Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 23
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 05/10/2025
4 Views
Episode no 23
#دھوپ_چھاؤں__سا_ہرجائی #لکھاری_ہما_قریشی #قسط_نمبر_۲۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ لمحات کی تاخیر سے ہال میں واپس داخل ہوا،جہاں ناصر صاحب اور زرین بیگم پہلے سے موجود شاید اُسی کے منتظر تھے۔مگر دونوں کی نگِاہوں میں افسوس واضح نظر ارہا تھا۔۔وہ شرمندہ سا سب سے نظر بچاتا ہوا وہاں سے نکلنےہی لگاتھا کہ سامنے سے آتی اُجالا کو دیکھا ٹھٹھک گیا۔۔جو زردیاں گُھلے چہرے پہ سپاٹ تاثرات سجائے سوٹ کیس ٹرالی کو کھینچتی ہوئی نزدیک آرہی تھی۔نگاہوں میں تعجب اُبھر آیا تھا ۔جو قدم با قدم نزدیک آتی قریب آکر ٹھری تھی۔ ’’کہاں جارہی ہیں آپ محترمہ؟‘‘وہ صبح صبح ایک کے بعد ایک ہونے والے تماشے کے باعث زچ ہوتا طنزیہ لہجے میں استفساریہ گویا ہوا تھا۔۔۔ ’’افگن گزشتہ رات جو کچھ بھی ہوا،میں ذاتی طور پہ اس سب تماشے کے لئے تم سے اور حیات دونوں سے بے حد شرمندہ ہوں۔۔مگر یہ جو سب کچھ اب ہورہا ہے۔۔وہ میرے لئے ناقابلِ برداشت ہے۔۔میں کوئی گئی گزری لڑکی ہر گز نہیں ہوں۔۔جو کسی کی بھی فضول گوئی برداشت کرلونگی۔یا پھر لوگوں کی حقارت زدہ یا تراحم خیز نظروں سے آنکھیں پھیرلونگی۔۔دنیا دکھاوے کو ہی سہی مگر کل ہمارا نکاح ہوا تھا۔کوئی گناہ نہیں کیا ہے ہم نے۔بہتر ہے کہ تم پہلے اپنی فیملی کو سنبھال لو۔ہم اس معاملہ کو بعد میں سُلجها لیں گے۔۔۔۔اور تم میری فکر نہ کرو میں خود کو بہت اچھے سے ہینڈل کر سکتی ہوں۔‘‘ سیڑھیاں اُتر کہ آتی حیات نے ذرا ناگواری سے یہ منظر دیکھا تھا۔جہاں وہ افگن کے بے حد قریب کھڑی کسی بات پہ ہولے سے مسکائی تھی۔۔۔۔ ’’اس لئے فی الحال میرا یہاں سے چلے جانا ہی بہتر ہے۔‘‘وہ مزید بولی تھی۔افگن کے چہرے سے تاثرات میں یکا یک تبدیلی رونما ہوئی تھی۔ ’’کل رات سے لے کر صبح طلوع صادق تک ہاشمی ولا میں جتنے تماشے رونما ہوچکے ہیں،کیا ان تمام کاروائیوں سے لطف انداوز ہونے کے باوجود تمہارا دل نہیں بھرا۔جو اب ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا؟‘‘ وہ غصےٰ میں زرا سخت لہجے میں بولا تھا۔۔۔ ’’تم بات سمجھنے کی کوشش کرو شیر افگن۔۔حیات کے لئے یہ سب برداشت کرنابہت مشکل ہے۔۔۔وہ بیوی ہے تمہاری۔۔۔‘‘وہ سمجھانے کی غرض گویا سے ہوئی۔۔جبکہ حیات چہرے پہ نافہم تاثرات سجائے کھڑی تمام تر صورت حال سمجھنے سے قاصر تھی۔ ’’سیدھی بات کروتم کہنا کیا چاہتی ہو؟‘ضبط کے باعث لب بھینچے سختی سے باز پرس پر اُتر آیا تھا۔ ’’میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں۔‘‘وہ مقابل کی گہری سمندری آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈالے نرمی سے گویا ہوئی تھی۔۔وہ پیشانی مسلتا آنکھیں میچ گیا۔۔ ’’اُجالا بیٹا آپ اپنے روم میں جائیں۔۔آپ اب اس گھر کی عزت ہیں۔۔ہماری بیٹیوں کی مانند ہیں۔۔‘‘اس سے قبل کہ افگن کچھ بولتا ناصر صاحب کی مداخلت پر لب بھینچ کر رہ گیا۔۔۔ ’’انکل مگر میں یہاں۔‘‘شرمندگی سے دوچار لب چباتی وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی۔ ’’سمجھ نہیں آئی تمہیں۔کیا کہ رہے ہیں بابا۔‘‘افگن کی سخت تنبیہ نگاہوں میں جھانکتی وہ خاموش رہ گئی تھی۔ ’’افگن تم ان سب سے حقیقت چھپا کراپنےساتھ بہت غلط کر رہے ہو۔۔دیکھنا بہت پچھتاؤگےتم ۔‘‘مایوسی سے دھیمی سی آواز میں سرگوشیانہ قیاس کرتی وہ تاسفی لہجے میں گویا ہوئی تھی۔ ’’تم کمرے میں جاؤ۔۔اور فضول کی فکریں کرنا چھوڑ دو۔۔۔میں سب سنبھال لونگا ۔‘‘وہ احساس سے عاری لہجے میں اس کا گال تھپتپاتادو قدم آگے بڑھا تھا۔جبھی تپش زدہ نظروں کاآرتكاز تھا کہ نظریں حیات کی شکوہ کُن نگاہوں سے جا ملی تھی۔جو سب کو ایک تیز نگاہ سے نوازتی دهپ دهپ قدم اُٹھاتی اُلٹے قدموں واپس پلٹ گئ تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیات روم میں داخل ہوتی سیدھی واشروم میں بند ہوگئی تھی۔جانتی تھی کہ شیر افگن نے اب اُس کے پیچھے ہی آنا تھا۔توقع کے عین مطابق وہ روم میں داخل ہوا تو خالی کمرہ اس کا منہ چڑا رہا تھا۔۔۔ ’افف!مجھے لگتاہے کاروبار تو اب گیا تیل لینے۔۔میں ان دونوں کے بیچ میں ہی پس کر رہ جاؤنگا۔‘‘زِیر لب بڑبڑاتا وہ آفس کے لیے تیار ہونے کے ارادے سے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا تھا،جہاں حیات نے نہ تو اس کے لئے آفس کے کپڑے نکال کر رکھ تھے اور نہ ہی کوئی چیز ترتیب سے اپنی جگہ پر موجود تھی۔۔اُس کے فنکشن میں زيب تن کیے جانے والے ڈریس سمیت سب کچھ بکھرا پڑا تھا۔۔۔ ’’حیات!حیات جلدی باہر آؤ۔اتنی دیر سے آندر کیا کر رہی ہو یار۔۔۔۔‘‘وہ غصےٰ میں واشروم کا دروازہ بجاتا زرا تیز لہجے میں پُکارنے لگا تھا۔۔ وہ جو ابھی شاور لے کر فارغ ہوئی تھی شیر افگن کی آواز پر کُڑ کر رہ گئی۔۔۔۔ ’’جی آرہی ہوں۔۔میرا بھی یہاں قیام کرنے کا ہر گز بھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘‘ آندر سے جلتی بھُنتی آواز پر وہ مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔ٹھیک دو منٹ بعد کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا تھا۔اور وہ گیلے بالوں میں تولیہ لپیٹے اپنے دلکش اپیلنگ سراپے سے لاپرواہ اس کے نگاہوں کے سامنے موجود تھی۔۔جس کا دروزہ بجانے کے لئے اُٹھایا گیا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا تھا۔نگاہیں اُس کے نم چہرے سے ہوتیں مکمل سراپے سے جا پھسلی تھیں۔جو باتھ گاؤن کی ڈوریاں کستی اسے گھور کر جان بوجھ کر پیچھے کو دھکا دیتی واشروم سے باہر آئی تھی۔۔۔۔ ’’صبح صبح بندہ واشروم میں نہانے کے لئے جاتا ہے گھر بنانے کے لئے۔۔جو آپ پہراداری کرنے میں مصروف ہوگئے تھے۔‘‘‘اپنے بالوں کو تولیہ سے آزاد کرواتی وہ طنزیہ بولی ۔وہ جو دو لمحوں کے لئے خاموش سا رہ گیا تھا۔گڑبڑا کر ہوش میں آیا تھا۔۔۔ ’’ادھر آؤ ذرا۔‘‘وہ اس کی زبان درازی نظر انداز کئے،جھلبلا کر لب آپس میں پیوست کرتا اس کا ہاتھ تھامے ڈریسنگ روم میں داخل ہوا تھا۔۔جہاں فرش پہ پڑی اُس کی میکسی ،اور جگہ جگہ بکھری چیزیں اُس کا دماغ جھنجھنا گئی تھیں۔۔۔۔ ’’کیا ہے یہ سب۔‘‘اپنے سخت حصار میں قید کئے اسے دیوار سے لگائے خود حد سے زیادہ نزدیک کھڑا ،درشت لہجے میں سوالیہ بولا ،جو لاپرواہی کا مظاہرہ کرتی کندھے اُچکا گئی۔۔۔دونوں کے درمیان بس انچ بھر کا فاصلہ قائم تھا۔۔ ’’ میں پوچھ رہا ہوں یہ سب کیا گند مچا رکھا ہے حیات تم نے؟‘‘ بلاخر وہ ضبط نہ کر سکا تھا۔ ’’کونسا گند؟‘‘وہ حیرانگی سے بولی۔ ’’یہ سب۔۔یہ تمہارا ڈریس،اور یہ سینڈلز،یہ سب بکھرے کیوں پڑے ہیں۔۔ یہ سب سنبھال کر رکھنے کی چیزیں ہوتی ہیں۔پھینکنے کی نہیں۔اور تم اچھے سے جانتی ہو،کہ مجھے گندگی سے کس قدر چڑ ہے۔‘‘وہ راہ فرار تلاش کرتی حیات کو بازو سے پکڑ کر واپس دیوار سے لگتا گھور کر طنزیہ لہجے میں غرایا۔۔۔ "آگر آپ کو گندگی سے اتنی ہی چڑ ہے تو یہ سارا پھیلاوا خود سمیٹ لیں۔۔میں نوکر نہیں ہوں آپ کی۔‘‘اُس کی سخت گرفت سے اپنا مومی ہاتھ آزاد کرواتی وہ دوبدو ہوئی تھی۔.. ’’نوکر نہیں ہومائے لو ۔۔مگر بیوی تو ہونا میری۔۔اور یہ سب گند تمہارا پھیلایا ہوا ہے تو پھر صاف بھی تمہیں ہی کرنا پڑے گا۔‘‘اس کا گال سہلاتا وہ ذرا نرم لہجے میں گویا ہوا تھا۔معاً وہ استہزائیہ آنداز میں مسکرائی تھی۔۔ ’’آگر آپ بھول رہیں تو میں آپ کو یاد دلا دیتی ہوں کہ اب آپ کی ایک نہیں بلکہ دو دو بیویاں موجود ہیں شیرافگن ہاشمی صاحب۔۔۔بہتر یہی ہے کہ اب آپ ان کاموں کے لئےبھی اپنی دوسری زوجہ محترمہ کو ہی یاد کیا کیجئے۔‘‘خود پر سایہ فگن شیر افگن کی محبت سے لبریز نگاہوں میں زرا سی نگاہیں اُٹھا کر ڈالتی وہ لفظ چبا چبا کر بولی تھی۔۔جو اس سے قد کاٹھ میں خاصہ اونچا اچھی خاصی جسامت کا مالک تھا۔۔وہ بامشکل اس کے
