Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 15
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 02/10/2025
4 Views
Episode no 15
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_15 _________________ عابثہ سنگھار آئینے کے عین سامنے کھڑی کہیں جانے کی تیاری میں مصروف تھی۔مینا کی شادی کے دن جیسے جیسے قریب آرہے تھے۔۔گھر میں باہر رہنے والے ماموں اور ان کے بچوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔گھر میں خوشی کی لہر سی ڈور گئی تھی۔۔ اس صورتحال میں عابثہ کے لئے ایک فائدہ یہ ہوا تھا۔۔۔کہ فردوس منزل کے مكينون کی توجہ اس کی جانب سے ہٹ چکی تھی۔سب ہی اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے تھے۔۔ "اؤہو بڑی چمک رہی ہو؟پھر کسی سے ملنے جارہی ہو؟"باب کٹ بالوں کو ادا سے انگلی میں لپیٹتی ہالہ آنکھیں مٹکا کر بولی۔۔ "تم سے مطلب ۔"وہ پھاڑ کہتے لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔ "ویسے اس رات کس لڑکے کی جیکٹ میں واپس آئی تھیں تم ؟کون ہے بھئی جس کے ساتھ راتوں کو گھومتی ہو پھرتی ہو۔۔۔۔۔"عابثہ نے بہت ضبط سے اس کے الفاظ ہضم کئے تھے۔۔ "ہٹو راستہ سے۔"وہ فی الحال اس کے منہ نہیں لگنا چاہتی تھی۔۔ "ویسے سُنا ہے۔۔۔چھوٹے چاچو کا دوسرے نمبر والا بیٹا ،تمہارے اس سانولے حسن پر آج کل کچھ زیادہ ہی لٹو ہو رہا ہے۔۔ویسے تو وہ اپنی امریکن بیوی اور دو بچوں کو تمہاری جیسی کم صورت کی خاطر ہر گز نہیں چھوڑنے والا۔۔مگر پاکستان آنا جانا لگا رہتا ہے۔۔تو ایک بیوی یہاں رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ویسے۔۔ "ہالہ نے استہزایہ مسکراہٹ کے ساتھ ذومعنی لہجے میں بولتے اس پر دھماکا ہی تو کیا تھا۔۔ "کیا بکواس ہے یہ؟؟"اس کو جھٹکا ہی تو لگ گیا تھا۔۔عابثہ ناگواری سے پُھنکاری تھی۔ "بکواس نہیں حقیقت ہے میری جان!"وہ کمينگی سے مُسکرائی۔۔ "اپنے اِس ٹھرکی دو نمبر کزن کو میرا ایک پیغام ضرور پہنچادینا کہ اپنی اوقات میں رہ کر خواب دیکھے۔ورنہ اس کے اونٹ جیسے قد کے ساتھ ہی زمین بوس کرونگی۔۔"ابھی وہ تنفر سے غصّے میں بول ہی رہی تھی۔۔کہ وہ بغیر اجازت کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔ "ہیلو ڈئیر کزن!!یہ گوہر افشائیاں کس کے لئے ہو رہی تھیں ویسے؟؟"درواز میں استاذہ وہ معنی خیزی سے گویا ہوا تھا۔عابثہ کے الفاظ اِسے دیکھ منہ میں ہی رہ گئے تھے۔ جينز شرٹ کے پر اُپر لیدر کی بلیک جیکٹ پہنے كمین پن سے عابثہ کے سراپے کا بھرپور نظروں سے جائزہ لینے میں مصروف تھا۔ "آپ کے بارے میں ڈئیر کزن !"ہالہ جھٹ اس کی جانب گھومی تھی۔۔ "اوہ آپ کے لئے ہم قابلِ ذکر بھی ہیں مس عابثہ۔۔جان کر اچھا لگا۔۔"وہ مزید چوڑا ہوتا کمرے میں داخل ہوگیا تھا۔۔ "اوہ بھائی صاحب!!!تمہارے باپ کی جاگیر نہیں ہے میرا کمرہ۔۔دفعہ ہوجاؤ یہاں سے۔۔"عابثہ اور لحاظ۔۔۔تیز لہجے میں بولتی اس کی عزت صاف کر گئی تھی۔ "بڑے چھوٹے سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے تمھیں۔"ہالہ کو مسکراہٹ ضبط کرتا دیکھ وہ تلمملا کر رہ گیا۔ "نہیں ہے۔۔پھر اب کیا تم میرے باپ بن کر دست شفقت کا ہاتھ رکھنا چاہ رہے ہو۔۔"عابثہ کی ہٹ دھرمی پر اس کا چہرہ لہو رنگ ہوا تھا۔۔ "شٹ آپ!!!خبردار جو آئندہ مجھ سے اس قسم کی بکواس بھی کی تو۔۔"شاہ زر کا دماغ گھوم گیا تھا۔یہ چھنٹاک بھر کی لڑکی اور زبان گز بھر لمبی تھی۔۔ "ہاں تو کس نے کہا ہے تم سے میری بکواس برداشت کرنے کو۔شکل گم کرو یہاں سے اپنی۔۔۔"شاہ زر نے ضبط سے مٹھیاں بھینچ لیں تھیں۔۔ "تم۔۔۔۔۔۔۔تمہاری زبان پر تو لگام اب میں ہی ڈالونگا۔۔۔"ہالہ کی مسکراہٹ نے اس کے تن بدن میں اگ لگا ڈالی تھی۔عابثہ کو ایک قہر آلود نگاہ سے نوازتا وہ تیزی سے واک اوٹ کر گیا تھا۔۔۔۔ "ہاہاہا!!!!بیٹا تیار ہوجاؤ۔۔۔کیونکہ یہ دو بچوں کا باپ اب تمھیں نہیں چھوڑنے والا۔۔۔"دل جلانے والی مسکراہٹ پاس کرتی وہ تیزی سے وہاں سے نکل آئی تھی۔جبکہ عابثہ نے طیش میں ڈریسنگ ٹیبل کی تمام تر چیزیں ہاتھ مار کر زمین پر پھینک دی تھیں۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "السلام علیکم!!!بیوٹیفل دادی جان۔۔۔"رف اینڈ ٹف سے حلیے میں کوٹ ہاتھ پر ڈالے كف لنكس اُپر کو فولڈ کرتا وہ خوشگوار لہجے بولتا عباس مینشن میں داخل ہوا تھا۔۔ "وعلیکم السلام!!!کیسا ہے میرا شہزادہ بیٹا!!"وہ اپنے خوبرو سے پوتے کو دیکھ کھل اُٹھی تھیں۔۔ "بہت ہینڈسم دادی جان!!"وہ مسلسل شرارت کے موڈ میں تھا۔۔۔ "وہ تو ہمیں نظر آہی رہا ہے شہزادے۔۔۔"وہ اِس کی بلائیں لے چکی تھیں۔۔۔ "سچ میں دادی جانی؟"" وہ آنکھ دبا کر شرآرت سے بولا۔ "اب یہ سچ ہے یا پھر جھوٹ اس بات کی گواہی تو آپ کی ہونے والی بیوی ہی دے سکتی ہے۔۔"دادی جان گھوم پھر کر واپس اپنے پسندیدہ موضوع پر آچکی تھیں۔۔ "دادی یار!!!آپ تو ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گئی ہیں۔"وہ ضبط سے مسُکرایا تھا۔۔ "ظاہر سی بات ہے۔۔۔تیس کے ہونے والے ہو تم۔۔اور اپنی شادی کی کوئی فکر ہی نہیں ہے۔"وہ جھٹ ناراضگی ظاہر کر گئی تھیں۔ "یار دادو!!!آپ ایک کام کریں۔۔میرے لئے کوئی اچھی سی پڑھی،لکھی،اعلی خاندان کی دھیمے مزاج والی ُسلجھی ہوئی سی لڑکی تلاش کرلیں۔۔"وہ شوخی سے بولا۔۔ "بیٹا لڑکیاں پیڑوں پر نہیں لگ رہی ہیں۔جو دادو ہاتھ بڑھائیں گی اور پکا پکایا پھل توڑ لیں گی۔۔"وہ گھور کر بولیں۔ "پیڑوں پر نہیں لگ رہیں اور آپ جو آج کل ہر وقت میرے پیچھے پڑی رہتیں تو کیا وہ نیک صفت لڑکیاں آسمان سے ٹپکے گیں۔۔ "دادی بیگم نے گھور کر دیکھا تھا۔ "بیٹا!اپنا دماغ زیادہ نہ چلاؤ۔۔اور فوراً چینج کر کے نیچے آئیں۔۔ہمارا ارادہ اپنی ایک عزیز دوست کے گھر جانے کا ہے۔"اس کے حکم کا تابع سیڑھیاں پھلانگتا وہ نظروں سے اُوجهل ہوگیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیرافگن حیات کی ہمراہی میں اُس کے گھر پہنچا تھا مگر وہاں پہنچ کر شدید قسم کی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔۔۔ اس تنگ سی گلی میں کھڑی شیرافگن کی ڈبل کیبن دیکھ محلے کے کتنے ہی دروازے کھل گئے تھے۔لوگوں میں عجیب قسم کی چہ مگوئیاں شروع ہوگئی تھیں۔۔۔حیات نے سہمی نظروں سے اِرد گرد کے منظر کا تفصیلی جائزہ لیا تھا۔۔ "آئے ہائے یہ تو حیات ہے؟ "ایک خاتون بلاآخر قریب آکر پوسٹ مارٹم کرتی نظروں سے اس کا جائزہ لیتیں حیرت سے بولی تھیں۔ "حیات؟؟کاظمی صاحب کی بیٹی؟"شیرافگن نے سخت نظروں سے تمام لوگوں کو گھورا تھا۔مگر دوسری جانب فرق کس کو پڑنا تھا۔۔ "ارے دیکھو تو ذرا کس قدر دلیر ہے یہ لڑکی۔۔کس طرح منہ اٹُھا کر آگئی ہے۔۔ذرا جو اِس کی آنکھ میں حیا ہو۔۔"ایک خاتون لبوں پر ہاتھ دھرتیں توبہ توبہ کرنے والے انداز میں گویا ہوئی تھیں۔۔ "تمہارے گھر والے دروازہ کیوں نہیں کھول رہے حیات۔۔۔"بلآخر وہ زچ ہوگیا تھا۔۔ "پتہ۔۔پتہ نہیں افگن۔۔۔پلیز چلیں یہاں سے۔۔"حیات کو لوگوں کی حقارت بھری نظریں خود میں گڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔۔ "کیا مطلب چلو؟!!ابھی تو تم یہاں آنے کی ضد باندھ کر بیٹھی تھیں۔"وہ غصّے سے غُرایا تھا۔ "ہاں مگر اب میں کہ رہی ہوں چلیں۔۔۔"اب وہاں رش بڑھنے لگا تھا۔جبھی دروازہ کھول کر کوئی خاتون باہر آئی تھیں۔۔۔حیات نے ناسمجھی سے محترمہ کی جانب دیکھا تھا۔۔ "جی کون؟"وہ خاتون ناشناس چہرہ دیکھ متعجب ہوئیں۔ "یہ کاظمٰی صاحب کا گھر ہے؟"افگن ذرا جھجھک کر بولا۔جبکہ حیات کے تو لب ہی سل گئے تھے۔۔ "نہیں تو۔۔۔آپ کون؟؟؟"وہ خاتون خود ساری صورتحال سمجھنے سے قاصر تھیں۔گھر کے اِرد گرد لگا جھمگٹا دیکھ وہ پریشان ہوگئی تھیں۔ "یہ ۔۔۔یہ گھر میرا ہے۔۔ہمارے بابا کا ہے۔۔آپ کون ہیں۔۔اور گھر میں کیا کر رہی ہیں۔۔"بلاخر اس کی خاموشی کا قفل ٹوٹ گیا تھا۔۔ "کیا مطلب!!!ہم نے یہ گھر کچھ دنوں پہلے ہی اسٹیٹ ایجنٹ کے توسط سے خریدا ہے۔۔آپ جو بھی محترمہ ہیں۔۔بالکل غلط ایڈریس پر آئی ہیں۔۔۔"حیات پر تو حیرتوں کا پہاڑ
