Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 20
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/10/2025
5 Views
Episode no 20
درد پر ضبط کی آخری حدود کو چھوتی غصہٰ سے چنگھاڑ اُٹھی تھی۔مقابل کھڑے اس کے شوہر کا غصے کے مارے بُرا حال ہوگیا تھا۔۔ ’’خاموش ہوجاؤ۔۔۔بالکل خاموش ہوجاؤ حیات شیر افگن ہاشمی اس سے قبل کے میں ہمارے رشتے کا لحاظ بھول جاؤں۔۔۔‘‘اس کا ہاتھ ہوا میں ہی بلند رہ گیا تھا۔۔وہ مرد تھا اور حیات کے اس قدر سخت لفطوں نے اس کی انا کو بُری طرح سے للکارا تھا۔۔۔۔مٹھیاں بھینچ کر بُری طرح جهنجهوڑنے پر بے یقینی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔جہاں غصہٰ ہلکورے لے رہا تھا۔اُجالا خاموشی سے روم سے نکل آئی تھی۔۔وہ اسکے لفظوں پر خود پر ضبط نہیں کرسک رہا تھا۔جو بس بولے جارہی تھی۔۔ ’’جاؤ یہاں سے۔‘‘اب وہ بولا نہیں تھا۔۔بلکہ دھاڑا تھا۔۔جبکہ وہ کپکپاتی ہوئی بھاگ کر واشروم میں بند ہوگئی تھی۔ختم ہوگیا تھا۔۔۔سب ختم ہوگیا تھا۔۔۔اس کی محبّت اس کا شوہر ،حیات کاظمی کا عشق اب ان چاہتوں کو کوئی اور حصّے دار بن گیا تھا۔۔۔ شیر افگن نے آنکھیں میچ کر خود کو کنٹرول کیا تھا۔۔سر درد سے پھٹا جارہا تھا۔تمام ترحالات اس کے ہاتھوں سے نکلتے جارہے تھے۔آخر یہ سب ہوکیا رہا تھا۔۔وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔۔حیات اس کی سچوشن سمجھنے سے انکاری تھی۔۔وہ اپنی زات کی اس قدر ہتک آمیز نفی آخر کر بھی کیسے سکتی تھی۔۔ اپنے ہاتھوں کو دیکھتا شدید قسم کے گلٹ میں مبتلہ تھا۔۔اسے لگتا تھا عورت پر ہاتھ اُٹھانے والے مرد کمزور اعصاب کے مالک ہوتے ہیں تو کیا وہ بھی ان میں سے ایک تھا؟‘‘اس وقت وہ خود بھی اپنی زہنی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھا۔۔وہ تو اپنے دماغ میں پلتاخلفشار اس پر اُنڈیلتی وہاں سے جاچکی تھی۔۔مگر آخروہ کیا کرتا؟ ’’ارتضٰی۔۔‘‘یہ واحد نام تھا جو ہر اچھے برے حالات میں بلا جھجھک اسے یاد آتا تھا ۔۔مگر اس سے قبل اس کا دماغ ٹھکانے لگانا بھی ضروری تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واشروم میں موجود حیات کتنی ہی دیر تک قسمت کی اس ستم ظریفی پر ماتم کناں رہی تھی۔ آخر کیوں؟؟؟ہمیشہ اس کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا تھا۔۔بے انتہا پیار کرنے والے رشتے اسے ہمیشہ تنہا کیوں کر جاتے تھے ۔۔حیات کاظمی سب کچھ برداشت کر سکتی تھی۔۔مگر شراکت داری نہیں۔۔اور یہ شخص سمجھتا کیوں نہیں تھا۔۔کہ وہ اس کے لئے کس قدر اہمیت کا حامل رہا تھا۔۔وہ اس شخص کی خاطر اپنے ماں باپ اپنے خونی رشتوں کو ٹھکرا آئی تھی۔۔اور وہ کہتا تھا کہ وہ ایک وکٹم ہے۔۔۔‘‘یہ محض لفظ نہیں تھا۔۔تماچہ تھا۔۔خود کے لیے کسی کا ایک حرف نہ برداشت کرنے والی حیات کاظمٰی گزرے چند ماہ میں کیسی کیسی اذیتیں برداشت کر چکی تھی۔۔وہ افگن کو کہ آئی تھی کہ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر کاش کہ وہ واشروم کا دروازہ کھول کر روتی بلکتی،بکھرتی،سسکتی حیات کاظمی کا وجود دیکھ لیتا جو اس کی محبت میں گرفتار خود کو فنا کرچکی تھی۔۔۔جسم میں سانس باقی تھی جزبات مردہ ہوگئے تھے۔یہ سوچ کر ہی سانس سینے میں آٹکنے لگتا تھا کہ آخر کیسے؟؟؟ ’’آخر کیسے برداشت کر پائے گی وہ شیر افگن کے ساتھ کسی دوسری لڑکی کو۔۔وہ ایک لمحے کے لئے اپنے وجود سے غفلت نہ برداشت کرنے والی آج پوری پوری اپنے شوہر کو کسی اور کو سونپ آئی تھی۔۔ رات کا نجانے کونسا پہر چل رہا تھا۔۔ جسم پر موجود لباس جو وہ بہت چاہت اور محبت سے خرید کر لایا تھا وہ اپنی بے وقعتی پر بالکل اس کے نصیب کی طرح خاموش ہی تھا۔۔ تن کے کپڑے فرش پر پڑے پڑے یونہی خشک ہوگئے تھے۔باتھ ٹب کے پاس بکھرے اُجالا کے کپڑے اسے بکھرے تھے گویا جیسے زبردستی کسی نے تن سے جدا کئے ہوں۔اور بس یہاں آکر اس کا ضبط جواب دے گیا تھا۔۔خون آلود آنکھوں کو مسلتی وہ روم میں آئی تھی۔۔جہاں کی سجاوٹ جوں کی توں تھی۔۔اپنی لڑائی میں مگن دونوں،تینوں فریقین نے ہی اس دن کی خاصیت پر توجہ دینی ضروری نہیں سمجھی تھی۔ دو حصوں میں بٹے کمرے کی مدھم روشنی بھی اسے آج اپنے وجود کی طرح بٹی ہوئی لگ رہی تھی۔۔جبکہ وہ ستمگر غائب تھا۔۔ سانس سینے میں اٹکنے لگا تھا۔۔یہ سوچ ہی جان لیوا تھی کہ وہ اس کی موجودگی میں بھی اُجالا کے پاس موجود تھا۔۔وہ کتنی آسانی سے اس کے مان کی دھجیاں بکھیر چکا تھا۔۔ دیوار سے ٹیک لگا کر فرش پر بیٹھتی و ہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔۔۔۔اب شیر افگن کے کمرے میں حیات تھی اور اس کی دلسوز چیخیں جو کسی بھی زی روح کا دل چیر سکتی تھیں۔۔مگر اس کی ’’آہ ‘‘ پر تڑپ اُٹھنے والا اس کا محبوب شوہر اس کے درد و کرب سے ناواقف اپنی دوسری بیوی کے پاس موجود تھا۔۔۔دل میں ہوک سی اُٹھی تھی۔۔کاش کے یہ سانس آخری سانس ہوتی کہ شیرافگن ہاشمی کو حیات کاظمی کی دیوانگی کا زیادہ نہیں تھوڑا ہی احساس ہوجاتا۔۔مگر کاش۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔
