Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 10
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 29/09/2025
6 Views
Episode no 10
کے سامنے منہ اٹُھا کر نہیں جایا کرو۔"وہ اور بھی کچھ بول رہی تھیں۔جبکہ وہ بدتمیزی کی انتہاؤں کو چھوتی نشست چھوڑ کر چلتی بنی تھی۔۔۔ ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت حیات شیرافگن کی ہمراہی میں عباس پیلس میں موجود تھی۔۔۔دادی کے بے حد اسرار پر وہ حیات کو اپنے بزی شیڈول میں سے وقت نکال کر دادی سے ملوانے لے آیا تھا۔۔ارتضٰی اور دادی نے بالکل نيولی ویڈ كپل کی طرح ان کا استقبال کیا تھا۔۔۔ ڈنر کے بعد وہ سب عباس پیلس کے لاؤنج میں بیٹھے خوش گپو میں مصروف تھے۔۔جبکہ حیات بھی مسکرا کر دادی کے سوالوں کے جواب دیتی بہت ریلیکس نظر آرہی تھی۔۔ "شیرافگن تمہاری ماں کہاں غائب ہے آج کل؟"وہ کچھ یاد آنے پر بے ساختہ پوچھ بیٹھی تھیں۔۔۔وہ جو ارتضٰی سے باتوں میں مصروف تھا۔۔ذرا چونک گیا تھا۔۔ "وہ اپنی سسٹر کے یہاں گئی ہوئی ہیں اوٹ آف کنٹری۔۔ویسے سب خیریت تھی ناں۔۔"اس نے اچھنبے سے سوالیہ پوچھا تھا۔ "سب خیریت تھی بچے۔۔میں تو تمہاری ماں کی خبر لیتی کہ اتنی پیاری بہو دی ہے اللّه نے۔۔بالکل سیدھی سادھی پیاری سی۔۔یہ نہیں کہ بچی کو خاندان میں دوست احباب میں سب سے ملوائیں۔۔شادی کو مہینہ ہونے والا ہے۔۔اور بچی بتا رہی ہے وہ اب تک کہیں گئی ہی نہیں ہے۔"وہ کڑے تیوروں سے بولیں تھیں۔۔ "شیر افگن نے ذرا گھور کر دادی کے ساتھ لگ کر بیٹھی بچی کو دیکھا تھا۔۔جو شیر کے چہرے کے اُتار چڑھاؤ دیکھ مسکراہٹ ضبط کر رہی تھی۔۔ "دراصل دادی جانی۔۔نکاح اس قدر جلد بازی میں ہوا تھا کہ ان سب چیزوں کا وقت ہی نہیں ملا۔۔بس اِسی سوچ کے زِیر نظر بابا نے ہمارے ولیمے کا ایک شاندار سا ریسپشن رکھا ہے۔۔ "وہ ذرا سنبھل کر بولا۔۔ "چلو اچھا ہے۔۔خیر سے بیٹا تمہارے گھر میں کون کون ہوتا ہے۔۔"اب وہ دوبارہ حیات کی جانب گھومی تھیں۔۔جبکہ ان کے سوال پر اس کا رنگ پھیکا پڑگیا تھا۔۔ "وہ ماما۔۔۔"حیات اٹک اٹک کر کچھ بولنے ہی لگی تھی کہ عقب سے نمودار ہوتی شخصیت کی شوخ بھری آواز سُن کر وہ سب خاموش ہوگئے تھے۔۔ "اوہ واؤ!!واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز۔۔۔میں تو ارتضٰی سے ملاقات کرنے آئی تھی۔۔اور یہاں مجھے اتنے سارے لوگ مل گئے۔۔"وہ دادی بیگم کو دیکھ چہک کر بولتی نزدیک آئی تھی۔ "السلام علیکم دادو۔۔کیسی ہیں آپ۔۔""وہ جھک کر ان کا ہاتھ چومتی ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی۔۔ "میں اللّه کا شکر بچے۔۔تم کہاں غائب ہو۔۔تم تو اپنی دادو کو بھول ہی گئی ہو جیسے۔۔"وہ دادی سے لگی فی الحال وہاں موجود ہر فرد کو اگنور کر چکی تھی۔۔ ارتٰضی نے شرارت سے ٹھوکالگاتے ،شیر افگن کی توجہ حیات کی جانب کرائی تھی۔۔جو ذرا عجیب نظروں سے اُجالا کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔ "اور افگن صاحب۔۔۔کہاں غائب ہیں آپ۔۔۔"وہ وہ باقاعدہ اُٹھ کر شیرافگن سے ہیلو ہائے کرتی اس کے برابر میں ہی بیٹھ گئی تھی۔ارتضٰی سے وہ دور سے ہی ہائے کر چکی تھی۔۔ "میں تو یہیں ہوں میڈم غائب تو آپ ہوگئی ہیں۔۔"وہ ذرا شرارت سے آنکھ مار کر ہاتھ پر ہاتھ مآرتا ہوا بولا۔۔حیات نے غصےٰ سے اُسے دیکھا تھا۔۔ "بیٹا ۔۔تم ان نکموں سے ہی ملنے میں لگی ہوئی ہو۔۔ہماری بہو سے تو ملو۔دیکھو کتنی پیاری سی ہے۔۔"دادی نے حیات کا اتُراہوا چہرہ دیکھ اجُالا کی توجہ دلوائی تھی۔۔ "اوہ سو سوری ہنی۔۔میں نے تمھیں دیکھا ہی نہیں۔۔۔چھوٹی سی تو ہو اس باڈی بلڈر کے سامنے نظر ہی نہیں آئیں مجھے۔۔"اُجالا کے شرارت سے کہنے پر ارتضٰی اور شیرافگن کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔جبکہ وہ ضبط سے خاموش بیٹھی تھی۔۔ "اوہ سوری۔۔۔شاید تم مائنڈ کر گئی ہو۔۔۔میرا تو ان دونوں سے مذاق چلتا ہے۔۔تو اب سے تم بھی ہماری پارٹنر ہو۔۔"اس بار وہ موقع کی نازاکت بھانپتی صلاح جو انداز میں بولی۔۔ "اچھا بس بس شرآرتی لڑکی تم میری بہو کو تنگ نہ کرو۔۔"وہ دادی کی تنبیہ پر فوراً سیدھی ہوئی تھی۔۔ "اوکے۔۔۔شروع سے کرتے ہیں۔۔" "ہیلو!! ُاجالا۔۔۔۔تمہارے شوہرِ نامدار کی بہترین دوست اور بھی بہت کچھ۔۔جلد بتاؤنگی۔۔"وہ ایک بار پھر شرارتی لہجے میں افگن کو آنکھ مار کر گویا ہوئی تھی۔۔جبکہ وہ دونوں مزے سے حیات کی جیلسی انجوئے کر رہے تھے۔۔ "السلام علیکم!!" حیات شیرافگن ہاشمی۔۔۔آپ کے دوست کی بیٹر ہاف اور سب کچھ۔۔۔"حیات ایک دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوئی تھی۔۔جبکہ وہ تینوں مزے سے اس کا حالت سے خظ اُٹھا رہے تھے۔۔جو بلاوجہ ہی سیخ پا ہورہی تھی۔۔ "اوہ ہو۔۔۔کیا بات ہے۔۔شیرافگن تم نے مجھے پہلے کبھی اپنی سب کچھ اور بیٹر ہاف کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔۔"وہ ذو معنی لہجے میں مسکرآتی جان بوجھ کر اس کے برابر میں لگ کر بیٹھ گئی تھی۔۔ "افگن۔۔۔میرے خیال سے اب ہمیں گھر چلنا چاہیے۔۔کافی دیر ہوگئی ہے۔۔"ابھی وہ مزید کوئی چٹکلا چھوڑتی حیات اس سے پہلے ہی چٹخ کر بولی۔۔ "اوہ ہاں!!دادی اجازت دیں۔۔دراصل مجھے حیات کو شاپنگ پر بھی لے کر جانا ہے۔۔"وہ بھی گھڑی میں وقت دیکھتا مزید اُسے تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتا اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔ "اوکے باس!!!"وہ ارتٰضی سے ہاتھ ملاتا اجازت لے رہا تھا۔۔جبکہ حیات دادی کی کسی بات پر مسکراتی اُن کے گلے لگی تھی۔۔۔ "تم یاد سے اس معاملے کو دیکھ لینا۔۔مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔۔اور فی الحال بھابھی کو گھر میں ہی رکھ۔۔اور نہ جلایا کر۔۔بیچاری اتنی سی دیر میں اپنا آدھا خون جلا چکی ہیں۔۔ "وہ اسے ھدایت کرتا آخر میں شرآرت سے بولا تو وہ مسکراہٹ ضبط کرتا اک بار پھر اُجالا کی جانب بڑھا۔ "ڈئیر فرینڈ کبھی ہمارے غریب خانے پر بھی چکر لگائیے گا۔۔ویسے بھی میری زوجہ محترمہ سے آپ کا آدھا انٹرڈکش رہ گیا ہے ابھی۔۔"اُجالا اس کے لفظوں کا مفہوم سمجھتی شرآرت سے مسکرائی۔ "چلیں افگن!!""وہ اس کا بازو تھامتی نزدیک آکھڑی ہوئی تھی۔۔اور اُجالا کو ایسے دیکھا تھا کہ ابھی کچا چبا جائے گی۔۔ "يس مائے لو۔۔۔"وہ دادی سے رخصت لیتا اسے اپنی ہمرآہی میں لئے عبّاس پیلس میں ایک خوبصورت سی شام گزارتا وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
