Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 24
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 05/10/2025
4 Views
Episode no 24
پھر سے اپنا مطلوبہ نمبر ڈائل کرنے لگی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیاہ رنگ کےسمپل سے شلوار سوٹ میں ملبوس حیات کی کھلتے گلاب کی سی شادابی والے مکھڑے میں زردیاں سی گُھل گئیں تھیں۔صوفہ کم بیڈ پر نیم دراز افگن نے چونک کر اس کی جانب دیکھا تھا۔جو اس کی جانب دیکھنے سے اجتناب برتتی کمرے سے باہر نکلنا چاہ رہی تھی۔مگر وہ برق رفتاری سے اُٹھ کر اس کا ہاتھ تھام کر اپنے نزدیک کر گیا تھا۔۔۔اچانک افتاد پہ وہ سیدھی اس کے سینےسے جالگی تھی۔ ’’چھوڑیں مجھے۔‘‘ وہ جو اس کی سُرخ آنکھوں کو تک رہا تھا حیات کی جھنجھلائی ہوئی آواز پر چونک کر ہوش میں آیا تھا۔ ’’تم واشروم رونے کے لئے گئی تھیں۔‘‘وہ اس کی رونے کے باعث چغلی کھاتی گُلال آنکھوں کو انگلیوں کے پوروں سے چھوتا تاسفی لہجے میں بولا تھا۔ ’’میں روؤں یا پھر مر جاؤں ،آپ کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے ۔‘‘وہ کل سے قائم سردگی سے بولی تھی۔ ’’حیات !بات سُنو میری۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہی ہو۔۔بس میں مجبور تھا۔۔اُجالا میری بہت اچھی دوست ہے اور میں اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔اسی لئے مجھے یہ قدم اُٹھانا پڑ اتھا۔‘‘وہ ایک بار پھر اُس کے آنسو ؤں کے سامنے ہار گیا تھا۔۔اور اپنی صفائی پیش کرنے لگا تھا۔ ’’اچھا!‘‘وہ جو اس کاچہرہ ہاتھوں کے پیالے میں تھامے کھڑا تھا،حیات بیدردی اس کا ہاتھ جھڑک چکی تھی۔ ’’فی الحال میں آپ سے کسی قسم کی کوئی بحث نہیں کرنا چاہتی۔۔ناشتہ کرنا ہے،بھوک لگ رہی ہے مجھے۔‘‘ وہ بیزاریت سے بولیتی قدم باہر کی جانب بڑھا چکی تھی۔ ’’اچھا تم یہیں رکو۔۔میں ناشتہ ہمارے روم میں ہی منگوا لیتا ہوں۔‘‘وہ فکر مندانہ لہجے میں بولا تھا۔۔ ’’کیوں اب کیا میں سب کے درمیان بیٹھنے کے بھی قابل نہیں رہی؟‘‘وہ ذرا طنزیہ انداز میں آئی برو اٹُھا کر بولی سوالیہ گویا ہوئی تھی۔۔ ’’تم ایسا کیوں سوچ رہی ہو یار۔۔۔یہ گھر ،یہ لوگ سب تمہارے اپنے ہیں تم مالکن ہو اِس گھر کی ۔۔۔پھر اس فضول گوئی کا مطلب۔‘‘وہ نرمی سے جتاتے لہجے میں بولا تھا۔۔۔ ’’جو میرا تھا اب وہی میرا نہیں رہا تو اب مجھے ان چیزوں اور رشتوں سے کوئی غرض نہیں رہا۔‘‘ وہ صاف سے لہجے میں حساب بے باک کر گئی تھی۔۔ ’’میرے خیال سے تمہیں واقعی بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔ہمیں نیچے چل کر ناشتہ کرنا چاہئے۔۔یا بلکہ اب تو لنچ بھی ساتھ ہی کرلیں گے۔‘‘وہ کلائی پر موجود گھڑی میں وقت دیکھتا سپاٹ آنداز میں بولا تو وہ خاموشی سے آگے بڑھ گئی تھی۔شیرافگن نے بھی اس کی پیروی کی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں آگے پیچھے ڈائینگ ہال میں داخل ہوئے تھے۔جہاں توقع کے عین مطابق گھر کے تمام ہی مکین لنچ کے لئے میز پہ موجود تھے۔ مگر آج ایک شخص کا اضافہ بھی واضح نظر آرہا تھا۔۔اور وہ تھی اُجالا افگن ہاشمی کی دوسری بیوی۔ ’’حیات بیٹا!صبح سے کہاں غائب ہو آپ۔۔میں صبح بھی ناشتے پر اپنی بیٹی کا انتظار کرتا رہا تھا مگر آپ نیچے ہی نہیں آئیں؟‘‘ناصر صاحب حیات کو دیکھ نرمی سےگویا ہوئے تو وہ خواں مخواں ہی شرمندہ ہوگئی تھی۔ ’’سوری بابا وہ دراصل !میں نے جلدی ناشتہ کرلیا تھا۔‘‘وہ بہانہ بنا گئی تھی۔افگن نے ایک اچٹتی سی نگاہ ڈال کر اپنی چئیر سنبھالنی چاہئے تھی۔جبھی زرین بول اُٹھی تھیں۔ ’’ارے اُجالا بیٹا!تم اتنی دور کیوں بیٹھی ہو۔۔یہاں افگن کی ساتھ والی چئیر پر بیٹھو نا۔آج تمہارا شادی کے بعد سُسرال میں پہلا دن ہے۔۔حیات بیٹا آپ یہاں میرے ساتھ ہی بیٹھ جائیں۔‘‘وہ چہرے پر حسین مسکراہٹ سجائے بہت اپنائیت سے گویا ہوئی تھیں۔حیات جو افگن کے برابر میں اپنی مخصوص نشست سنبھالنے لگی تھی،ٹھٹھک کر ٹھر گئی تھی۔ ’’آنٹی یہ شروع سے میری جگہ ہے،اور میں اپنی جگہ کسی قیمت پر کبھی کسی کو نہیں دیتی،نئے آنے والے اپنی جگہ خود بنا لیں تو بہتر ہے۔‘‘بے تاثر لہجے میں بولتی وہ اپنی نشست سنبھال چکی تھی۔۔جبکہ زرین اپنی بات کی نفی پر سبکی سے نگاہیں چرا گئی تھیں،افگن اور ناصر صاحب نے چہرہ جھکا کر مسکراہٹ ضبط کی تھی۔ ’’اُجالا بیٹا !آپ کیوں بیٹھی ہو،کچھ لو نا۔‘‘ حیات کی بجائے اب ان کی توجہ کا مرکز اُجالا تھی۔ وہ اپنی ازلی نرمی سے مخاطب ہوئے،افگن جو حیات کی پلیٹ میں کھانا ڈال رہا تھا۔۔ چونک کر متوجہ ہوا۔۔۔ ’’جی انکل لے رہی ہوں۔‘‘وہ رسمی آنداز میں مسکرائی تھی۔۔کل رات سے اسے اپنا آپ یہاں حد سے زیادہ ان کمفر ٹیبل فیل ہو رہا تھا۔۔۔ ’’اُجالا تم یہاں مہمان ہر گز نہیں ہو۔تو ان تکلفات میں نہ پڑو،اور اچھے سے کھانا کھاؤ۔‘‘ حیات سے توجہ ہٹی تو وہ اٌجالا سے نرم لہجے میں بولا تھا،جبکہ حیات جو ابھی پہلا لقمہ منہ میں ڈال ہی رہی تھی کہ شیر افگن کے جملے پر اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا۔ ’’کیا ہوا؟‘‘خود پر حیات کی گھورتی نگاہوں کا ارتكاز محسوس کر وہ دھیمی سی آواز میں ناسمجھی سے آئی بروز اُٹھا کر استفساریہ بولا۔۔جو جھٹکے سے رُخ پھیرتی رغبت سے کھانا نوش فرمانے میں مصروف ہوگئی تھی۔۔۔تو بھی بھی کندھے اُچکاتا کھانا کھانے لگا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ہیلو!بل آخر مطلوبہ شخص نے کال ریسیو کر ہی لی تھی۔۔عابثہ جو صبح سے بھری بیٹھی تھی، غصے اور جذبات میں بس سُناتی چلی گئی تھی۔ ’کسی کو میرا خیال نہیں ہے۔۔صبح سے کال کر رہی ہوں۔‘‘وہ آنسو پونچھتی سُوں سُوں کرنے لگی تھی۔ ’’کیا ہوگیا ہے یار!آگر کوئی سیریس ایشو ہے تو بتاؤ؟‘‘دوسری جانب سے بیزار کُن آواز سُنائی دی تھی۔اور وہ جو تفصیل بتانے کا ارادہ رکھتی تھی کسی سُوچ کے تحت خاموش رہ گئی۔ ’’کچھ نہیں ماما بابا یاد آرہے تھے۔‘‘ وہ لب چباتی،اپنے آنسو پونچھ گئی تھی۔جبکہ مقابل شخص نرم لہجے میں ہمیشہ کی طرح اسے دلاسہ دینے لگا تھا۔۔اور باتوں کے دوران کب اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔اسے علم ہی نہ ہوسکا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
