Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 24
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 05/10/2025
4 Views
Episode no 24
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_24 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عابثہ اس وقت شدید پریشانی سے دوچار بار بار کسی کا نمبر ڈائل کر رہی تھی۔مگر دوسری جانب سے نو رسپانس تھا۔جبھی ہالہ دھڑام سے دروازہ کھولتی روم میں داخل ہوئی تھی۔ ’’کیا ہوا؟‘‘وہ اسے کمینگی سے مسکراتا دیکھ استفساریہ بولی۔ ’’دادو بُلا رہی ہیں بیٹا آپ کو۔نکاح خواں آگئے ہیں۔‘‘وہ شرارت سے مسکرائی۔عابثہ کی دھڑکنیں تیز ہوگئی تھیں۔ ’’میں یہ نکاح ہر گز نہیں کرونگی۔۔جاکر بتا دو سب کو۔‘‘وہ خود پر ضبط کرتی ہڈ دھرمی سے گویا ہوئی تھی۔ ’’اچھا !سوچ لو۔ویسے دو بچوں کے باپ کو تم دل سے پسند آگئی ہو۔‘‘‘ وہ شرارتی لہجے میں بولی تھی۔۔عابثہ نے اسے مارنے کے لئے کوئی چیز تلاش کرنی چاہی تھی۔جو کھلکھلا کر باہر بھاگ گئی ۔ جبکہ وہ اضطرابی کیفیت سے دوچار بار بار کسی کا نمبر ڈائل کر رہی تھی۔مگر دوسری جانب کی مخلوق شاید بھنگ پی کر سو گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چند منٹوں بعد وہ روم میں داخل ہوا تو وہ ٹھٹھک کر ٹھر گیا تھا۔حیات ہنوز اُسی پوزیشن میں چہرے پر دونوں ہاتھ دھرے خاموش بیٹھی تھی۔اس کے تنے تقوش حیات کی پتھر نگاہوں کو دیکھ نرم پڑ گئے تھے۔ایک بار پھر غصےٰ کی جگہ پیشمانی نے لے لی تھی۔جو کسی غیر مرئی نکتے پر نظریں جمائے بیٹھی گہری سوچ میں گُم تھی۔ ’’حیات!‘‘وہ نادم لہجے میں پُکار بیٹھا تھا۔۔وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی۔ ’’حیات !اُٹھو یہاں سے۔۔چل کر ناشتہ کرو۔۔کل سے کچھ نہیں کھایا ہے تم نے۔‘‘ وہ ایک بار پھر نرمی سے بولا تھا۔ ’’حیات!اُس نے نظر اُٹھا کر زخمی نگاہوں سے افگن کی جانب دیکھا تھا،جو آنکھوں میں نرم سا تاثر لئے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔ ’’اٹھو!‘‘اپنی انا کو سائیڈ پر رکھتا وہ مزید گویا ہوا۔ ’’مجھے نہیں کرنا کوئی ناشتہ۔۔اور دنیا دکھاوے کے لئے زیادہ ڈرامے کرنے کی ہر گز ضرورت نہیں ہے،سمجھے آپ۔‘‘وہ درشت لہجے میں غرائی تھی۔اس کی کشادہ پیشانی پر بلوں کا ایک جال سا بُن گیا تھا۔ ’’میں مزید کوئی فضول گوئی سُننے کے موڈ میں ہر گز نہیں ہوں۔۔اُٹھو اور چل کر ناشتہ کرو۔زمہ داری ہو تم میری۔۔اور میں اپنی زمہ داریوں سے دامن بچانے والا شخص ہر گز نہیں ہوں سمجھیں۔‘‘وہ ُرخ پھیر گئی تھی۔افگن کا ضبط جواب دے گیا تھا۔ ’’ اٹھو حیات!نیچے چلو کیا تمہیں میری ایک بات سمجھ میں نہیں آرہی۔‘‘وہ ایک جھٹکے سے کھڑا کرتا، اپنے مقابل لے آیا تھا۔نشست چھوڑتے ہی اُسے اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ ’’ جاکر چینج کروپہلے۔‘‘اس پر ایک تنقیدی نگاہ ڈالتا وہ ڈریسنگ روم کی جانب لے جانے لگا تھا۔جو زبردستی اس کی سخت گرفت سے اپنا ہاتھ چھوڑاتی تیزی سے واشروم کی جانب بھاگی تھی۔افگن نے ناسمجھی سے اس کی حرکت دیکھی تھی۔جبکہ وہ سنک میں جھکی مسلسل اُلٹیاں کر رہی تھی۔اب وہ پریشان سا قریب آیا۔ ’’کب سے بول رہا ہوں۔نیچے چل کر ناشتہ کرلو۔۔مگر تمہیں تو شاید کل سے میری کوئی بات سمجھ ہی نہیں آرہی ہے۔۔۔اب کرلی نہ طبیعت خراب۔‘‘ وہ اس کی کمر سہلاتا پریشانی سے بولا تھا۔جو اُلٹیاں کرتی دُھری ہوچکی تھی۔ ’’ ہاں نہیں سمجھ آرہی مجھے کوئی بھی بات۔۔اور برائے مہربانی اب میرا پیچھا چھوڑ دیں۔۔مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ۔۔کیا آپ کو میری ایک بات سمجھ نہیں آرہی۔‘‘‘ اُسے پیچھے کو دھکیلتی وہ درشت لہجے میں پُھنکاری تھی۔۔شیرافگن تاسف زدہ نظروں سے دیکھتا اپنا ماتھا سہلا کر رہ گیا تھا،اور واشروم سے باہر نکل آیا۔۔۔ ’’یہ اپنے کپڑے پکڑو۔۔اور دو منٹ کے آندر آندر کپڑے بدل کر باہر آؤ۔ بہت چلا لی تم نے اپنی۔۔۔ آگر یہاں رہنا ہے تو میری مرضی کے مطابق رہنا ہوگا۔۔ ورنہ اپنے پیرنٹس کو ڈھونڈلو ،میں تمہیں صرف ان کے حوالے کرونگا۔ورنہ یہاں سے جانے کا فتور اپنے دماغ سے نکال دو۔‘‘اُس کے کلئیر کٹ لہجے پر بُری طرح کھانستی حیات کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تھے۔ جو اگے بڑھ کر کمر سہلاتا اب خاموش تھا۔ ’’چلو۔‘‘وہ اُس کے لڑکھڑاتے قدموں پر سہارا دینے کے لئے آگے بڑھا تھا۔۔جو ہاتھ کے اشارے سے منع کرتی دیوار کا سہارا لیتی وہ روم میں واپس آئی تھی۔پھر اپنے لئے اپنی مرضی کا سیاہ رنگ کا پلین ڈریس لیتی ڈریسنگ روم میں بند ہوگئی تھی۔۔جبکہ پیچھے کھڑا وہ اس کی پشت دیکھتا رہ گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ کیا ڈرامے کر رہی ہو لڑکی۔نیچے مولوی صاحب آئے بیٹھے ہیں۔۔تمہارے آندر شرم و حیام نام کی کوئی چیز موجود ہے بھی یا نہیں؟‘‘دادی بیگم کڑے تیوروں سے باز پرس کرتیں اس کے لتے لینے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ ’’جب میں ایک بار انکار کر چکی ہوں۔تو بار بار ایک ہی راپ الاپنے کا کوئی فائدہ؟‘‘ وہ سرد لہجے میں استفساریہ بولی۔ ’’اوہ بی بی ہم تمہارے خاندانی ملازم نہیں ہیں۔۔جو ملکہ عالیہ کو راضی کرنےکے لئے آپ کے دربار میں حاضری لگانے کے لئے پیش ہونگے۔فٹا فٹ سے یہ دوپٹہ لو سر پر۔۔اور چلو میرے ساتھ۔‘‘نانی بیگم نے خوب اس کی طبیعت صاف کی تھی جو ازلی ہڈ دھرمی کا مظاہرہ کرتی لاپرواہ سی بیٹھی تھی۔ ’’بہت ہی سیدھی اور کھری سی بات ہے۔۔آگر اب آپ کو سمجھنے میں دقت پیش آرہی ہے تو یہ آپ کا مسٔلہ ہے،میرا نہیں۔‘‘وہ کندھے اُچکا گئی تھی۔ ’’ تم کیا بیٹا!یہ نکاح تو تمہارا باپ بھی کرے گا۔۔‘‘اُنہیں بھی جلال عودآیا تھا۔ ’’ٹھیک ہے،پھر آپ میرے مرحود والد صاحب کا نکاح پڑھوادیں۔۔کیونکہ میں تو یہ نکاح ہر گز بھی نہیں کرنے والی۔‘‘دادی بیگم نے منہ کھولے ہونقوں کی مانند اسے دیکھا تھا۔پاس کھڑی ہالہ نے مسکراہٹ ضبط کی تھی۔ ایک ہوتا ہے ڈھیٹ،پھر ماہا ڈھیٹ،اور ان سب کی سردارنی کا نام عابثہ اسماعیل ہے۔‘‘ ’’ مطلب تم ایسے نہیں مانو گی؟‘‘ وہ جیسے کسی نتیجے پر پہنچی تھی۔ ’’نہیں۔‘‘ ’’اوکے!چلو پھر ٹھیک ہے۔میں شاہویز کو بولتی ہوں۔۔وہ پھر خود تم سے نبٹ لے گا۔‘‘وہ دھمکی خیز لہجے میں بولی تھیں۔ ’’جی ضرور بھیجیں۔مگر پھر میری طرف سے کی گئی جوابی کاروائی کے لئے بھی تیار رہیے گا۔‘‘اُس کےآج آنداز ہی نرالے تھے۔ ’’آگر تم یہ سوچ رہی ہو کہ اس گھر سے فرار ہوجاؤگی تو یہ محض تمہاری خام خیالی ہے لڑکی۔‘‘ وہ اسے تنبیہ کرنا ہر گز نہیں بھولی تھیں۔ ’’نہیں میں ایسا ویسا کچھ نہیں کرونگی۔جو میرے کردار اور میرے ماں باپ کی تربیت کے لئے سوالیہ نشان بن جائے۔بلکہ میں ابھی 15 پر کال ملاؤنگی اور ڈی ایچ اے پولیس کو مطلع کرونگی کہ اس سوسائٹی میں ایک گھر ایسا بھی ہے جو ایک لڑکی کی بغیر اجازت اس کا نکاح زبردستی اُس کی دُگنی عمر کے کزن سے پڑھوانا چاہتے ہیں۔۔باقی تو آپ سمجھدار ہیں ہی نانی صاحب،کہ قانون آپ کے ساتھ کیا کرے گا،ڈی ایچ اے والے آگر آپ سے گھر خالی کرنے کا بول دیں تو سوچیں پھر کیا ہوگا۔‘‘نانی صاحبہ نے آنکھیں پھاڑ کر اُس کی دیدہ دلیری ملاحظہ فرمائی تھی۔ ’’اے لڑکی !کیا بکواس کر رہی ہو۔‘‘وہ سٹپٹا گئی تھیں۔ ’’جی درست بول رہی ہوں۔۔میں پہلے ہی کال ملا کر مطلع کر چکی ہوں۔۔آگر اگلے چار گھنٹوں میں نے انہیں تھانے میں جاکر رپورٹ نہ کیا تو پولیس خود چھان بین کے لئے یہاں آجائے گی۔‘‘اس نے مزید بم پھوڑے تھے۔ ’’ارے سُنو ذرا اس چھٹانک بھر کی لڑکی باتیں۔یہ تو ہمارے سروں میں مٹی ڈالنے کی ساری تیاریاں کئے بیٹھی ہے۔‘‘وہ جذباتی آنداز میں باآواز بلند شور مچاتی اس کے کمرے سے باہر نکل گئیں تھیں۔جبکہ عابثہ نے ہالہ کو بھی کمرے سے باہر نکال کر جلدی سے روم لاکڈ کیا تھا۔۔اور سُکھ کا سانس خارج کرتی وہ ایک بار
