Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 11
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 29/09/2025
5 Views
Episode no 11
جب کمرے میں اس کی غیر موجودگی کا یقین ہوا تو وہ اپنے رات کے رویے پر جی بھر کر شرمندہ ہوتا نیچے کچن کی جانب بڑھا تھا۔جو شاید جلدی کمرے سے نکل گئی تھی۔۔ "مس نازو۔۔۔" "جی سر۔"وہ کچن میں بھی اِس کی غیر موجودگی محسوس کر کھوجتی نگاہوں سے اِرد گرِد کا جائزہ لیتا کچن کاؤنٹر کے نزدیک آیا تھا۔ "حیات میڈم کہاں ہیں؟"بظاہرسنجیدگی سے اِستفسار کرتا وہ بے چین سا تھا۔ "اپنے روم میں ہونگی۔"وہ ناسمجھی سے بولی۔ "روم میں نہیں ہے اسی لئے پوچھ رہا ہوں۔"وہ سختی سے گویا ہوا تھا۔ "مگر سر میڈم تو صبح سے نیچے ہی نہیں آئی ہیں۔۔۔"نازو کے جواب پر شیر نے پریشانی سے اپنی پیشانی مسلی تھی۔ "سب خیریت ہے سر۔۔"اُسے خاموش مسلسل پریشان ہوتا دیکھ وہ ذرا جانچتے ہوئے لہجے میں حیات کے بابت دریافت کرنے لگی تھی۔ "ہاں!!ہاں۔۔تم ناشہ تیار کرواؤ۔۔۔ "نازو کو ہدایت دیتا وہ تیزی سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا اُوپر کی جانب بڑھا۔۔ "ایک " دو تین۔۔اور ایک ایک کر کے وہ تمام تر کمروں میں حیات کو ڈھونڈتا اب سچ مچ میں پریشان ہوچکا تھا۔۔ "حیات۔۔۔کہاں چلی گئی بیوقوف لڑکی۔۔"وہ جلدی سے کمرے کی جانب بھاگا تھا۔۔دل میں عجیب عجیب قسم کے وسوسے آرہے تھے۔۔ "کمرے میں آکر جلدی سے موبائل اُٹھا کر اُس کا نمبر ملايا۔۔۔جس کا پاور آف آرہا تھا۔۔ "حیات میری جان کہاں ہو۔۔"اضطرابی کی سی کیفیت سے دوچار وہ کمرے میں اِدھر سے اُدھر مارچ کرتا اپنی پیشانی مسل رہا تھا۔۔ آنکھیں بند کر کے کھولیں جو ضبط کے باعث سُرخ پڑ گئی تھیں۔جلدی سے ارتضٰی کا نمبر ڈائل کرنے لگا ۔۔ابھی فون کان سے ہی لگایا تھا کہ ٹھر سا گیا۔۔ "میں ارتٰضی سے کہوں گا کیا؟؟"سختی سے لب بھینچے وہ پاگل ہونے کے دَر پر تھا۔۔ "یہ کس مشکل میں ڈال دیا ہے تم نے مجھے حیات۔۔۔اب اگر تم نے کوئی بیوقوفی کی تو سچ میں تمھیں اپنے ہاتھوں سے مارڈالوں گا۔۔۔"وہ ٹینشن میں بغیر سوچے سمجھے گاڑی کی چابیاں اُٹھاتا کمرے سے باہر کی جانب بھاگا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھاگنے کے سے انداز میں باہر آیا تھا۔۔۔کار پورچ میں کھڑی گاڑی دیکھ۔ جلدی سے گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھا۔اور ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولنے کے بعد اُس کی حیرت کی انتہا ہی نہیں رہی تھی۔۔جب حیات کو ڈھلکے سر کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بہوش دیکھا تھا۔۔اسے اپنی جان ہتھیلی پر آتی محسوس ہوئی تھی۔۔کیا اس نے ساری رات اسی پوزیشن میں گزار دی تھی. . "حیات۔۔۔۔حیات میری جان۔۔۔آنکھیں کھولو۔۔۔"وہ جلدی سے اُس کا سر اُٹھا کر سیدھا کر کے بیٹھاتا شدّت سے پکُارنے لگا تھا۔۔جو خود سے بیگانہ اس کی جان ہوا کر گئی تھی۔۔ "حیات اُٹھو۔۔۔کیا ہوا ہے تمھیں۔۔۔"ڈیش بورڈ پر پڑی چھوٹی سی پانی کی بوتل اُٹھا کر اُس پر پانی ڈالا ۔جس کی پلکوں میں جنبش سی ہوئی تھی۔چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا تھا۔۔۔ "تھینک گاڈ۔۔۔۔۔حیات مائے لو۔۔پلیز اُپن یور آئیز سوئیٹ ہارٹ۔۔۔"اُس کے جلتے رخسار پر اپنا لمس چھوڑتا وہ مسلسل پکار رہا تھا۔۔جو اب ہوش میں آنے لگی تھی۔۔۔ اسے سیدھا کئے دوسری جانب سے گھوم کر آتا فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولتا وہ اس کے نڈھال وجود کو حصار میں لئے اپنے مضبوط بازؤں میں اُٹھائے ہاشمی ولا کی عمارت کے اندرونی حصّہ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔جو بیہوشی میں کسی بات پر آنسو بہاتی کچھ بڑبڑا رہی تھی۔۔شیرافگن کو اس کی حالت دیکھ شرمندگی نے آن گھیرا تھا۔۔۔جبکہ اب اُس کا رخ اپنے بیڈ روم کی جانب تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سُرخی مائل رات چاروں اور اپنے پنكھ پھیلائے دن کے اُجالے کو بڑی بےدردی سے نگل چکی تھی۔۔عابثہ فردوس منزل میں سب سے نظر بچاتی اندھیرے کا فائدہ اٹُھاتی گاڑی لے کر نکل آئی تھی۔۔ گھر میں وحشت سی محسوس ہو رہی تھی۔۔وہ کچھ دیر اکیلے تنہا صرف اپنی ذات کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھی۔۔ ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان فریش موڈ کے ساتھ گُنگناتی وہ گاڑی کا رُخ سمندر کی جانب موڑ چکی تھی۔۔ سمندر کی لہروں سے کچھ قدموں کے فاصلے پر گاڑی لگاتی وہ کودنے کے انداز میں گاڑی سے باہر نکل آئی تھی۔۔ شہر کی روشنیوں سے دور،بھری دنیا میں لوگوں کے ہجوم سے لاپرواہ، رات کی خاموشی،سمندر کی لہریں اور ساحل کی ٹھنڈی ہوا عابثہ نے آنکھیں میچ کر تاریکی کی اس خوبصورتی کو خود میں اتُارا تھا۔۔۔ایک سکون کی لہر سی تھی جو رگ و پے میں سرور بن کر ڈور گئی تھی۔۔۔ وہ گہری تھی بالکل اِس بہتے سمندر کی مانند ۔خود میں بہت کچھ چھپائے ہوئے اس تاریکی کی مانند۔۔۔اور خاموش اس سمندر کی لہروں جیسی۔۔۔جو ایک وبال کی طرح بلند ہوتی تھی مگر پھر خود ہی دم توڑتی اسی فضا میں موجود رازوں کو اپنی سینے کی گہرائی میں دفن کرتی پرسکون ہو جاتیں۔۔ بازؤں کو فولڈ کئے سینے پر لپیٹے وہ کار کے بونٹ سے ٹیک لگائے کھڑی اپنی ذات میں چلتے جھکڑوں سے غافل بس آنکھیں بند کئے اپنی گزشتہ زندگی کے بابت ہی سوچ رہی تھی۔۔جبھی اپنے گالوں پر ایک انجانا سا لمس محسوس ہوا تھا۔۔کچھ نگاہیں تھی جو وجود پر گڑتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔کوئی اس پر جھکا ہوا تھا۔۔ "پیچھے ہٹو۔۔۔۔۔۔۔۔"ایک لمحے کی تاخیر کئے بغیر وہ ہوش میں آتی خود پر جھکے وجود کو ایک جھٹکے سے پیچھے دھکیلتی شدّت سے دهاڑی تھی۔۔۔۔ "ہاہاہا!!!پیچھے بھی ہٹ جائیں گے چھمک چھلو پہلے یہ بتاؤ۔۔اس رات میں اپنے کس یار کا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔"شارٹس کے ساتھ ٹی شرٹ میں ملبوس وہ دیو قدامت تین مرد اسے بہت عجیب نظروں سے گھورتے خباثت سے مسکرائے تھے۔۔ "پیچھے ہٹو۔۔۔۔خبردار جو مجھے ہاتھ لگایا۔۔۔اپنے خوف پر قابو کرتی وہ شدّت سے دھاڑی تھی۔۔ "اوہ اوہ!!!اس چڑیا کی تو بہت لمبی زبان ہے۔۔چل جب تک اس کا عاشق نہیں آتا ہم ذرا اپنا دل ہی بہلا لیتے ہیں۔۔۔ "اُن میں سے ایک ہاتھ پر ہاتھ مارتا کمینگی کی انتہاوں کو چھوتا ہوا قہقہہ لگا اُٹھا۔۔۔ وہ گھبرا کر پلٹتی جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولنے لگی تھی۔ "ارے ٹھرتو جاؤ میری بلبل۔۔کہاں بھاگی جا رہی ہو۔۔"عابثہ کی جان تب نکلی تھی جب ان میں سے ایک نے زبردستی اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔۔ "چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔بچاؤ۔۔پلیز ہیلپ۔۔۔۔"وہ بلاخر ضبط کھوتی آنسوؤں سے روتی چیخ اُٹھی تھی۔۔مگر رات کی تاریکی اور قدر سنسنان والی جگہ۔۔اس اندھیرے میں دور دور تک کوئی زی روح موجود نہیں تھی.۔۔۔ "ہاہاہا!!!نکل گئی ساری اکڑ۔۔چل بھئی گاڑی میں ڈال اس کو۔۔"ان میں سے ایک کمینگی سے مسکرایا تھا۔۔وہ مسلسل مدد کے لئے پکارتی مزاحمت کر رہی تھی۔۔ "چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔"وہ ایک زور دار چیخ مارتی تیز ناخنوں کے ساتھ ایک کے چہرہ پر حملہ کر چکی تھی۔۔جو جلن اور درد کے باعث بلبلا اُٹھا تھا۔۔۔دوسرے نے اسے بالوں سے جکڑ کر پیچھے دھکیلا تھا۔۔ آہ!!!!!"کندھے کے پاس سے اپنی شرٹ کھینچتی ہوئی محسوس کر وہ شدّت سے چیخی تھی۔۔جبھی ایک بھاری ہاتھ کا پنچ تھا۔۔جو مقابل کے چودہ طبق روشن کرگیا تھا۔۔۔۔جبکہ وہ حواس باختہ سی نظر اُٹھا کر سامنے دیکھنے لگی تھی۔۔۔جہاں کرسٹل گرے آنکھوں میں جنون کی سُرخیاں لئے وہ شخص اُن تینوں کو بُری طرح سے پیٹنے میں مصروف تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
