Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 11
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 29/09/2025
5 Views
Episode no 11
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_11 _________________ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر براجمان سیٹ پر سر گرائے بیٹھی حیات خاموشی سے نظروں سے اُوجهل ہوتا منظر تک رہی تھی۔۔۔سامنے نظر آتی تار کول کی پکی سڑک پر نارمل اسپیڈ میں گاڑی دوڑاتے شیرافگن کی بھی سنجیدہ نگاہیں روڈ پر ہی مركوز تھیں۔۔وہ نہایت ہی خاموشی سے ڈرائیونگ میں مصروف تھا۔۔ "سُنیں۔۔"جب اُداس سی خاموشی کا دُورانیہ طویل ہوا تو وہ اُس کی جانب رُخ پھیرتی پکار اُٹھی۔ "جی سنُائیں۔۔"وہ چونک کر متوجہ ہوتا نرم مسکراہٹ سے ہمہ تن گوش ہوا تھا۔۔ "یہ اُجالا آپ کی دوست تھی یا اِرتضی بھائی کی۔۔"اُجالا کا اَدھورا سا تعارف کرانا۔۔اُسے مسلسل بے چینی میں مبتلا کئے دے رہا تھا۔۔ "حیات بیگم اُجالا نے بتایا تو تھا۔۔وہ ہم دونوں کی مشترکہ دوست ہے۔۔اور اب سے تمہاری بھی۔۔"شیر کے چہرہ پر یکدم شرارتی سی مسکراہٹ کِھل گئی تھی۔۔ "ہونہہ!!مجھے نہیں چاہیے اتنی بے شرم دوست۔۔"حیات اُجالا کی بولڈ ڈریسنگ یاد کرتی نخوت سے سر جھٹک کر گویا ہوئی۔۔ "زبان سنبھال کر حیات صاحبہ!!وہ صرف میری بہت اچھی دوست ہی نہیں بلکہ۔۔۔۔"وہ حیات کے اچانک تبصرے پر لہجے میں ناگواری سموئے بولتا یکدم خاموش ہوگیا تھا۔۔ "بلکہ۔۔۔۔۔۔حیات نے بے چینی سے اِس کے اَدھورے جملہ پر پہلو بدلہ تھا۔۔ "کچھ نہیں۔۔۔تم یہ بتاؤ۔۔کہ تم کیوں اُجالا کے بارے میں اتنا سوچ رہی ہو۔۔"وه جھٹ چہرہ کے تاثرات پر قابو کرتا متوازن لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔ "آپ کچھ کہہ رہے تھے۔۔پہلے اپنی بات مکمل کرلیں۔۔"اس کی سوئی ہنوز وہیں آٹکی ہوئی تھی۔ "کچھ نہیں کہہ رہا تھا میں۔۔اور بیوقوف خواتین کی طرح ایک بات کا پیچھا نہیں لیا کرو۔"شیر افگن نے اپنی زبان پھسل جانے پر جی بھر کر خود کو كوُسا تھا۔ "اچھا۔۔۔۔ویسے میں نے ایسی بھی کوئی انوکھی بات نہیں پوچھ لی جس پر آپ اتنا بھڑک رہے ہیں۔۔میں تو بس آپ کی دوست کا مکمل تعارف جاننا چاہ رہی ہوں۔۔"وه بھی مزید خاموش نہیں رہی تھی۔۔ "وہ میری بہت اچھی دوست ہے۔۔اور کیا سُننا ہے تمھیں؟"وہ اس کی ایک ہی گردان پر زچ ہوتا بھڑک اُٹھا تھا۔ "کچھ نہیں سننا۔۔"وہ اس کے لہجہ میں چھپی ناگواری محسوس کر خاموش ہوتی رُخ پھیر گئی تھی۔ "تمہارا مسئلہ کیا ہے۔۔آخر کس بات پر اتنا نخرہ دکھا رہی ہو؟"نجانے کیوں اُسے بات بات پر غصّہ آرہا تھا۔۔یا پھر وجہ کچھ اور تھی۔ "میرا مسئلہ۔۔۔۔۔۔آپ کو کیا ہوگیا ہے؟اس سے پہلے تو آپ نے مجھ سے کبھی ایسے بات نہیں کی۔" آنکھیں نمکین پانيوں سے بھر گئی تھیں۔۔آواز خود ہی بھرا گئی تھی۔ "اوہ پلیز!!!جسٹ شٹ آپ۔۔۔۔اپنی بیوقوفی کے قصّے سُنانے کی ضرورت نہیں ہے مجھے۔۔۔۔"وہ جو پہلے ہی غصّے سے کھول رہا تھا۔۔اس کے شکوه کناں انداز پر ضبط کھو گیا تھا۔ "افگن۔۔۔۔۔۔۔"وہ غیر یقینی کی حالت میں حیرت سے گویا ہوئی تھی۔ "حیات اگر تم چاہتی ہو۔۔کہ تم اس وقت میرے غصّے کا نشانہ نہیں بنو تو بہتر یہی ہے کہ اپنا منہ بند رکھو۔۔"وہ ضبط سے لب بھینچے نظریں سامنے مرکوز کئے تنے تاثرات کے ساتھ درشتگی سے پھُنکارا۔۔۔ جبکہ وہ اُس کے لہجے کی سنگینی بھانپتی پورے وجود سے لرز رہی تھی۔۔ہاتھوں میں کپكپاہٹ واضح تھی۔۔ بے ساختہ ہی اپنے باپ کے آخری الفاظ کانوں میں گونج اُٹھے تھے۔۔ "جو بیٹیاں ماں باپ کی عزتوں کو سرِ بازار رسوا کرتی ہیں حیات کاظمی وہ کبھی خوش نہیں رہتیں۔۔"حیات نے سختی سے دوپٹہ مٹھی میں جکڑ کر آنکھیں میچ لی تھیں۔۔دو آنسو پلکوں کی باڑ توڑتے گالوں پر پهسل گئے تھے۔۔۔ "تم میری پیدا کی ہوئی اولاد ہو حیات۔۔میں تو تمھیں بدعا بھی نہیں دے سکتی۔۔مگر یاد رکھنا تم نے آخری وقت میں اپنے باپ کا بہت دل دکھایا ہے۔۔تم میرے گھر کی خوشیاں کھا گئی ہو۔۔ارے کیسی بیٹی ہو تم بیٹیاں تو ماں باپ کی خاطر اپنی جان تک قربان کردیتی ہیں اور تم نے اپنے باپ کی عزت ہی نیلام کر ڈالی۔۔۔ڈوب مرو حیات کاظمٰی۔۔"کھڑکی کی جانب رُخ پھیر کر بیٹھی حیات کو آج پورے ایک ماہ بعد اپنی غلطی کا شدّت سے احساس ہوا تھا۔۔دُکھ کی کیفيت ایسی تھی کہ وہ پورے وجود سے کانپ رہی تھی۔۔گلابی چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔۔جبکہ وہ اس کی دلی کیفیت سے اَنجان سامنے دیکھ کر ڈرائیو کرتا اپنا غصّہ ضبط کئے بیٹھا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاشمی ولا کے کار پورچ میں شیرافگن کی فورچنر چرچراہٹ کی آواز کے ساتھ ایک جھٹکے سے رُکی تھی۔دهاڑ کی آواز کے ساتھ جھٹکے سے دروازہ بند کرتا وہ اُس کے ہچکولے لیتے وجود پر بغیر ایک غلطاں نگاہ ڈالے ہی ہاشمی ولا کی بلند عمارت میں غائب ہوگیا تھا۔۔اس بات سے يكسر انجان کہ وہ نازک سا وجود اس کے بے وقت غصّے کے باعث زلزلوں کی زد میں آگیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روم میں انٹر ہوتا شیرافگن سیدھا واشروم میں بند ہوگیا تھا۔۔غصّے سے سُرخ پڑتے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتا وہ مسلسل خود پر ضبط کر رہا تھا۔۔ وہ حیات کاظمٰی کے ساتھ اِس قدر ہتک امیز رویہ اختیار کرنے کا خواہاں نہیں تھا۔مگر وہ بیوقوف کیا جانے کہ یہ حقیقت ایک مرد کی آنا پر کس قدر کاری ضربیں ثبت کر رہی تھی۔۔کہ جو لڑکی اس کے نکاح میں ہے وہ پہلے کسی غیر محرم کے ساتھ نجانے کتنے ہی تنہائی کے لمحات گزار چکی تھی۔نجانے کیا کچھ تھا جو اِن دونوں کے درمیان تھا۔اور پتہ نہیں تنہائی کی گفتگو۔۔۔۔یہی سوچیں تھیں جس کے باعث اس کے اندر ایک لاوا سا بنتا چلا جارہا تھا۔۔کجاکہ حیات معصوم تھی اپنے ساتھ ہوئی اِس زیادتی سے لاعلم تھی۔وہ بیوقوف تو اپنے خسارے سے ہی ناواقف تھی۔۔وہ ناواقف تھی کہ اُس کی ذرا سی غلطی اس سے کیا کچھ چھین چکی تھی۔۔ خود پر حد درجہ ضبط کرتا وہ کمرے میں واپس داخل ہوا تھا۔۔ جہاں وہ کہیں بھی نہیں تھی۔۔فی الحال وہ اسے اپنے سامنے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ اپنے غصّے میں کچھ ایسا کر بیٹھے جس کے بعد اُسے اپنے لفظوں یا سرزد ہوئے عمل پر پچھتاوا ہو۔۔ لباس تبدیل کرتا وہ اپنی جگہ پر لیٹتا آنکھیں میچ گیا تھا۔۔وہ حیات کی کمرے میں موجودگی سے پہلے پہلے سو جانا چاہتا تھا۔۔اور اپنے اِرادوں میں کامیاب ہو بھی گیا تھا۔۔۔مگر وہ جس کی بھلائی چاہتا تھا وہ بیوقوف اپنا نقصان کئے لے رہی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پتھر دل شخص کو گئے نجانے کتنی دیر بیت چکی تھی۔وہ ہنوز اسی پوزیشن میں گاڑی میں بیٹھی مسلسل سسک رہی تھی۔۔شیرافگن کے غصّے سے زیادہ آج اُسے اپنے ماں باپ کے دل دُکھانے کا غم چین نہیں لینے دے رہا تھا۔۔ وہ بھی تو اپنے ماں باپ کی فرمابردار اولاد تھی۔۔وہ بھی تو ان کی عزتوں کی خاطر اپنی محبّت سے دستبردار ہو گئی تھی۔۔پھر کیوں شیرافگن نے اُسے اغوا کر کے پورے زمانے میں رسوا کردیا تھا۔۔۔اور اب ایسا رویہ اختیار کر کے مسلسل اُسے اپنی غلطی پر پچھتانے پر مجبور کر رہا تھا۔۔ حیات کاظمٰی سے ایک بہت بھیانک غلطی سرزد ہوگئی تھی۔۔۔شیرافگن ہاشمی سے محبّت کرنے کی غلطی۔۔جس کا خمیازہ شاید اب اِیسے عمر بھر بھگتنا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیرافگن کی آنکھ اپنے مخصوص وقت پر کھل گئی تھی۔۔نیند سے بيدار ہوتا وہ کروٹ کئے دوسری جانب گھُما تھا۔۔مُندی مُندی آنکھوں سے دیکھا مگر دوسری جانب کا بستر بغیر شکن کے جوں کا توں تھا۔۔ "حیات!!!!' کچھ لمحے یونہی سوئی جاگی کی سی کیفيت کی نظر ہو گئے تھے۔روم میں ایک طائرانہ نگاہ گھمُائی۔۔مگر جب وہ کہیں نظر نہ آئی تو وہ پکار بیٹھا تھا۔۔ "حیات!!!جواب ندار تھا۔۔واشروم،چینجنگ روم،حتٰی کے اسٹڈی میں بھی چیک کر چکا تھا۔۔۔مگر
