Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 17
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/10/2025
4 Views
Episode no 17
دھوپ چھاؤں سا ہرجائی لکھاری ایمن قریشی قسط نمبر 17 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عابثہ نے بے یقینی سے پلٹ کر فردوس بیگم کو دیکھا تھا۔۔جو شدید اشتعال میں غصے سے اُیسے ہی گھور رہی تھیں۔جبکہ سب کے چہروں پر فاتحانہ مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔ ’’خاموش ہوجاؤ بد بخت!میں تو ایسی لیے ڈرتی تھی۔صرف اسی دن کی وجہ سے ہر وقت ڈھڑکا لگا رہتا تھا۔ کہ نجانے کب یہ لڑکی کوئی چاند چڑھا دے گی۔‘‘کرختگی سے وہ زہر اُگلنے لگی تھیں۔وہ رنج کی کیفیت سے دوچا زخمی سا مسکرائی تھی۔ ’’میں نے بھلا،سوچ بھی کیسے لیا کہ میری سوتیلی نانی میرا ساتھ دیں گیں۔‘‘اس کے لہجے میں مان ٹوٹ جانے کا غم واضح تھا جو وہ غلطی سے فردوس بیگم پر کر بیٹھی تھی۔ ’’بد بخت شکر کر کہ ہم نے تجھے اس گھر میں رہنے کے لئے عزت کی چھت دی ہوئی ہے۔ورنہ اب تک کسی یتیم خانے میں سڑ رہی ہوتی۔‘‘چھوٹی مامی نخوت بھرے لہجے میں پُھنکاری تھیں۔میناکو یہ فضول سا شو دیکھ بیزاری نے آن گھیرا تھا۔ ’’عابثہ اسماعیل پر احسان نہیں ہے فردوس بیگم آپ کا۔میرے باپ کی کڑوڑوں کی جائیداد ہڑپ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں آپ کے یہ کم ظرف بیٹے۔‘‘عدیل اور ہمدان صاحب کی جانب نفرت آمیز نگاہ ڈالتی وہ شدت سے پھُنکاری تھی۔ ’’چٹاخ !منہ بندھ کر بد بخت۔تیرے باپ کا وہ ڈوبتا ہوا بزنس۔میں نے سنبھالا تھا ایسے۔آئی بڑی نیچ خاندان کی پیداوار۔‘‘دنیا بڑی ظالم ہے ۔اور اس بات کا احساس عابثہ کو ہر لمحہ ہوتا تھا۔یتیمی سے بڑا شاید ہی کوئی دٌکھ ہو جو دنیا والوں کو معلوم ہو۔۔مگر شاید نہیں۔۔۔۔ ’’تو ٹھیک ہے۔۔اس ڈوبتے ہوئے بزنس کی بدولت اس وقت آپ کے پاس جتنی بھی پراپرٹی اور بینک بیلنس ہے وہ میرے حوالے کریں۔‘‘بیدردی سے رُخساروں پر پھیلے آنسو پونچھتی نڈر آنداز میں بولی تھی۔عدیل صاحب نے ناگواری سے اس کی ديدہ دلیری پر ناک بھنوئیں سمیٹی تھیں۔ ’’چپ کرو بد تمیز لڑکی!ارے کس قدر احسان فرموش ہو۔۔گھٹیا ماں کی گھٹیا اولاد۔اپنی غلطی ماننے کے بجائے کیسے آوارہ لڑکیوں کی طرح باز پرس کر رہی ہے۔‘‘چھوٹی مامی بیٹے کی آنکھ سے بہتا خون صاف کرتی جارہی تھیں ساتھ ایسے بھی بدعائیں بھی دیتی جارہی تھیں۔ ’’عدیل صاحب میرے باپ کی حق حلال کی کمائی کا حساب دیں مجھے۔‘‘وہ اپنی بات پر آٹل تھی۔جبھی ندا صاحبہ کی گوہر آفشائیاں نظر آنداز کرتی وہ عدیل صاحب سے باز پرس پر اُتر آئی تھی۔ ’’خاموشی سے اس کمرے میں پڑی رہو۔جب تک مینا کی شادی نہیں ہوجاتی۔میں اس گھر میں کسی قسم کا کوئی تماشہ نہیں چاہتی۔اب جو بھی فیصلہ یا بات ہوگئی وہ مینا کی شادی کے بعد ہوگی۔‘‘فردوس بیگم نے جھٹ آگے بڑھ کر معاملے کی نزاکت کو بھانپ کر اُیسے ٹھنڈا کرنا چاہ تھا۔ ’’ایسے کیسے اماں جان۔۔نکال باہر کھڑا کریں اس بد بخت کو۔‘‘عدیل صاحب کو اس کا باغی آنداز خوفزدہ کئے دے رہا تھا۔ ’’مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے۔۔آپ جیسے نیچ قسم کے لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنے کا۔مجھے میرے باپ کی جائیداد کا حساب دیں۔میں خود خاموشی سے یہاں سے چلی جاؤنگی۔‘‘وہ اُن کےروبرو نڈر سی کھڑی، تلخی سے پھُنکاری تھی۔ ’’خاموش رہو۔۔اتنی رات کو کہاں جاؤگی۔۔اب جیسی بھی ہو فردوس منزل کی عزت ہو۔اور ہمارے گھر کی عزت یوں سرے عام روڈ پرُ رلنے کے لئے نہیں ہے۔ ‘‘اس قدر دریا دلی پر وہ قہقہہ لگا ُاٹھی تھی۔سب نے گھبرا کر ایک دوسرے کی شکلیں دیکھیں تھیں۔ ’’اوہ رئیلی نانی بیگم! کتنی سوئیٹ ہیں آپ۔۔فکر نہ کریں میں بھی اپنے باپ کی کمائی کی ایک ایک پائی کا حساب لیئے بغیر اور اس کمینے صفت انسان کو جہنم رسید کئے بغیر ہر گز بھی فردوس منزل کا پیچھا نہیں چھوڑوں گی۔۔کسی وہم و گماں میں نہ رہیئے گا۔۔کہ عابثہ اسماعیل کو گھر سے بے داخل کر کے آپ سکون کی زندگی گزار سکیں۔۔نہ ایسا کبھی نہیں ہوگا کیونکہ میرے نام کا آسیب ہر لمحہ فردوس منزل کی گرد منڈلائے گا۔‘‘عابثہ آنکھوں میں جنونیت لئے طیش سے تنبیہ لہجے میں گویا ہوئی تھی۔فردوس بیگم نے اس کی چمکتی آنکھوں میں آنسو دیکھ خاموشی اختیار کر لی تھی۔جس کے لہجے کی لڑکھڑاہٹ واضح تھی کہ عابثہ اسماعیل آندر سے بالکل ٹوٹ چکی تھی۔ ’’رات بہت ہوگئی۔۔اور تماشہ بھی بہت ہوگیا۔۔اب بس چلیں یہاں سے۔۔اور تم شاہویز ہمارے کمرے میں آؤ۔‘‘سب آہستہ آہستہ کمرے سے باہر نکل گئے تھے۔جبکہ شاہ ویز کو عابثہ پر خباثت بھری نظریں ٹیکائے دیکھ اپنی ہمراہی میں لئے وہاں سے نکل آئی تھیں۔ ایک ایک کر سب کمرے سے جا چکے تھے۔۔جبکہ وہ پُھرتیلے آنداز میں آگئے بڑھ کر جلدی سے کمرہ اچھی طرح سے لاکڈ کرتی دروازے سے پشت لگائے سسکیوں سے روپڑی تھی۔پتہ نہیں وہ اتنی مجبور کیوں تھی۔سب سے زیادہ طیش ایسے اس شخص پر آیا تھا۔۔جو ایسے ہمیشہ تسلی ہی دیتا رہتاتھا۔۔نجانے اس قید سے رہائی کب ملنی تھی۔وہ ایسے کال کرنے کا ارادہ رکھتی تھی مگر جانتی تھی اس کی روتی بکھرتی حالت اور دلسوز آواز سُن وہ سب کچھ فراموش کیےاِن سب کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا۔مگر وہ کوئی خون خرابہ نہیں چاہتی تھی۔وہ منتظر تھی ۔۔محض اچھے وقت کی منتظر۔۔۔مگر کیا عابثہ اسماعیل اس بات سے واقفيت نہیں رکھتی تھی کہ اس ظالم دنیا میں کبھی کسی یتیم کا بھی اچھا وقت آیا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلیک پینٹ کے ساتھ ہم رنگ شرٹ پہنےوہ تھکا تھکا سا روم میں داخل ہوا تھا۔۔دونوں ہاتھوں میں شاپنگ بیگز تھامے متلاشی نظروں میں دیدہ کی طلب میں نگاہ اُٹھائی تو سب سے پہلی نظر ُاسی دشمن ِجان سے جا ٹکرائی تھی۔جودوپٹے سے نادار وجود لئے بیڈ پر نیم دراز کسی کتاب کے مطالعہ میں مصروف تھی۔۔ایک نظر اِیسے دیکھ کر بھی لاتعلق ہی بنی بیٹھی رہی تھی۔ شیر نے بڑی دلچپسی سے اُس کے وجود کا تنقیدی جائزہ لیا تھا۔جوکسی ہلکے بسکٹی رنگ کی شرٹ کے ساتھ سی گرین پجامہ پہنے دلکش لگ رہی تھی۔جبکہ دوپٹہ سرے سے غائب تھا۔ ’’حیات جلدی اُٹھو اور یہ دیکھو۔ ولیمے کا ڈریس اور میچنگ جیولری وغیرہ سب لے آیا ہوں۔۔ایک نظر دیکھ لو۔۔کچھ کمی پیشی تو نہیں رہ گئی ۔‘‘اُس کا نظر آنداز کرنا ایسے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔جبھی اُس کے سر پر پہنچ کر سختی سے بولتا اپنی جانب متوجہ کرنا چاہ رہا تھا۔حیات نے بے رٌخی سے زرا کی زرا نظر ُاُٹھا کر ایسے دیکھا جس کی آنکھوں میں شوخی واضح تھی۔ایک ٹھنڈی سانس بھر کربُک سائیڈ ٹیبل پر رکھتی وہ اُٹھ بیٹھی تھی۔ شیرافگن کے بڑھے ہوئے ہاتھوں سے شاپنگ بیگز لے کر بیڈ پر رکھتی وہ ہدایت کے مطابق پیکٹ کُھول کر دیکھنے لگی تھی۔۔وہ جیسے جیسے دیکھتی جارہی تھی۔۔لبوں پر پیاری سی مسکراہٹ اپنی چھاپ دکھانے لگی تھی۔شیر ُاس کے خوشگوار لہجے کی شہے ملنے پرجلدی سے نزدیک ہی جگہ بنا کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔جو اب بڑے ہی اشتیاق سے ایک ایک چیز خود سے لگاتی مسلسل مسکرا رہی تھی۔ ’’مسکراتی رہا کرو۔۔اچھی لگتی ہو۔‘‘وہ ہولے سے اُس کے سُرخ ٹماٹر جیسے رُخسار پر اپنا ہاتھ دھرتا لہجے میں محبت سمو کر گویا ہوا تھا۔ "افف اللّه!افگن اتنی پیاری ڈریس،شوز،نیکلیس۔۔مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا یہ سب چیزیں میرے لئے ہیں۔تھینک یو تھینک یو سو مچ۔۔آپ بہت اچھے ہیں۔"حیات اپنے وليمے کا ڈریس میچنگ جيولری اور تمام تر اسیسریز اشتیاق سے دیکھتی خوشی سے پھولے ہی نہیں سما رہی تھی۔جبکہ ساتھ بیٹھے افگن کی آنکھیں شرارت سی چمکیں تھیں۔لبوں کا کونا دانتوں میں دبائے اس نے اچانک ہی ایسے اپنی جانب کھینچا تھا۔ "یہ کیا حرکت
