Yeh Ishq tum na karna ( Episodic Novel ) — Yeh ishq Tum na Karna Episode No 04
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/10/2025
439 Views
Yeh ishq Tum na Karna Episode No 04
یہ عشق تم نہ کرنا از ہما قریشی قسط نمبر 04 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کون ہو تم لوگ چھوڑو مجھے؟‘‘وہ ان لوگوں کی گرفت میں مسلسل چلا رہی تھی۔۔ ’’ابے اس کا علا ج کر یار!‘‘ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا شخص ناگواری سے بولا تھا۔۔لائبہ کی مسلسل چیخ و پکار پر اس کا سر دکھنے لگا تھا۔۔ ’’چھوڑو مجھے تمھیں اللہ کا واسطہ ہے۔۔۔‘‘ وہ چیخ پڑی تھی۔۔ساتھ دہائیاں بھی دے رہی تھی۔۔جبھی ساتھ بیٹھے شخص نے ِاسکی مخصوص رگ دبائی تھی۔۔اور اسے بے ہوش ہو گئی تھی۔۔ ’’میڈم نے کہا ہے اس لڑکی کو زیادہ دیر نہیں رکھنا،بس آج ہی ہوٹل کے کمرے تک پہنچانا ہے۔۔‘‘وہ آگاہ کر رہا تھا۔۔چلو ٹھیک ہے۔‘‘ وہ دونوں باتیں کرتے اپنے مخصوص آڈے پر آگئے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوسف کو اپنا سر گھومتا محسوس ہورہا تھا۔جبھی اس نے ولید کو اشارے سے اپنی جانب بلوایا تھا۔۔ ’’کیا ہوا برو؟‘‘وہ سوالیہ آنداز میں بولا۔۔ ’’ یار میرا سر گھوم رہا ہے۔۔‘‘وہ سر تھام چکا تھا۔ ’’اوہ ہو تو تو پھر میرے ساتھ گھر چل۔۔‘‘وہ شرارت سے مسکرایا۔۔ ’’ہاں مجھے گھر چھوڑ دے۔۔مجھے نہیں لگتا کہ آج مجھ سے ڈرائیو نگ ہو سکے گی۔۔‘‘وہ اپنا سر بار بار جھٹک رہا تھا۔۔ ’’ہاں ہاں چل بھئی!‘‘وہ ساتھ لئے ڈسکو سے باہر نکل آیا تھا۔۔جبکہ یوسف کے سامنے بار بار اِس دلربا کا چہرہ گھوم رہا تھا۔۔جسے کل وہ اپنے انتقام کی بھینٹ چڑھا چکا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ نیم بے ہوشی میں ہوٹل کے کمرے میں پہنچا دی گئی تھی۔۔اسے خود بھی خبر نہیں ہوئی تھی۔۔۔وہ ابھی ہوش میں آئی تھی۔۔ارد گرد میں نگاہ گھمائی تو اندھیرا تھا۔۔وہ بمشکل چکراتے سر کو تھام کر اُٹھتی بیڈ سے نیچے قدم رکھتی دروازے کی جانب بڑھ رہی تھی کہ جبھی کوئی دروازہ کھول کر آندر داخل ہوا تھا۔۔۔ ’’مجھے۔۔۔۔مجھے جانے دو پلیز۔۔‘‘وہ خوف زدہ ہوئی۔۔وجود سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھی۔۔ ’’ہئے!سویٹ ہارٹ! سوری۔۔‘‘یوسف جو پہلے ہی نشے میں تھا کہ اسے اپنے سامنے نظر آتی لائبہ کو دیکھ وہ بری طرح سے بہکا تھا۔اسے آج ہر طرف بس لائبہ ہی نظر آرہی تھی۔۔۔اس ڈوز کا اَثر تھا جو اس کے سر پر چڑھ رہا تھا۔۔جبکہ وہ جھلبلا اُٹھی تھی۔۔اُس کے رُوم میں آتے ہی رُوم باہر سے بند کر دیا گیا تھا۔ ’’مجھے جانے دو پلیز!میں۔۔۔کسی اور کے ۔۔۔نکاح میں ہوں۔۔دیکھو یہ بہت بڑا گناہ۔۔ہے۔۔‘‘وہ سسک سسک کر بولتی اپنی بے بسی بیان کر رہی تھی۔۔جبکہ یوسف کے دماغ پر تو بس اپنا نکاح ہی سوار تھا۔۔ ’’بے بی تم میرے نکاح میں ہو۔۔۔مائی لائف،مائی وائف!سوری فار مائی پاسٹ مسٹیکس ہنی!‘‘وہ زبردستی اسے قابو میں کرتا، اپنے حصار میں لے گیا تھا۔۔اسکی ساری التجائیں، رونا، بے بسی تمام تر مزاحمتیں ا ُسی کے حصار میں دم توڑ گئی تھیں۔۔جبکہ یوسف پر تو بس ایک خمار سا سوار تھا۔۔۔ جو لائبہ یوسف کو ایک بار پھر برباد کر چکا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کی سیاہ تاریکی ڈھل کر روشن صبح میں تبدیل ہو گئی تھی، جبکہ وہ لٹی پٹی سی حالت میں بیڈ کی پائنتی کے قریب فرش پر گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی ، گھٹی گھٹی ہچکیوں اور سِسکیوں سے رُو رہی تھی۔ دل میں درد بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا، رات کے اندھیرے میں بیڈ پر موجود اس شخص نے، ایک نکاح شدہ لڑکی کی عزت کو تار تار کر دیا تھا۔ ’’’یا اللہ، مجھے موت دے دے۔۔۔‘‘ اپنا چہرہ رگڑتی، وہ ایک جھٹکے سے اُٹھی تھی، اور طیش میں ہوٹل کے کمرے میں کوئی چیز تلاش کرنے لگی تھی، تاکہ پہلے اس شخص کا قتل کر کے اپنا بےکار وجود بھی ختم کر سکے۔ ’’میری زندگی تباہ کرنے والی، اللہ تمہیں بھی یونہی دنیا اور آخرت میں رسوا کرے گا۔‘‘ دل سے اپنی سگی بہن کے لیے بددعائیں نکالتی وہ ٹیبل پر رکھی فروٹ باسکٹ کے ساتھ رکھی چھری اٹھا کر اس شخص کو مارنے کے لیے قریب آئی تھی، جس نے نشے کی حالت میں اُس کی عزت کو تار تار کر کے رکھ دیا تھا۔ ’’اللہ نے چاہا تو تم اپنی حلال اور محرم کے لیے ترس جاؤ گے، اور قدرت تم پر رحم نہیں کرے گی۔‘‘ وہ نیم عریاں حالت میں اُوندھے منہ سُو رہا تھا، جبھی اُس نے بمشکل چاقو اُٹھایا تھا۔ نجانے اِیسا کون سا نشہ تھا جو سَر پر سَوار تھا، کہ ایک لڑکی کو برباد کر دینے کے باوجود وہ بےخبر نیند سُو رہا تھا۔۔۔ ’’تم…‘‘ اس سے قبل کہ وہ اپنا جملہ مکمل کرتی، اس کی نگاہ اس شخص کے چہرے پر گئی تھی، جس نے رات کے اَندھیرے میں اُسے تباہ کر دیا تھا۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جب وہ ٹھہر گئی تھی۔ مُقابل کا پرسکون چہرہ دیکھ کر اس کے ہاتھ لرز گئے تھے۔ چاقو بے جان ہوتے ہاتھوں سے نکل کر بیڈ پر ہی گر گیا تھا، اور وہ خوفزدہ، دھڑکتے دل سے دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔ ’’یا میرے اللہ! یہ کیسی آزمائش ہے…‘‘ پاس پڑا اپنا دوپٹہ اُٹھا کر خود کو کوَر کرتے ہوئے اس نے بمشکل اپنی لرزاہٹ پر قابو پایا۔ ہاتھوں میں کپکپی ہونے لگی تھی۔ ڈگمگاتے قدموں سے صوفے پر پڑی اپنی سیاہ چادر اُٹھا کر اپنے تَن پر ڈالتی، اپنا بکھرا حُلیہ سمیٹتی، اس بگڑے امیرزادے پر ایک قہر بھری نگاہ ڈالتی، ہوٹل کے کمرے سے نکل آئی تھی۔ مگر دل میں دو لوگوں کو تباہ کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا۔۔ایک اس کا بزدل شوہر یوسف اسفندر یار اور دوسری اسکی بہن۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوسف کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو ایک غیر مانوس جگہ پر پایا تھا۔۔۔ ارد گرد میں نگاہ ڈالی تو نگاہ بیڈ پر گئی تھی۔۔کچھ غیر معمولی محسوس کر اسکا دماغ گھوم گیا تھا۔۔۔ دکھتے سر کے ساتھ سائیڈ ٹیبل پر نگاہ دوڑائی تو سارا سامان ساتھ ہی رکھا تھا۔اس نے تیزی سے اپنا موبائل اٹھا کر ولید کا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔جو پہلی ہی بیل میں کال ریسیو کر چکا تھا۔۔ ’’پھر دلربا کے پہلو میں رات کیسی گزری!‘‘ شریر آواز پر یوسف کے پورے بدن میں اسپارک سا ہوا تھا۔ گزری شب اور دبی دبی سی چیخیں کانوں میں گونج گئی تھیں۔۔ ’’شٹ اپ! کیا بکواس ہے یہ؟‘‘وہ شدت سے غرایا تھا۔۔ ’’اوہ بس کر جا یار! رات گزر گئی،پھر بھی ڈرامے نہیں ختم ہو رہے تیرے،،‘‘ا س بار ولید نے اُسے بُری طریقے سے لتاڑا تھا۔۔جبکہ یوسف نے غصےٰ سے موبائل فرش پر دے مارا تھا۔۔ بالوں کو سختی سے مٹھیوں میں جکڑتا پاگل ہونے کے دَر پر تھا۔۔ ’’یہ کیا کردیا میں نے۔۔۔میں کیسے کسی عورت کی عزت خراب کر سکتا ہوں۔۔‘‘پاس رکھا پانی کا جگ اُٹھا کر خود پر انڈیلتا وہ شدید ازیت سے دوچار تھا۔۔۔کانوں میں اس لڑکی کی چیخ و پکار سسکیاں گونج رہی تھیں،جو گزری رات میں اس سے ا پنی عزت کی بھیک مانگتی رحم مانگ رہی تھی اور اس نے رحم نہیں کیا تھا۔۔اسی طرح تو لائبہ بھی اس سے رحم کی بھیک مانگ رہی تھی مگر اس نے رحم نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔ ’’میں۔۔میں کیسے دو لڑکیوں کی زندگی برباد کر سکتا ہوں۔۔کیسے۔۔۔‘‘وہ حد سے زیادہ پاگل ہو رہا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ضوفی وہ رات میں گئی کہاں؟‘‘ اسفند یار کو اب رہ رہ کر طیش آرہا تھا۔کیونکہ شیخ پیسہ واپس مانگ رہا تھا۔۔ ورنہ وہ بدلے میں لائبہ کو مانگ رہا تھا۔۔جو دو دن میں نجانے کہاں گم ہوگئی تھی۔۔۔ ’’مجھے کیا معلوم اسفی!آپ کو تو معلوم ہے کتنی بد چلن بیٹی ہے آپ کی۔۔پتہ نہیں کتنے پھنسا رکھے ہیں۔۔‘‘وہ درشتگی سے بولیں تو
