Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 10
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 29/09/2025
6 Views
Episode no 10
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #لکھاری_ہما_قریشی #قسط_نمبر_10 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا اندھیرا ہر جانب اپنے پَر پھیلا چکا تھا۔جبکہ وہ خوفزدہ سی روم لاکڈ کئے بیٹھی مسلسل لب کاٹ رہی تھی۔۔سائیڈ ٹیبل سے موبائل اِٹھایا مگر سارا دن چارج نہ کرنے کی وجہ سے اُس کی بیٹری ڈیڈ ہو چکی تھی۔۔ "شیرافگن کہاں ہیں آپ؟؟پلیز گھر آجائیں۔۔۔"دل ہی دل میں دعاؤں کے ورد کرتی وہ مسلسل اُسے ہی یاد کر رہی تھی۔۔ "افف اللّه میں نے تو ٹینشن میں رات کا کھانا بھی نہیں کھایا ہے۔۔"گھڑی میں وقت دیکھا جہاں رات کا ایک بج چکا تھا۔۔اب باہر جاتے ہوئے بھی ڈر لگ رہا تھا۔۔ کچھ دیر یونہی گزر گئی تھی۔۔جب بھوک ناقابل برداشت ہوئی تو وہ بہت ہمّت کرتی گلے میں دو پٹہ ڈالتی نیچے کی جانب بڑھی تھی۔۔سیڑھیاں اُترتے ہوئے رات کے اندھیرے میں ہاشمی ولا کسی پرانی بھوتیا حویلی کا سا منظر پیش کر رہا تھا۔۔دو طرفہ سیڑھیوں سے دھیرے دھیرے قدم لیتی وہ سیدھی کچن میں گئی تھی۔۔۔باہر سے گاڑی کی اور چوکیداری پر معمور کتوں کے بھونکنے کی آواز ساتھ ہی گونجی تھی۔۔مگر فی الحال اُس پر چور کے گھر میں داخل ہوجانے کا خوف غالب آگیا تھا۔۔ "پھرتیلے انداز میں لائٹ آن کی پھر فریج سے کھانا نکالنے کے بجائے فروٹ ٹرے سے دو سیب اور امرود اٹُھاتی لائٹ بند کر کے وہ جس تیزی سے آئی تھی اِسی تیزی سے بھاگنا چاہ رہی تھی۔۔ بڑے بڑے قدم لیتی وہ جیسے ہی روم میں انٹر ہوئی تو سانس میں سانس آئی تھی۔۔۔ دروازہ سے پشت لگائے وہ آنکھیں بند کئے گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔۔آنکھیں کھولتے ہی پہلی جو نظر سامنے کھڑے وجود پر پڑی کو ڈر کے مارے چیخ اٹُھی تھی۔۔ "آہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔بچاؤ۔۔۔مجھے کوئی بچاؤ پلیز۔۔۔"نیم اندھیرے کمرے میں جیسے ہی اپنے سے کچھ فاصلہ پر کھڑے ديو قدامت ہیولے کو جودیکھا تو وہ بلا آرادہ ہی خوف سے چلا اُٹھی تھی۔۔۔ "وہ جو خاموشی سے کھڑا اس کی کاروائی دیکھ رہا تھا۔۔اچانک چلانے پر گڑبڑا کر اس کی سمت بھاگا تھا۔۔جو آنکھیں بند کئے مسلسل چلا رہی تھی۔۔ "حیات۔۔۔کیا ہوگیا ہے۔۔میں ہوں شیرافگن۔۔حیات۔۔۔۔۔"وہ جو مسلسل چلا رہی تھی۔۔رخساروں پر محسوس ہوتا جانا پہچانا سا لمس اور کانوں کے قریب سے اُبھرتی شناسہ سی آواز پر ذرا ٹھر کر ہوش میں آئی تھی۔۔۔ "افگن۔۔۔۔اففف۔۔۔یہ آپ ہی ہیں نا۔۔۔۔سچ میں آپ ہیں۔۔"وہ بے یقینی کی سی حالت میں گہری مسلسل اس کا چہرہ ہاتھوں سے چھوتی ابھی تک خوف کے حصار میں تھی۔۔ "نہیں یہ میں شیر افگن نہیں ۔۔شیر افگن کا بھوت ہوں۔۔"وه اسے مسلسل ابنورمل رویہ اختیار کرتا دیکھ طنزیہ بولا۔۔ "آپ۔۔۔"وہ یکدم اس مہربان کا سامنے ہونے کا یقین کرتی روتی ہوئی اس کی پشت سے جا لگی تھی۔۔جو رُخ پھیر کر جانے لگا تھا۔۔۔ "افگن۔۔۔میں وہ ۔۔۔وہ میں اکیلے میں ڈر گئی تھی۔۔۔"جب اوسان کچھ بحال ہوئے تو وہ صفائیہ لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔ "ڈر گئیں سے کیا مراد ہے۔۔گھر میں ڈھیروں ملازمین موجود ہیں۔۔تم ایسے کیسے ڈر گئیں۔۔"وہ خشمگیں نظروں سے گھورتا اِس کی جانب پلٹا تھا۔۔ "ہاں تو ملازم ہیں۔۔لیکن میں گھر میں اکیلی ہوں۔۔"اس بار وہ بھی غصّے سے بولی تھی۔جیسے اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں تھی۔۔ "موبائل کیوں آف ہے تمہارا۔۔تمھیں پتہ بھی ہے میں کب سے تمھیں پاگلوں کی طرح كالز پر كالز کر رہا ہوں۔۔۔تمہاری وجہ سے میں وہاں سے ایمرجنسی میں فلائٹ لے کر سیدھا گھر آرہا ہوں۔۔"اس بار وہ غصّے سے اُس پر برس پڑا تھا۔۔جس کی لاپرواہی عروج پر تھی۔۔ "وہ۔۔وہ موبائل میں چارجنگ نہیں تھی۔۔"شرمندگی کے باعث حیات کی زبان لڑکھڑا گئی۔۔ "ہوہنہ!!!!لاپرواہ عورت۔۔۔"غصّے سے سرجھٹکتا اس کی حالت پر ایک تیز نظر ڈالتا وہ ڈریسنگ روم میں جانے کے لئے پلٹا تھا۔۔۔ "اففف۔۔۔یار یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم نے کمرے کی۔۔یہ فروٹس زمین بوس کیوں ہوئے پڑے ہیں۔۔"وہ پیروں میں آتے رزق کو دیکھ ایک بار پھر جهنجهلآیا ۔۔جو وہ خوف سے پھینک چکی تھی۔۔ "وہ آپ جو بھوت کی طرح میرے سامنے آگے اور مجھے ڈرا دیا۔۔اس لئے گرگئے میرے ہاتھ سے۔۔۔اب حیات کو بھی غصٰہ آنے لگا تھا۔۔جو اسے دلاسہ دینے کے بجائے مسلسل ڈانٹے جارہا تھا۔۔ "تم۔۔۔تم نا سُدھر جاؤ۔۔۔حیات کاظمٰی۔۔۔"وہ کچھ سخت سنُانے والا تھا۔۔مگر اس کی روہانسو سی صورت دیکھ لب بھینچتا خاموش ہوگیا۔۔ "ہونہہ !!!بڑا احسان کیا ہے نا جیسے مجھ پر واپس آکر۔۔"وہ اس کو ڈریسنگ روم میں غائب ہوتا دیکھ فوراً شیرنی بنی غصّہ سے بڑبڑائی تھی۔۔ "کم از کم واپس آکر تم پر تو احسان ہی کیا ہے حیات بیگم۔۔ورنہ ساری رات میں ڈر کے مارے فوت ہو چکی ہوتیں۔۔اور صبح صبح فضول میں ہمارا خرچہ بڑھ چکا ہوتا۔۔"وہ جو بیڈ پر بیٹھ کر سیب کھانے لگی تھی۔۔پیچھے سے اُبھرتی آواز پر چونک کر اُچھلی تھی۔۔ "کیا۔۔۔فضول خرچہ۔۔۔یعنی میں مر جاتی۔۔اس کا کوئی غم نہیں ہے۔۔بس اپنے پیسے خرچ ہونے کا دُکھ ہے آپ کو۔۔"اس کی آواز صدمے سے چور تھی۔۔افگن لب دبا کر مسکراہٹ روکتا واشروم میں غائب ہوگیا تھا۔۔۔ "شیر افگن۔۔۔ایک نمبر کے۔۔۔"وہ غصّے سے کچھ سخت بولنے لگی تھی۔۔مگر اس کے دراوزہ کھولنے پر خاموش ہوگئی۔۔ "تم نا ابھی خاموشی سے باہر جاكر اپنی پیٹ پوجا کرلو۔۔اور آئندہ میرے کمرے کو ڈنر ٹیبل سمجھنے کی ضرورت ہر گز نہیں ہے۔۔تمہارا دماغ تو میں باہر آکر دُرست کرتا ہوں۔۔"حیات کا کمرے میں بیٹھ کر کھانا اسے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔جبھی تنبیہ انداز میں بولتا اب وہ واقعی واشروم میں بند ہوگیا تھا۔۔ حیات بھی خاموشی سے کمرے سے باہر نکلتی سیدھی کچن میں آئی تھی۔۔ڈر ختم ہوا تھا تو بھوک بھی زورو کی لگنے لگی تھی۔۔میکرو ویو میں رات کا کھانا گرم کرتی اب اپنی بیوقوفی پر خود ہی کو کوس رہی تھی۔ "کیا بنایا تھا رات کو ڈنر میں۔۔"حیات اچُانک آواز پر اُچھل کر رہ گئی۔۔ جو اس کے ساتھ اکر کھڑا ہوتا پین کا ڈھکن اُٹھا کر چیک کر رہا تھا۔۔ "یہ آپ کو پیچھے سے آکر ڈرانے کی پُرانی عادت ہے کیا؟"اس بار کمر پر ہاتھ رکھتی وہ آنکھیں چھوٹی کئے خفگی سے بولی۔۔ "تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔"وہ پہلے حیران ہوا اور پھر تاسف سے نفی میں سر ہلا کر رہ گیا۔۔۔ "آپ کی فضول حرکتوں کا بھی کچھ نہیں ہوسکتا۔۔"وہ بھی اسی انداز میں گویا ہوتی رُخ پھیر گئی۔۔ "تمھارے دماغ کو زیادہ ہی ہوا نہیں لگ گئی ہے۔۔میں دیکھ رہا ہوں تمہاری زبان کچھ زیادہ ہی چل رہی ہے۔۔"شیر نے آئی برو اُٹھائے۔۔ "اگر وقت ملے تو ذرا اپنے رویے پر بھی غور کر لیجئے گا۔"وہ ناچاہتے ہوئے بھی شکوہ کر گئی تھی۔ "اچھا۔۔کھانا نکالو بھوک لگ رہی ہے مجھے۔۔ساڑھے چھ گھنٹے کی فلائٹ لے کر آرہا ہوں۔۔کچھ احساس بھی ہے تمھیں۔۔"اس بار وه نرمی سے گویا ہوتا اس پر ایک تاسفی نگاہ ڈالتا خفگی سے بولا۔۔تو وہ خوامخواہ ہی شرمنده ہو گئی تھی۔ نائٹ ڈریس میں ملبوس گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ کچن میں موجود ڈائیننگ ٹیبل پر ہی چیئر سنبھال کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔ فریش سے شیر افگن پر ایک ناراض نگاہ ڈالتی اب وہ پلیٹ میں کھانا ڈالنے لگی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عابثہ لاؤنج میں بیٹھی موبائل پر مصروف تھی جبھی نانی صاحبہ بھاری قدموں کی چاپ چھوڑتیں نزدیک آئی تھیں۔ "اے لڑکی۔"وہی سخت لہجہ وہ چونکی۔ "کل تمہارے لئے رشتہ والے ارہے ہیں۔۔اس بار کوئی اوٹ پٹانگ حرکت نہیں ہونی چاہیے سنُا تم نے۔۔"آج نجانے کیوں وہ خاموش تھی۔ "اور ہاں گھر میں تمہاری ماموں زاد کی شادی کی تیاریاں چل رہی ہیں۔۔بہتر ہے تم اپنے کمرے تک محدود رہو۔۔سو لوگوں کا آنا جانا لگا ہوا ہے۔۔ہر ایک
