Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 17
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/10/2025
4 Views
Episode no 17
ہے؟"خود کو گرنے سے بچاتی حیات نے گھور کر اُیسے دیکھا تھا۔ "کیا مطلب ہے بھئی۔۔۔میں کہ رہا تھا تمھیں تو میں اتنے روز سے گفٹ ہی دے رہا ہوں۔تم مجھے کب کوئی گفٹ دوگی۔"وہ بیڈ پر بکھرے سامان کو ایک طرف کرتا گرنے کے انداز میں لیٹ گیا تھا۔ "میں کیا گفٹ دوں آپ کو۔۔ "وہ ناسمجھی سے بولی تھی۔ "هممم۔۔۔۔آپ بھول گئی ہیں حیات بیگم۔۔"شیرافگن معنی خیری سے آنکھ کا کونا دبا کر شرآرت سے گویا ہوا تھا۔ "ہی ہی ہی!!یہ حسرت آپ کی کبھی پوری نہیں ہونے والی۔"حیات نے چڑانے والے انداز میں بول کر منہ بنایا تھا۔۔ "ہاہاہا!کوئی بات نہیں میں یہ خواہش خود پوری کرلونگا۔ویسے بھی آج تو ماما بابا بھی گھر پر نہیں ہیں۔۔سارے ملازمین کو میں چھٹی دے چکا ہوں۔اب تو اور مزہ آئیگا۔"افگن نے ایک جھٹکے سے ایسے اپنے حصار میں لیا تھا۔اور کمرے سے باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔ "نہیں افگن پلیز!!!!"وہ ڈرائینگ روم سے گزرتا گھر کی بیک سائیڈ پر لے جانے لگا تھا۔جبکہ حیات اس کے گلے میں سختی سے بازو ڈالتی مسلسل چیخ رہی تھی۔۔ آفگن!آفگن میرا ہاتھ چھوڑ دیں پلیز۔۔‘‘حیات کی سپاٹ سی آواز پر وہ چونک کر ہوش میں آیا تھا۔نجانے کب اُس نے حیات کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا تھا۔۔جبکہ وہ ولا کے پول آئیریا میں ہر گز نہیں بلکہ اپنے روم میں موجود تھا۔۔حیات بیگم سنجیدگی سے ساری چیزوں پر ایک سرسری سی نگاہ ڈالتی بیگز ایک سائیڈ پر رکھ چکی تھی۔ ’’افگن میرا ہاتھ۔‘‘وہ مسلسل اُس کی مضبوط گرفت سے اپنی کلائی آزاد کروانے میں کوشاں تھی۔۔جو کسی خواب کے زیرِ اثر ٹرانس کی سی کیفیت میں تھام چکا تھا۔ ’’’اوہ سوری!وہ مجھے پتہ ہی نہیں لگا۔‘‘جب اپنے غیر متوقع عمل اور حیات کے بیزار تاثرات سے دیکھے تو یکدم دماغ میں جھماکا سا ہوا تھا کہ وہ دونوں تو پچھلے دو روز سے ایک دوجے سے سخت ناراض تھے تو بھلا یہ منظر یقیناًاس کی خود ساختہ تخلیق کا ایک نمونہ تھا۔جو اب فضا میں تحلیل ہوگیا تھا۔۔بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ جھٹکے سے اُٹھ کر ڈریسنگ روم میں بند ہوگیا تھا۔ ’’’انہیں کیا ہوا اب؟‘‘حیات نے من ہی من قیاس کیا۔۔وہ کل سے اس کا بار بار اپنی جانب ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا محسوس کر چکی تھی۔مگر اس بار وہ اس کے لفظوں پہ ایسے ہر گز بھی اتنی جلدی معاف نہیں کرنے والی تھی۔جو ہر بار جھوٹ بو ل کر اس کی کرادرکشی کرتا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’افف!یہ کیا ہورہا ہے مجھے۔۔آخر میں سب حقیقت سے واقفیت رکھنے کے باوجود بھی کیوں بارہا حیات کے دکھ کا باعث بن جاتا ہوں۔۔۔۔‘‘واشروم کے شیشے کے سامنے کھڑا منہ پر پانی کے پے در پے مسلسل جھپکے مارنے کے بعد جب وہ تھک سا گیا تو سلیپ پر ہاتھ جماتا گہرے سانس بھرنے لگا تھا۔ ’’ایک دل کہتا ہے کہ وہ معصوم ہے۔۔اس سارے قصے میں اس کا کوئی قصور نہیں۔۔لیکن آگر وہ معصوم ہے تو قصوار وار کون ہے؟کیا میں۔۔جس نے ایسے اُس وقت اپنا ساتھ ،اپنا مان بخشا تھا جب اس کے اپنے اس سےمنہ موڑ چکے تھے۔‘‘وہ اپنی سوچوں میں اس قدر محو تھا کہ باہر سے آتی حیات کی مسلسل ہچکیاں بھرنے کی بھی دبی دبی سی آواز پر نہیں چونک سکا تھا۔ ’’نہیں!اس سارےقصےٰ میں بھلا میرا کیا قصور ہے۔۔اورمیرا وہ دشمن۔۔جس نے حیات کو شیرافگن بن کر ٹریپ کیا تھا۔‘‘اپنے بال ہاتھوں کی مٹھیوں میں جکڑتا وہ عجیب سی کشمکش سے دوچار تھا۔بس نہیں چل رہا تھا کہ اس بد بخت شخص کو زمین کی تہ میں سے ڈھونڈ نکالتا جس نے حیات کاظمیٰ کی عزت ،اس کا کردار سب مشکوک کردیا تھا۔۔وہ دیوار گیر آئینے میں ٹرانس کی سی کیفیت میں اپنا چہرہ بغور دیکھ رہا تھا۔۔جبھی سماعتوں سے ٹکراتی حیات کی رونےکی آواز پر وہ گھبرا کر باہر کی جانب بھاگا تھا۔۔جو گلابی پڑتی ناک کو رگڑتی شدت سے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔اُس کا دل یکدم ہی کسی انہونی کے احساس سے دھڑک اُٹھا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’حیات کیا ہوا رو کیوں رہی ہو؟‘‘وہ حواس باختہ سا روم میں آیا تھا جوصوفہ سے ٹیک لگائے فرش پر پیر سمیٹ کر بیٹھی آنسوؤں سے رو رہی تھی۔ ’’میں۔۔۔مجھے نہیں رہنا یہاں پہ۔۔آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی میں۔۔۔‘‘وہ اپنی ناک رگڑتی پھپھک پھپھک کر رونے لگی تھی۔شیر آفگن کے ماتھے پر ناگواری کے بل نمایاں ہوئے تھے۔ ’’اب کیا تماشہ لگا رہی ہو حیات۔۔بتاؤ مجھے آخر ہوا کیا ہے۔۔ابھی تو تم بالکل ٹھیک تھیں۔‘‘اس کے روبرو فلور پر گھٹنوں کے بل بیٹھا، اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں تھام کر نرمی سے باز پرس پر اُتر آیا تھا۔۔جبکہ انگھوٹا مسلسل اس کے رخسار پر گھومتا اس کے آنسوؤں بے مول نہیں ہونے سے بچا رہا تھا۔ ’’میں۔۔بس یہاں سے جانا چاہتی ہوں۔۔مزید اپنی کردار کشی نہیں برداشت کر سکتی میں۔‘‘وہ ضبط سے سُرخ پڑتی آنکھوں میں ڈھیروں آنسو لئے تکلیف سے بولی تھی۔شیر نے ناسمجھی سے اس کے لفظوں میں چھپا مفہوم سمجھنا چاہا تھا۔ ’’حیات ہوا کیا ہے یار؟‘‘وہ بیزار ہو کر اس فرش پر ہی بیٹھ گیا تھا۔ ’’مجھے۔۔مجھے طلاق چاہیے آپ سے۔‘‘وہ خود نہیں جانتی تھی کہ کیا بول گئی ہے۔مگر اپنے لفظوں کی سختی کا احساس جب ہوا۔جب اپنے بال شیر کی سخت گرفت میں محسوس کئے۔۔ جو چہرے پر کرختگی لئے انگارا ہوتی آنکھوں میں اشتعال لئے ناگواری سے ایسے دیکھ رہا تھا۔ ’’کیا بکواس کر رہی ہو ۔۔ ہاں؟تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی یہ بکواس کرنے کی۔۔‘‘وہ جو پہلے ہی غصے اور اضطرابی کی سی کیفیت سے دوچار تھا۔حیات کے لفطوں نے جلتے پر تیل کا کام کیا تھا۔ ’’سچ بول رہی ہوں۔۔جب آپ کو اور آپ کی ماں کو مجھ جیسی بد کردار آوارہ لڑکی پسند ہی نہیں۔۔تو کیوں اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے۔۔دھکے مار کر باہر کیوں نہیں نکال دیتے۔۔آپ اپنے باپ کی زبان کی خاطر حیات کاظمی کا ناگوار وجود کیوں برداشت کر رہے ہیں۔ جبکہ وہ اپنے بیٹے کی خوشی کے خاطر مجبور ہیں۔۔تو کیوں برداشت کر رہے ہیں میرے گندے حقارت آمیز وجود کو۔۔طلاق دیں مجھے اور ختم کریں اس قصے کو۔‘‘وہ نفرت بھرے لہجے میں دل میں اُٹھتے درد کو لفظ دینے ہی لگی تھی۔مگر اس کے لفظ مکمل ہونے سے قبل ہی افگن سختی سے اُس کا جبڑا پکڑتا زرا نزدیک ہوا تھا۔۔حیات کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں۔ ’’آج یہ الفاظ تم نے اپنی زبان سے نکال لئے آگر آئیندہ اس قسم کی فضول گوئی کی نہ تو یاد رکھنا تمہاری قبر اپنے ہاتھوں سے بنانے میں مجھے زرا تکلیف نہیں ہوگی۔۔‘‘ناک کے پھولے نتھنے اس کا طیش کا واضح ثبوت تھے۔ وہ ایسے اُسی حالت میں جھٹکے سے پیچھے کو دھکیلتا غصے سے روم میں سے باہر نکلا تھا۔پیچھے بیٹھی حیات فلور پر لیٹے کے آنداز میں گرتی ہچکیوں سے رونے لگی تھی۔۔آخر اس سارے قصے میں اس کا قصور کیا تھا؟؟صرف اتنا کہ اس نے شیر افگن سے محبت کی تھی۔۔۔۔اور محبّت کرنے کی کیا اتنی بڑی سزائیں ملتی ہیں ؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔
