Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 26
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 06/10/2025
5 Views
Episode no 26
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی قسط نمبر 26 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج زرین بیگم نے رات کے کھانے کا خاصہ اہتمام کر رکھا تھا۔حیات طبیعت کی ناسازی کے باعث سب کو ڈنر پر جوائن نہیں کر سکی تھی۔جبکہ افگن ابھی تک گھر نہیں آیا تھا۔ ’’زرین حیات کہاں ہے؟‘‘ ناصر صاحب اس کی غیر موجودگی محسوس کر سوالیہ گویا ہوئے۔ ’’وہ اُس کے سر میں درد تھا،اس لئے نہیں آئی۔۔آپ شروع کیجیے ناں۔۔اُجالا آپ کیا لوگی بیٹا!میں نے آج سب کچھ آپ کی پسند کا بناوایا ہے۔‘‘وہ زرا روکھے سے لہجے میں جواب دیتیں اُجالا سے محبت بھرے لہجے میں گویا ہوئیں تھیں۔ ’’اور وہ نالائق کہاں ہے؟‘‘ وہ زرا تند لہجے میں سوالیہ گویا ہوئے۔اُجالا ہنوز خاموش تھی۔ ’’یہاں ہے۔‘‘کوٹ بازؤں پر ڈالے،آستینیں فولڈ کرتا،ماتھے پر بکھرے بال سمیٹتا ایک سرد آہ خارج کرتا ڈنر ٹيبل کے نزدیک چلا آیا تھا۔ ’’کیا ہو رہا ہے؟‘‘اُجالا کے اُداس چہرے پر ایک نظر ڈالتا وہ ویسے ہی پوچھ بیٹھا تھا۔ ’’گلی ڈنڈا کھیل رہے ہیں۔‘‘ ناصر صاحب کے طنزیہ جواب پر اُجالا نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی تھی۔ ’’میرا مطلب تھا کہ حیات نہیں آئی کھانے پر؟‘‘ ناصر صاحب کا طنز نظر انداز کرتا اس بار وہ سنجیدگی سے سوالیہ آنداز میں بولا تھا۔ ’’بھئی تمہاری نخریلی بیوی کے تو مزاج ہی نہیں مل رہے ہیں۔ہر وقت اُس کا منہ بنا رہتا ہے۔صبح سے کمرہ نشین ہے۔خیر تم بیٹھو ڈنر کرو ہمارے ساتھ۔‘‘ شیر افگن کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے۔ ’’میں پہلے شاور لونگا۔۔ آپ لوگ بسم اللہ کیجئے۔‘‘وہ اُجالا کی جانب مسکرا ہٹ اُچھالتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے روم کی جناب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیم آندھیرے میں ڈوبے کمرے میں قدم رکھتے ہی اس پر جھرجھری سی طاری ہوگئی تھی۔۔ایئر کنڈیشن کی کولنگ کے باعث کمرہ ٹھنڈا برف ہورہا تھا۔بیڈ کے سائیڈ لیمپ کی روشنی میں دمکتا حیات کا معصوم چہرہ دیکھ اُسے دن بھر کی تھکن اُترتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔جو ایک ہاتھ گال کے نیچے رکھے نیند میں بھی پیشانی پر ڈھیروں بل سجائے اسے شرارت پر اُکسا چکی تھی۔وہ دھیرے سے چلتا نزدیک آیا تھا۔۔۔غیر محسوس انداز میں سرہانے کے قریب نشست سنبھالتا وہ دھیرے سے جھکا تھا اور اس کا ماتھا چوم کر چہرہ نزدیک کئے غور سے اس کے نقش دیکھنے لگاتھا۔جس کا انگ انگ سراپا محبّت تھا۔۔۔ شیرافگن ہاشمی یونیورسٹی لائف میں ایک آوارہ طبیعت کا مالک،لاؤبالی سا لڑکا رہا تھا۔۔ جس کی زندگی میں کئی لڑکیاں دوست رہ چکی تھیں، مگر دل کی پسند صرف اُجالا ہی رہی تھی۔جو نا صرف اُس کے دوست کی منگتر کے رتبے پر فائز تھی۔۔ بلکہ وہ خود بھی ارتضیٰ سے محبت کا دم بھرتی تھی۔ مگر یکایک سب تبدیل ہوگیا تھا۔۔۔حیات کے وجود کی اُس کی زندگی میں شمولیت ایک خوبصورت اضافہ ثابت ہوئی تھی۔۔۔اُس نے جس روز حیات کو اپنے نکاح میں لیا تھا۔۔اُس دن دل سے عہد کرلیا تھا کہ وہ اس رشتے کو اپنی آخری سانس تک نبھائے گا۔۔وہ نہیں چاہتا تھا زندگی کی جو مشکلات اُس کی ماں نے جھیلی تھیں۔اب دوبارہ وہی سب کوئی اور لڑکی فیس کرے۔۔۔۔ حیات کی معصومانہ باتیں، اس کا پوزیسیو آنداز،اُجالا کو لے کر اُس کی جیلسی،اور شیر افگن پر اپنا حق جتانا وہ ایک اجنبی صبح کے اُجالا میں ملنے والی لڑکی کو کب اپنا دل دے بیٹھا تھا اُسے علم ہی نہ ہوسکا تھا۔۔پسند اُجالا ضرورتھی ، مگر اس کی واحد محبت اس کی بیوی حیات کاظمیٰ تھی۔ نکاح کی کشش تھی یا دل کی ضد کہ اب وہ اپنی زندگی کا ایک پل بھی اُس کے بغیر گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ’’حیات!‘‘ سوچوں میں گمُ ہولے سے پُکارا۔مگر وہ بے سُدھ سو رہی تھی۔ ’’حیات بیگم اُٹھ جاؤ،ورنہ پھر میں اپنے آنداز میں اٹھاؤنگا تو تمہیں اعتراض ہوگا۔‘‘وہ قریب ہی تھوڑی سی جگہ میں ایڈجسٹ ہوتا شرارت سے اس کا گال چھو رہا تھا۔۔وہ نیند میں اُسے خود سے دور کرتی کسمسا کر رُخ پلٹ گئی۔ ’’واہ مطلب میری محبت کی کوئی قدر ہی نہیں ہے۔۔محترمہ رُخ پلٹ کر منہ ہی موڑ گئیں۔‘‘ وہ منہ ہی منہ بڑبڑا یا تھا۔ ’’حیات اُٹھو یار!کھانا نہیں کھانا کیا۔۔مجھے بھی بھوک لگ رہی ہے۔‘‘وہ ہاتھ کے سہارے زرا سا اُٹھ کر نزدیک ہوتا چہرہ تھپتھپانے لگا تھا۔۔جو گھوڑے گدھے بیچ کر سو رہی تھی۔ ’’حیات!‘‘ایک آخری تنبیہ سرگوشی تھی۔۔اور پھر وہ دھیرے سے جھکا تھا اور اس کی گردن پر اپنی شیو رگڑتا اسے جھلبلا کر اُٹھنے پر مجبور کر گیا۔ ’’افگن!‘‘وہ گڑ بڑا کر اُٹھی تھی۔۔مُندی ُمندی آنکھوں سے اِرد گرد میں دیکھا تو تکیہ پر سر رکھے لیٹا افگن آئی بروز اٹھائے شرارت سے مسکرا رہا تھا۔ ’’گڈ مارننگ!‘‘چہرے پر سجے ناگوار تاثرات دیکھ وہ مزید شرآرت سے بولا تھا۔۔ ’’افف!آپ نے شیو کیوں نہیں کی ہے۔۔۔اتنی زور سے چبھتی ہیں آپ کی یہ مونچھیں۔‘‘وہ شکوہ کناں لہجے میں اپنی گردن سہلا کر بولتی اپنی ناراضگی فراموش کر چکی تھی۔ ’’تمہیں یہ اتنی چبھتی کیوں ہیں بھئی!مجھے تو نہیں چبھتیں۔۔‘‘اُسکو کندھے سے پکڑ کر خود پرگراتا وہ شرارتی لہجے میں آئی برو اُٹھا کر بولا تھا۔ ’’مجھے نیند آرہی ہے۔۔میری نیند کیوں خراب کی ؟‘‘وہ غصےٰ سے بولتی واپس اپنی جگہ پر رُخ پلٹ کر سو گئی تھی۔ ’’ حیات میں۔۔۔‘‘وہ ابھی مزید کچھ کہتا کہ کسی نے دروازہ نوک کیا تھا۔ ’’کون؟‘‘وہ اُٹھ بیٹھا تھا۔ ’’ میں ہوں افگن!کیا تم دو منٹ کے لئے میری بات سُن سکتے ہو۔‘‘حیات جو آنکھیں موند چکی تھی۔۔ ایک جھٹکے سے افگن کی جانب رُخ پلٹا تھا۔۔۔۔ ’’تم چلو میں آتا ہوں۔۔‘‘ وہ حیات پر ایک نظر ڈالتا کلائی سے گھڑی نکالنے لگا تھا۔ ’’حیات اُٹھ جاؤ یار!کھانا کھاؤ۔۔اس طرح تو طبیعت خراب ہوجائے گی تمہاری۔‘‘وہ مصروف سے آنداز میں بولتا واشروم کی جانب بڑھا تھا۔ ’’ہونہہ!مرؤنگی نہیں۔‘‘وہ دھیر ے سے بڑبڑائی تھی۔ مگر پھر بھی افگن کی سماعتیں اس کی گوہر افشائی سے فیض یاب ہوچکی تھیں۔ ’’حیات بکواس نہیں کیا کر و ہر وقت،،اٹھو جلدی۔‘‘وہ ٹہرا تھا اور رُخ پلٹ کر تنبیہ کرتا کپڑے تبدیل کرنے کا ارادہ ملتوی کرتا روم سے باہر نکل گیا تھا۔۔جبکہ وہ کمبل منہ تک تانتی آنکھیں موند گئی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اُجالا کیا ہوا؟تم رو کیوں رہی ہو؟‘‘وہ ابھی روم میں داخل ہوا ہی تھا کہ اُجالا کو بُری طرح روتا ہوا پایا تھا۔۔ ’’افگن یہ جو بھی سب کچھ ہو رہا ہے۔۔میرے لئے ناقابِل برداشت ہے۔میں ۔۔میں مرجاؤنگی۔۔۔پلیز مجھے یہاں سے جانے دو۔۔کیوں ازیت دے رہے ہو مجھے خود کو حیات کو۔۔‘‘وہ شدت گریہ سے سُرخ پڑتی آنکھوں میں ڈھیروں شکوئے لئے دل برداشتہ دکھائی دے رہی تھی۔ ’’حیات نے کچھ کہا ہے تم سے؟‘‘وہ سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا۔ ’’کسی نے کچھ نہیں کہا ہے مجھے۔ اور آگر وہ کچھ کہے گی بھی تو غلط نہیں ہے ۔۔بیوی ہے تمہاری ،حق رکھتی ہے تم پر۔۔۔جو دل چاہے بول سکتی ہے۔میں ہوں اپنی اور تم سب کی بربادی کی وجہ مگر اس سب کے باوجود تمہیں کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔۔۔‘‘افگن دیوار سے ٹیک لگائے پرسوچ دکھائی دیتا خاموش تھا۔۔ جب وہ رو رو کر تھک گئی تو بیڈ کی پایئنتی پکڑ کر نیچے بیٹھتی چلی گئی تھی۔ ’’تم وہ حقیقت دنیا سے چھپانا چاہتے ہو ،جو آج نہیں تو کل سب کے سامنے آنی ہی ہے۔۔۔ میرے نصیب کی بدنامی مجھے مل کر ہی رہے گی۔مگر اس سب کے باوجود آگر ابھی بھی تمہیں لگتا ہے کہ تم اس دنیا سے مقابلہ کر سکتے ہو تو سُن لو تم بہت سی زندگیاں برباد کر دو
