Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 23
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 05/10/2025
4 Views
Episode no 23
کندھے تک ہی آتی تھی۔ ’’آہاں!!!بجافرما رہی ہیں آپ میری جان، دوسری بیوی۔تو پھر کیا خیال ہے باقی سب ضروری کاموں کے لئے بھی میں دوسری والی کو ہی نہ یاد کرلیا کروں۔کیا خیال ہے۔‘‘ اس بار حیات کا غصےٰ کی شدت سے سُرخ پڑتا چہرہ دیکھ اس کی شرارتی رگ پھڑک چکی تھی۔معنی خیزی سے قیاس کرتا وہ اسے مزید تپا گیا۔۔۔۔جس کے نم بالوں سے نکلتا پانی اب گردن پر پھسل رہا تھا۔۔ پانی کے قطروں کے ساتھ سفر کرتی اس کی بے باک نگاہوں پر وہ جھینپ کر رہ گئی تھی۔ ’’کہنا کیا چاہتے ہیں آپ؟‘‘ وہ گڑبڑا کر پُرزور آنداز میں مزاحمت کرتی اُس کی سخت گرفت سے نکلنا چاہتی تھی،جو اب باقاعدہ اس کے کمر کے گرد حصار قائم کرتا شرارت پر اُتر آیا تھا۔۔ ’’یہی کہ بیگم صاحبہ میرے آفس کے کپڑے آپ نکالیں گی یا پھر میں اُجالا کو یاد کرلوں؟‘‘ چہرے پر چپکی بالوں کی نم لٹ کو اُنگلی کی مدد سے پیچھے کرتاوہ شریر لہجے میں گویا ہوا۔۔آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔۔۔سیخ پا ہوتی حیات نے طیش میں اپنا پاؤں ُاس کے پاؤں پر دے مارا تھا ۔جیسے چنداں فرق نہیں پڑا تھا۔بلکہ وہ خود ہی دل مسوس کر رہ گئی تھی۔ ’’بس اتنی ہی برداشت تھی حیات بیگم ۔۔ویسے تو آپ کو خود پر بڑا گمان تھا،کہ میں آپ کو آپ سے زیادہ جانتی ہوں شیر افگن۔۔اور اب جب امتحان کا وقت آیا تو سب کی طرح تمہارے بھی تعزیہ ٹھنڈے پڑ گئے۔‘‘شیر افگن اس بار ذرا ناراض لہجے میں بولا تھا۔ ’’کیونکہ آپ ایک جھوٹے اور دھوکے باز انسان ہیں۔۔میں جس شیر افگن کو جانتی تھی وہ آپ کی طرح نہ تو جھوٹا تھا اور نہ ہی دھوکے باز۔۔۔بلکہ اب تو مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ آپ تھے بھی یا نہیں۔‘‘وہ درشتگی سے گویا ہوتی آخر میں طنزیہ آنداز میں مسکرائی تھی۔۔شیر افگن کی آنکھوں کا رنگ لمحوں میں تبدیل ہوا تھا۔ ’’اُدھر دیکھو میری طرف ،میں نے تمہیں کب دھوکا دیا؟‘‘اُس کے نظریں پھیر لینے پر وہ اسکا جبڑا پکڑ کر اس کا رُخ اپنی جانب کرتا سخت لہجے میں بولا تھا۔ ’’تو کیا نہیں دیا؟‘‘ وہ بھی اسی لہجے میں بولی تھی۔ ’’اُجالا سے شادی کرنے کا یہ مطلب ہے کہ میں نے تمہیں دھوکا دے دیا رائٹ؟‘‘بس اپنے بال مٹھیوں میں پکڑنے کی دیر رہ گئی تھی۔۔باقی وہ اُس کو اچھا خاصہ زچ کر چکی تھی۔ ’’آپ کہ نزدیک یہ کوئی بڑی بات نہیں ؟‘‘اُس کی آنکھوں میں آنسو اُمڈ آئے تھے۔ ’’ حیات یہ آنسو صاف کرو پہلے۔۔تمہیں معلوم ہے ناں کہ تم مجھے روتی ہوئی اچھی نہیں لگتیں۔‘‘ وہ خود ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو پونچھے لگا تھا۔ ’’خود آنسوؤں کی وجہ پیدا کرنے کے بعد آپ کا یہ اسٹیٹمنٹ اپنی وقعت کھو چکا ہے مسٹر؟‘‘ وہ اپنے چہرے کی جانب بڑھتا ہاتھ درمیان میں ہی تھام گئی تھی۔۔۔ ’’دوسری شادی کی ہے میں نے۔۔کوئی گناہ نہیں کیا۔۔اور میں نے کوئی دھوکا نہیں دیا ہے تمہیں،اُجالا کے ساتھ افئیر نہیں چلایا۔۔۔بلکہ سیدھا سیدھا نکاح میں لیا ہے۔‘‘ اُس کے چہرے کے اطراف میں اپنے دونوں ہاتھ رکھتا وہ شدید ضبط سے بولا تھا۔ ’’اوہ رئیلی گناہ نہیں ہے۔۔۔تو پھر میں مزید آپ کے ساتھ رہوں یا نہ رہوں۔۔یہ بھی میرا ذاتی فیصلہ ہے۔کوئی گناہ نہیں کر رہی میں بھی۔‘‘ وہ بھی جذباتیات سے کام لے رہی تھی۔ ’’حیات!اب آگر تم نے بکواس کی نہ تو میں برداشت نہیں کرونگا۔‘‘وہ دیوار پر ہاتھ مارتا درشتگی سے دھاڑا۔۔حیات سہم کر رہ گئی تھی۔۔مگر پھر بھی نڈر آنداز میں اس کی آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔۔ ’’تو نہ کریں نہ برداشت۔۔میں نے تو نہیں کہا کہ آپ میرا وجود برداشت کریں۔۔جاتو رہی ہوں اب میں۔۔چھوڑ تو رہیں ہوں آپ کی جان۔۔۔اب تو آپ کو خوش ہونا چاہئے۔۔فضول کا ڈھول آپ کے گلے پڑ گیا تھا۔۔جو بے مقصد بجانا پڑ رہا تھا۔‘‘ وہ اسے پورا ذور لگا کر پیچھے دھکیلتی چنگھاڑی تھی۔۔آواز خود ہی رندھ گئی تھی۔۔آنکھوں سے آنسو جھرنے کی مانند بہنے لگے تھے۔ ’’حیات فضول حرکتیں نہ کرو۔۔۔ہم اس معاملہ میں کو لے کر شام میں بات کریں گے۔‘‘حیات کو آپے سے باہر ہوتا دیکھ وہ ذرا سنبھل گیا تھا۔ ’’ کوئی بات نہیں ہوگی۔میں اب یہاں مزید نہیں رہونگی سنُا آپ نے۔‘‘ وہ یونہی غرائی تھی۔ ’’تم یہیں رہوگی سُنا تم نے۔‘‘وہ اسے بازؤں سے پکڑ کر جھنجھوڑ چکا تھا۔ ’’میں آپ کے ساتھ نہیں رہونگی۔۔ویسے بھی آپ شروع سے یہی بولتے آرہے ہیں کہ آپ وہ نہیں ،جیسے میں جانتی تھی تو پھر اس ان چاہے رشتے کو نبھانے کا کوئی مقصد نہیں رہا۔‘‘ حیات کی بس ہوگئی تھی۔ ’’بکواس کی تھی میں نے۔۔صرف تمہارا ضبط آزمانا چاہ رہا تھا،اور کچھ نہیں۔دماغ خراب ہوگیا تھا میرا۔‘‘ اس نے معاملہ کی سنگینی دیکھ جھوٹ کا سہارا لیا تھا۔ ’’پاگل نظر آرہی ہوں آپ کو۔۔یا پھر بیوقوف،جو آپ کے پیار میں اس قدر آندھی ہوگئی ہے کہ جھوٹ اور سچ کا فرق نہ کر سکے۔‘‘وہ تیزی سے چلاتی اب ہولے ہولے کانپنے لگی تھی۔ ’’حیات میری ایک بات کان کُھول کر سُن لو تم اور اُجالا دونوں میری بیویاں ہو۔۔اور اب دونوں ِاسی گھر میں ایک ہی چھت کے نیچے رہو گی سمجھیں۔۔‘‘ آنکھیں میچ کر خود پر ضبط کے کڑے پہرے بیٹھاتا وہ متوازن لہجے میں گویا ہوا تھا۔ ’’میں یہاں نہیں رہونگی،سنُا آپ نے۔‘‘وہ بیدردی سے گال رگڑتی باغیانہ لہجے میں بولی۔ ’’حیات!‘‘وہ ضبط سے اپنی مُٹھی بند کر گیا تھا۔ ’’ذرا فرض کریں کہ آگر آپ کی جگہ میں ہوتی،اور میں کسی اور کے ساتھ۔۔۔۔۔۔‘‘اُس کے سخت لفظ لبوں پر ہی اَدھورے رہ گئے تھے۔اُس کے چہرے کی جانب اُٹھتا ہاتھ وہ ضبط سے ہوا میں ہی روک گیا۔۔ کل رات سے لے کر اب تک یہ دوسرا تھپڑ تھا جو شیر افگن ہاشمی نے اس کے چہرے پر نہیں مارا تھا۔۔۔مگر پھر بھی وہ روح پر جاکرلگا تھا۔۔ "جب ہاتھ اُٹھا ہی لیا تھا تو گویا مار بھی لیا۔۔ہاتھ روک کیوں لیا۔۔مار بھی لیں ناں۔۔"وہ بے یقینی کی سی کیفیت سے دوچار کتنے ہی لمحے سکِت میں رہ گئی تھی۔اس کی چنگھاڑ پہ افگن نے بامشکل ضبط کیا۔۔ ’’اب بس بہت بول لیا تم نے۔۔۔اور میں نے سُن لیا۔۔آگر اب تم نے اپنے منہ سے ایک الفاظ بھی مزید نکالا تو پھر یاد رکھنا۔میں تمہارا وہ حشر کرونگا کہ تم عمر بھر یاد رکھوگی۔‘‘اِسے گھسیٹ کر باہر لاتا وہ جھٹکے سے بیڈ کی جانب دھکیلتا خود روم سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔جبکہ وہ اب نہ رو رہی تھی۔۔نہ ہی چلا رہی تھی۔۔بلکہ اپنے تپتے گالوں پر ہاتھ رکھے خاموش بیٹھی تھی۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔
