل ہورہا تھا۔۔اور وہ جھلی چل پڑی تھی بے مقصد راستوں اور کٹھن راہوں کی خاک چھانے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فردوس منزل میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ آج گھر میں رسم حنا تھی۔۔۔اور تین روز کے وقفے سے شادی اور ولیمے کی تقریب طے پائی تھی۔عابثہ پچھلے دو روز سے مسلسل کمرے میں بند تھی۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ باہر جائے اور سب کو اس کی ذات سے منسلک باتیں بنانے کا موقع مل جائے۔ رات کا آخری پہر چل رہا تھا۔۔۔ آج سارا دن گھر میں شور و غل عروج پر رہا تھا۔۔شادی کے ہنگاموں میں سب اتنا مصروف تھے کہ فی الحال وہ اُسے بھول ہی گئے تھے۔۔مگر یہ محض عابثہ کی خام خیالی تھی۔۔۔ وہ دبے قدموں اپنے روم سے باہر نکلتی کچن کی جانب جارہی تھی کہ نانی بیگم کے کمرے سے آتی تیز آوازوں نے اُس کے قدم جکڑ لئے تھے۔ ’’’جب میں نے بول دیا کہ مجھے وہ لڑکی چاہئے تو بس چاہئے۔۔اب میری بھی ضد ہے۔۔اور آگر دادی آپ سیدھے طریقے سے نہ راضی ہوئیں تو پھر مجھے راضی کرنے کے اور بھی طریقے آتے ہیں۔‘‘یہ شاہویز کی آواز تھی۔ ’’ارے مجھے کیوں اعتراض ہوگا۔۔اصل رضامندی تو اس کم بخت کی ہے۔۔دیکھا نہیں کس قدر چشم دریدہ ہے۔۔ساری زندگی عزت سے گزر گئی ہے۔۔اب کیا اس بالش بھر کی لڑکی کی خاطر ہم اپنی سالوں کی عزت خاک میں ملوا لیں۔‘‘وہ طیش میں گویا ہوئیں تھیں۔ ’’آپ مجھے آج اجازت دیں۔ابھی کنپٹی پر بندوق کی نال رکھونگا گا نا طوطے کی طرح قبول ہے بولے گی۔‘‘وہ سخت غصےٰ میں لگ رہا تھا۔۔عابثہ کی ٹانگیں کانپنے لگی تھیں۔ ’’زرا صبرکرلو میاں!ساتھ خیریت سے عزت سے مینا کی شادی ہوجانے دو پھر اس چڑ یا کہ پر کیسے کترنے ہیں یہ ہم بعد میں سُوچ لیں گے۔۔‘‘اُن سب کی خرافاتی منصوبہ بندیوں پر پورے وجود سے لر زتی وہ اپنے روم میں واپس لوٹ آئی تھی۔۔۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری تھی۔دل غم کی شدت سے پھٹا جارہا تھا۔آگے کنواں تھا تو پیچھے کھائی ،وہ بھری دنیا میں تن تنہا اکیلی لڑکی آخر کرتی بھی تو کیا کرتی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔
