Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 14
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 01/10/2025
4 Views
Episode no 14
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_14 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیرآفگن حیات کو اپنی ہمراہی میں ڈیفنس میں واقع ہائیپر اسٹار مال میں لے آیا تھا۔۔جہاں وہ کچھ بھاری سے ڈریسز دیکھتی مسلسل ناک منہ بنا رہی تھی۔۔۔۔ولیمہ کی میكسی کا آرڈر آفگن پہلے ہی دے چکا تھا۔۔باقی جيولری اور سنڈيلز لینا ابھی رہتی تھیں۔۔۔ "حیات اب اگر تم نے ڈریسز سلیکٹ کرنے میں ناک، منہ بنایا ناں تو یاد رکھنا تمھیں کبھی شاپنگ پر ساتھ لے کر نہیں آؤنگا۔ "حیات کے مستقل رویے پر وہ زچ ہوگیا تھا۔ "افگن!!آپ سمجھ کیوں نہیں رہے۔۔میں اتنے ہیوی ڈریسز نہیں پہنتی۔"اُس کی ہنوز مرغے کی ایک ٹانگ۔ "افف!!یار اب تمہاری شادی ہوگئی ہے۔ولیمے کے بعد تم میرے ساتھ دعوتوں وغیرہ میں جاؤگی تو کیا پہنو گی۔"اس نے سمجھانے کی نکام سی کوشش کی تھی۔وہ دونوں اس وقت فوڈ کورٹ میں موجود تھے۔ "افگن!!دعوت وغیرہ میں اتنے ہیوی ڈریسز کون پہنتا ہے۔پھر آپ بتائیں میں کہاں پہن کر جاؤنگی۔"حیات نے شاپنگ بیگز میں موجود فینسی میکسی اور گاؤن کو دیکھ کہا۔۔وہ پہلے ہی بہت ڈریسز لے چکے تھے۔جبکہ وہ تھا کہ مزید کی رٹ لگا رہا تھا.. "میری دوسری شادی کے فنکشن میں پہن لینا۔۔مگر پلیز ڈریسز لے لو۔۔۔اور اس خوش فہمی سے باہر نکل آؤ کہ تم کوئی بھی ڈریس ریپیٹ کروگی۔۔"اس بار اِسے واضح الفاظ میں ہی سمجھانا پڑ گیا تھا۔۔جس کے دماغ میں کوئی بات سمجھ ہی نہیں آرہی تھی۔۔ "کیا؟؟؟آپ ابھی بھی دوسری شادی کا خناس اپنے دماغ میں سما کر بیٹھے ہیں ۔"حیات کو اچھو ہی لگ گیا تھا۔ "ظاہر ہی سی بات ہے۔۔اب میں اپنی اتنی بڑی زندگی تم جیسی ناشکری عورت کے ساتھ ہی تھوڑی گزارا کرونگا۔"شیرافگن نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا۔۔جو پچھلے کچھ گھنٹوں میں اس کا دماغ اچھا خاصہ گھما چکی تھی۔۔ "میں ناشکری عورت ہوں۔۔"اپنی جانب اشارہ کرتی وہ بے یقینی سے گویا ہوئی تھی۔اس کے معصومانہ انداز پر چہرے پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ کھل گئی تھی۔۔ "ظاہر سی بات ہے۔۔۔اس دنیا میں میرے علاوہ ایسا کونسا نیک صفت شوہر ہے جو اپنی حق حلال کی کمائی بیوی کی شاپنگ پر خوشی خوشی خرچ کرنے کو تیار ہوجائے۔۔"شیرافگن نے دلکش مسکراہٹ کے ساتھ چھیڑا تھا۔جس کے ماتھے پر بل نمو دار ہوئے تھے۔ "افگن!!!آپ کا شمارا اس دنیا کہ نہاہت ہی ناشکرے شوہرِ نامداروں میں ہوتا ہے۔خوش نصیب ہیں کہ آپ کو حیات کاظمی جسیی کم خرچ،کفایت شعار سگھڑ بیوی نصیب ہوئی ہے۔مگر نہیں شیرافگن ہاشمی آپ ٹھرے ناشکرے انسان،شکر بجالانے کے بجائے مسلسل ناشکری کر رہے ہیں۔"حیات کاظمی ناک بھنوئیں سمیٹتی جتانے والے انداز میں گویا ہوئی تھی۔افگن نے آئی بروز اکھٹے کئے گھورا۔ "ناچیز کی خوش بختی ہے جناب کہ دنیا کی سب سے اعلی نیک بیوی نصیب ہوگئی ہمیں۔۔۔سوچ رہا ہوں اپنے بخت کو مزید روشن کروں اور ایک کی جگہ چار نکاح کر کے جنّت دنیا میں ہی بنا لوں۔۔۔"مسکراہٹ ضبط کئے وہ شوخی سے بولا تھا۔ "ویسے نہایت ہی کوئی چھچھورے انسان ہیں آپ۔"وہ خفا نظروں سے گھورتی حسین لگ رہی تھی۔ "ظاہر سی بات ہے۔ایک ہی زندگی ملی ہے۔اب بندہ اللّه پاک کی جانب سے عطاء کی گئی مہربانیوں سے مکمل طور پر فیض یاب بھی نہ ہو۔۔۔"منگو سلیش کا ایک سپ لیتا وہ مسلسل چھیڑچھاڑ میں مصروف تھا۔ "بات کرنا ہی فضول ہے۔"وہ زچ ہوگئی تھی۔جبکہ اب وہ اس کی حالت سے خظ اُٹھا رہا تھا۔ "حیات بیگم وہ بلیک گلاسز والی لڑکی چیک کرو۔۔میرے ساتھ جوڑی کتنی پرفیکٹ لگے گی ناں۔۔"افگن نے عقب میں بیٹھی ایک پیاری سی لڑکی کی جانب اشارہ کیا تھا۔ "اللہ معاف کرے افگن!!شرم کریں اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھ کر آپ کسی دوسرے کی بہن بیٹی پر گندی نگاہ ڈال رہے ہیں۔۔"حیات کو تو حیرت انگیز جھٹکا لگ گیا تھا۔۔ "میں کیوں گندی نگاہ ڈالنے لگا۔۔نکاح کی پیش کش کرونگا۔سوچ رہا ہوں ہمارے نکاح میں ایک عدد مزید نکاح پڑھالیا جائے۔۔۔"لب کا کونا دبائے وہ ایک آنکھ بلنک کرتا بولا۔ "افگن اُٹھیں جلدی!!مجھے سیندڈلز بھی لینی ہے۔"وہ مزید کوئی شرآرت کرتا اس سے قبل ہی حیات اس کا بازو تھامتی اپنے ساتھ لئے نکل آئی۔جو اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتا اس کا تھاما ہوا ہاتھ لبو سے لگاگیا۔ "آفگن!!اس نے گھور کر دیکھا تھا۔جو شرارت سے مسکراتا گال تھتھپاتا اُسے ساتھ لئے ایک شاپ میں آگیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "مینا آپ اب تک پورا مال دو بار گھوم چکی ہیں۔۔۔آخر کچھ لیں گی کب؟؟"احمر سلطان ہاتھ پر بندھی گھڑی دیکھ زچ ہوا۔۔ "احمر پلیز!!!ابھی مجھے پہلے سینڈل لینے دیں سکون سے۔۔پھر کچھ لیں گے۔۔"مینا نے نخوت سے سر جھٹکا۔۔ "جو بھی لینا ہے جلدی لو یار!!!!"وہ بیزاری سے بولتا موبائل لئے ذرا سائیڈ میں آیا تھا۔۔مگر اتفاق تھا جبھی سامنے سے شیر اپنی مسز کے ساتھ گلاس شاپ میں انٹر ہوا تھا۔۔ "احمر!!تم یہاں۔۔۔۔"افگن کو خوش گوار حیرت نے چھوا تھا۔حیات نے ذرا ناسمجھی سے اُن کی جانب دیکھا تھا۔۔ " ہاں یار بس شادی کی شاپنگ!!!"وہ بیزار سی شکل بنا کر بولا تو افگن کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔مینا بھی نزدیک چلی آئی تھی۔۔ "یہ غلباً تمہاری مسز ہیں!!!مینا ذرا قریب آتی شلوار سوٹ میں ملبوس سادہ سی حیات پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتی تفخر سے بولی تھی۔۔ "یو آر رائٹ!!حیات یہ مینا ہیں میرے یار کی ہونے والی مسز!!!"شیرنے حیات کا ہاتھ تھام کر تعارف کرایا جو مسکرا کر ہاتھ ملا کر پیچھے ہو گئی تھی۔احمر نے ایک بڑی تفصیلی نگاہ حیات کے سراپے پر دوڑآئی تھی۔نجانے کیوں مگر حیات کو اُلجھن سی محسوس ہوئی تھی۔ "چلو پھر تمہاری شادی تو ابھی دور ہے۔۔ولیمے پر ملاقات ہوتی ہے۔۔"افگن حیات کو آن کمفر ٹیبل سا محسوس کر خدا حافظ کرتا اس شاپ سے نکلا آیا تھا۔۔ "ویسے احمر افگن جیسے ڈیشنگ بندے کے ساتھ یہ باجی ٹائپ لڑکی۔۔کچھ خاص جچ نہیں رہی ناں۔۔"مینا نے ان کے جاتے ہی تبصرہ کیا تھا۔۔۔وہ اسے دیکھنے میں ہی کسی چھوٹے گھر کی لڑکی لگی تھی۔۔۔ "یار اس کی بیوی ہے ہمیں کیا۔۔اور تم اس کی فکر چھوڑو۔۔مجھ پر یعنی اپنے ہونے والے شوہر پر ذرا دهیان دے لو۔جس کو آپ صبح سے خوار کر رہی ہیں۔۔"اس کا تبصرہ نظر انداز کرتا وہ جھنجھلایا جو گہری سانس بھرتی شاپ سے باہر نکل آئی تھی۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں چار گھنٹے بعد ڈھیروں شاپنگ بیگز تھامے اب گاڑی میں بیٹھے گھر کی جانب گامزن تھے۔۔جب ہی حیات کسی خیال کے زِیر اثر بول اُٹھی تھی۔۔ "شیر!!" همم!!وہ ڈرائیونگ کرتا مصروف سے انداز میں بولا۔ "کیا ہم دو منٹ کے لئے میرے گھر جاسکتے ہیں۔۔۔"وہ اُس کی جانب رُخ پھیرتی اُداس سے لہجے میں بہت اُمید سے بولی تھی۔۔ "حیات!!!!ہم کیسے۔۔۔۔"شیر کو فلور اس کی یہ بے وقت کی خواہش سمجھ نہیں آئی تھی۔۔ "افگن پلیز!!!مجھے ماما سے ملے پورا ماہ ہونے والا ہے۔۔اب تو اُن کا غصّہ ٹھنڈا ہوگیا ہوگا۔۔۔میں جانتی ہوں مجھے دیکھ کر وہ بہت خوش ہونگی۔اور ہمیں معاف بھی کر دیں گی۔"اُس کی نم سی نگاہوں میں اُمید کے جگنوں روشن تھے۔افگن نے بہت خاموشی سے اس کے چہرے پر چھآئی بے رونقی دیکھی تھی۔جو کچھ دِیر پہلے خوش تھی۔اور اب یکدم اُداس سی ہوگئی تھی۔۔۔ "حیات!مجھے وہاں جانے میں کوئی اعترض نہیں ہے۔۔مگر تم ایک بات یاد کرلو۔اگر وہاں کسی نے بھی مجھ سے یا پھر تم سے کسی قسم کی کوئی بدتمیزی کی تو یاد رکھنا میں کسی کو بخشونگا نہیں۔"افگن کو اس روز والی ملاقات یاد آگئی تھی۔ "ایسا کچھ نہیں ہوگا افگن!!وہ ماں ہیں میری۔۔جانتی ہوں مجھے معاف کردیں گی۔۔آپ پلیز میری بات مان لیں ناں۔"وہ بہت امید سے
