Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 15
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 02/10/2025
4 Views
Episode no 15
ٹوٹ پڑا تھا۔۔ "شیرافگن یہ۔۔یہ کیا کہ رہی ہیں؟؟؟"وہ افگن کو دیکھ کر روہانسو سی ہوگئی تھی۔۔۔ "حیات بہت تماشہ ہوگیا۔۔اب پلیز چلو یہاں سے۔۔۔"شیرافگن نے حیات کو بکھرتا دیکھ ضبط سے مٹھیاں بھینچ لیں تھیں۔۔ "افگن نہیں۔۔ایسا کیسا ہوسکتا ہے۔۔۔۔ماما مجھے بغیر بتائے کیسے جاسکتی ہیں۔۔۔"وہ آپے سے باہر ہوتی رونا شروع کر چکی تھی۔ "حیات اسٹاپ دس نانسینس!!!پلیز چلو یہاں سے۔۔"شیرافگن اُسے زبردستی گھسیٹ کر لاتا گاڑی میں ڈال کر جلدی سے گھوم کر بیٹھا تھا۔۔جو مسلسل چلاتی خود کو ہی کوس رہی تھی۔۔محلے میں لوگوں کا ہجوم اکھٹا ہوگیا تھا۔۔ہر طرف حیات کی ہمراہی میں کھڑے ہیرو جیسے شوہر اور اس کی چمک بھڑک کو دیکھ رشک بھری نظریں اُس کے لرزتے ہوئے وجود کا طواف کر رہی تھیں۔۔۔ "میں بُری ۔۔۔بہت بُری۔۔ایسا کیسے ہو سکتا۔۔وہ مجھے کیسے چھوڑ سکتی ہیں۔۔نہیں افگن ایسا کیسا ہو سکتا ہے۔میری ماما مجھے اکیلا چھوڑ کر بغیر بتائے کیسے کہیں جاسکتی ہیں۔اِیسا نہیں ہوسکتا افگن۔۔"حیات کا بین کرتا انداز عروج پر تھا۔جبکہ وہ آنکھوں میں سُرخی لئے بہت مشکل سے وہاں سے گاڑی نکالتا ہاشمی ولا کی جانب رواں دواں تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیرآفگن کی گاڑی جب ہاشمی ولا کے پارکنگ میں آکر ٹھری تو حیات سے ضبط کرنا مشکل ہوگیا۔وہ مزید بے قابو ہوتی چیخنے لگی تھی۔۔۔شیرافگن آنکھیں میچ کر خود پر ضبط کئے جھٹکے سے اُسے گاڑی سے نکالتا زبردستی اندر لے جانے لگا تھا۔۔وہ آپے سے باہر ہوگئی تھی۔۔۔ "افگن پلیز۔۔۔جانے دیں مجھے۔۔مجھے ماما کے پاس جانا ہے؟؟"وہ ابھی بھی ضدی انداز میں ہاتھ چھوڑانے کی تک و دو میں تھی۔ "حیات بس۔۔۔۔۔۔بہت ہوگیا۔۔خبردار جو اب تمہارے حلق سے ایک بھی آواز نکلی تو۔۔"اُس کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا۔۔ "افگن۔۔۔"سہم کر خاموش ہوتی وہ دُکھ سے گویا ہوئی تھی۔ "بس کردو حیات۔۔اب بس کردو۔۔۔خود بھی جیو اور مجھے بھی سکون سے رہنے دو۔۔"اپنے بال مٹھیوں میں دبوچتا وہ روز کے ایک نئے تماشے سے زچ ہوگیا تھا۔ "افگن۔۔۔میں تباہ ہوگئی۔۔تمہاری آندھی محبّت نے تباہ کردیا مجھے۔۔۔آپ نے کیوں خراب کی میری زندگی۔۔۔۔کیوں اغواکیا تھا مجھے؟؟؟؟کہا بھی تھا چھوڑ دیں میرا پیچھا۔۔مگر نہیں۔۔۔آپ نے میری زندگی برباد کردی۔۔۔"حیات ہذیانی سے انداز میں چیختی اِس کا کالر پکڑ کر جھنجھوڑ چکی تھی۔۔لمحوں میں شیرافگن کے تاثرات تن سے گئے تھے۔۔۔۔ "مجھے برباد کردیا آپ نے۔۔کہیں مُنہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا مجھے۔۔"سُرخ پڑتے چہرے سے وہ بہت مشکل سے خود پر ضبط کررہا تھا۔جبکہ وہ مسلسل اِسی پر الزام لگا رہی تھی۔۔۔ "شٹ آپ حیات کاظمی!!!تم جیسی داغدار،ایک رات باہر گزاری ہوئی لڑکی کو میں نے!!اشیرافگن ہاشمی نے اپنی عزت کی چادر کی چھاؤن میں لے کر برباد ہونے سے بچایا ہے۔ورنہ تم نجانے کہاں کہاں در در کی ٹھوکرے کھارہی ہوتیں اب تک۔۔۔"حیات کی گوہرافشائیآں جب برداشت سے باہر ہوئیں تو وہ غصّے سے پاگل ہوتا زہر اُگلنے لگا تھا۔۔ "جھوٹ!!!جھوٹ نہیں بولیں افگن۔آپ نے مجھے اغواہ کیا تھا۔۔۔آپ پوری دنیا کو پاگل بنا سکتے ہیں لیکن مجھے نہیں۔۔۔۔آپ زمہ دار ہیں میری بربادی کے۔"حیات آنکھوں میں ناگواری لئے شدّت سے دھاڑی۔۔ہاشمی ولا کے ہال میں ان دونوں کی بلند آوازیں گھر کے درودیوار تک ہلائے دے رہی تھیں۔۔ "برباد کرنا پتہ ہے کیا ہوتا ہے۔۔بربادی لفظ کے مطلب سے بھی آشنا ہو تم؟؟؟"وہ اس کے بازوں سختی سے تھام کرضبط سے چنگھاڑا تھا۔جبکہ اس کی حالت غیر ہورہی تھی۔ ان دونوں کے چہرے ایک دوسرے سے کافی نزدیک تھے۔حیات کے آنسوؤں سے تر چہرے پر دُکھ، جبکے افگن کی سُرخی مائل آنکھوں میں اپنے اُپر عائد الزام کے باعث شعلے بھڑک ُاٹھے تھے۔۔اُس کی گرم سانسوں کی تپش چہرہ جھلسائے دے رہی تھی۔ "کچھ نہیں جانتی میں۔۔اور اب نہ کچھ جاننا چاھتی ہوں۔۔سب ختم ہوگیا افگن۔۔۔سب ختم ہوگیا۔۔"جب برداشت کی انتہا ہوئی تو وہ ضبط گنواتی کسی بے آسرا ڈال کی مانند اس کے سینے میں چہرہ چھپاتی ہچکیوں سے رونے لگی تھی۔ "سب ختم ہوگیا افگن۔۔میری ماما مجھے چھوڑ کر چلی گئیں۔۔پہلے بابا چلے گئے۔۔انہوں نے اپنی حیات کو معاف نہیں کیا افگن۔۔۔۔انہونے معاف نہیں کیا مجھے۔۔"اُس کے جلتے سینے سے اپنا آنسو سے تر چہرہ لگائے وہ مسلسل اپنا غم بیان کئے جارہی تھی۔جبکہ وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچے کھڑا تھا۔۔چاہ کر بھی وہ حیات کے گردِ اپنا حصار قائم نہیں کر سکا تھا۔۔ "حیات بہت تماشہ ہوگیا روم میں جاؤ۔۔"اس کے ہچکولے لیتے وجود کو نرمی سے خود سے جدا کرتا سرد لہجے میں بولا تھا۔ "افگن وہ میں۔۔۔"کچھ دِیر اپنا سارا غم اس کے سینے سے لگ کر آنسوؤں کے زریع باہر نکال کر وہ کچھ حد تک سنبھلی تو افگن کی آنکھوں میں پھیلی سُرخی میں واضح ناگواری دیکھ خوفزدہ ہوئی۔۔لفظ لبوں سے نکلنے سے انكاری ہوئے تھے۔ "افگن وہ میرا مطلب تھا۔۔۔"حواس بحال ہوئے تو اپنے رویے اور تلخ لہجے کا شدّت سے احساس ہوا تھا۔۔ "حیات میں نے کہا روم میں جاؤ۔رات بہت ہوگئی ہے۔"اس کی بات نظر انداز کرتا وہ وہاں سے جانے لگا تھا۔حیات نے گھبرا کر اس کا ہاتھ تھاما تھا۔ "آپ کہاں جارہے ہیں؟"وہ اس کے بگڑے تیور دیکھ خوفزدہ لہجے میں سوالیہ بولی۔ "جہنم میں۔۔اللّه کا واسطہ ہے روم میں چلی جاؤ۔۔اور کچھ دِیر مجھے اکیلا رہنے دو۔"اپنا ہاتھ اس کی نرم گرفت سے آزاد کر، ناگواری سے بول کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔جبکہ وہ اپنا خالی ہاتھ دیکھتی خاموش رہ گئی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عابثہ اپنے کمرے سے باہر آکر سیڑھیاں عبور کرتی نیچے آئی تھی۔گھر کے سب بچے بڑے لاؤنج میں محفل سجائے بیٹھے تھے۔وہاں ایک الگ ہی رنگ چھڑا ہوا تھا۔یہ منظر کتنا مکمل تھا۔دونوں ماموں کی اولادیں،پوتی پوتیآں،بہوئیں سب خوش گپوں میں مصروف شادی کی پلیننگ میں مصروف تھے۔نجانے کیوں عابثہ کو سب کو مسکراتا دیکھ شدّت سے اپنی محرومیوں کا احساس ہوا تھا۔۔ اس سے قبل کے اس ٹھرکی کزن کی نظر عابثہ سے جا ملتی وہ اُلٹے قدموں بھاگنے کے سے انداز میں اُپر جاتی اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔
