Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode 38
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
1 Views
Episode 38
دھوپ چھاؤں سا ہرجائی ازہماقریشی قسط نمبر_38 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کی سیاہ تاریکی ہرسو پھیل رہی تھی۔ آسمان پر چھائی چاندی گویا آج سالوں بعد عباس پیلس میں رقص کرتی خوشیوں کی ضمانت دے رہی تھی۔ رات کی رانی کی خوشبو سے لان میں مسحور کُن مہک پھیلی ہوئی تھی۔ عباس پیلس کے لان میں موجود وہ چاروں نفوس باتوں میں مصروف ہونے کے ساتھ ساتھ گرین ٹی سے بھی لطف آندوز ہورہے تھے۔ حیات شیرافگن کے ساتھ بیٹھی آج کئی دنوں بعد دل سے مُسکرائی تھی۔جبکہ عابثہ اور حیات کو مطمئن دیکھ گویا افگن کے دل میں ٹھنڈک اُتر آئی تھی۔ ’’برو اب ولیمہ کی بریانی کب کھلا رہا ہے پھر؟‘‘ وہ ارتضیٰ کو عابثہ کے کان میں کوئی سر گوشی کرتا دیکھ گلا کھنکھار کر بولا۔تو وہ دونوں گڑ بڑا کر چونکے۔ ’’کباب میں ہڈی!‘‘ارتضیٰ بڑبڑا یا۔ ’’ہیں کیا؟ تو ولیمہ میں مدعو مہمانوں کو صرف ہڈیاں کھلائے گا؟یار تیرا دماغ تو نہیں چل گیا؟‘‘وہ آنکھوں میں شرارت لئے اُسے چھیڑنے کی غرض سے بولا تھا۔ ’’ نہ کر یار!بلا وجہ ضائع ہوجائے گا مجھ سے۔‘‘وہ بیزاریت سے بولا۔جبکہ میز کے نیچے سے عابثہ کا ہاتھ تھامے بیٹھے آرتضی کا انگھوٹےسے نبض سہلانا ویسے ہی مشکل میں ڈال گیا تھا۔اُس کی اِن حرکتوں پر عابثہ کی تو سانسیں تھم تھم جارہی تھیں۔ ’’اچھا تو پھر ہم جارہے ہیں۔‘‘اُس نے ہنوز ناراضگی کا اظہار کرتے تڑی لگائی۔ ’’مہربانی!یہاں سے سیدھا جاؤ۔۔ بالکل سامنے ہے باہر کا دروازہ!‘‘افگن کی ِاس قدر کھلی بے عزتی پر حیات کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ ’’تمہیں بڑی ہنسی آرہی ہے۔۔یہ میرے ساتھ ساتھ تمہیں بھی یہاں سے جانے کا بول رہا ہے۔‘‘ افگن کے گھورنے پر اُس کی ہنسی کو بریک لگا۔ ’’میں تجھے اتنا بے غیرت نظر آرہا ہوں۔۔میں بھلا کیوں نکالنے لگا اپنی بہن کو ،اپنے گھر سے۔۔میں تو تجھے دفعہ ہونے کا بول رہا ہوں۔‘‘ وہ آئی برو اُٹھا کر شرارت سے بولا تھا۔عابثہ تو شیر افگن کے سامنے اِسے اس قدر فرینک اور نرمی سے بات کرتا دیکھ،کئی بار غش کھاتے کھاتے بچی تھی۔جوبزنس کی دنیا کا اکھڑ مزاج،اکڑو،بات کرنے پر ٹیکس ادا کرنے والا،سالوں میں ایک بار مسکرانے والا آج صبح سے اُس پر اپنا نیا روپ روشناس کراتا حیرت زدہ کر گیا۔ ’’ہونہہ! آیا بڑا بہن کا بھائی۔‘‘وہ ذرا ناراض لہجے میں بولتا،پھر کوئی بات سمجھ آنے پر قہقہہ لگایا۔۔ ’’حیات میری بہن ،میں آپ کو ایک مفید مشورے سے نوازنا چاہتا ہوں کہ پلیز گھر جانے سے قبل،آپ اپنے شوہر نامدار کا کسی اچھے سے سائیکٹرسٹ سے پراپر چیک اپ ضرور کرا لیجیے گا۔عنقریب اس کا داخلہ کسی مینٹل اسائلم میں کرانا پڑ جائے۔مجھے لگتا ہے حالیہ دنوں کی ٹینشن اِس کے ذہن پر بہت بُری طریقے سے اثر آنداز ہوئی ہے،دیکھیں ذرا پاگلوں کی طرح خود ہی قہقہے پر قہقہے لگا رہا ہے۔‘‘وہ ذرا ناراضگی سے افگن کو گھور کر بولا۔جس کی زبان میں ایک بار پھر کھجلی ہوئی تھی۔ ’’بہن کے بھائی میں سوچ رہا تھا۔تو میرے بچوں کا ماموں بنے گا یا پھر چچا!مگر تیری کھڑوس پر سنالٹی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ تو میرے بچوں کو ماموں بنے۔اور شیر افگن ہاشمی کے بچوں کے ماموں ہونے کا ٹائیٹل تجھ پر خوب جچ بھی رہا ہے۔‘‘وہ حیات کو آنکھ مارتا ارتضیٰ کو چھیڑنے کی غرض سے بولتا دوڑ لگاگیا،جبکہ وہ ارتضیٰ کے سامنے اس کی اِس قدر بے باک گفتگو پر شرم سے سُرخ چہرہ جھکا کر رہ گئی تھی۔ ’’بھابھی آپ ۔۔۔۔آج میں نہیں چھوڑوں گا اِسے۔۔‘‘وہ حیات کا چہرہ دیکھ خود کو کوئی سخت الفاظ کہنے سے باز رکھتا تیز قدموں سےا ُس کے تعقب میں گیا۔۔جو سیدھا دادو کے روم کی جانب بھاگا تھا۔کیونکہ ارتضیٰ کے ڈھائی کلو کے ہاتھ سے اب صرف وہی اُسے بچا سکتی تھیں۔ ’’حیات بھابھی!‘‘حیات جو افگن کو اتنے دونوں بعد کھل کر مسکراتا دیکھ مبہوت سی دور تعقب میں اُس کی پشت کو تشنہ نگاہوں سے نہارنے میں غرق تھی،سماعتوں سے ٹکراتی عابثہ کی مدھم آواز پر چونک کر ہوش و حواس کی دنیا میں لوٹی تھی۔ ’’جی چندہ!‘‘وہ ہمہ تن گوش ہوئی۔ ’’آپ خوش ہیں ناں؟‘‘وہ ذرا جھجھک کر سوالیہ گویا ہوئی۔ ’’ایسا سوال کیوں پوچھ رہی ہو ،کیا تمہیں مجھ دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ میں بہت خوش ہوں۔‘‘وہ سنجیدہ ہوگئی تھی۔ ’’نہیں وہ بھائی نے دوسرا نکاح۔۔‘‘عابثہ کی زبان لڑکھڑا گئی تھی۔ ’’جانتی ہو عابثہ!زندگی میں ہر انسان پر کڑی آزمائش کا وقت آتا ہے۔۔اور مجھے شاید اس بات کا عمر بھر پچھتاوا رہے گا،کہ جب خدا نے مجھے آزمائش میں ڈالا تو میں ،اس آزمائش میں پورا نہیں ُاتر سکی۔ ‘‘وہ ٹرانس کی سی کیفیت میں مبتلہ کھوئی کھوئی سی آواز میں گویا ہو ئی۔ ’’ایسا کیوں کہ رہی ہیں حیات!افگن بھائی آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔‘‘ وہ اسُ کو دلاسہ دلانے والے لہجے میں بولی تھی۔۔ ’’مجھے ہمیشہ یہ گماں رہا کہ شیر افگن کو میں زیادہ چاہتی ہوں۔مگر جانتی ہو، بھلے ہی میری محبت کا پلڑا بھاری رہا ہو۔۔مگر اعلیٰ ظریفی میں اُس شخص کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکتی۔جس نے مجھے اُس وقت اپنا نام دیا تھا جب ہر شخص مجھ سے رُوٹھ گیا تھا۔۔اپنا نام دیا ،معاشرے میں ایک نئی پہچان دی، محبت،اور سب سے اہم محفوظ چار دیواری۔جو ایک عورت کے لئے بہت قیمتی ہوتی ہے۔میرے ہر عیب پر اپنی عزت کی چادر ڈال کر مجھے دنیا کی نظروں میں معتبر کردیا۔میں آج بلا جھجھک دنیا کے سامنے خود کو شیر افگن ہاشمی کے حوالے سے متعارف کراتے فخر محسوس کرتی ہوں ،یہ اعتماد اُسی شخص کی دین ہے۔ لیکن پتہ ہے کیا ،میں نے کیا کیا،بھری محفل میں وہ اعلیٰ ظریفی نہ دکھا سکی جو کبھی افگن نے میرے معاملے میں دکھائی تھی۔میں اُس احسان کا قرض نہیں چُکا سکی۔میں نے ہماری درمیان کی باتوں کا پردہ زمانے بھر کے سامنے اپنے گھر کی،اپنے شوہر کے گھر کی دہلیز کو پھلانگ کر چاک کر دیا،جس شخص نے مجھ سے کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کی،میں نے اُسے پولیس ،تھانوں کے چکر لگوا دیئے۔میں نےاپنی نادانی میں سب غلط کر دیا عابثہ۔اُس کی ایک خطا پر اُس کی ہزار مہربانیوں کو پل میں فراموش کر دیا۔ یہ درد اُس درد سے بہت زیادہ ہے۔۔بہت ازیت ناک،اور تکلیف دہ ہے۔۔‘‘ حیات کاظمیٰ کے رُخسار نم ہوگئے تھے۔۔۔عابثہ کو شیرافگن کی قسمت پر رشک آیا تھا۔۔وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو دیوانگی کی حد تک چاہتے تھے۔۔اور شاید نکاح میں یہی طاقت ہوتی ہے ،جو ہزار ناراضگیوں ہزار شکوے شکایات ہونے کے باوجود اپنے ہم سفر کی ذرا سی تکلیف برداشت کرنا دوبھر ہوجاتا ہے۔۔ ضروری تو نہیں نہ کہ جس سے محبت کی جائے ،اس کی صرف اچھائیوں سے ہی محبت ہو۔عاشق تو اپنے عشق کی ہر خطا کو کھلُے دل سے قبول کر لیتے ہیں۔تو پھر حیات کاظمیٰ کیوں نہیں۔‘‘ شدت بھرے لہجے میں گویا ہوتے اُس کے رخسار نم ہوگئے تھے۔۔ ’’میں بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی۔۔تم لوگ بھی ہمارے ساتھ بیٹھے بیٹھے اب سوکھ گئے ہوگئے۔۔میں ذرا افگن کو دیکھتی ہوں،نجانے کہاں رہ گئے ہیں۔‘‘وہ جلدی سے اپنے گال پونچھتی عابثہ کو دیکھ مسکرائی۔جبھی عقب سے آوازیں لگاتا افگن وہاں آیا تھا۔ ’’حیات!جاؤ جلدی سے دادو سے مل لو۔۔پھر نکلتے ہیں۔کافی رات ہوگئی ہے۔‘‘وہ کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھتا عجلت بھرے لہجے میں بولا تھا۔۔۔تو وہ سر ہلاتی آندرونی حصہٰ کی جانب بڑھی تھی۔۔۔جبکہ وہ جیبوں میں ہاتھ پھنسا کر کھڑا
