Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 20
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/10/2025
5 Views
Episode no 20
#دھوپ_چھاوں__سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_۲۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "حیات یار میری بات تو سُنو!‘‘شیرافگن کے لہجے سے ندامت واضح تھی۔ ’’شیر افگن ہاشمی میں یعنی حیات کاظمٰی آپ کے نکاح میں ہوں۔۔صرف اس لئے آپ کی ایک پکار پر آپ کے ساتھ چلی آئی ہوں۔۔مگر برائے مہربانی آپ کسی قسم کی خوش فہمی کا شکار نہ رہیے گا کہ میں آپ کے غم میں مری جارہی تھی۔یا پھر مجھے آپ کی کسی بھی قسم کی فضول حرکت سے کوئی فرق پڑتا ہے۔‘‘حیات کے کپکپاتے لہجے میں ٹوٹے کانچ کی سی چبھن تھی۔۔۔شیر افگن نے ضبط سے آنکھیں میچ لی تھیں۔آخر یہ لڑکی اسے سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کر رہی تھی۔ ’’میں تمہیں کوئی صفائی پیش نہیں کرونگا حیات،مگر بس اتنا جان لو،کہ میں کبھی تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کر سکتا۔۔جس روز تم سے نکاح کیا تھا۔۔اسی روز تمہیں اپنی بیوی مان لیا تھا۔۔مانا کہ میں اُجالا کو پسند کرتا تھا،وہ میری یونیورسٹی کے زمانے کی محبت رہی ہے۔۔اور اس عمر میں تو انسان کو بہت سی محبتیں ہوہی جاتی ہیں۔۔مگر یاد رکھنا،عشق میں نے صرف اپنی بیوی سے ہی کیا ہے۔‘‘حیات کو کندھوں سے تھامتا وہ اپنے مُقابل لے آیا تھا۔وہ چہرہ پھیرتی طنزیہ مسکرائی تھی۔۔۔۔ ’’بالکل دُرست کہا آپ نے شیر افگن صاحب،آپ کی ایک دل پشوری کی وجہ آپ کی پہلی بیوی ہے جبکہ یونیورسٹی کی نادانی دوسری بیوی کی صورت آپ کے گھر میں موجود ہے۔واہ ‘‘وہ دُکھ کی شدت سے کپکپاتے لہجے میں گویا ہوئی۔مگر پھر بھی خود کو بھرپور طریقے سے مضبوط ثابت کرنے میں کوشاں تھی۔۔۔ ’’حیات اس سارے قصّے میں میرا کوئی قصور نہیں ہے یار۔۔تم میری بات کا یقین کیوں نہیں کرتی ہو۔"حیات کی مسلسل ایک ہی گردان پر اسے ایک بار پھر طیش عود آیا تھا۔سختی سے کندھوں سے تھامتا وہ اپنا یقین دلانا چاہ رہا تھا۔ ’’ہونہہ۔۔۔جس نے بھی کیا تھا آفگن ہاشمی مگر حیات کاظمٰی برباد آپ کے نام پر ہی ہوئی ہے۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرائی تھی۔۔اب وہ رو نہیں رہی تھی۔۔ہمیشہ کی طرح کمزور نہیں پڑی تھی،بلکہ وہ اس کے مقابل کھڑی اپنے حق کی جنگ لڑ رہی تھی۔۔ "ویسے میری جیسی لڑکی کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔۔میرے جیسی بدکردار لڑکی یہی کچھ ڈیزرو کرتی ہے۔"وہ دُکھ سے استہزائیہ مسکرائی تھی۔۔ ’’حیات اب تم زیادتی کر رہی ہو۔اپنے بارے میں ایسے الفاظ کا استعمال کرکے تم مجھے تکلیف پہنچارہی ہو۔۔میرے جذبات کا مزاق اُڑا رہی ہو۔‘‘وہ لہجے میں ناگوار ی سموئے اسے احساس دلانا چاہتا تھا۔ ’’جذبات۔۔۔۔شیر افگن ہاشمی یہاں آپ نے بھری دنیا کے سامنے میری ذات کا تماشہ بنا ڈالا۔۔اس کا حساب کون دے گا۔۔بولیں۔‘‘وہ یکایک اشتعال میں آتی شدت سے دھاڑی تھی۔ ’’حیات تم سمجھ کیوں نہیں رہی ہو۔اُجالا کو میں نے صرف مجبوری کے تحت اپنایا ہے۔‘‘وہ زچ ہوتا اپنے بال مٹھیوں میں جکڑنے کے در پر تھا۔ ’’ یہ بالکل سچ بول رہا ہے حیات۔۔۔۔ فکر نہیں کرو،یہ ابھی بھی صرف تمہارا ہی شوہر ہے۔‘‘ حیات کی نظریں عقب سے اُبھرتی آواز کی متلاشی پیچھے گھومی تھیں اور اُجالا کے وجود سے اُلجھ کر رہ گئی تھی۔۔ شدت گریہ سے سُرخ پڑتی آنکھوں میں ناگواری اُتر آئی تھی۔ جو واشروم کے دروازے کے پاس کھڑی اس کے لباس میں موجود تھی۔اُس کا بھیگا بھیگا سا سرآپا دیکھ افگن اپنی نظریں پھیر گیا تھا۔۔ ’’اُجالا تم یہاں۔‘‘حیات کی آنکھوں سے نکلتی چنگاریاں دیکھ وه فورا سنبھلا تھا۔۔شیر افگن کو بھی اُجالا کا اس طرح حیات کے کپڑے زیب تن کرنا اور اس کی موجودگی خاصی ناگوار گزری تھی۔۔۔وہ اپنے سراپے سے لاپرواہ حیات کے غصّے کو مزید ہوا دے چکی تھی۔۔ ’’ہاں دراصل آنٹی زبردستی لے آئی تھیں ،مجھے یہاں پہ۔۔خیر آپ دونوں فکر نہیں کریں میں گسیٹ روم میں جارہی ہوں۔۔۔پرائیوسی میں دخل آندازی کی معذرت چاہتی ہوں۔‘‘وہ ندامتی لہجے میں شرمسار سی گردن جھکائے ان دونوں نفوس کو یونہی جامد و ساکت چھوڑ روم سے باہر نکلنے ہی لگی تھی۔کہ سماعتوں سے ٹکراتی حیات کی تیز آواز پر اس کے بڑھتے قدم زمین نے جکڑ لئے تھے۔۔۔ ’’مسز شیر افگن ہاشمی کہاں جارہی ہیں آپ۔۔یہ کمرہ حیات کاظمٰی سے زیادہ آپ کی ملکیت ہے۔کیونکہ آپ تو شیرافگن کے دل میں بھی ہیں اور نکاح میں بھی۔۔تو بہتر ہے کہ آپ اس کمرے ٹھریں۔۔ویسے بھی میں چند دنوں کی مہمان جلد یہاں سے چلی جاؤنگی۔۔تو اصل مکین دربدر ہوں یہ بات کچھ اچھی نہیں لگتی۔‘‘ چبھتے ہوئے لہجے میں شیرافگن کی نگاہوں میں اپنی تیز نگاہیں گاڑتی دانت کچکچاکر بولتی وہ روم سے باہر نکلنے لگی تھی۔۔۔ ’’کیا بکواس ہے یہ حیات۔۔۔وہ جارہی ہے ناں،،تمہیں کیوں خدمت خلق کا شوق چڑھا ہوا ہے؟اور یہاں سے جانے والا فتور اپنے دماغ سے نکال دو۔۔‘‘ اب وہ اس کی مسلسل ڈرامے بازیوں پر سیخ پا ہوا تھا۔ ’’اچھا تو آپ کو کونسا خد مت خلق کا بھوت سوار ہوا تھا کہ عین ہمارے ولیمے والے دن آپ نے اِنہیں اپنے نکاح میں لے لیا؟‘‘ سینے پر بابزو لپیٹتی وہ باز پرس پر اُتر آئی تھی۔ ’’ہوگئی تمہاری بکواس اب شاباش فٹا فٹ چینچ کرو۔۔اور سوجاؤ۔۔مزید کوئی بکواس آفورڈ نہیں کر سکتا میں۔‘‘وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر ڈریسنگ روم کی جانب دھکیل چکا تھا۔وہ منہ کھولے ہونق ہوئی جو اب اُجالا کی جانب بڑھا تھا۔ ’’اُجالا سوری یار ،اس کی عادت ہے بغیر سوچے سمجھے فضول گوئی کرنے کی۔۔ویسے بھی ابھی صدمے میں ہے۔۔کچھ ٹائم دو ،خود ٹھیک ہوجائے گی۔۔تم گیسٹ روم میں جاؤ۔۔میں نے تمہارا سامان وہاں سیٹ کروادیا ہے۔‘‘وہ اُجالا کے نزدیک آتا لہجا ہموار کئے نرمی سے گویا ہوا تھا۔ ’’کیوں وہ کیوں جائے گی گیسٹ روم میں۔۔ تمہاری بیوی ہے تمہارے روم میں رہے گی۔۔ گیسٹ روم میں آگر کوئی جائے گا تو وہ میں ہوں۔ اور ویسے بھی ایک وکٹم کو مجبوری کے تحت اپنے نکاح میں لیا تھا آپ نے۔۔جس کے ساتھ اس رات نجانے کیا کچھ ہوا تھا۔۔آخر کیا معلوم ہے آپ کومیرے بارے میں۔۔۔مجھ پر کونسی قیامت برپا ہوئی تھی۔۔۔تو پھر اس ترس کو محبت کا نام دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے سمجھے۔‘‘وہ ایک لمحے میں آپ سے تم پر آئی تھی۔۔جبکہ اس کی زبان سے ادا ہونے والے سخت لفظوں پر شیر افگن کا دماغ جھنجھنا اُٹھا تھا۔ ’’حیات کیا بکواس کی ہے تم نے ابھی۔۔تم میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹُھا رہی ہو۔‘‘وہ برق رفتاری سے اس کے قریب آتا سختی سے غرایا تھا۔ ’’ناجائز فائدہ۔۔۔سریسلی۔‘‘ وہ اس کے چہرے پر چھائی کرختگی دیکھنے کے باوجود بھی ڈھیلی نہیں پڑی تھی۔جبکہ اُجالا ان دونوں کے درمیان ہوتی گفتگو سے انجانے سمجھنے میں کوشاں تھی۔۔آخر حیات خود کو وکٹم کیوں کہ رہی تھی۔ ’’میں بکواس کر رہی ہوں۔۔تو پھر وہ سب کیا ہے شیر افگن ہاشمی جو سب کچھ تمہارا دوست کہ رہا تھا میرے بارے میں۔۔میرے کرادر کے بارے میں۔۔میں تو ایک کریکٹر لیس لڑکی ہوں ناں جو پیسہ اور عیش و عشرت کے لئے تمہارے پیچھے پڑ گئی تھی۔۔اور تم نے خدا ترسی میں مجھے اپنا نام دے دیا تھا۔۔ میں تو کسی کی’’ استعمال شدہ پروڈکٹ ‘‘ہوں۔۔ایک وکٹم ہوں۔۔جو افگن ہاشمی کے نام پر جانے کس کی ہراسگی کا شکار رہی ہے۔۔ میں تو بہت گئی گزری لڑکی ہوں ناں۔۔جس پر رحم کھایا تھا تم نے۔۔اور اب پوری دنیا میں اپنی اچھائی کا ڈنکا بجاتے پھر رہے ہو۔۔کہ دیکھو یہ وہ بیوقوف لڑکی ہے جو خود میری جھولی میں آگری ہے۔۔ کسی کا کھلونا ،اور اب میرا بھی۔۔یہی سب کہا ہے ناں تم نے اپنے دوست سے میرے بارے میں۔‘‘وہ دل کے بڑھتے
